خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت وکرم-1 کی کامیابی کے ساتھ   ایک سیریس گلوبل اسپیس پاور  کے طور پر قائم،  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا،  یہ تاریخی مشن وزیر اعظم مودی کی اہم خلائی اصلاحات کی توثیق کرتا ہے


’’بھارت  کے لیے  اب آسمان بھی حد نہیں ہے‘‘ : ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر نے اسکائی روٹ ایرواسپیس، اسرو اور ان-اسپیس کو مبارکباد دی کیونکہ  بھارت کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ مداروی لانچ وہیکل سری ہری کوٹا  سے کامیابی کے ساتھ مدار میں  پہنچا

وکرم-1 مشن عالمی تجارتی مارکیٹ میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 18 JUL 2026 5:15PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی  سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم   دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی کے محکمے اور خلا  محکمے کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ  بھارت   کے پہلے نجی طور پر تیار کردہ مداروی لانچ وہیکل وکرم-1 کی کامیاب لانچنگ  تیزی سے توسیع پذیر  عالمی خلائی معیشت میں ایک سنجیدہ عالمی کھلاڑی کے طور پر ملک  کے ابھرنے کی علامت ہے اور  یہ ملک کے خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھولنے  سے متعلق  وزیر اعظم جناب  نریندر مودی کے تاریخی فیصلے کی ایک مضبوط توثیق ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  سری ہری کوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سینٹرمیں مشن آگمن  کے کامیاب لانچ کا مشاہدہ کیا، جہاں اسکائی روٹ ایرواسپیس نے وکرم-1 کو اس کے مقررہ لو ارتھ آربٹ میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا۔ اس طرح یہ ہندوستانی سرزمین سے مداروی لانچ حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی نجی کمپنی بن گئی۔ یہ مشن ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک شاندار  سنگ میل ہے اور خلائی محکمے، اسرو، ان-اسپیس اور بھارت  کے متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی مشترکہ کوششوں سے چلنے والے سرکاری نجی شراکت داری  ماڈل کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعظم جناب  نریندر مودی نے اس تاریخی حصولیابی  پر اسکائی روٹ ایرواسپیس کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے  اسے  بھارت کے توسیع پذیر  اسپیس ایکو سسٹم   کے لیے ایک قابل فخر سنگ میل اور ملک کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت، کاروباری جذبے اور اختراع پر مبنی ترقی کا عکاس قرار دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسکائی روٹ ایرواسپیس کے بانیوں  پون کمار چندنا اور بھرت ڈاکا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی  ملک کے خلائی شعبے کو نجی کاروباری اداروں کے لیے کھولنے کا جرات مندانہ فیصلہ نہ کرتے تو ملک اس تاریخی حصولیابی کا گواہ نہ بنتا۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات نے ہندوستانی اختراع کاروں کی بے پناہ صلاحیتوں کو  اجاگر کیا ہے ، انہیں قومی خلائی انفراسٹرکچر تک رسائی فراہم کی ہے اور ایک ایسا نظام بنایا ہے جہاں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز اب مکمل طور پر  بھارت  سے تیار کی جا سکتی ہیں  اور انہیں  لانچ کیا جا سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے ان-اسپیس، اسرو اور خلائی محکمے کو بھی ایک  ہموار سرکاری، نجی شراکت داری فریم ورک بنانے پر مبارکباد دی جس نے  ملک کے اسپیس ایکو سسٹم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکرم-1 کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح بصیرت افروز پالیسی سازی، سائنسی عمدگی اور کاروباری ٹیلنٹ مل کر عالمی سطح پر مسابقتی تکنیکی  حصولیابیاں  پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  اسکائی روٹ ٹیم کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کو یاد کرتے ہوئے  کہا کہ انہوں نے شروع ہی سے کمپنی کے بانیان  کے سفر کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور وہ ہمیشہ ان کے تکنیکی اعتماد، تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعی  طریق کار کے مداح رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کامیابی  برسوں  کی استقامت، سائنسی عمدگی اور عالمی سطح پر مسابقتی خلائی ٹیکنالوجیز بنانے سے متعلق بھارت  کے نوجوان کاروباریوں کے عزم کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وکرم-1 نے اپنے  اولین  مداروی مشن کے لیے تکنیکی پختگی کی ایک غیر معمولی سطح کا مظاہرہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں بہت سے پہلے لانچوں کے برعکس جو صرف نقلی یا  ڈمی ماس لے کر  جاتے ہیں، وکرم-1 تجرباتی پے لوڈز لے کر گیا جو مدار میں جدید ٹیکنالوجیز کی توثیق کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ اس مشن نے ہندوستانی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے کسٹمر پے لوڈز اور ٹیکنالوجی کے مظاہروں کو بھی پرواز دی، جو بھارت  کی تجارتی لانچنگ صلاحیتوں پر عالمی خلائی برادری کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ 2020 میں متعارف کرائی گئی تاریخی اصلاحات کے بعد سے بھارت  کے  اسپیس ایکو سسٹم  میں ایک قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔ چند سال پہلے تک جہاں نجی لانچ کا کوئی  ایکو سسٹم  موجود نہیں تھا، آج  ملک  میں 400 سے زیادہ  اسپیس  اسٹارٹ اپس، اس کا پہلا خلائی یونیکورن  اور تقریباً 9 بلین امریکی ڈالر کی خلائی معیشت موجود ہے، جس کا قومی  ویژن  اگلی دہائی کے دوران اسے تقریباً 44 بلین امریکی ڈالر تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکرم-1 کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح پالیسی اصلاحات اختراعات  کو تیز کر سکتی ہیں، عالمی سطح پر مسابقتی ادارے بنا سکتی ہیں اور بھارت  کو دنیا کے سرکردہ خلائی ممالک میں شامل کر سکتی ہیں۔

بھارت میں مکمل طور پر  تیار کردہ  وکرم-1 ملک کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ مداروی لانچ وہیکل ہے جو لو ارتھ آربٹ میں 350 کلوگرام تک وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تقریباً 22 میٹر اونچا یہ لانچ وہیکل کئی  دیسی  تکنیکی حصولیابیوں پر مشتمل ہے، جس میں  بھارت  کا پہلا آل کاربن کمپوزٹ آربٹل راکٹ، اس کے آربٹل ایڈجسٹمنٹ ماڈیول کو  تقویت فراہم کرنے  والا 100 فیصد تھری ڈی پرنٹڈ مائع انجن، ایڈوانسڈ الٹرا لو شاک نیومیٹک سیپریشن سسٹم اور ملک کے طویل ترین مونو لیتھک کاربن کمپوزٹ راکٹ  مرحلوں  میں سے ایک ہے۔ اس کامیاب مشن نے اہم پروپلشن، ایوی اونکس، ٹیلی میٹری، نیویگیشن اور فلائٹ کنٹرول سسٹم کی توثیق کی، جس نے  بھارت  سے مستقبل کی تجارتی مداروی لانچ خدمات کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وکرم-1 کی کامیاب لانچنگ کسی ایک مشن کی کامیابی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ ایک نئے دور کی شروعات ہے جس میں ہندوستانی اختراع، جسے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات اور مضبوط پبلک پرائیویٹ تعاون کی حمایت حاصل ہے، عالمی خلائی معیشت کے مستقبل کو  تیزی سے تشکیل  دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن بین الاقوامی خلائی شعبے میں ایک قابل اعتماد اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ شراکت دار کی حیثیت سے بھارت  کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ’’ ہندوستان کے لیے  اب آسمان بھی حد نہیں ہے‘‘۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0014CK4.png

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002MGI5.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0039568.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00491N4.jpg

*******

(ش ح۔ن ا۔س ا)

U.No: 119

 


(रिलीज़ आईडी: 2286179) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Tamil , Telugu , Malayalam