الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کی جانب سے گوا میں ‘بھاشنی راجیم’ پروگرام کا انعقادکیا گیاجس میں کونکنی اور دیگر بھارتی زبانوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی طرزِ حکمرانی کے فروغ پر زوردیا گیا


وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت، آئی ٹی کے وزیر جناب روہن اے کھونٹے اور دیگر اعلیٰ حکام نے کثیر لسانی مصنوعی ذہانت سے متعلق ریاستی ورکشاپ میں شرکت کی

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 11:28AM by PIB Delhi

الیکٹرانکس  اوراطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن(ڈی آئی سی) کے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے حکومتِ گوا کے تحت اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس و مواصلات محکمہ کے اشتراک سے پنجی میں ‘‘بھاشنی راجیم: اسٹیٹ انگیجمنٹ ورکشاپ’’ کا انعقاد کیا۔ورکشاپ کا مقصد کثیر لسانی مصنوعی ذہانت  کو فروغ دینا اور زبان کو مرکزِ نگاہ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا تھا۔اس موقع پر پالیسی سازوں، اعلیٰ سرکاری حکام، صنعت سے وابستہ شخصیات، ماہرینِ تعلیم، اسٹارٹ اپس کے نمائندوں اور زبان کے ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب میں گوا کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس و مواصلات ، سیاحت، پرنٹنگ و اسٹیشنری کےوزیر جناب روہن اے کھونٹے بھی موجود تھے۔ان رہنماؤں کی شرکت اس مشترکہ عزم کی عکاس تھی کہ ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کو زیادہ جامع، آسان رسائی والا اور کثیر لسانی بنایا جائے تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے شہری بھی یکساں طور پر ڈیجیٹل خدمات سے مستفید ہو سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001XSZ3.jpg

ورکشاپ میں خاص طور پر کونکنی زبان پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ مصنوعی ذہانت  پر مبنی لسانی ٹیکنالوجیز کس طرح ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کو زیادہ جامع بنا سکتی ہیں، تاکہ شہری اپنی پسندیدہ زبان میں سرکاری خدمات، معلومات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کثیر لسانی مصنوعی ذہانت ایک ایسے وائس فرسٹ نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں زبان عوام تک سرکاری خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ نہ رہے۔

افتتاحی اجلاس سے حکومتِ گوا کے محکمۂ اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس و مواصلات کے سیکریٹری جناب سنتوش سکھدیو (آئی اے ایس)، محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے سیکریٹری جناب پرساد لولیکر (آئی اے ایس)، بیچولِم کے رکنِ اسمبلی اور انفوٹیک کارپوریشن آف گوا لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر چندرکانت شیٹیے، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس و مواصلات، سیاحت، پرنٹنگ و اسٹیشنری کے وزیر جناب روہن اے کھونٹے اور گوا کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت نے خطاب کیا۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ نے کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کی مدد سے زبان کو مرکزیت دینے والے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے لیے بھاشنی کے وژن کی وضاحت کی۔انہوں نے بتایا کہ بھاشنی کا دائرۂ اثر تیزی سے حکمرانی، سیاحت، صحت، تعلیم، بینکاری اور شہری خدمات سمیت مختلف شعبوں تک پھیل رہا ہے۔ انہوں نے حکومتوں، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس اور زبان کے ماہرین کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کونکنی سمیت علاقائی زبانوں کے ماحولیاتی نظام کو فروغ ملے گا اور ملک میں جامع ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0028396.jpg

ورکشاپ کے دوران نیشنل ہب فار لینگویج ٹیکنالوجی (این ایچ ایل ٹی) پر تکنیکی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں بھاشنی کے تحت تیار کیے گئے کثیر لسانی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے نظام کا بھی عملی مظاہرہ کیا گیا۔شرکاء کو بھاشنی ایپ مترا، بھاشنی مترا اور بھاشنی پراوکتا سے متعارف کرایا گیا اور دکھایا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ، آواز کی شناخت ، متن کو آواز میں تبدیل کرنے، رسم الخط کی تبدیلی  اور کثیر لسانی اے پی آئیز  کو کس طرح باآسانی سرکاری ایپلی کیشنز اور شہریوں کے لیے فراہم کی جانے والی ڈیجیٹل خدمات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

بھاشنی کی ٹیم نے اپنی اے آئی پر مبنی لسانی ٹیکنالوجیز کا براہِ راست عملی مظاہرہ بھی پیش کیا، جس کے ذریعے شرکاء نے کثیر لسانی آواز، ترجمے، صوتی نقلِ تحریر اور دستاویزات سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز کا عملی تجربہ حاصل کیا۔ ان مظاہروں سے واضح کیا گیا کہ بھاشنی شہریوں پر مرکز طرزِ حکمرانی کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ سیاحت، عوامی معلومات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک متعدد زبانوں میں آسان رسائی فراہم کر سکتی ہے، جس سے شہریوں اور سیاحوں دونوں کے ڈیجیٹل تجربات بہتر ہوں گے۔

ورکشاپ میں ایک خصوصی نشست کونکنی زبان کے فروغ کے لیے بھی منعقد کی گئی، جس میں حکومت، تعلیمی اداروں، زبان کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اداروں کے باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔ اس دوران زبان سے متعلق ڈیٹا سیٹس میں اضافے، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مزید بہتر بنانے اور گوا کی ضروریات کے مطابق مخصوص استعمال کے معاملات کی نشاندہی پر تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ ریاست بھر میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کو تیزی سے فروغ دیا جا سکے۔

اوپن مائیک سیشن میں حکمرانی، سیاحت، تعلیم، صحت اور شہری خدمات کے مختلف شعبوں میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے ریاستی سطح پر ممکنہ استعمالات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی زیرِ غور آیا کہ گوا کے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں بھاشنی کو کس طرح مربوط کیا جائے، تاکہ زبان کو مرکزیت دینے والی زیادہ جامع اور عوام دوست سرکاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔

ورکشاپ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھاشنی ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر زبان کو بنیاد بنانے والے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے  کی تعمیر کے لیے کام جاری رکھے ۔ اس موقع پر حکومتِ گوا کے ساتھ مضبوط تعاون کا بھی آغاز ہوا، جس کا مقصد کونکنی زبان کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرنا اور سرکاری خدمات میں کثیر لسانی مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دینا ہے، تاکہ حکمرانی مزید قابلِ رسائی، جامع اور شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ بن سکے۔

گوا کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس و مواصلات، سیاحت، پرنٹنگ و اسٹیشنری کے وزیر جناب روہن اے کھونٹے نے کہا:‘‘بھاشنی راجیم ورکشاپ ایک جامع اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ڈیجیٹل گوا کی تعمیر کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے ساتھ ہمارے تعاون کا مقصد زبان کی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ گوا کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد سمیت ہر شہری کونکنی زبان میں ڈیجیٹل خدمات سے استفادہ کر سکے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت عام ہوتی جا رہی ہے، ہماری زبان کا تحفظ اور اسے بااختیار بنانا گوا کے ڈیجیٹل مستقبل اور جدت کے سفر کا بنیادی حصہ ہے۔’’

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ ناگ نے کہا:‘‘ورکشاپ میں ایک جامع عملی مظاہرہ پیش کیا گیا، جس میں گوا کے ایک نوجوان کی مصنوعی صوتی سرگرمیوں کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ بھاشنی کا کثیر لسانی مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کس طرح آواز کے ذریعے شہریوں کو سرکاری اداروں اور عوامی خدمات سے بغیر کسی رکاوٹ کے جوڑ سکتا ہے۔اس مصنوعی مثال میں مختلف مراحل کی عکاسی کی گئی، جن میں سرکاری فلاحی اسکیموں اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی، تعلیم اور شہری معاونت شامل تھی۔ اس کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی صوتی ٹیکنالوجی کس طرح عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ جامع، آسان اور زبان کو مرکزیت دینے والا بنا سکتی ہے۔اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کونکنی زبان کے معیاری اور جامع ڈیٹا سیٹس کی تیاری نہایت ضروری ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور کونکنی زبان میں آواز کے ذریعے کام کرنے والی ڈیجیٹل عوامی خدمات کی تیاری کو تیز کیا جا سکے۔’’

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی)، جو ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کے تحت وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) کا ایک اہم ادارہ ہے، بھارت میں مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ کثیر لسانی ڈیجیٹل شمولیت کا قومی پلیٹ فارم ہے۔بھاشنی اس وقت 800 سے زائد سرکاری ویب سائٹس کو لسانی مصنوعی ذہانت کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ یہ اب تک 8 ارب سے زیادہ اے آئی انفرنسز انجام دے چکا ہے، جبکہ روزانہ 2 کروڑ سے زائداے آئی انفرنسز پراسیس کرتا ہے۔یہ پلیٹ فارم 36 بھارتی تحریری زبانوں، 23 بھارتی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کی معاونت فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے زبان پر مبنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو زیادہ قابلِ رسائی، جامع اور عوام دوست بنایا جا رہا ہے۔

***

ش  ح۔ ع ح – ف ر

Uno-218


(रिलीज़ आईडी: 2286912) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil , Telugu