سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کینسر، ذیابیطس اور موٹاپے کے خلاف بڑی عوامی تحریک کی اپیل کی؛ شروعاتی تشخیص اور سائنسی بیداری پر زور دیا
مرکزی وزیر نے شروعاتی تشخیص، صحیح طبی مشورے اور شواہد پر مبنی حفظانِ صحت کی اپیل کی؛ کہا کہ صحت مند شہری وکست بھارت کے لیے لازمی ہیں
طرزِ زندگی کی بیماریوں سے نبرد آزمائی کے لیے صحت سے متعلق غلط معلومات کا خاتمہ اور شواہد پر مبنی آگاہی وقت کی ضرورت : ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
19 JUL 2026 3:55PM by PIB Delhi
کینسر، ذیابیطس، موٹاپے اور طرزحیات سے متعلق دیگر امراض کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک (جن آندولن) کی اپیل کرتے ہوئے سائنس اور تکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت، محکمہ ایٹمی توانائی، خلاء، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے محکے کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ کینسر، ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر متعددی بیماریوں کے بڑھتے بوجھ کے خلاف بھارت کا ردعمل ہسپتالوں سے آگے جانا چاہئے اور اسے ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرنی چاہئے جو شروعاتی تشخیص، صحیح طبی مشورے اور شواہد پر مبنی حفظانِ صحت پر مرتکز ہو۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کو آج نہ صرف بیداری کی کمی کا سامنا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر صحت سے متعلق غلط معلومات کا چیلنج بھی درپیش ہے، جس کی وجہ سے 'وکست بھارت' کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے سائنسی ابلاغ اور شواہد پر مبنی صحت کا پیغام رسانی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ ، کینسر کے مرض سے بچنے والے، سرکردہ سائنس داں اور سائنس و تکنالوجی کے محکمے کے سینئر مشیر ڈاکٹر اکھلیش گپتا کے ذریعہ تصنیف کردہ کتاب’اَن بروکن: مائی بیٹل وِد کینسر اینڈ دی وِل ٹو لیڈ’‘ کے اجراء کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ اس تقریب میں سرکردہ طبی پیشہ واران، تعلیمی اور سائنٹفک برادری، سینئر سرکاری افسران، محققین اور سائنسی برادری کے ارکان نے شرکت کی، جو کینسر کو شکست دینے والے ڈاکٹر گپتا کی قوت مدافعت کے غیر معمولی سفر کا جشن منانے کے لیے اکٹھا ہوئے تھے۔
اس کتاب کو محض ایک ذاتی سوانح عمری سے کہیں بڑھ کر قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کتاب حوصلے، ثابت قدمی، دیانت داری اور سائنس پر غیر متزلزل یقین کے ایک غیر معمولی سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا کہ یہ نہ صرف سنگین بیماریوں سے لڑنے والے مریضوں کے لیے بلکہ ڈاکٹروں، سائنسدانوں، منتظمین اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے بھی اہم اسباق فراہم کرتی ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح پختہ عزم اور درست طبی رہنمائی کے ذریعے مصیبت کو تحریک میں بدلا جا سکتا ہے۔
بھارت میں تیزی سے بدلتے ہوئے امراض کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ غیر متعدی بیماریاں ملک کے صحتِ عامہ کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن کر ابھری ہیں۔ کینسر، ذیابیطس، موٹاپا، فیٹی لیور (جگر پر چربی آنا) اور دیگر میٹابولک امراض تمام خطوں میں بڑھ رہے ہیں اور تیزی سے نوجوان آبادی کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی طرح کے کینسر اب قابلِ علاج ہیں یا ان پر قابو پایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ان کی جلد تشخیص ہو جائے، اسی لیے بروقت جانچ اور فوری طبی امداد ہی اموات کو کم کرنے اور علاج کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔
موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور غیر صحت بخش طرزِ زندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ احتیاطی نگہداشتِ صحت کو انفرادی انتخاب کے بجائے ایک قومی عادت بننا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بھارت کو طرزِ زندگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پانا ہے، تو متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور وقتاً فوقتاً صحت کی جانچ کو روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خبردار کیا کہ ملک کو آج نہ صرف صحت سے متعلق معلومات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ضرورت ہے، بلکہ غذائیت، خوراک اور بیماریوں کے انتظام سے متعلق غلط معلومات کے تشویشناک پھیلاؤ پر روک لگانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر تصدیق شدہ مشورے اور غیر سائنسی دعوے اکثر مناسب علاج میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں اور مریضوں کو بروقت مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے سے روکتے ہیں۔ انہوں نے سائنسی بیداری کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ شہری اپنی صحت سے متعلق فیصلے کرتے وقت شواہد پر مبنی طبی مشوروں پر ہی بھروسا کریں۔
سائنس اور جدت طرازی کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اب تیزی سے 'ہندوستانی مسائل کے ہندوستانی حل' کے لیے خود اپنا ڈیٹا تیار کر رہا ہے۔ 'جینوم انڈیا پروگرام'، مقامی بائیوٹیکنالوجی کی اختراعات اور کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے لیے سستے جدید علاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا سائنسی ایکو سسٹم مستقل طور پر ہندوستانی حالات کے مطابق عالمی معیار کے طبی حل فراہم کر رہا ہے، اور ساتھ ہی جدید ترین علاج کو مزید سستا اور عام لوگوں کی پہنچ میں بنا رہا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے ایک جانب آیوشمان بھارت جیسے اقدامات کے ذریعے معیاری حفظانِ صحت تک رسائی کو وسعت دی ہے، تو دوسری طرف مقامی بائیو میڈیکل ریسرچ، بائیوٹیکنالوجی کی اختراعات اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ کوششیں بھارت کو سستی طبی جدت طرازی اور حیاتیاتی مینوفیکچرنگ کے لیے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے میں مدد دے رہی ہیں۔
حکومت، تحقیقی اداروں، تعلیمی نظام، معالجین اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سائنسی ایجادات کو سستے طبی حل میں تبدیل کرنے کے لیے عوامی و نجی شراکت داری کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی تحقیق کا حتمی مقصد عام شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر اکھلیش گپتا کے سفر کا ایک بار پھر حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ یہ کتاب یہ ثابت کرتی ہے کہ ثابت قدمی، خود اعتمادی، بروقت طبی نگہداشت اور سائنس پر بھروسا بڑے سے بڑے سنگین طبی چیلنجوں پر بھی فتح دلا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنف کا یہ تجربہ غیر سائنسی طریقوں میں قیمتی وقت ضائع کیے بغیر مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 'وکست بھارت @2047' کے وژن کو ایک صحت مند آبادی کے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہر شہری سے اپیل کی کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر، باقاعدگی سے صحت کی جانچ کی حوصلہ افزائی کر کے، سائنسی بیداری کو فروغ دے کر اور صحت سے متعلق غلط معلومات کے خاتمے میں مدد کر کے کینسر، ذیابیطس، موٹاپے اور طرزِ زندگی کی بیماریوں کے خلاف ایک ملک گیر عوامی تحریک میں سرگرم حصہ دار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ صرف حکومتوں یا ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کی اجتماعی شرکت کی ضرورت ہے۔





****
(ش ح –ا ب ن)
U.No:144
(रिलीज़ आईडी: 2286337)
आगंतुक पटल : 15