تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس اور مرکزی وزیر مملکت برائے امدادِ باہمی جناب مرلی دھر موہول نے مہاراشٹر میں ’بھارت ٹیکسی‘ سروس کا آغاز کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ کی قیادت میں ’بھارت ٹیکسی‘، ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں کوآپریٹو ماڈل کو عملی جامہ پہنا رہی ہے

’بھارت ٹیکسی‘ نوجوانوں، خواتین اور سرزمین مہاراشٹر کے مقامی بیٹوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی- جناب مرلی دھر موہول

زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ’کوآپریشن کے سارتھی‘ اور ’خوشحال مہاراشٹر کے شراکت دار‘ بننا چاہئے- جناب مرلی دھر موہول

’بھارت ٹیکسی‘ میں، ’سارتھی‘ محض خدمات فراہم کنندہ ہی نہیں بلکہ ادارے کے مالک اور متعلقہ فریق بھی ہیں

بھارت ٹیکسی کا ، طلب کے مطابق کرائے میں اضافے سے مبرا اور خفیہ چارجز سے مبرا نظام، مسافروں کو واجبی داموں پر خدمات ، اور سارتھیوں کو ان کی محنت کا محنتانہ فراہم کر رہا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور امدادباہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کے ذریعہ شروع کیا گیا کو آپریٹیو انقلاب مہاراشٹر کے نقل و حمل کے شعبے تک پہنچ چکا ہے: جناب دیویندر فڑنویس

دہلی اور گجرات کے بعد، مہاراشٹر میں بھی بھارت ٹیکس کا آغاز امدادِ باہمی کے توسط سے روزگار کے ماڈل اور روزگار کے توسط سے خوشحالی میں اضافہ کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 5:53PM by PIB Delhi

تعاون، اختراع اور ہمہ جہت ترقی کے ذریعے ملک کے نقل و حمل شعبے کو تبدیل کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول نے آج نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منعقدہ ایک پروگرام میں مہاراشٹر میں 'بھارت ٹیکسی' سروس کا آغاز کیا۔ یہ پہل قدمی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے 'سہکار سے سمردھی' کے وژن کے مطابق اور امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی قیادت میں شروع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر متعدد معززین، کوآپریٹو سیکٹر کے نمائندے، حکام اور بھارت ٹیکسی سے وابستہ سارتھی موجود تھے۔ بھارت ٹیکسی ایک منصفانہ کوآپریٹو موبلٹی ماڈل کو آگے بڑھا رہی ہے جو ٹیکسی سارتھیوں کو محض ڈرائیور نہیں سمجھتا، بلکہ انہیں سروس کے مالکان، کوآپریٹو ادارے کے ارکان اور اس کی ترقی میں شراکت دار کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے، مرکزی وزیرِ مملکت برائے تعاون جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ مہاراشٹر میں 'بھارت ٹیکسی' کا آغاز ریاست کے امدادِ باہمی کے شعبے میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر تعاون کی ایک مقدس سرزمین ہے اور اس کی 100 سال سے زائد عرصے پر محیط ایک شاندار کوآپریٹو روایت ہے۔ ملک بھر میں کام کرنے والی 8.60 لاکھ سے زیادہ کوآپریٹو سوسائٹیوں میں سے تقریباً 2.5 لاکھ اکیلے مہاراشٹر ہی میں فعال ہیں، جو بھارت کی کوآپریٹو تحریک میں ریاست کے نمایاں اور اہم ترین تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2021 میں ملک کی دیہی معیشت کو مضبوط بنانے، امدادِ باہمی کے فوائد کو ہر شعبے تک پہنچانے اور امداد باہمی کے اداروں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک علیحدہ وزارت تعاون قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر میں وسیع تجربہ رکھنے والے جناب امت شاہ کو ملک کا پہلا وزیر تعاون مقرر کیے جانے کے بعد، کوآپریٹو تحریک کو ایک نئی سمت، تازہ رفتار اور وسیع تر توسیع ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی معیشت اور کوآپریٹو سیکٹر 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے عزم کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وزارتی تعاون کے وزیر مملکت نے کہا کہ وزارت تعاون کے قیام کے بعد سے، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امدادِ باہمی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 152 بڑے فیصلے کیے گئے ہیں۔ ان میں نئی ​​قومی تعاون پالیسی، ملک بھر میں دو لاکھ نئی کثیر المقاصد کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کرنے کا ہدف اور پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز کو اقتصادی طور پر مستحکم بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے مطلع کیا کہ اب تک تقریباً 40,000 نئی کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی جا چکی ہیں۔

جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ تقریباً 3,000 کروڑ روپے کی لاگت سے پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز کو کمپیوٹرائز کیا جا رہا ہے اور انہیں 25 سے زائد اقسام کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں انجام دینے کے قابل بنایا گیا ہے۔ ملک بھر میں تقریباً 39,000 کوآپریٹو سوسائٹیاں 'پردھان منتری کسان سمردھی کیندر' چلا رہی ہیں، جبکہ تقریباً 54,000 پی اے سی ایس 'کامن سروس سینٹرز' کے طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کوآپریٹو ادارے اب پیٹرول پمپ اور جن اوشدھی کیندر بھی چلا رہے ہیں اور اناج ذخیرہ کرنے اور دیہی خدمات کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد گاؤں کی سطح پر کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانا ہے اور اس طرح کسانوں، دیہاتوں، تعلقہ جات، اضلاع اور ریاستوں کو اقتصادی طور پر بااختیار اور خوشحال بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو معیاری بیج، نامیاتی مصنوعات کے لیے یقینی مارکیٹیں اور زرعی پیداوار کے لیے برآمدی مواقع فراہم کرنے کے لیے بھارتیہ بیج سہکاری سمتی لمیٹڈ، نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ اور نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ قائم کیے گئے ہیں۔ ملک بھر سے تقریباً 70,000 کوآپریٹو ادارے ان تینوں قومی کوآپریٹو تنظیموں کے ارکان بن چکے ہیں۔ کوآپریٹو سیکٹر کے لیے تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کرنے کے لیے ملک کی پہلی کوآپریٹو یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

