سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کیلے کے کھیتوں سے مکھانے کی منڈیوں تک: وہ شاہراہ جو بہار کے زرعی مرکز کو نئی رفتار دے گی

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2026 2:50PM by PIB Delhi

بہار کے زرخیز میدانوں میں طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی کھگڑیا کے کیلے کے باغات سے کیلے سے لدے ٹرک روانہ ہو جاتے ہیں، جبکہ ملک کے سب سے بڑے مکھانہ مراکز میں شمار ہونے والے پورنیہ کے تالابوں اور پراسیسنگ مراکز سے مکھانے کی بوریاں اپنی منزل کی جانب سفر شروع کرتی ہیں۔ کئی برسوں سے ٹریفک کی بھیڑ اور موسمی رکاوٹیں ان قیمتی زرعی اجناس کی نقل و حمل کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ کیلے جیسی جلد خراب ہونے والی فصل کے لیے، جہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد رابطہ خراب ہونے کے امکانات کم کرنے، معیار برقرار رکھنے اور کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہی دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نے قومی شاہراہ نمبر 31 اور قومی شاہراہ نمبر 231 کے کھگڑیا–پورنیہ حصے کو چار گلیارے شاہراہ میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جسے حال ہی میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے منظوری دی ہے۔

3,936.05 کروڑ روپے کی لاگت سے بہار میں کھگڑیا–پورنیہ حصے کو چار گلیارہ معیار کے مطابق ترقی دینا محض ایک سڑک کی تعمیر نہیں، بلکہ ان لاکھوں افراد کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے جن کا روزگار بہار کے کیلے اور مکھانے کو بروقت منڈیوں تک پہنچانے پر منحصر ہے۔ اس منصوبے سے ریاست کے زرعی خطے کی معاشی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔ ایسے علاقے میں، جہاں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی زرعی پیداوار کے معیار اور قیمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، شاہراہوں کی یہ ترقی صرف ایک نقل و حمل کا منصوبہ نہیں بلکہ زرعی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

 

بہار میں سیلاب سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر

مشرقی بہار کا نقل و حمل کا نظام طویل عرصے سے سیلاب کے خطرات سے دوچار رہا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو کوسی اور گنگا کے دریائی نظام کے زیرِ اثر ہیں۔ موسمی سیلاب اکثر سڑکوں کے رابطے کو متاثر کرتے ہیں، جس سے لوگوں اور اشیا کی آمدورفت سست پڑ جاتی ہے اور مقامی آبادی کے لیے سفر غیر یقینی بن جاتا ہے۔

کھگڑیا–پورنیہ شاہراہ کو 4لین بنانے کے منصوبے میں ایسے جدید انجینئرنگ اقدامات شامل کیے جائیں گے جن کا مقصد شاہراہ کو بار بار آنے والے سیلابی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانا ہے۔ سڑک کے ڈیزائن میں بہتری، فرش کی مضبوطی اور جدید نکاسیٔ آب کے نظام کی تنصیب کے ذریعے یہ منصوبہ سال بھر محفوظ، ہموار اور قابلِ اعتماد آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

 

سیمانچل کو ترقی کے مواقع سے جوڑنا

سیمانچل کا خطہ طویل عرصے سے محدود رابطہ سہولتوں کے باعث ترقیاتی چیلنجوں سے دوچار رہا ہے۔ کھگڑیا، کٹیہار اور ان سے ملحق اضلاع کے لوگوں کو ریاست کے بیشتر دیگر علاقوں کے مقابلے میں انتظامی، تعلیمی اور معاشی مراکز تک پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

اس شاہراہ کی ترقی کے بعد خطے میں آمدورفت نمایاں طور پر بہتر ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اہم مقامات کے درمیان سفر کا دورانیہ کافی کم ہو جائے گا۔ جو سفر اس وقت تقریباً ساڑھے تین سے چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے، وہ اس راہداری کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں مکمل کیا جا سکے گا۔

 

مشرقی بھارت کے بین الریاستی رابطوں کو مضبوط بنانا

بہار کے لیے اہمیت کے علاوہ کھگڑیا–پورنیہ راہداری مشرقی بھارت میں مختلف ریاستوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے لحاظ سے بھی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ ترقی یافتہ شاہراہ بہار اور پڑوسی ریاست مغربی بنگال کے درمیان سڑک رابطے کو مزید مستحکم کرے گی، جبکہ قومی شاہراہوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے جھارکھنڈ تک رسائی بھی بہتر بنائے گی۔

 

ٹریفک کی بے ترتیبی پر قابو پانا

قومی شاہراہ نمبر 31 اور قومی شاہراہ نمبر 231 کے کھگڑیا–پورنیہ حصے کو 4لین بنانے کا منصوبہ اُن دیرینہ مسائل کے حل کے لیے تیار کیا گیا ہے جن میں سڑک کی نامناسب ساخت، تیز موڑ اور کھگڑیا، بھاگلپور، کٹیہار اور پورنیہ اضلاع کے گنجان آباد شہری اور نیم شہری علاقوں میں ٹریفک کا شدید دباؤ شامل ہے۔

اس منصوبے کے تحت موجودہ اہم 2لین شاہراہ کو 4لین شاہراہ میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے بہار کے سیمانچل خطے میں رابطہ مزید مضبوط ہوگا اور کھگڑیا، بھاگلپور، کٹیہار اور پورنیہ کو پٹنہ، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے گا۔

 

اہم معاشی اور لاجسٹک مراکز کو باہم مربوط کرنا

ترقی یافتہ راہداری بہار کے متعدد اہم معاشی، سماجی اور لاجسٹک مراکز کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے پردھان منتری گتی شکتی کے تحت قائم پانچ معاشی مراکزجن میں ایک ٹیکسٹائل کلسٹر، دو میگا فوڈ پارک اور دو ماہی پروری و سمندری غذائی پارک شامل ہیں—کو 11 لاجسٹک مراکز سے جوڑا جائے گا، جن میں چار بڑے ریلوے اسٹیشن، ایک ہوائی اڈہ، چار قومی شاہراہیں اور دو ریاستی شاہراہیں شامل ہیں۔ اس سے پورے خطے میں مختلف ذرائعٔ نقل و حمل کے باہمی ربط اور ہم آہنگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

*****

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-136­


(रिलीज़ आईडी: 2286303) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu