کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے برآمدی منڈیوں میں تنوع لانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے)، برآمدات کے فروغ سے متعلق اقدامات کا دائرہ وسیع کیا


آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) برآمدی مواقع میں توسیع، منڈیوں تک بہتر رسائی اور غیر محصولی رکاوٹوں کے ازالے میں معاون

برآمدات کے فروغ کا مشن، ای۔کامرس ایکسپورٹ ہب اور لاجسٹکس اصلاحات سرحد پار ای۔کامرس برآمدات کو فروغ دے رہے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 3:27PM by PIB Delhi

عالمی جغرافیائی سیاسی اور معاشی حالات میں آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر حکومت نے برآمدی منڈیوں میں تنوع لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) اور جامع اقتصادی شراکت داری/تعاون کے معاہدوں (سی ای پی اے/سی ای سی اے) کے نیٹ ورک کو وسعت دینا؛ برآمد کنندگان کے لیے ترجیحی مارکیٹ تک رسائی یقینی بنانے کی غرض سے بڑی معیشتوں اور خطوں کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری رکھنا؛ برآمدات کے فروغ کے مشن، بیرونِ ملک بھارتی مشنز، ایکسپورٹ پروموشن کونسلز (ای پی سیز)، صنعتی انجمنوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ذریعے ہدفی برآمدی فروغ کی سرگرمیاں انجام دینا؛ ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہب (ڈی ای ایچ) اقدام کے تحت ضلع اور شعبہ جاتی سطح پر برآمدات کے فروغ کے اقدامات نافذ کرنا؛ اور استعداد سازی کے پروگرام شامل ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران کیے گئے تجارتی معاہدوں کی فہرست ضمیمہ-I میں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جاری آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی فہرست ضمیمہ-II میں شامل ہے۔

آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) متعلقہ تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ بنیادی طور پر دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا ہدف منڈیوں تک رسائی کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، تجارت میں باہمی تکمیلیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا، برآمدات کی صلاحیت کو فروغ دینا، صنعت اور کسانوں کو فائدہ پہنچانا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔ یہ معاہدے محنت پر مبنی شعبوں، جیسے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور چمڑے کی مصنوعات کے لیے ترجیحی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان شعبوں میں ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ ملتا ہے۔ ایف ٹی اے منصفانہ اور باہمی مفاد کے اصولوں پر مبنی جامع، متوازن، وسیع البنیاد اور منصفانہ معاہدے فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو مجموعی فائدہ حاصل ہو۔

ایف ٹی اے میں تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں (ٹی بی ٹی) سے متعلق دفعات بھی شامل ہوتی ہیں، جن کا مقصد دونوں فریقوں کے معیارات، تکنیکی ضوابط اور شفافیت کو فروغ دینے والے اقدامات کے بارے میں باہمی تفہیم کو بڑھانا ہے۔ یہ دفعات بھارتی مصنوعات کی برآمدی منڈیوں تک زیادہ ہموار اور مؤثر رسائی کو ممکن بناتی ہیں۔ حکومت اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ، علاقائی اور کثیرالجہتی طریقۂ کار کے ذریعے غیر محصولی رکاوٹوں (این ٹی بیز) کو دور کرنے اور بھارتی برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔ اس ضمن میں تجارتی معاہدوں کے تحت قائم مشترکہ کمیٹیوں اور ورکنگ گروپوں کے ذریعے باقاعدہ اجلاس اور براہِ راست مذاکرات منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ برآمدات سے متعلق مخصوص مسائل کو حل کیا جا سکے اور ابھرتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ اسی طرح شراکت دار ممالک کے ساتھ مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت، سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (ایس پی ایس) اقدامات، تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں (ٹی بی ٹی)، معیارات، مطابقت جانچنے کے طریقۂ کار اور ضابطہ جاتی تقاضوں پر تکنیکی تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے، جبکہ اہم برآمدی منڈیوں، بشمول یورپی یونین، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں مارکیٹ تک رسائی سے متعلق خدشات کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