مہاراشٹر کے کوآپریٹو شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ شری دیویندر فڑنویس کی قیادت میں اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب موہول نے کہا کہ نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے ریاست میں کوآپریٹو شوگر ملوں کو تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ ریاست میں ایتھنول اور کمپریسڈ بائیو گیس سے متعلق سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ کوآپریٹو ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے ایک آزاد قانونی ڈھانچہ تیار کرنے اور خود کی دوبارہ ترقی کو فروغ دینے کی سمت میں بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کوآپریٹیو کے ذریعے ٹشو کلچر کو فروغ دینے کی پہل کے لیے زمین فراہم کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔

امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ مہاراشٹر کے امدادِ باہمی اداروں اور تنظیموں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے، آنے والے وقت میں 'بھارت ٹیکسی' سروس کو ریاست کے مختلف حصوں تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے ریاست کے نوجوانوں اور خواتین پر زور دیا کہ وہ بڑی تعداد میں بھارت ٹیکسی سے جڑیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ٹیکسی روزگار اور خود روزگاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ 'سارتھیوں' کو اس امدادِ باہمی کے ادارے کی ترقی اور منافع میں شراکت دار بنائے گی۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ 'کو آپریشن کے سارتھی' اور 'خوشحال مہاراشٹر میں شراکت دار' بنیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڈنویس نے کہا کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی اور ملک کے پہلے امدادِ باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی قیادت میں کوآپریٹو کے شعبے میں آنے والے نئے انقلاب کے اثرات اب مہاراشٹر کے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور گجرات کے بعد، مہاراشٹر میں 'بھارت ٹیکسی' کا آغاز تعاون کے ذریعے روزگار اور روزگار کے ذریعے خوشحالی کے نئے ماڈل کو مزید آگے بڑھائے گا۔ گاؤں کی سطح کی ابتدائی کوآپریٹو سوسائٹیوں سے لے کر مختلف کوآپریٹو تنظیموں تک، ان اداروں کو مضبوط، جدید اور ان میں مزید شفافیت لانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے نئے کاروباری ماڈل تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 'بھارت ٹیکسی' اس انقلابی نقطہ نظر کا ایک اہم جزو ہے۔

جناب دیویندر فڈنویس نے کہا کہ ایپ پر مبنی ٹیکسی سروسز نے مسافروں کے لیے آمد و رفت کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، لیکن سرج پرائسنگ، پوشیدہ اخراجات اور ایگریگیٹر کمیشن جیسے چیلنجز نے اکثر مسافروں اور ڈرائیوروں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ بھارت ٹیکسی ان مسائل کا ایک کوآپریٹو حل پیش کرتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت، ٹیکسی ’سارتھی‘ نہ صرف ڈرائیور ہوں گے بلکہ کوآپریٹو ادارے کے مالکان اور شیئر ہولڈرز بھی ہوں گے اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع میں حصہ پائیں گے۔ اس سروس میں کوئی سرج پرائسنگ یا پوشیدہ اخراجات نہیں ہوں گے اور یہ ایک مقررہ سروس فیس کی بنیاد پر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت ٹیکسی‘ شہریوں کو محفوظ، قابل اعتماد اور اعلیٰ معیار کی ٹرانسپورٹیشن خدمات فراہم کرے گی۔ خواتین مسافروں کی حفاظت، مسافروں کے ساتھ شائستہ سلوک، شفاف کرایوں اور جوابدہ سروس ڈیلیوری سسٹم کو ترجیح دی جائے گی۔ آنجہانی ڈی بی پاٹل کوآپریٹو ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ معاہدے کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نویں ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آس پاس رہنے والے تقریباً 3,000 سے 4,000 مقامی بیٹوں کو قرض کی سہولیات کے ذریعے ٹیکسیاں فراہم کرنے اور انہیں ’بھارت ٹیکسی‘ پلیٹ فارم سے جوڑنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پروگرام کے دوران، بھارت ٹیکسی سے وابستہ سارتھیوں میں شیئر سرٹیفکیٹ اور سروس کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔ بھارت ٹیکسی کا مقصد درمیانی نظام کو سارتھی پر مبنی ٹرانسپورٹیشن فریم ورک سے بدلنا، ان کی آمدنی میں استحکام لانا، مسافروں کو شفاف کرایوں پر محفوظ خدمات فراہم کرنا اور ادارے کے منافع کو اپنے سارتھیوں کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔ آنے والے وقت میں، ریاست کے امدادِ باہمی کے اداروں، ٹرانسپورٹ تنظیموں اور مقامی اداروں کے اشتراک سے مزید ٹیکسی ڈرائیوروں، نوجوانوں، خواتین اور مقامی برادریوں کو اس پلیٹ فارم سے جوڑ کر 'بھارت ٹیکسی' سروس کو مرحلہ وار پورے مہاراشٹر میں وسعت دی جائے گی۔

***

 (ش ح –اب ن)

U.No:472


(रिलीज़ आईडी: 2288592) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil , Telugu