کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارت  کوئلہ 22 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں  اے اے آر او ایچ  جاری کرے گی اور ہندوستان-جرمنی نفاذی معاہدے پر دستخط کرے گی


تقریب کے دوران کوئلہ نیرپلانٹس کا افتتاح اور نظرِ ثانی شدہ جھاریا ماسٹر پلان کے تحت ہنرمندی کی ترقی کے لیے مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے جائیں گے

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 1:00PM by PIB Delhi

معدنی کانوں کی ذمہ دارانہ بندش کے طریقوں کو فروغ دینے کی اپنی مسلسل کوششوں کے تسلسل میں کوئلہ کی وزارت 22 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں اے اے آر او ایچ (آروہ – سالانہ رپورٹ برائے کانوں کی بندش جاری کرے گی۔ آزادی کے بعد پہلی بار 42 کوئلہ کانوں کو منظور شدہ منصوبوں کے مطابق سائنسی انداز میں بند کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ ان بند کی گئی کانوں کے تبدیلی آمیز سفر کو اجاگر کرتی ہے اور دکھاتی ہے کہ کس طرح سائنسی بحالی، ماحولیاتی احیا، کان کنی کے بعد زمین کے پائیدار استعمال اور مقامی برادریوں پر مبنی اقدامات کے ذریعے سابقہ کان کنی کے علاقوں کو دوبارہ مفید اور پیداواری مقاصد کے لیے استعمال میں لایا گیا ہے۔

اس تقریب میں مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی، جناب جی۔ کشن ریڈی بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، جناب بھوپیندر یادو اور سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے آزادانہ چارج کے حامل مرکزی وزیر مملکت، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ خصوصی مہمان ہوں گے۔ جبکہ مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی، جناب ستیش چندر دوبے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔

 

اس موقع پر کوئلہ کی وزارت کے سکریٹری جناب وکرم دیو دت، ایڈیشنل سکریٹری جناب سنوج کمار جھا، کوئلہ کنٹرولر جناب سجیش کمار این اور وزارت کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں گے۔

کان کی بندش کان کنی کے پورے دورانیے کا ایک نہایت اہم مرحلہ ہے۔ جس میں ماحولیاتی بحالی، زمین کی دوبارہ آبادکاری اور کان کنی کے بعد کی زمین کو مقامی برادری اور معیشت کے فائدے کے لیے مفید انداز میں دوبارہ استعمال کے قابل بنانا شامل ہے۔ اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئلہ کی وزارت نے گزشتہ چند برسوں میں سائنسی بنیادوں پر کانوں کی بندش، متعلقہ فریقوں کی مؤثر شمولیت اور زمین کے پائیدار استعمال کی منصوبہ بندی کے لیے متعدد رہنما فریم ورک تیار کیے ہیں۔ جن میں مقامی برادری کی شمولیت کے لیے ’’ریکلیم فریم ورک‘‘، پائیدار کان بندش اور بعد از کان کنی استعمال کے لیے ایل آئی وی ای ایس فریم ورک اور کانوں کے متبادل استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیےسوِکَلپ نامی تعاملی فیصلہ معاون نظام شامل ہیں۔

اس ترقی پذیر حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہوئے، پروگرام میں کانوں کی بحالی، ماحولیاتی احیا اور برادری پر مبنی بحالی کے میدان میں زمینی سطح پر کی گئی اختراعی کاوشوں کو پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایک خصوصی نمائش بھی منعقد ہوگی۔ جس میں کول انڈیا لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں، این ایل سی انڈیا لمیٹڈ، سنگرینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ (ایس سی سی ایل)، این ٹی پی سی اور نجی کان کنی کی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی نمائش کی جائے گی۔

تقریب کے دوران کول انڈیا لمیٹڈ کی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے قائم کیے گئے کول نیرپلانٹس کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔ جن کا مقصد کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں محفوظ، صاف اور پائیدار پینے کے پانی تک رسائی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدام مقامی برادری کی فلاح و بہبود پر مبنی ترقی کے لیے وزارت کے عزم کو مزید مستحکم کرے گا۔

یہ موقع ادارہ جاتی شراکت داریوں اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی سمت بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا، تاکہ کانوں کی سائنسی بندش اور کان کنی کے بعد زمین کے پائیدار استعمال کے طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔

کوئلہ کی وزارت، ڈوئچے گیزیل شافٹ فر انٹرنیشنل زوسامین آربائٹ (جی آئی زیڈ)کے ساتھ بند کیے جانے والے کوئلہ کانوں کے حوالے سے تکنیکی تعاون کے لیے ایک نفاذی معاہدےپر دستخط کرے گی۔ اس اشتراک کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا، معلومات اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا، اور کانوں کی سائنسی بندش و کان کنی کے بعد ترقی کے لیے عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

اس تقریب میں جھاریا کوئلہ میدان میں مربوط بحالی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سماجی و معاشی پیش رفت کو فروغ دینے کے لیے مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان سہ فریقی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

ان اقدامات کے ذریعے کوئلہ کی وزارت ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ کانوں کی بندش کی منصوبہ بندی میں پائیداری، اختراع اور مقامی برادری پر مبنی ترقی کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ منظم رہنما فریم ورک، ڈیجیٹل آلات اور مختلف شراکت داروں کے اشتراک پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے وزارت کانوں کی بندش کو ماحولیاتی بحالی، معاشی تنوع اور طویل مدتی علاقائی ترقی کے ایک مؤثر موقع میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

***

)ش ح۔م ح۔ش  ہ ب)

224: UN No


(रिलीज़ आईडी: 2286943) आगंतुक पटल : 20
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Tamil