حکومت نے خصوصاً بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای)، اسٹارٹ اپس، دستکاروں اور دیگر چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے سرحد پار ای۔کامرس برآمدات کو فروغ دینے کی غرض سے مختلف پالیسی اور سہولت بخش اقدامات کیے ہیں۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

 

  1. برآمدات کے فروغ کا مشن (ای پی ایم): برآمدات کے فروغ کا مشن (ای پی ایم) کا آغاز 2025 میں بھارت کی برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا۔ اس کے لیے مالی سال 2025-26 سے 2030-31 تک کے عرصے کے لیے 25,060 کروڑ روپے کی مجموعی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ مشن دو مربوط ذیلی اسکیموں کے ذریعے نافذ کیا جائے گا:
  • نریات پروتساہن: اس کا مقصد سود پر سبسڈی، برآمدی فیکٹرنگ، برآمدی قرض کے لیے ضمانت، ای۔کامرس برآمد کنندگان کے لیے کریڈٹ گارنٹی اور کریڈٹ میں اضافے کی معاونت جیسے ذرائع کے ذریعے تجارتی مالیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
  • نریات دشا: اس کا مقصد تجارت کو سہارا دینے والے دیگر عوامل کو مضبوط بنانا ہے، جن میں برآمدی معیار اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل میں معاونت، بین الاقوامی برانڈنگ اور پیکیجنگ، مارکیٹ تک رسائی کے اقدامات، برآمدی لاجسٹکس اور گودام کی سہولیات، اور تجارتی معلومات (ٹریڈ انٹیلی جنس) شامل ہیں۔
  1. ای۔کامرس ایکسپورٹ ہب (ای سی ای ایچ) اقدام کو آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ لاجسٹکس، کسٹمز کلیئرنس اور برآمدات سے متعلق دیگر خدمات کی سہولت فراہم کرتے ہوئے ای۔کامرس برآمدات کے لیے ایک مربوط ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔
  • iii. ڈسٹرکٹ ایکسپورٹ ہب (ڈی ای ایچ) اقدام ضلعی سطح پر غیر مرکزی انداز میں برآمدات کے فروغ کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ہر ضلع میں برآمدات کے امکانات رکھنے والی 3 سے 5 مصنوعات یا خدمات کی نشاندہی اور ترجیح طے کی جاتی ہے تاکہ ان کے لیے ہدفی اقدامات کیے جا سکیں۔
  • iv. کورئیر کے ذریعے برآمدات کو آسان بنانے اور ضابطہ جاتی بوجھ کم کرنے کے لیے اصلاحات:
  • ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے 10 لاکھ روپے تک کی کم مالیت والی برآمدات کے لیے برآمدی لین دین کے تصفیے سے متعلق تقاضوں میں نرمی کر دی ہے۔ اس کے تحت برآمد کنندگان کی جانب سے جمع کرائے گئے اعلانات اور بینکوں کی جانب سے کی گئی مطابقت کی بنیاد پر ایکسپورٹ ڈیٹا پروسیسنگ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (ای ڈی پی ایم ایس) میں برآمدی لین دین کو بند کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
  • ڈی جی ایف ٹی کے نوٹیفکیشن نمبر 67/2025-26 مؤرخہ 27 مارچ 2026 اور سی بی آئی سی کے نوٹیفکیشن نمبر 34/2026 مؤرخہ 31 مارچ 2026 کے ذریعے کورئیر کے ذریعے برآمدات کے لیے فی کھیپ 10 لاکھ روپے کی مالیت کی حد ختم کر دی گئی ہے۔
  • سی بی آئی سی کے نوٹیفکیشن نمبر 33/2026 مؤرخہ 31 مارچ 2026 کے ذریعے ریورس لاجسٹکس کو آسان بنایا گیا ہے، تاکہ سرحد پار ای۔کامرس برآمدات کے سلسلے میں مسترد شدہ برآمدی اشیا اور واپس آنے والی اشیا کی دوبارہ درآمد  کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
  1. پردھان منتری گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان (این ایم پی) کا آغاز کثیر النوع بنیادی ڈھانچے (ملٹی موڈل انفراسٹرکچر) کی مربوط منصوبہ بندی سے متعلق ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا، تاکہ لاجسٹکس کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
  • vi. برآمد شدہ مصنوعات پر عائد ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی واپسی کی اسکیم کا مقصد برآمدی مصنوعات پر عائد ان ڈیوٹیوں، ٹیکسوں اور محصولوں کی واپسی کو یقینی بنانا ہے، جن کی اب تک واپسی نہیں ہو سکی تھی۔ اس میں برآمدی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا اور خدمات پر ابتدائی مرحلے میں عائد مجموعی بالواسطہ ٹیکس بھی شامل ہیں۔
  1. بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی وزارت (وزارت ایم ایس ایم ای) نے ملک بھر میں اپنے فیلڈ دفاتر میں 65 ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سینٹرز (ای ایف سیز) قائم کیے ہیں، جن کا مقصد ایم ایس ایم ایز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کی برآمد کے لیے ضروری رہنمائی، سرپرستی اور مرحلہ وار معاونت فراہم کرنا ہے۔
  2. وزارتِ ایم ایس ایم ای کی بین الاقوامی تعاون (آئی سی) اسکیم کا مقصد ایم ایس ایم ایز کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے تحت انہیں بیرونِ ملک منعقد ہونے والی بین الاقوامی نمائشوں، تجارتی میلوں، کانفرنسوں، سیمیناروں اور خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں میں شرکت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، نیز مختلف اخراجات کی واپسی بھی کی جاتی ہے۔

 

یہ معلومات آج وزیرِ مملکت برائے تجارت و صنعت، شری جتن پرساد نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

ضمیمہ-I

ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)

نمبر شمار

معاہدے کا نام

دستخط کی تاریخ

لاگو ہونے کی تاریخ

1

ہندوستان - ماریشس جامع اقتصادی تعاون اور شراکت داری کا معاہدہ (سی ای سی پی اے)

22 فروری 2021

یکم اپریل 2021

2

انڈیا-یو اے ای سی ای پی اے

18 فروری 2022

یکم مئی 2022

3

بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ

2 اپریل 2022

29 دسمبر 2022

4

انڈیا-یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن تجارتی اور اقتصادی شراکت کا معاہدہ

10 مارچ 2024

01 اکتوبر 2025

5

ہندوستان - عمان سی ای پی اے

18 دسمبر 2025

یکم جون 2026

6

ہندوستان - برطانیہ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے)

24 جولائی 2025

15 جولائی 2026

7

انڈیا نیوزی لینڈ ایف ٹی اے

27 اپریل 2026

توثیق کے عمل کے تحت

 

ضمیمہ-II

وہ آزاد تجارتی معاہدے/سی ای سی اے/سی ای پی اے/ای ٹی سی اے جن پر بات چیت چل رہی ہے

  1. بھارت–یوریشین اقتصادی اتحاد آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)
  2. بھارت–پیرو آزاد تجارتی معاہدہ
  3. بھارت–چلی آزاد تجارتی معاہدہ
  4. بھارت–اسرائیل آزاد تجارتی معاہدہ
  5. بھارت–کینیڈا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے)
  6. بھارت–مالدیپ آزاد تجارتی معاہدہ
  7. بھارت–کوریا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) کی اپ گریڈیشن سے متعلق مذاکرات
  8. بھارت–سری لنکا اقتصادی و تکنیکی تعاون معاہدہ (ای ٹی سی اے) کی اپ گریڈیشن
  9. بھارت–آسٹریلیا جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (سی ای سی اے) کی اپ گریڈیشن
  10. آسیان–بھارت اشیا کی تجارت کا معاہدہ کا جائزہ (ریویو)

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 287


(रिलीज़ आईडी: 2287466) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati