خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ون اسٹاپ سینٹر تشدد سے متاثرہ اور مصیبت زدہ خواتین کو ایک ہی چھت تلے فوری اور جامع امداد فراہم کرتا ہے


خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ون اسٹاپ سینٹرز کو ویمن ہیلپ لائن سے مربوط کیا گیا

طویل مدتی بحالی اور محفوظ رہائش کی ضرورت والی خواتین کے لیے ون اسٹاپ سینٹرز کو شکتی سدن سے بھی جوڑا گیا

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 1:58PM by PIB Delhi

ون اسٹاپ سینٹر مشن شکتی کے تحت سنبل پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک بھر میں نجی اور عوامی مقامات پر تشدد کا شکار یا کسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلا خواتین کو ایک ہی چھت تلے فوری، جامع اور مربوط امداد اور معاونت فراہم کرنا ہے۔

اب تک ملک بھر میں 1,033 ون اسٹاپ سینٹرز کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 985 مراکز فعال ہو چکے ہیں۔ یکم اپریل 2015 سے 30 جون 2026 تک ان مراکز کے ذریعے 15.20 لاکھ سے زائد خواتین کو مختلف نوعیت کی امداد اور سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔

مرکزی حکومت ان مراکز میں عملے کی تقرری کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 100 فیصد مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ہر ون اسٹاپ سینٹر کے لیے 13 اہلکاروں کی تقرری یا خدمات حاصل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جن میں ایک سینٹر ایڈمنسٹریٹر، دو کیس ورکرز، ایک نفسیاتی و سماجی مشیر (سائیکو سوشل کونسلر)، ایک پیرا لیگل اہلکار یا وکیل، اور ایک پیرا میڈیکل اہلکار شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مقامی ضروریات اور انتظامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے عملے کی ساخت میں مناسب لچک کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

ون اسٹاپ سینٹر اسکیم کے مجموعی نفاذ اور انتظام کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہے۔

ون اسٹاپ سینٹرز کو خواتین کی ہیلپ لائن سے جوڑ کر امدادی خدمات تک آسان اور بروقت رسائی کو یقینی بنایا گیا

خدمات کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور خواتین کو بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کے لیے ون اسٹاپ سینٹرز  کو ویمن ہیلپ لائن سے مربوط کیا گیا ہے۔ اب تک 657 ون اسٹاپ سینٹرز اس نظام سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اس انضمام کے ذریعے ضرورت مند خواتین کو بروقت اور مربوط انداز میں متعلقہ امدادی خدمات تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ویمن ہیلپ لائن کو ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم، چائلڈ ہیلپ لائن (1098) اور دیگر متعلقہ خدمات سے بھی جوڑ دیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی حالات میں فوری مدد فراہم کی جا سکے اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر تال میل قائم رہے۔

اسی طرح، ون اسٹاپ سینٹرز کو شکتی سدن سے بھی مربوط کیا گیا ہے، تاکہ ایسی خواتین جنہیں طویل مدتی ادارہ جاتی نگہداشت، بحالی یا محفوظ رہائش کی ضرورت ہو، انہیں آسانی سے شکتی سدن منتقل کیا جا سکے۔ اس طرح مشن شکتی کے تحت خواتین کو مسلسل اور جامع دیکھ بھال کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

مشن شکتی کے تحت پہلے سے جاری دو اسکیموں 'سودھار گرہ' (مشکل حالات سے دوچار خواتین کے لیے رہائشی مرکز) اور 'اججوالا' (انسانی اسمگلنگ سے بچائی گئی خواتین کے لیے بحالی مرکز) کو یکجا کر کے 'شکتی سدن اسکیم' کے نام سے نافذ کیا گیا ہے۔

شکتی سدن ایسی خواتین کے لیے ایک جامع امدادی اور بحالی مرکز ہے جو مشکل حالات، خصوصاً انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے کے بعد، تحفظ اور بحالی کی ضرورت رکھتی ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ان خواتین کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مشکلات سے نکل کر خود مختار زندگی گزار سکیں۔

شکتی سدن میں رہنے والی خواتین کو رہائش، خوراک، لباس، مشاورت، بنیادی طبی سہولیات اور روزمرہ کی ضروریات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ محکموں کے تعاون سے انہیں پیشہ ورانہ تربیت، بینک کھاتہ کھلوانے کی سہولت، سماجی تحفظ کی اسکیموں سے جوڑنے سمیت دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

عمل درآمد کرنے والی تنظیمیں خواتین کے لیے وزارتِ محنت و روزگار کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ سے منظور شدہ پیشہ ورانہ تربیتی اداروں یا نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کونسل  کے تربیتی شراکت داروں کے ذریعے ہنرمندی اور روزگار سے متعلق تربیت کا انتظام بھی کرتی ہیں۔

اگر کسی خاتون کی تربیت یا امتحان کی فیس مرکزی یا ریاستی حکومت کی کسی دوسری اسکیم کے تحت ادا نہ کی جا رہی ہو، تو تربیت کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد متعلقہ ادارے کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر یہ اخراجات واپس کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، اگر شکتی سدن میں مقیم خواتین اپنا چھوٹا کاروبار یا صنعت شروع کرنا چاہیں، تو انہیں سڈبی ، مدرا  اور مرکزی و ریاستی حکومت کی دیگر متعلقہ مالیاتی اسکیموں کے ذریعے مائیکرو کریڈٹ (چھوٹے قرض) کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

مزید برآں، مشن شکتی کے تحت چلائی جانے والی سکھی نیواس اسکیم (ورکنگ ویمن ہاسٹل) کا مقصد شہری، نیم شہری اور ایسے دیہی علاقوں میں، جہاں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہوں، کام کرنے والی خواتین کو محفوظ، باوقار اور آسانی سے دستیاب رہائش فراہم کرنا ہے۔

اس اسکیم کے تحت کرائے کی عمارتوں میں سکھی نیواس چلانے کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تاکہ ملازمت پیشہ خواتین اور روزگار حاصل کرنے کے لیے تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو مناسب رہائش میسر آ سکے۔

اس اسکیم کی ایک اہم خصوصیت ڈے کیئر سینٹر کا انتظام ہے، جہاں سکھی نیواس میں مقیم خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ خواتین بلا فکر اپنی ملازمت یا تربیت جاری رکھ سکیں۔

فی الحال ملک بھر میں 575 سکھی نیواس فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی  وزیرمملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

ش ح۔ ش ت ۔ ج

uno-502


(रिलीज़ आईडी: 2288950) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu