الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
حکومت نے ڈیجیٹل لت کے خلاف حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کئے، 6,650 سائبر آگاہی ورکشاپس کے ذریعے 11.37 لاکھ سے زائد شہریوں کو آگاہی فراہم کی گئی ہے
آئی ٹی قانون کی دفعہ 67 اور 67 اے اور دیگر قانونی دفعات کے تحت فحش مواد کے لیے پچھلے 2 سالوں میں 50 او ٹی ٹی پلیٹ فاربند کیے گئے
حکومت نےبہترآن لائن حفاظت ، رازداری کے تحفظ اور سائبر بیداری کے اقدامات کے ذریعے بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 1:16PM by PIB Delhi
حکومت کی پالیسیوں کا مقصد بچوں سمیت اپنے صارفین کے لیے ایک کھلا ، محفوظ ، قابل اعتماد اور جوابدہ انٹرنیٹ کو یقینی بنانا ہے ۔
قانونی ڈھانچہ:
اطلاعات ٹیکنالوجی ضابطہ ، 2000 (’’آئی ٹی قانون‘‘) اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی ( ثالثی سے متعلق رہنما خطوط اور ڈیجیٹل میڈیا ضابطہ) قوائد ، 2021 (’’آئی ٹی ضوابط‘‘) نے مل کر ڈیجیٹل فلاح و بہبود ، صارف کے تحفظات اور ذمہ دار ڈیجیٹل شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا ہے ۔
ثالثوں کی ذمہ داریاں:
آئی ٹی رولز کا تقاضہ ہے کہ ثالث اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مستعدی سے عمل کریں اور کمپیوٹر وسائل کے صارفین کو مطلع کریں کہ وہ ایسی کسی بھی معلومات کوہوسٹ ، ڈسپلے ، اپ لوڈ ، ترمیم ، اشاعت ، ٹرانسمیٹ ، اپ ڈیٹ یا اشتراک نہ کریں جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو یا اس وقت نافذ کسی قانون کی خلاف ورزی ہو ۔
شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے آئی ٹی قوانین میں حالیہ ترامیم:
آئی ٹی قوانین میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ثالثوں کیلئےیہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ مجاز عدالت کے کسی حکم نامے یا مناسب حکومت یا اس کے ادارے کی طرف سے معقول اور باجواز اطلاع کی موصولی کےتین گھنٹے کے اندر اندر غیر قانونی مواد کو ہٹا دیں۔
ڈیٹا کی حفاظت:
اس کے علاوہ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا تحفظ قانون ، 2023 (’’ڈی پی ڈی پی ایکٹ‘‘) نافذ کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کو منظم کرنے کے لیے قانونی فریم ورک قائم کرتا ہے ۔ ڈی پی ڈی پی ایکٹ آن لائن بچوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔
یہ بچوں کے ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کرنے کے لیے والدین کی رضامندی کو لازمی بناتا ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ طریقوں جیسے ٹریکنگ ، رویے کی نگرانی یا بچوں کے لیے ہدف شدپ اشتہارات کی ممانعت کرتا ہے ۔
آن لائن منی گیمنگ پر پابندی:
آن لائن گیمنگ ایکٹ ، 2025 کا فروغ اور ضابطہ ، نوجوانوں میں ڈیجیٹل لت اور مالی نقصان سے نمٹنے کے لیے ایک بڑے قدم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
نقصان دہ مواد کو بلاک کرنا:
آئی ٹی قانون 2000 کی دفعہ 79 (3) (بی) غیر قانونی مواد تک رسائی کو ہٹانے/غیر فعال کرنے کے لیےثالثوں کو نوٹیفکیشن فراہم کرتی ہے ۔ شکایات کی بنیاد پر حکومت باقاعدگی سے ایسے ثالثوں اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کرتی ہے ۔ حکومت نے گذشتہ دو سالوں میں فحش مواد کی نمائش اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 اور 67 اے ، بی این ایس کی دفعہ 294 اور خواتین کی غیر مہذب نمائندگی (ممانعت) ایکٹ ، 1986 کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر ہندوستان میں عوامی رسائی کے لیے 50 او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کو غیر فعال کر دیا ہے ۔
ڈیجیٹل لت:
اقتصادی سروے26- 2025میں ڈیجیٹل لت کو صحت عامہ کے ایک سنگین چیلنج کے طور پربتایاگیا ہے جو ہندوستان کے بچوں اور نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے ، خاص طور پر 15سے29 سال کی عمر کے وہ لوگ جو اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔
سروے میں علمی ترقی ، تعلیمی کارکردگی ، کام کی جگہ کی پیداواری صلاحیت ، سماجی روابط اور ذہنی صحت پر اس کے گہرے اثرات کو مزید اجاگر کیا گیا ہے ، جو اضطراب ، افسردگی ، نیند کی خرابی ، سائبر غنڈہ گردی ، مسلسل گیمنگ ، سوشل میڈیا اور آن لائن جوئے سے ہونے والے مالی نقصانات کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں ۔
آگاہی مہمات:
حکومت ’انفارمیشن سیکورٹی ایجوکیشن اینڈ اویئرنس‘(آئی ایس ای اے) نامی ایک منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد انفارمیشن سیکورٹی کے شعبے میں ماہرین و افرادی قوت تیار کرنا اور عام لوگوں میں سائبر صفائی اور سائبر سیکورٹی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا ہے۔
اب تک ملک بھر میں 6,650 بیداری ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں اسکول/کالجوں کے طلباء ، اساتذہ ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، سرکاری اہلکاروں اور عام لوگوں سمیت 11.37 لاکھ سے زیادہ شرکاء شامل ہیں ۔
اس کے علاوہ ، ہینڈ بک ، مختصر ویڈیوز ، پوسٹر ، بروشر ، بچوں کے لیے کارٹون کہانیوں وغیرہ کی شکل میں کثیر لسانی بیداری کا مواد ، پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا اور www.isea.gov.in & https://staysafeonline.inکے ذریعے شائع اور تقسیم کیا گیا ۔
سی ای آر ٹی-اِن باقاعدگی سے اپنی سرکاری ویب سائٹس اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر حفاظتی اور حفاظتی تجاویز اور آگاہی کے پوسٹر ، انفو گرافکس اور ویڈیوز بھی شیئر کرتا ہے اور اس کا مقصد انٹرنیٹ صارفین کو سائبر سیکورٹی حملوں اور دھوکہ دہی بشمول بچوں کے لیے آن لائن حفاظتی اقدامات کے بارے میں حساس بنانا ہے ۔
وزارت تعلیم نے جولائی 2020 میں ڈیجیٹل تعلیم کے حوالے سے ’پرگیتہ‘رہنما خطوط جاری کیے تھے، جو محفوظ اور موثر آن لائن تعلیم کے لیے ایک فریم ورک (لائحہ عمل) فراہم کرتے ہیں، جس میں طلباء کی فلاح و بہبود کی حوصلہ افزائی اور سوشل میڈیا و الیکٹرانک آلات کا ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔
’’سی بی ایس ای نے ڈیجیٹل اخلاقیات پر رہنما خطوط، اساتذہ کے لیے سائبر سیکورٹی کی تربیت، ’سائبر سیکورٹی ہینڈ بک‘ کی اشاعت اور سائبر تحفظ سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے اسکولوں میں سائبر کلب کے قیام کی ہدایات کے ذریعے ان کوششوں کو مزید وسعت دی ہے۔‘‘
این سی ای آر ٹی نے اپنے نصاب میں سائبر سیفٹی کو بھی شامل کیا ہے ، جس میں گیارہویں اور بارہویں جماعت میں ’سماجی اثرات‘ پر ایک باب بھی شامل ہے اور سی آئی ای ٹی-این سی ای آر ٹی نے سائبر سیفٹی پر وسائل کا مواد تیار کیا ہے اور اس کی تشہیر کی ہے۔
یہ معلومات الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے 22جولائی 2026 کو لوک سبھا میں فراہم کی۔
*****
ش ح۔ م ش ۔ ص ج
U. No-325
(रिलीज़ आईडी: 2287745)
आगंतुक पटल : 8