ریلوے کی وزارت
مصروف عمل 142 گتی شکتی کارگو ٹرمینلز لاجسٹک لاگت کو کم کرتے ہیں اور سیمنٹ، اسٹیل، پاور اور زراعت کے شعبوں کے لیے ریل فریٹ کی نقل و حرکت کو مضبوط بناتے ہیں۔
جی سی ٹی پالیسی کے تحت ویئر ہاؤسنگ، کولڈ اسٹوریج اور ریلوے سے منسلک جدید کارگو سہولیات سے کسانوں، صنعتوں اور مقامی کاروباروں کے لیے مواقع میں اضافہ
موجودہ گتی شکتی کارگو ٹرمینلز 224 ایم ٹی پی اے مال برداری کی گنجائش فراہم کرتے ہیں؛ جی سی ٹیز کے ذریعے 10,000 کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک کی گئی ہے
ریل مال بھاڑا بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے مزید 310 جی سی ٹی کو منظور دی گئی
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 5:14PM by PIB Delhi
نجی سرمایہ کاری کے ذریعے کارگو ٹرمینلز کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لیے، 'گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینل ' پالیسی شروع کی گئی ہے۔ جی سی ٹیز کے محل وقوع کا فیصلہ صنعت کی مانگ، کارگو ٹریفک کی صلاحیت، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی دستیابی اور علاقے کی مجموعی لاجسٹکس کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
اب تک، 142 گتی شکتی کارگو ٹرمینلز شروع کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، مزید 310 مقامات پر کارگو ٹرمینلز کی ترقی کے لیے اصولی طور پر منظوری دی جا چکی ہے۔ چالو کیے گئے ان 142 ٹرمینلز کی سالانہ مال برداری کی گنجائش کا تخمینہ 224 ملین ٹن ہے۔ اس پالیسی نے ان کارگو ٹرمینلز کے ذریعے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری کو متحرک کیا ہے۔ سال 26-2025 کے دوران ان کارگو ٹرمینلز پر 146 ملین ٹن مال برداری کی جا چکی ہے۔
آندھرا پردیش : شروع کیے گئے جی سی ٹی-05
|
SN
|
Serving Station/location
|
District
|
|
1
|
Nakanadooddi
|
Nakanadooddi
|
|
2
|
Tummalacheruvu
|
Guntur
|
|
3
|
Krishnapatnam
|
Nellore
|
|
4
|
Jaggayyapet
|
Krishna
|
|
5
|
Sanjamala
|
Nandyal
|
اس کے علاوہ، 14 مقامات کے لیے اصولی منظوریاں دے دی گئی ہیں۔
آندھرا پردیش کے ضلع پلو ناڈو میں، 31.01.2023 کو تملا چیرو میں ایک جی سی ٹی پہلے ہی فعال کیا جا چکا ہے۔ سال 26-2025 کے دوران اس مقام پر 1.214 ملین ٹن مال برداری سنبھالی گئی ہے۔ مزید برآں، اس خطے میں ایک اور جی سی ٹی زیر تعمیر ہے۔ یہ ٹرمینلز صنعت کی مال برداری کی گنجائش کو بہتر بنائیں گے اور ریل کے ذریعے پورے بھارت میں مختلف مقامات تک مؤثر، قابل اعتماد اور سستی نقل و حمل کی سہولت فراہم کر کے ضلع پلو ناڈو، آندھرا پردیش سے بھاری مقدار میں سیمنٹ، کلنکر، معدنیات، صنعتی سامان اور دیگر اشیاء کی باکفایت ترسیل کو ممکن بنائیں گے، اور علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے۔
راجستھان: شروع کیے گئے جی سی ٹی -10
|
SN
|
Serving Station/location
|
District
|
|
1
|
Kairla
|
Pali
|
|
2
|
Marwar Mundawa
|
Nagaur
|
|
3
|
Khemli
|
Udaipur
|
|
4
|
Bhupal Sagar
|
Chittorgarh
|
|
5
|
Sonu
|
Jaisalmer
|
|
6
|
Hanwant
|
Jodhpur
|
|
7
|
Sundlak
|
Baran
|
|
8
|
Mandalgarh
|
Bhilwara
|
|
9
|
New Saradhana
|
Ajmer
|
|
10
|
Hirnoda
|
Jaipur
|
اس کے علاوہ، 15 مقامات کے لیے اصولی منظوریاں (آئی پی اے) دے دی گئی ہیں۔
اڈیشہ: شروع کیے گئے جی سی ٹی-12
|
SN
|
Serving Station/location
|
District
|
|
1
|
Paradeep
|
Jagatsinghapur
|
|
2
|
Paradeep
|
Jagatsinghapur
|
|
3
|
Between Kechobahal-Laikera
|
Jharsuguda
|
|
4
|
Jajpur keonjhar Road
|
Jajpur
|
|
5
|
Brajrajnagar
|
Jharsuguda
|
|
6
|
Machapar
|
Cuttack
|
|
7
|
Barpali Road
|
Sundargarh
|
|
8
|
Sogra
|
Sambalpur
|
|
9
|
Brundamal
|
Jharsuguda
|
|
10
|
Jakhpura
|
Jajpur
|
|
11
|
Bondamunda Jn.
