وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہریانہ کے جند میں تقریباً 14,700 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا
وزیر اعظم نے کہا : جند آ کر خوشی ہوئی،صاف و شفاف نقل و حمل، بہتر رابطہ، صحت کی سہولیات اور ثقافتی ورثے کو مضبوط بنانے والے ان منصوبوں کے آغاز سے عوام کی زندگی میں بہتری آئے گی اور ہریانہ کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی
انہوں نے کہا :آج جند اور ہریانہ نے تاریخ کے صفحات میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے درج کر لیا ہے۔ آج اسی مقام سے ملک کو اپنی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کا تحفہ ملا ہے
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی ہائیڈروجن ٹرین نہ صرف مکمل طور پر کاربن کے اخراج سے پاک ہے بلکہ یہ میک اِن انڈیامہم کی شاندار کامیابی کی بھی روشن مثال ہے
انہوں نے کہا کہ چاہے ریلوے ہو یا شاہراہیں، رابطے کے نظام میں اس طرح کی پیش رفت نہ صرف عوام کو سہولت فراہم کرتی ہے بلکہ ترقی کی رفتار کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے نئی قومی کھیل پالیسی، ’کھیلو بھارت‘ پالیسی بھی متعارف کرائی ہے۔ ’کھیلو انڈیا‘مہم سے لے کر ’ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس)‘تک، آج کھلاڑیوں کو پہلے کے مقابلے میں بے مثال سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 3:03PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ہریانہ کے جند میں تقریباً 14,700 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جند پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ خطہ اپنی تاریخی، عسکری اور روحانی عظمت کے لیے منفرد مقام رکھتا ہے، جبکہ شکتی پیٹھ ماتا جینتی کے آشیرواد سے بھی یہ سرزمین خاص اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کئی دہائی قبل تنظیمی ذمہ داریوں کے سلسلے میں اپنی پہلی جند آمد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی محبت آج بھی ان کے دل میں تازہ ہے، جس کا تعلق مقامی ذائقوں، خصوصاً مرّہ بھینس کے دودھ، دیسی بورا اور گھیور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کوئی عام سرزمین نہیں بلکہ تاریخ، جرات مندی، مذہب اور عزت و وقار کی سرزمین ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ اس خطے کے روایتی ذائقے آج بھی اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن ترقی کے میدان میں یہاں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے اور جند آج اچھی حکمرانی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں پورا ہریانہ ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہوا ہے اور آج کے یہ منصوبے اس سفر کو مزید تقویت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج کا یہ پروگرام حکومت کے اس ترقیاتی مشن میں نئی توانائی بھر رہا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ آج جند اور ہریانہ کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا ہے، کیونکہ یہاں سے ملک کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس تاریخی پیش رفت کا موازنہ ممبئی اور تھانے کے درمیان چلنے والی بھارت کی پہلی ریل گاڑی سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس سفر کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، اسی طرح مستقبل میں جب بھی ماحول دوست جدید نقل و حمل کا ذکر ہوگا، اس راہداری کا نام بھی سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھارتی ریلوے کی جامع جدیدکاری سے متعلق اس تاریخی قدم پر میں آپ سب کو اور پورے ملک کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے بڑے اقدامات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 14 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ریلوے، شاہراہوں اور ثقافتی ورثے سے متعلق مختلف منصوبے ہریانہ کے عوام کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر توسیع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھیوانی میں پنڈت نیکی رام شرما میڈیکل کالج اور نارنول میں مہارشی چیون میڈیکل کالج کے ساتھ راؤ تولارام اسپتال قوم کے نام وقف کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان نئے اداروں سے طبی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ہریانہ میں صحت کی سہولیات مزید مضبوط اور عوام کے لیے زیادہ آسانی سے دستیاب ہوں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’یہ نئے ادارے ہریانہ کی طبی خدمات کو مزید بااختیار اور مؤثر بنائیں گے۔‘‘
وزیر اعظم نے اپنی آمد سے قبل صفائی مہم میں عوام کی بھرپور شرکت اور شہری ذمہ داری کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگ جوش و خروش سے صفائی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس عوامی جذبے کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں صفائی کو اسی طرح اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔‘‘
ریلوے کے عالمی شعبے میں ٹیکنالوجی کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انیسویں صدی کو بھاپ سے چلنے والے انجنوں نے نئی شناخت دی، جبکہ بیسویں صدی بجلی سے چلنے والی ریل گاڑیوں کی صدی رہی۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ہائیڈروجن پر مبنی نقل و حمل کی صدی ہوگی، جس کا عملی آغاز جند اور سونی پت کے درمیان 90 کلومیٹر طویل ہائیڈروجن ٹرین روٹ سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج بھارتی ریلوے نے اکیسویں صدی کی اس جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک بڑا قدم بڑھایا ہے، جس میں مستقبل میں مزید وسعت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے اس کامیابی کو عالمی تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہائیڈروجن ٹرین کی ٹیکنالوجی دنیا میں عملی طور پر صرف سات سے آٹھ سال قبل متعارف ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے صرف چند ہی ممالک کے پاس ایسی ٹرینیں چلانے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ بھی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو یہ جان کر بے انتہا خوشی ہوگی کہ بھارت کی یہ نئی ہائیڈروجن ٹرین اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے غیر معمولی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے نئی ٹرین کی تکنیکی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین ہے، جس کی طاقت 3,200 ہارس پاور ہے اور اس میں دس ڈبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں چلنے والی ہائیڈروجن ٹرینوں میں عموماً صرف تین سے چار ڈبے ہوتے ہیں، جبکہ بھارت نے اپنی پہلی ہی کوشش میں دس ڈبوں پر مشتمل ہائیڈروجن ٹرین کامیابی کے ساتھ چلانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی ہی کوشش میں دس مکمل ڈبوں پر مشتمل ہائیڈروجن ٹرین کامیابی سے چلایا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ماحول دوست اور دھوئیں سے پاک ٹرین مکمل طور پر ’میک اِن انڈیا‘ مہم کی کامیابی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا بھارتی انجینئروں کے سر باندھا، جنہوں نے اس جدید نظام کا مکمل ڈیزائن تیار کیا، جبکہ ملکی مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے اس کی تعمیر کو کامیابی سے مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’میک اِن انڈیا‘اقدام کی ایک انتہائی کامیاب اور باعثِ فخر مثال ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کی آپریشنل ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہائیڈروجن ٹرینوں کے لیے مکمل طور پر الگ بنیادی ڈھانچے اور خصوصی معاون نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی فیکٹریاں اور دیگر متعلقہ سہولیات قائم کی جائیں گی، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید ہائیڈروجن ٹرین نیٹ ورک ہریانہ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا کرے گا۔
وزیر اعظم نے اس کے بعد اہم جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارتی ریلوے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں نے ملک کو اسٹریٹجک اور لاجسٹک اعتبار سے مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے پٹرولیم، ڈیزل، ایل پی جی اور کھاد کی سپلائی کے لیے استعمال ہونے والے اہم بحری راستے شدید متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی توانائی اور زرعی ضروریات کی ایک بڑی مقدار ان بحری راستوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر 2014 سے پہلے ایسی عالمی ایندھن کی صورتحال پیدا ہوتی تو ڈیزل پر زیادہ انحصار کی وجہ سے ملک کا ریلوے نظام شدید متاثر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1925 سے 2014 تک بھارتی ریلوے کے صرف 30 فیصد نیٹ ورک کی برقی کاری (الیکٹریفکیشن) ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ برسوں میں اسے بڑھا کر تقریباً 99 فیصد قومی ریلوے نیٹ ورک اور ہریانہ میں 100 فیصد ریلوے لائنوں کی برقی کاری مکمل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل برقی کاری کی بدولت عالمی تیل بحران کے باوجود ہماری ریل گاڑیاں بلا تعطل چلتی رہیں۔
وزیر اعظم نے بہتر نیٹ ورک سسٹم کے سماجی اور معاشی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سڑکوں اور ریلوے کے وسیع نیٹ ورک سے نہ صرف عوام کو سہولت ملتی ہے بلکہ علاقائی ترقی کی رفتار بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دہلی۔امرتسر۔کٹرا ایکسپریس وے کے مقامی حصے، جند۔گوہانہ قومی شاہراہ اور انبالہ۔کالا امب فور لین منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رابطہ منصوبے عوام کو سہولت فراہم کرتے ہیں اور مجموعی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جند اب پانچ مختلف قومی شاہراہوں سے منسلک ہو چکا ہے، جس سے ضلع کی لاجسٹک صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بہتر رابطے سے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو اپنی پیداوار بڑی منڈیوں تک کم لاگت اور آسانی سے پہنچانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مضبوط رابطہ نظام صنعتوں کو فروغ دے گا، سیاحت کو نئی رفتار دے گا اور بڑے پیمانے پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
وزیر اعظم نے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے اپنے حالیہ کامیاب سفارتی دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دوروں کے دوران بھارت نے متعدد اہم دوطرفہ معاہدے کیے ہیں جنہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے ایک ایسے اہم اسٹریٹجک موضوع کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی جو اگرچہ زیادہ زیرِ بحث نہیں آیا، لیکن خطے کے نوجوانوں کے لیے براہِ راست بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاص موضوع جو ہریانہ کے نوجوانوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور جس پر زیادہ بات نہیں ہوئی، وہ کھیل ہے۔
وزیر اعظم نے غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تعاون کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد کھیلوں کی صنعت اور اعلیٰ درجے کے کھلاڑیوں کی تربیت کے طریقوں میں انقلابی تبدیلی لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ مل کر کھیلوں کے شعبے میں آنے والے وقت میں اہم اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے تعاون سے ہم آنے والے وقت میں کھیلوں کی صنعت میں نمایاں کام کرنے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے ملک میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کو فٹنس اور روزگار کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نئی قومی کھیل پالیسی اور کھیلو بھارت پالیسی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھیلو انڈیا اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم ( ٹی او پی ایس) جیسی اسکیموں کے ذریعے کھلاڑیوں کو غیر معمولی مالی اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی ریاستی حکومت بھی کھیلوں اور ہمارے محنتی کھلاڑیوں کی مسلسل بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے انہیں مستقبل کے بڑے عالمی مقابلوں کے لیے بھرپور تیاری کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت 2030 دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور 2036 اولمپک کھیلوں کی میزبانی کے لیے بھی دعویٰ پیش کر چکا ہے، جبکہ احمد آباد میں ورلڈ پولیس اینڈ فائر گیمز بھی منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ پوری محنت اور جذبے کے ساتھ تیاری کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت آپ کی سخت تربیت اور تیاری کے لیے تمام ضروری سہولیات مکمل طور پر فراہم کرے گی۔
وزیر اعظم نے مقامی طرزِ حکمرانی کی تعریف کرتے ہوئے ریاستی انتظامیہ کو وزیر اعلیٰ کی قیادت میں جامع ترقی کے اصول پر سختی سے عمل کرنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی روزگار کے نظام کو نافذ کیا گیا ہے، جس میں رشوت اور اقربا پروری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس طرح کی بنیادی اصلاحات نافذ کرنا سیاسی طور پر ایک مشکل کام ہوتا ہے۔
وزیر اعظم نے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی منڈی ریاست کی بڑی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے اور کسانوں کو براہِ راست بڑے مالی فوائد فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے کسانوں کو پردھان منتری کسان سمان ندھی کے تحت تقریباً 8,000 کروڑ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، جس میں مقامی کسانوں کو بھی ایک اہم حصہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف جند کے محنتی کسانوں کے کھاتوں میں ہی 600 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم براہِ راست منتقل کی جا چکی ہے۔
وزیر اعظم نے ملک کے گہرے ثقافتی اور روحانی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ اس عظیم تاریخی ورثے کا ایک زندہ مرکز ہے۔ انہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی شاندار میراث اور پانڈوؤں سے وابستہ مقدس عقیدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں موجود مقدس مقامات آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی عظیم عقیدے اور روحانیت کا ورثہ ہے جسے جدید بھارت آج پوری لگن کے ساتھ محفوظ رکھ رہا ہے۔
ماضی کے اس عظیم ورثے کو مستقبل کی تعلیمی اور ثقافتی کوششوں سے جوڑتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک اپنی تاریخ کو مکمل احترام کے ساتھ آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کروکشیتر میں نئے سکھ میوزیم کے سنگِ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا میوزیم بھارت کی عظیم گرو روایت کو آنے والی نسلوں تک کامیابی اور وقار کے ساتھ پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہریانہ زراعت اور صنعت کی دوہری معاشی طاقت کے سہارے ترقی کی تیز رفتار راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے شروع کیے گئے منصوبے اس رفتار کو مزید بڑھائیں گے اور خطہ ملک کی ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کی یہ تیز رفتار ترقی یقینی طور پر ترقی یافتہ بھارت کے ہمارے جاری سفر کو مزید مضبوط اور توانائی بخشے گی۔
******
ش ح ۔ ع و۔ م الف
U. No.74
(रिलीज़ आईडी: 2285735)
आगंतुक पटल : 24