PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

وکرم-1: ہندوستان کے خلائی مستقبل کا خاکہ


اصلاحات، پیش رفت اور پرواز

प्रविष्टि तिथि: 18 JUL 2026 10:09AM by PIB Delhi

ایک نیا دور: ہندوستان ایک عالمی خلائی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے

حکومتِ ہند کی مستقبل پر مبنی اصلاحات کے نتیجے میں ہندوستان کا خلائی شعبہ ایک تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس جہاں ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ مداری راکٹ وکرم-1 لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، وہیں ملک کا بڑھتا ہوا نجی خلائی ماحولیاتی نظام ان اصلاحات کے اثرات کو نمایاں طور پر ظاہر کر رہا ہے۔ ہندوستانی خلائی پالیسی 2023 نے پوری خلائی ویلیو چین کو نجی شعبے کی شرکت، اختراع، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کھول دیا ہے۔ آج ہندوستانی صنعت سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، لانچ سروسز، خلائی ایپلی کیشنز اور ڈاؤن اسٹریم خدمات میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

ان اصلاحات کے اثرات اعداد و شمار سے بھی واضح  ہوتے ہیں۔ ہندوستان کا خلائی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام 2014 میں صرف ایک اسٹارٹ اپ سے بڑھ کر 2026 میں 400 سے زائد اسٹارٹ اپس تک پہنچ چکا ہے، جو خلائی شعبے میں نجی شراکت داری اور اختراع کی تیز رفتار توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔

حکومتی اصلاحات ہندوستان کی خلائی معیشت کی ترقی کو بھی تیز کر رہی ہیں۔ اس وقت تقریباً 8.4 ارب امریکی ڈالر مالیت کا یہ شعبہ 2030 تک پانچ گنا بڑھ کر 40 تا 45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ہدف یہ ہے کہ 2040 تک اس کی مالیت 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے۔ حکومت کی مسلسل حمایت، سازگار ضوابط اور مضبوط سرکاری و نجی شراکت داریاں (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس)اس ترقی کو آگے بڑھا رہی ہیں، جس سے ہندوستان عالمی خلائی صنعت، خلائی ٹیکنالوجی اور خلائی سرگرمیوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔

ہندوستان کے خلائی مستقبل کی تعمیر کے بارے میں مزید پڑھیں: "انڈیا کی اسپیس اوڈیسی(ہندوستان کا خلائی سفر)"

مشن آگمن: وکرم-1

وکرم-1، جسے اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے تیار کیا ہے، ہندوستان کی پہلی نجی طور پر تیار کردہ مداری لانچ گاڑی ہے، جو لوارتھ آربٹ (ایل ای او)میں 350 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مداری لانچ گاڑیاں سیٹلائٹس کو زمین کے مستحکم مداروں میں تعینات کرتی ہیں، جو مواصلات، نیویگیشن، زمین کے مشاہدے اور سائنسی تحقیق کی حمایت کرتی ہیں۔

یہ راکٹ مکمل کاربن کمپوزٹ ڈھانچے ، قابلِ اعتماد ٹھوس ایندھن کے بوسٹرز اور تھری ڈی پرنٹڈ مائع انجن سے لیس ہے، جو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی نجی شعبے کی لانچ صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

وکرم-1 کو 12 جولائی سے 4 اگست 2026 کے درمیان مشن آگمان کے تحت لانچ کیا جانا ہے۔ اس مشن کی کامیابی ملک کی مقامی تجارتی لانچ صلاحیت اور حکومتِ ہند کی خلائی شعبے میں اصلاحات کی کامیابی کی توثیق کرے گی۔

یہ مشن 450 کلومیٹر (280 میل) کی بلندی پرلو ارتھ آربٹ (ایل ای او )میں متعدد صارفین کے پے لوڈز تعینات کرے گا۔ ان میں اسکائی روٹ کا سکوپ سیٹلائٹ، ڈی سی یو بی ای ڈی کا ٹیکنالوجی کے مظاہرے کا پے لوڈ، گرہا اسپیس کا سولراس ایس 3 سیٹلائٹ، اور کاسموسرو اسپیس کا ایمبریس شامل ہیں، جو مداری ملبے کو پکڑنے کے لیے تیار کیا گیا ایک روبوٹک بازو ہے۔

پہلی پرواز میں دو علامتی اشیا بھی شامل ہوں گی: "کاسمک بلوم"، جو پھول کی شکل کا ایک فن پارہ ہے، اور 18 قیراط سونے کا مائیکرو راکٹ۔ اس مائیکرو راکٹ میں سی وی رمن، وکرم سارا بھائی اور اے پی جے عبدالکلام کے خوردبینی مجسمے نصب ہیں، جن میں سے ہر ایک چاول کے ایک دانے سے بھی چھوٹا ہے، جو ہندوستان کے ممتاز سائنس دانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ہندوستان کے خلائی شعبے میں نجی شراکت کو ممکن بنانے والی اہم اصلاحات

حکومتِ ہند نے نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینے اور اختراع کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے خلائی شعبے میں اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

ہندوستانی خلائی پالیسی 2023

حکومت نے ہندوستانی خلائی پالیسی 2023 کو نوٹیفائی کیا، جس کے تحت غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو پورے خلائی ویلیو چین میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ اس اقدام نے ہندوستان میں خلا سے متعلق سرگرمیوں میں نجی شعبے کے لیے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ٹیکنالوجی میں اختراع کو فروغ دینا، اس شعبے میں نئے خیالات اور ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ پالیسی بین الاقوامی تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ایسی شراکت داریوں کو فروغ دیتی ہے جو خلا کی پرامن تلاش کی حمایت کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ہندوستان میں ایک زیادہ کھلے اور جامع خلائی ماحولیاتی نظام کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سنگل ونڈو خلائی  ریگولیٹر

انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھورائزیشن سینٹر (آئی این-ایس پی اے سی ای) سرکاری اداروں اور این جی ایز کی جانب سے انجام دی جانے والی خلائی سرگرمیوں کی منظوری دینے اور انہیں فروغ دینے کے لیے ایک خود مختار سنگل ونڈو ایجنسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ہندوستانی خلائی پالیسی 2023 کے ذریعے مزید مضبوط بنائے جانے کے بعد، آئی این-ایس پی اے سی ای ایک مستحکم اور پیش گوئی کے قابل ضابطہ جاتی فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے اور صنعت کی آغاز سے اختتام تک (اینڈ ٹو اینڈ ) شرکت کو آسان بناتا ہے۔ مزید برآں، یہ اسرو کی سہولیات، ٹیکنالوجیز اور تکنیکی مہارت تک رسائی فراہم کرتا ہے اور شفاف رہنما خطوط کے ذریعے منظوریوں کے عمل کو ہموار بناتا ہے۔ جون 2026 تک، آئی این-ایس پی اے سی ای نے 4,500 سے زیادہ تنظیموں کا اندراج کیا، 133 اجازت نامے جاری کیے اور 106 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

مزید برآں، فروری 2026 تک آئی این-ایس پی اے سی ای نے مالی سال 2025 کے دوران ہندوستانی خلائی اسٹارٹ اپس میں 150 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی، جبکہ سرفہرست 10 اسٹارٹ اپس نے اسی مالیت کی تصدیق شدہ آرڈر بک حاصل کی۔ جون 2026 تک آئی این-ایس پی اے سی ای نے 118 ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں کو بھی سہولت فراہم کی، جبکہ جوائنٹ پروجیکٹ امپلیمینٹیشن پلانز (جے پی آئی پیز)، ٹیکنالوجی پارٹنرشپ ایگریمنٹس (ٹی پی اے) اور بزنس پارٹنرشپ ایگریمنٹس (بی پی اے)کے تحت 189 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جس سے ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ ملا۔

نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا

ان-اسپیس سیڈ فنڈ اسکیم: یہ اسکیم خلائی اسٹارٹ اپس اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو ابتدائی مرحلے میں مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ یہ مختلف شعبوں کے لیے جدید خلائی ٹیکنالوجیز اور عملی ایپلی کیشنز تیار کرنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ اسکیم اس شعبے میں کام کرنے والے اہل درخواست دہندگان کو ایک کروڑ روپے تک کی گرانٹ فراہم کرتی ہے۔ مالی معاونت کے ساتھ ساتھ یہ اسٹارٹ اپس کی ترقی کے لیے سرپرستی، تربیت اور نیٹ ورکنگ کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ اسکیم زراعت سے متعلق ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والے ہندوستانی خلائی اسٹارٹ اپس کو بھی فنڈ فراہم کرتی ہے۔ یہ آفات کے انتظام اور شہری ترقی کے ایسے حل کی بھی حمایت کرتی ہے جو خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں۔

1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپٹل (وی سی) فنڈ: آئی این-ایس پی اے سی ای کے تحت قائم کیا گیا یہ وی سی فنڈ خلائی شعبے میں نجی شرکت کو تیز کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ فنڈ خلائی ٹیکنالوجی اور متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والے امید افزا اسٹارٹ اپس کو ابتدائی مرحلے کا سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ یہ گھریلو خلائی اسٹارٹ اپس کی ترقی میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرتا ہے۔ اس پہل کا مقصد آئندہ دہائی میں ہندوستان کی خلائی معیشت کو پانچ گنا بڑھانا ہے۔ یہ فنڈ مالی سال 2025-26 سے مالی سال 2029-30 تک پانچ برسوں میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے تحت سالانہ سرمایہ کاری 100 کروڑ روپے سے 250 کروڑ روپے کے درمیان ہوگی۔

500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ (ٹی اے ایف): آئی این-ایس پی اے سی ای نے ٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ (ٹی اے ایف) متعارف کرایا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کی جانب سے تیار کردہ مقامی خلائی ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کو تیز کرنا ہے۔ یہ ابتدائی مرحلے کی ٹیکنالوجیز کو بازار کے لیے تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو منصوبے کی لاگت کا 60 فیصد تک فنڈ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ بڑی صنعتیں اپنے منصوبے کی لاگت کا 40 فیصد تک فنڈ حاصل کر سکتی ہیں۔ تاہم، فی منصوبہ فنڈنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔

ہندوستان کے خلائی پروگرام کی تجارتی کاری

ہندوستانی خلائی پالیسی 2023 نے نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کے کردار کو اسرو کے تجارتی بازو کے طور پر واضح کیا ہے۔ این ایس آئی ایل تجارتی اصولوں پر خلائی نظام تیار کرتا ہے اور ان کی خریداری بھی کرتا ہے۔ یہ سرکاری اداروں اور غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) دونوں کو آغاز سے اختتام تک (اینڈ ٹو اینڈ )خلائی حل بھی فراہم کرتا ہے۔ این ایس آئی ایل پی ایس ایل وی کی تیاری اور چھوٹے سیٹلائٹ کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے نجی شراکت داری کو مزید وسعت دیتا ہے۔ یہ خلائی مصنوعات اور اسپن آف ٹیکنالوجیز کی مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ خدمات کی بھی حمایت کرتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران این ایس آئی ایل کی آمدنی میں دس گنا اضافہ ہوا ہے، جو عالمی خلائی شعبے میں اس کے بڑھتے ہوئے تجارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ دسمبر 2025 تک، 70 سے زیادہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں نے اسرو کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو صنعت تک منتقل کرنے میں مدد دی، جس سے ان کی تجارتی کاری میں تیزی آئی۔ جولائی 2026 تک، این ایس آئی ایل نے مجموعی طور پر 141 سیٹلائٹس لانچ کیے ہیں، جن میں 138 بین الاقوامی/کسٹمر (صارف)  سیٹلائٹس اور 3 ہندوستانی سیٹلائٹس شامل ہیں، جس سے ایک قابلِ اعتماد عالمی لانچ سروس فراہم کنندہ کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔

خلائی شعبے کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی لبرل(آزادانہ ) پالیسی

خلائی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی پالیسی کو مزید سرمایہ کار دوست بنانے کے لیے آزاد بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ اور آپریشنز میں 74 فیصد تک خودکار ایف ڈی آئی، لانچ وہیکلز اور اسپیس پورٹس میں 49 فیصد تک خودکار ایف ڈی آئی، اور سیٹلائٹ کے اجزاء اور ذیلی نظاموں کی تیاری میں 100 فیصد خودکار ایف ڈی آئی کی اجازت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اس اصلاح سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور باہمی تعاون پر مبنی تحقیق کو فروغ ملے گا، اور ہندوستان کے خلائی شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی مزید بہتر ہوگی۔

شعبہ/سرگرمی

سیکٹرل کیپ (شعبہ وار حد)

داخلے کا راستہ

سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ اور آپریشن

100فی صد

74فی صد تک: خودکار

74فی صد سے آگے: حکومتی روٹ (راستہ)

سیٹلائٹ ڈیٹا پروڈکٹس

گراؤنڈ سیگمنٹ اور یوزر سیگمنٹ

گاڑیاں اور ان سے وابستہ نظام یا ذیلی نظام شروع کریں۔

100فی صد

49فی صد تک: خودکار

49فی صد سے آگے: سرکاری روٹ (راستہ)

خلائی جہاز کو لانچ کرنے اور وصول کرنے کے لیے اسپیس پورٹ کی تعمیر
 

سیٹلائٹ، گراؤنڈ سیگمنٹ اور یوزر سیگمنٹ کے لیے اجزاء اور سسٹمز/ ذیلی نظاموں کی تیاری

100فی صد

100فی صد تک: خودکار

یہ اصلاحات ایک مضبوط، زیادہ متحرک خلائی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں، جو نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، ترقی کو تیز کرتا ہے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم بناتا ہے۔

پالیسی سے ترقی کی جانب

حکومتی اصلاحات نے ہندوستان کے خلائی ماحولیاتی نظام میں اختراع، نجی شعبے کی شرکت اور تجارتی مواقع کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں لانچ سروسز، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

این ایس آئی ایل نے اکتوبر 2022 میں ہندوستان کے پہلے مخصوص تجارتی ایل وی ایم 3 مشن کو کامیابی سے انجام دیا، جس کے تحت 36 ون ویب سیٹلائٹس کو لو ارتھ آربٹ میں لانچ کیا گیا۔ اس کامیابی نے عالمی لانچ سروسز کی مارکیٹ میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا۔

وکرم-ایس کو نومبر 2022 میں مشن پرارمبھ کے تحت لانچ کیا گیا۔ یہ ہندوستان کا پہلا نجی طور پر تیار کردہ راکٹ تھا اور ملک کی پہلی نجی لانچ تھی، جسے آئی این-ایس پی اے سی ای نے منظوری دی تھی۔ اس ٹیکنالوجی مظاہرے کے مشن میں تین  کسٹمر (صارف) پے لوڈز شامل تھے، جو مستقبل کے مداری مشنوں کے لیے اہم لانچ ٹیکنالوجیز کی توثیق کے مقصد سے سینسرز سے لیس تھے۔

اگنیکل کاسموس مئی 2024 میں سری ہری کوٹا میں ہندوستان کے پہلے نجی لانچ پیڈ "دھنش" سے راکٹ لانچ کرنے والا پہلا غیر سرکاری ادارہ (این جی ای) بن گیا۔ اس مشن میں دنیا کے پہلے سنگل پیس تھری ڈی پرنٹڈ سیمی کریوجینک راکٹ انجن کا بھی کامیاب مظاہرہ کیا گیا۔