|
Sundargarh
|
|
12
|
Paradeep
|
Jagatsinghpur
|
اس کے علاوہ، 36 مقامات کے لیے اصولی منظوریاں (آئی پی اے) دے دی گئی ہیں۔
کیونجھر لوک سبھا حلقے میں، پورجن پور (پی آر این آر) میں ایک جی سی ٹی کی ترقی کی تجاویز زیر غور ہے۔
بہار : شروع کیے گئے جی سی ٹی- 05
|
SN
|
Serving Station / location
|
District
|
|
1
|
Barauni-Garhara
|
Begusarai
|
|
2
|
Khudiram Bose Pusa
|
Samastipur
|
|
3
|
Jogiyara
|
Darbhanga
|
|
4
|
Pashraha
|
Khagaria
|
|
5
|
Chausa
|
Buxar
|
اس کے علاوہ، 08 مقامات کے لیے اصولی منظوریاں دے دی گئی ہیں۔
فی الحال، نرکٹیا گنج میں جی سی ٹی کے قیام کے لیے صنعت کی طرف سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔
مدھیہ پردیش: مدھیہ پردیش میں 5 جی سی ٹیز شروع کیے جا چکے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 19 مقامات پر جی سی ٹیز کی ترقی کے لیے اصولی طور پر منظوریاں دی جا چکی ہیں۔
فی الحال، چھندواڑہ ضلع میں گتی شکتی کارگو ٹرمینل قائم کرنے کے لیے صنعت کی طرف سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔
کرناٹک: ریاست کرناٹک میں شروع کیے کیے گئے جی سی ٹیز اور دی گئی اضافی اصولی منظوریوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-
|
S.No.
|
State Name
|
GCTs commissioned so far
|
Additional In-principle Approvals
(IPAs) given
|
|
1
|
Karnataka
|
04
|
18
|
گتی شکتی کارگو ٹرمینلز سیمنٹ، اسٹیل، اناج، کھاد، کوئلہ، فلائی ایش، معدنیات، کنٹینرز، آٹوموبائلز، زرعی پیداوار اور دیگر بھاری اشیاء کے ساتھ ساتھ عام سامان سمیت مصنوعات کی ایک وسیع رینج کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس پالیسی نے ریلوے کے بہتر رابطے اور جدید کارگو ہینڈلنگ انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے سیمنٹ، اسٹیل، پاور، مائننگ (کان کنی)، زراعت، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ جی سی ٹیز کے قیام نے تیز تر اور زیادہ مؤثر لوڈنگ/ان لوڈنگ، فرسٹ مائل اور آخری میل تک کے لاجسٹکس اخراجات میں کمی، ویگن ٹرن اراؤنڈ میں بہتری اور مال برداری کو سڑک سے ریل پر منتقل کرنے کی سہولت فراہم کر کے ریل کے ذریعے مال برداری کی نقل و حرکت کو مستحکم کیا ہے، جس سے ریل پر مبنی لاجسٹکس کی مجموعی کارکردگی اور مسابقت میں بہتری آئی ہے۔
گتی شکتی کارگو ٹرمینل پالیسی نے پیداواری اور کھپت کے مراکز کے قریب جدید ملٹی موڈل کارگو ٹرمینلز کی ترقی میں آسانی پیدا کی ہے، جس سے مقامی صنعتوں، زرعی پیداوار اور دیگر مصنوعات کے لیے ریل کے رابطے بہتر ہوئے ہیں۔ اس پالیسی نے ویئر ہاؤسنگ، سائلوز، کولڈ اسٹوریج اور دیگر ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس کی سہولیات قائم کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اس نے روزگار پیدا کرنے اور علاقائی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں اور کسانوں کی مسابقت کو بھی بڑھایا ہے۔
یہ معلومات ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو کے ذریعہ کے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کی گئی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:471
(रिलीज़ आईडी: 2288619)
आगंतुक पटल : 9