ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: مشن موسم کے نفاذ کی پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 2:15PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم نے 14 جنوری 2025 کو ’’مشن موسم‘‘ کا آغاز اس مقصد کے ساتھ کیا کہ ہندوستان کو ’’موسمیاتی طور پر تیار اور موسمیاتی اعتبار سے باصلاحیت‘‘ملک بنایا جا سکے۔مشن موسم کا بنیادی مقصد زمینی نظام سے متعلق مشاہداتی ڈھانچے کے مختلف اجزا کو مضبوط بنانا، ارتھ سسٹم اپروچ کو عملی جامہ پہنانا اور بروقت انتباہی نظام کے ذریعے موسم اور آب و ہوا سے متعلق خدمات کو بلا رکاوٹ ہر شہری تک پہنچانا ہے۔ اس اسکیم کا ہدف ملک میں موسم اور آب و ہوا سے متعلق مشاہدات، سائنسی فہم، ماڈلنگ اور پیش گوئی کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہے، تاکہ زیادہ مؤثر، مفید، درست اور بروقت خدمات فراہم کی جا سکیں۔اس مشن کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- جدید ترین موسمی نگرانی کی ٹیکنالوجیز اور نظام تیار کرنا۔
- زیادہ واضح فضائی مشاہدات کو بہتر زمانی اور جغرافیائی کوریج کے ساتھ نافذ کرنا۔
- جدید آلات سے لیس جدید ترین ریڈار، ونڈ پروفائلرز اور سیٹلائٹس کی تنصیب۔
- جدید ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) نظام کو نافذ کرنا۔
- موسم اور آب و ہوا سے متعلق طبعی عمل کی بہتر تفہیم پیدا کرنا اور پیش گوئی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا۔
- مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل)سمیت جدید ارتھ سسٹم ماڈلز اور ڈیٹا پر مبنی طریقۂ کار تیار کرنا۔
- مؤثر موسمی نظم و نسق کے لیے نئی ٹیکنالوجیز اور عملی پروٹوکول وضع کرنا۔
- آخری فرد تک بروقت معلومات پہنچانے کے لیے جدید فیصلہ ساز معاون نظام-(ڈی ایس ایس) اور مؤثر ترسیلی نظام قائم کرنا۔
- صلاحیت سازی کو فروغ دینا اور تحقیقاتی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کو مزید مضبوط بنانا۔
مشاہداتی نیٹ ورک اور ماڈلنگ کی صلاحیت کی موجودہ صورتِ حال درج ذیل ہے:
- محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کو اس وقت ملک بھر میں آئی ایم ڈی، ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے دیگر اداروں اور اسرو کے زیرِ انتظام 50 ڈاپلر موسمی ریڈارز (ڈی ڈبلیو آر) کے نیٹ ورک سے موسمیاتی اعداد و شمار موصول ہو رہے ہیں۔ جاری منصوبوں کے تحت اس موجودہ نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 29 سی-بینڈ ڈاپلر موسمی ریڈار، 45 ایکس-بینڈ ڈاپلر موسمی ریڈار اور 12 ایس-بینڈ ڈاپلر موسمی ریڈار نصب کیے جائیں گے۔
- اس منصوبے کے تحت مختلف عالمی اور علاقائی عددی موسمی پیش گوئی (این ڈبلیو پی) ماڈلنگ نظام نافذ اور عملی طور پر فعال کیے گئے ہیں، تاکہ مختصر مدتی، درمیانی مدت اور توسیعی مدت کی موسمی پیش گوئیاں بلا رکاوٹ فراہم کی جا سکیں۔اس وقت عالمی سطح کی ماڈلنگ کے دو الگ فریم ورک رائج ہیں، جن میں ایک محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کے گلوبل فورکاسٹ سسٹم (جی ایف ایس) پر مبنی ہے، جبکہ دوسرا نوئیڈا میں واقع نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف) کے ’’متھونا‘‘ ماڈلنگ سسٹم پر مشتمل ہے۔ دونوں ماڈلز 12 کلومیٹر افقی ریزولوشن کے ساتھ حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں کام کرتے ہیں۔’’نیو بھارت فورکاسٹنگ سسٹم‘‘ (بھارت ایف ایس) 6 کلومیٹر کی نہایت اعلیٰ ریزولوشن پر فعال ہے، تاکہ بلاک اور اس سے آگے پنچایت سطح تک زیادہ درست موسمی پیش گوئیاں فراہم کی جا سکیں۔ان اعلیٰ ریزولوشن ماڈلز کو مطلوبہ کمپیوٹنگ معاونت فراہم کرنے اور انہیں حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں مسلسل چلانے کے لیے کمپیوٹنگ سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر دستیاب اعداد و شمار کو یکجا کرنے اور میزو اسکیل (درمیانی پیمانے)، علاقائی اور عالمی ماڈلز کو مزید اعلیٰ ریزولوشن پر چلانے کی کمپیوٹنگ صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔حال ہی میں ’’ارونیکا‘‘ اور ’’ارکا‘‘ نظاموں کی شمولیت کے بعد ارضیاتی سائنسز کی وزارت نے 2025 میں اپنی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھا کر 28 پیٹا فلاپس کر دی ہے، جو 2014 میں موجود 6.8 پیٹا فلاپس کی صلاحیت کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
- فی الحال شدید موسمی حالات کی پیش گوئی میں پیش گوئی کرنے والے ماہرین کی رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تین عالمی ماڈلز باقاعدگی سے عملی طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔مزید برآں، ارضیاتی سائنسز کی وزارت (ایم او ای ایس) کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشینی تعلیم (ایم ایل) پر مبنی متعدد مقامی ایپلی کیشنز اور آلات تیار کیے ہیں، جو موسمی نگرانی اور مشاہداتی اعداد و شمار کی پروسیسنگ کے مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جن میں نوکاسٹنگ ٹول، شہری علاقوں کے لیے مقامی سطح کی موسمی پیش گوئی وغیرہ شامل ہیں۔
آفات سے متعلق پیشگی انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
- مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید وسعت اور مضبوطی فراہم کی گئی۔
- مقامی طور پر تیار کردہ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اور شہری مرکز موسمی پیش گوئی کے نظام تیار کیے گئے، جو آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں معاون ہیں (جیسا کہ اوپر نکات 2 اور 3 میں بیان کیا گیا ہے)۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کا اندرونِ ادارہ تیار کردہ فیصلہ ساز معاون نظام (ڈی ایس ایس) ’’آتم نربھر بھارت‘‘ (خود کفیل بھارت) مہم کے تحت خود انحصاری کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں حالیہ برسوں کے دوران ہر قسم کے شدید موسمی واقعات کی پیش گوئی کی درستگی میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
- اثرات پر مبنی موسمی پیش گوئیاں اور خطرات پر مبنی انتباہات ضلعی سطح پر جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے انتظامیہ کو سمندری طوفان، شدید بارش، گرج چمک، ہیٹ ویو (شدید گرمی) اور کولڈ ویو (شدید سردی) جیسے موسمی خطرات کے خلاف بروقت احتیاطی اقدامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- ’’موسم گرام‘‘ (ہر ہر موسم، ہر گھر موسم) کے نام سے ایک منفرد شہری مرکوز پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے، جو گاؤں کی سطح تک مقام کے لحاظ سے انتہائی مقامی موسمی پیش گوئیاں فراہم کرتا ہے۔ ’’موسم گرام‘‘ آئندہ 36 گھنٹوں کے لیے ہر گھنٹے کی پیش گوئی، اگلے پانچ دنوں کے لیے ہر تین گھنٹے بعد کی پیش گوئی اور دس دن تک کے لیے ہر چھ گھنٹے بعد کی موسمی پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔ صارفین پن کوڈ یا مقام کے نام سے تلاش کرکے، یا ریاست، ضلع، بلاک اور گرام پنچایت منتخب کرکے آسانی سے موسمی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ صارف دوست نظام ہر شہری کو اس کے اپنے مقام کے مطابق بروقت اور درست موسمی معلومات فراہم کرتا ہے۔
- ضلع سطح پر موسمیاتی خطرات اور حساسیت کے نقشے تیار کیے گئے ہیں۔
- موسمی پیش گوئیوں اور انتباہات کے لیے جغرافیائی معلومات پر مبنی خدمات تیار کی گئی ہیں۔
- محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) ان اداروں میں شامل ہے جو شدید موسمی حالات سے متعلق کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) کے تحت انتباہات جاری کرتے ہیں۔ یہ انتباہات مختصر پیغامات (ایس ایم ایس) اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تیار کردہ ’’سچیت‘‘ ایپ کے ذریعے عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ان سی اے پی فیڈز سے ایپل، گوگل اور جی ایم اے ایس بھی موسمی انتباہات کی ترسیل کے لیے استفادہ کرتے ہیں۔ مزید برآں، محکمۂ موسمیاتِ ہند نے ایک ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) تیار کیا ہے، جسے مختلف سرکاری اور نجی ادارے استعمال کر رہے ہیں تاکہ مختلف ذرائع، بشمول مختلف اداروں کی تیار کردہ موبائل ایپلی کیشنز، کے ذریعے محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیاں اور انتباہات عام شہریوں تک مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔
- محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے موسم سے متعلق پیش گوئیوں اور انتباہات کی مؤثر ترسیل کے لیے متعدد موبائل ایپلی کیشنز تیار کی ہیں، جن میں: موسم ایپ (موسم ایپ) — موسمی پیش گوئیوں اور انتباہات کی فراہمی کے لیے۔میگھ دوت ایپ (میگھ دوت ایپ) — زرعی موسمیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے۔دامنی ایپ (دامنی ایپ) — آسمانی بجلی (برق آسمانی) سے متعلق پیشگی انتباہات کے لیے، جسے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) نے تیار کیا ہے۔اُمنگ ایپ (اُمنگ ایپ) — موسمی پیش گوئیوں اور انتباہات کی فراہمی کے لیے، جسے وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی (میٹی) نے تیار کیا ہے۔
دور دراز اور حساس علاقوں میں موسمی معلومات کو مقامی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں آخری فرد تک پہنچانے کے لیے محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے دیگر وزارتوں کے اشتراک سے درج ذیل اہم اقدامات کیے ہیں:
- وزارتِ پنچایتی راج کے اشتراک سے محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے ’’پنچایت موسم سیوا پورٹل‘‘ تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ای-گرام سوراج، ’’میری پنچایت‘‘ ایپ، ای-منچترا اور ’’موسم گرام‘‘ کے ذریعے پنچایت سطح تک موسمی پیش گوئیاں فراہم کی جاتی ہیں۔
- پنچایت اراکین، وارڈ اراکین اور پنچایت سیکریٹریوں کے موبائل نمبروں کو ’’پنچایت موسم سیوا پورٹل‘‘ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے واٹس ایپ کے ذریعے موسمی پیش گوئیوں اور زرعی موسمیاتی مشوروں کی بروقت ترسیل ممکن ہوئی ہے، تاکہ انہیں گرام پنچایت کی سطح پر مزید عام کیا جا سکے۔
- محکمۂ موسمیاتِ ہند موسمی پیش گوئیوں اور زرعی موسمیاتی مشوروں کی آخری فرد تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی کے ’’کرشی سکھی‘‘ اور ’’پشو سکھی‘‘ نیٹ ورک سے بھی استفادہ کرتا ہے۔
- محکمۂ موسمیاتِ ہند نے 373 اضلاع میں 7,300 سے زائد ’’کسان بیداری پروگرام‘‘ منعقد کیے ہیں، جن سے تقریباً 3.67 لاکھ کسان مستفید ہوئے، جن میں 83 امنگوں والے اضلاع بھی شامل ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو فروغ دینا اور موسم پر مبنی مشاورتی خدمات کے مؤثر استعمال کو بڑھانا ہے۔
- ’’مشن موسم‘‘ کے تحت محکمۂ موسمیاتِ ہند نے ’’کلپ‘‘ (مقام مخصوص موسمی پیش گوئی پر مبنی زرعی مشاورتی نظام) تیار کیا ہے، جو مقام، فصل اور فصل کی نشوونما کے مرحلے کے مطابق مخصوص زرعی مشورے فراہم کرتا ہے۔
- اسی طرح ’’موسم سنکلپ‘‘ (زرعی موسمیاتی تجزیات، معلومات اور مشاورتی معاونت کا منظم پلیٹ فارم) بھی تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد موسمیاتی تجزیات کو مضبوط بنانا، بہتر مشاورتی خدمات فراہم کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔
حکومتِ ہند نے ارضیاتی سائنسز کی وزارت (ایم او ای ایس) کے اداروں اور محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کے ذریعے تمام زمانی اور جغرافیائی پیمانوں پر موسمیاتی خدمات کی مسلسل نگرانی اور سخت جائزے کا نظام قائم کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں محکمۂ موسمیاتِ ہند کے کثیر خطراتی پیشگی انتباہی نظام اور جدید جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) سے مربوط فیصلہ ساز معاون نظام (ڈی ایس ایس) کے نفاذ کے ذریعے قومی، علاقائی اور مقامی سطح کے موسمی پیشگی انتباہی نظام کو نمایاں طور پر جدید بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ’’کوئی بھی موسمی صورتحال نہ تو نظروں سے اوجھل رہے اور نہ ہی اس کی پیش گوئی سے محروم رہے‘‘۔اس مقصد کے حصول کے لیے حکومتِ ہند کی ’’اربن میٹرولوجی‘‘ اور ’’مشن موسم‘‘ اسکیموں کے تحت اتر پردیش میں موسمی مشاہداتی بنیادی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے، تاکہ مشاہداتی خلا کو جامع انداز میں پُر کیا جا سکے۔ ’’مشن موسم‘‘ کے تحت کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ ریاست کے مختلف حساس طبقات اور برادریوں، بالخصوص میرٹھ اور ہاپوڑ جیسے اہم زرعی اضلاع میں آفات سے نمٹنے کی تیاری اور خطرات میں کمی کے اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مقامی و ریاستی حکومتوں اور متعلقہ محکموں و اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے گرج چمک، اولہ باری، شدید بارش اور دیگر سخت موسمی خطرات سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، حکومتِ ہند نے محکمۂ موسمیاتِ ہند اور ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے دیگر اداروں کے ذریعے مؤثر پیشگی انتباہی نظام، ہیٹ ایکشن پلان، شعبہ جاتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبوں اور ضلع سطح کی تیاریوں کے ذریعے موسمیاتی لچیلے پن کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
اتر پردیش میں شدید گرمی، گرج چمک، غیر معتدل بارش اور سیلاب جیسے شدید موسمی اور موسمیاتی واقعات کی نگرانی، ان کا سراغ لگانے، آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے اور موسمی پیش گوئی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حال ہی میں محکمۂ موسمیاتِ ہند، حکومتِ ہند اور حکومتِ اتر پردیش نے باہمی اشتراک کے تحت ایک مفاہمتی عرضداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد موجودہ مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اس کے تحت ضلع میرٹھ میں 29 خودکار موسمی آلات (5 خودکار موسمی اسٹیشن اور 24 خودکار بارش پیما) جبکہ ضلع ہاپوڑ میں 13 خودکار موسمی آلات (3 خودکار موسمی اسٹیشن اور 10 خودکار بارش پیما) نصب اور فعال کیے جا چکے ہیں۔ یہ تمام آلات درجۂ حرارت، نمی اور بارش ناپنے والے سینسروں سے لیس ہیں۔یہ نظام پہلے سے موجود محکمۂ موسمیاتِ ہند کے نیٹ ورک کے علاوہ ہے، جس میں ضلع میرٹھ میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی (رام گڑھی) میں ایک محکمانہ موسمیاتی مرکز، سردار ولبھ بھائی پٹیل زرعی و ٹیکنالوجی یونیورسٹی (مودی پورم) میں ایک زرعی موسمیاتی مرکز، چار ڈیزاسٹر رسک مانیٹرنگ اسٹیشن (میرٹھ تحصیل، میرٹھ آبزرویٹری، سردھنا اور ماوانہ) اور تین خودکار موسمی آلات (ایک خودکار موسمی اسٹیشن اور دو خودکار بارش پیما) شامل ہیں۔ اسی طرح ضلع ہاپوڑ میں گڑھ مکتیشور اور ہاپوڑ میں دو ڈیزاسٹر رسک مانیٹرنگ اسٹیشن بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ دہلی میں آیا نگر، پالم اور لودھی روڈ پر تین ڈاپلر موسمی ریڈار، جبکہ پٹیالہ اور لینس ڈاؤن میں ایک ایک ڈاپلر موسمی ریڈار بھی فعال ہیں، جو شمال مغربی اتر پردیش، بالخصوص میرٹھ اور ہاپوڑ میں گرج چمک، آسمانی بجلی، ژالہ باری، شدید بارش اور ان سے وابستہ خطرات کی نگرانی اور پیش گوئی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محکمۂ موسمیاتِ ہند کے ملک بھر میں آٹھ علاقائی موسمیاتی مراکز قائم ہیں، جن کے تحت 25 موسمیاتی مراکز کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام مراکز متعلقہ علاقائی موسمیاتی مرکز کے براہِ راست انتظامی کنٹرول میں ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
علاقائی موسمیاتی مراکز (آر ایم سیز) / موسمیاتی مراکز (ایم سیز)
|
ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو فراہم کی جانے والی خدمات
|
|
1
|
آر ایم سی نئی دہلی
|
دہلی، چندی گڑھ، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ
|
|
2
|
آر ایم سی جموں
|
جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے/ریاست
|
|
3
|
آر ایم سی لکھنؤ
|
اتر پردیش اور اتراکھنڈ
|
|
4
|
آر ایم سی گوہاٹی
|
آسام اور ملک کا شمال مشرقی خطہ
|
|
5
|
آر ایم سی ممبئی
|
مہاراشٹر کے بعض علاقے، گوا اور گجرات
|
|
6
|
آر ایم سی کولکتہ
|
مغربی بنگال، اڈیشہ، بہار، جھارکھنڈ اور انڈمان و نکوبار جزائر
|
|
7
|
آرایم سی چنئی
|
تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، کیرالہ، پڈوچیری اور لکش دیپ
|
|
8
|
آر ایم سی ناگپور
|
مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر کے بعض علاقے
|
|
9
|
ایم سی بنگلورو
|
کرناٹک
|
|
10
|
ایم سی حیدرآباد
|
تلنگانہ
|
|
11
|
ایم سی ترواننت پورم
|
کیرالہ
|
|
12
|
ایم سی امراوتی
|
آندھرا پردیش
|
|
13
|
ایم سی اگرتلہ
|
تریپورہ
|
|
14
|
ایم سی ایٹا نگر
|
اروناچل پردیش
|
|
15
|
ایم سی شیلانگ
|
میگھالیہ
|
|
16
|
ایم سی ایزول
|
میزورم
|
|
17
|
ایم سی کوہیما
|
ناگالینڈ
|
|
18
|
ایم سی امپھال
|
منی پور
|
|
19
|
ایم سی بھونیشور
|
اوڈیشہ
|
|
20
|
ایم سی گنگ ٹوک
|
سکم
|
|
21
|
ایم سی پٹنہ
|
بہار
|
|
22
|
ایم سی رانچی
|
جھارکھنڈ
|
|
23
|
ایم سی سری وجئے پورم
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
|
24
|
ایم سی احمد آباد
|
گجرات، دمن، دادرا و نگر حویلی اور دیو
|
|
25
|
ایم سی گوا
|
گوا
|
|
26
|
ایم سی رائے پور
|
چھتیس گڑھ
|
|
27
|
ایم سی بھوپال
|
مدھیہ پردیش
|
|
28
|
ایم سی چندی گڑھ
|
ہریانہ، پنجاب اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ چندی گڑھ
|
|
29
|
ایم سی دہرادون
|
اتراکھنڈ
|
|
30
|
ایم سی جے پور
|
راجستھان
|
|
31
|
ایم سی شملہ
|
ہماچل پردیش
|
|
32
|
ایم سی سری نگر
|
جموں و کشمیر
|
|
33
|
ایم سی لیہ
|
لداخ
|
اس طرح تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ریاستی سطح کی موسمی خدمات ان آٹھ علاقائی موسمیاتی مراکز (آر ایم سیز) اور 25 موسمیاتی مراکز (ایم سیز) کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے بھوپال میں پہلے ہی ایک موسمیاتی مرکز (ایم سی) قائم ہے۔اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں متعدد موسمیاتی مشاہداتی مراکز بھی قائم ہیں، جہاں سے باقاعدگی کے ساتھ موسمی مشاہدات اور اعداد و شمار حاصل کیے جاتے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں ارضیاتی سائنسز کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
(ش ح۔ ک ح ۔ م ا)
UR No-347
(रिलीज़ आईडी: 2287916)
आगंतुक पटल : 7