کامرس اور صنعت کی وزارتہ
پی ایل آئی اسکیمیں 2.40 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کرتی ہیں، 14.15 لاکھ سے زیادہ نوکریاں پیدا کرتی ہیں
پی ایل آئی اسکیمیں 15.2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی برآمدات کرتی ہیں، کلیدی شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرتی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 3:26PM by PIB Delhi
حکومت نے بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، برآمدات میں اضافہ کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی سطح پر بھارت کی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے 14 اہم شعبوں میں پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیمیں شروع کی ہیں، جن کے لیے 1.91 لاکھ کروڑ روپے کی مالی منظوری دی گئی ہے۔ محکمہ برائے فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) پی ایل آئی اسکیموں کے مجموعی تال میل اور نگرانی کے لیے نوڈل محکمہ کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ متعلقہ انتظامی وزارتیں اور محکمے اپنی اپنی اسکیموں کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔
31 مارچ 2026 تک، پی ایل آئی اسکیموں کے تحت 2.40 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی حقیقی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے اور 14.15 لاکھ سے زیادہ (براہ راست اور بالواسطہ) روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ شعبہ وار سرمایہ کاری اور پیدا ہونے والے روزگار کی تفصیلات ضمیمہ I میں دی گئی ہیں۔
پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیموں کے مختلف شعبوں پر اثرات درج ذیل ہیں:
- پی ایل آئی اسکیموں نے اپنے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 15.2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی برآمدات ممکن بنائی ہیں، جو عالمی ویلیو چین کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے انضمام کی عکاسی کرتی ہیں۔
- بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، اسکیم کے آغاز کے بعد سے موبائل فون کی پیداوار میں تقریباً 2.4 گنا اضافہ ہوا ہے۔ موبائل فون کی درآمدات میں تقریباً 77 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ بھارت میں استعمال ہونے والے تقریباً 99.2 فیصد موبائل فون اب ملک کے اندر ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔
- دواسازی (فارماسیوٹیکل) کے شعبے میں اس اسکیم کے تحت مجموعی فروخت 3.64 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ملک میں 1,931 دواسازی کی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں، جن میں 191 بلک ڈرگ بھی شامل ہیں، جو پہلی بار بھارت میں تیار کی گئی ہیں۔ اس سے ملک کی مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مزید تقویت ملی ہے۔
- بلک ڈرگ کے شعبے میں 26 اہم ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزا کے لیے تقریباً 55,000 میٹرک ٹن مینوفیکچرنگ صلاحیت قائم کی گئی ہے، جس سے مقامی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پیراسیٹامول، لیووفلوکساسن اور نورفلوکساسن جیسی مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم ہوا ہے۔
- طبی آلات (میڈیکل ڈیوائسز) کی مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم نے سی ٹی اسکینرز، ایم آر آئی سسٹمز، کیتھ لیبز اور الٹراسونو گرافی کے جدید آلات کی مقامی تیاری کو فروغ دیا ہے۔ اس کے تحت 22 درخواست دہندگان نے پیداوار شروع کر دی ہے اور 55 منفرد طبی آلات کی تیاری شروع کی جا چکی ہے۔
- ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات کے شعبے میں، اس اسکیم نے مقامی 4G ٹیکنالوجی کی ترقی اور 5G ٹیلی کام آلات کی گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیت کو فروغ دیا ہے، جس سے بھارت کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ نظام کو مزید مضبوطی ملی ہے۔
- وائٹ گڈز کے لیے پی ایل آئی اسکیم نے مقامی مینوفیکچرنگ میں نمایاں توسیع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپریسر کی مینوفیکچرنگ صلاحیت 2021 میں 10 لاکھ یونٹ سے بڑھ کر 2025-26 میں ایک کروڑ (10 ملین) یونٹ ہو گئی ہے، جبکہ پی سی بی اے اور کراس فلو فینز جیسے اہم پرزوں کی مقامی تیاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایئر کنڈیشنرز کے متعدد اہم پرزے اب ملک کے اندر ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔
پی ایل آئی اسکیموں کے تحت شامل مختلف شعبوں کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 31 مارچ 2024 تک مجموعی برآمدات 4 لاکھ کروڑ روپے تھیں، جو بڑھ کر 31 مارچ 2026 تک 15.2 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ سال وار تفصیلات ضمیمہ II میں دی گئی ہیں۔
پی ایل آئی اسکیموں کے نفاذ کا وقتاً فوقتاً جائزہ بااختیار گروپ آف سیکریٹریز (ای جی او ایس) کے ذریعے لیا جاتا ہے، جس کی صدارت کابینہ سکریٹری کرتے ہیں، نیز متعلقہ انتظامی وزارتیں اور محکمے بھی اپنی اپنی اسکیموں کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔ متعلقہ فریقوں سے موصول ہونے والے تاثرات اور نفاذ کے تجربات کی بنیاد پر، جہاں ضرورت محسوس ہوئی، بعض اسکیموں میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ نفاذ سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے اور اسکیموں پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حکومت نے پی ایل آئی اسکیموں کی مؤثریت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اسکیموں کے نفاذ کا باقاعدہ جائزہ، اسکیمی رہنما خطوط کو معقول اور آسان بنانا، اہلیت کی بعض شرائط میں نرمی، منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، متعلقہ فریقوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت، اور بااختیار گروپ آف سیکریٹریز (ای جی او ایس) کے ذریعے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے اشتراک سے نفاذ سے متعلق مسائل کا بروقت حل شامل ہے۔
ان اقدامات کا مقصد اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کو یقینی بنانا، سرمایہ کاری میں تیزی لانا، پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملک کے اندر مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ معلومات آج وزیرِ مملکت برائے تجارت و صنعت، شری جتن پرساد نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔
ضمیمہ-I
|
نمبر شمار
|
شعبے
|
مارچ 2026 تک مجموعی سرمایہ کاری
(روپے کروڑ میں)
|
مارچ 2026 تک مجموعی ملازمت
|
|
1
|
بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ -
[میٹی]
|
20,580
|
1,69,249
|
|
2
|
IT ہارڈ ویئر 2.0 - [میٹی]
|
908
|
4,859
|
|
3
|
بلک دوائیں - [دوا سازی محکمہ]
|
5,070
|
5,226
|
|
4
|
طبی آلات کی تیاری - [دوا سازی محکمہ]
|
1,151
|
5,268
|
|
5
|
فارماسیوٹیکل ادویات - [دوا سازی محکمہ]
|
45,158
|
1,14,880
|
|
6
|
ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات - [محکمہ ٹیلی کام]
|
5,278
|
33,610
|
|
7
|
کھانے کی مصنوعات - [ایم او ایف پی آئی]
|
9,207
|
3,29,200
|
|
8
|
ڈرون اور ڈرون اجزاء - [وزارت سول ایوی ایشن]*
|
595
|
2,650
|
|
9
|
وائٹ گڈز – [ڈی پی آئی آئی ٹی]
|
6,409
|
52,703
|
|
10
|
آٹوموبائل اور آٹو اجزاء – [ایم ایچ آئی]
|
44,326
|
67,820
|
|
11
|
ایڈوانس کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری- [ایم ایچ آئی]
|
4,570
|
1,245
|
|
12
|
ٹیکسٹائل مصنوعات – [وزارت ٹیکسٹائل]
|
8,117
|
33,427
|
|
13
|
خاص اسٹیل - [وزارت اسٹیل]
|
23,896
|
14,138
|
|
14
|
اعلی کارکردگی سولر پی وی ماڈیولز (ایم این آر ای)
|
64,873
|
14,794
|
|
|
کُل
|
2,40,138
|
8,49,069
|
ضمیمہ-II
|
مالی سال
|
پی ایل آئی اسکیموں کے تحت رپورٹ کی گئی مجموعی برآمدات
|
|
مالی سال 2023-24
|
4.0 لاکھ کروڑ روپے
|
|
مالی سال 2024-25
|
6.5 لاکھ کروڑ روپے
|
|
مالی سال 2025-26
|
15.2 لاکھ کروڑ روپے
|
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 288
(रिलीज़ आईडी: 2287499)
आगंतुक पटल : 5