آئی این-ایس پی اے سی ای نے ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ نکشتر کے لیے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی منظوری دی، جس کی قیادت پکسل نے دھرووا اسپیس، سیٹ سیور اینالیٹکس انڈیا اور پیئرسائٹ اسپیس کے اشتراک سے کی، تاکہ زراعت، آفات کے انتظام، آب و ہوا کی نگرانی اور شہری منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں خلائی ایپلی کیشنز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔ فروری 2026 میں آئی این-ایس پی اے سی ای نے 511 کروڑ روپے مالیت کی ایس ایس ایل وی ٹیکنالوجی کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کو دس سالہ مدت کے لیے منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی، جس سے صنعت پر مبنی پیداوار اور لانچ خدمات کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی طرح بیلاٹریکس ایرو اسپیس نے ڈی آر ڈی او کے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت ایک مقامی گرین پروپلشن سسٹم کا کامیاب مظاہرہ کیا، جس سے صاف ستھری پروپلشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے ملکی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملی۔

یہ باہمی تعاون پر مبنی ماحولیاتی نظام ہندوستان کو عالمی خلائی ٹیکنالوجی کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھار رہا ہے۔

آگے کا راستہ

ہندوستان کا خلائی شعبہ ایک نئے دور کی دہلیز پر کھڑا ہے، جسے حکومت کی قیادت میں متعارف کرائی گئی اصلاحات اور ایک متحرک نجی ماحولیاتی نظام تقویت دے رہے ہیں۔ ہندوستانی خلائی پالیسی 2023، آزاد ایف ڈی آئی ضوابط اور مخصوص فنڈنگ اقدامات نے خلائی ویلیو چین کو ہر ممکنہ شراکت دار کے لیے کھول دیا ہے۔ ان اصلاحات نے ایک ایسا متحرک ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے، جس میں بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس، مقامی اختراعات اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔

مزید برآں، وکرم-1 جب مشن آگمان کے تحت لانچ کے لیے تیار ہو رہا ہے تو یہ صرف ایک تکنیکی سنگِ میل نہیں ہوگا، بلکہ ہندوستان کی نجی خلائی صنعت کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گا۔ اسرو کی قیادت والے مشنوں سے ایک ترقی پذیر خلائی ماحولیاتی نظام تک کا سفر حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی کامیابی کا مظہر ہے۔ پائیدار پالیسی تعاون، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور تکنیکی اختراع کے ذریعے ہندوستان ایک نمایاں عالمی خلائی طاقت اور مستقبل کی خلائی معیشت کے اہم محرک کے طور پر ابھرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔

حوالہ جات

محکمۂ خلا

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2100276&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2027137&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2011633&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248424&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205844&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2271728&reg=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227023&reg=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2115883&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226236&reg=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2198271&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2001210&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2018758&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=1876714&reg=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220433&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248424&reg=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2276117&reg=3&lang=1

لوک سبھا سیکرٹریٹ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245313&reg=48&lang=2

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن

https://www.isro.gov.in/Reforms.html
https://www.isro.gov.in/media_isro/pdf/IndianSpacePolicy2023.pdf
https://www.isro.gov.in/profile.html
https://www.isro.gov.in/ISRO_Transfers_IMS1SatelliteBus.html
https://www.isro.gov.in/ForeignSatellites.html

ان-اسپیس

https://www.inspace.gov.in/inspace?id=inspace_about_inspace
https://www.inspace.gov.in/inspace?id=inspace_taf

نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل )

https://www.nsilindia.co.in/Aboutus

اسکائی روٹ ایرو اسپیس(ایکس)

https://x.com/SkyrootA

یورپی خلائی ایجنسی

https://www.esa.int/Enabling_Support/Space_Transportation/Types_of_orbits

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Click here to see pdf

***

UR-108

(ش ح۔اس ک  )

 


(रिलीज़ आईडी: 2286062) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil