شہری ہوابازی کی وزارت
مرکزی وزیرجناب رام موہن نائیڈو نے دمن کے نمو ہوائی اڈے سے افتتاحی پرواز کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
الائنس ایئر دمن کو سیدھے دہلی سے جوڑتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
17 JUL 2026 11:09AM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی جناب رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کے منتظم جناب پرفل پٹیل کے ہمراہ 16 جولائی 2026 کو نو قائم شدہ نمو ہوائی اڈہ، دمن سےدہلی اور دہلی سےدمن روٹ پر افتتاحی پرواز کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ سرکاری علاقائی فضائی کمپنی الائنس ایئر نے اس پرواز کا آغاز کیا۔ جس کے ساتھ ہی دمن کو اپنی تاریخ کا پہلا براہِ راست فضائی رابطہ حاصل ہوگیا۔ یہ دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کےوژن کے مطابق قائم کیا گیا دمن ہوائی اڈہ ایک دوہری نوعیت کی سہولت ہے، جو انڈین کوسٹ گارڈ ایئر اسٹیشن (آئی سی جی اے ایس) دمن سے مشترکہ طور پر چلایا جا رہا ہے۔ شہری ٹرمینل کا سنگِ بنیاد وزیر اعظم نے 25 اپریل2023 کو رکھا تھا، جبکہ 5 جون 2026 کو اسی ہوائی اڈے کا افتتاح بھی وزیر اعظم کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا
مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ نے 25 ایکڑ اراضی پر 124 کروڑ روپے کی لاگت سے اس ہوائی اڈے کا ٹرمینل تعمیر کیا۔ جبکہ وزارتِ شہری ہوابازی نے اس منصوبے کے لیے 88 کروڑ روپے کی رقم بطور باز ادائیگی فراہم کی۔ 3,700 مربع میٹر پر مشتمل یہ ٹرمینل فی الحال روزانہ 14 اے ٹی آر پروازوں کی آمد و رفت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سالانہ 3.67 لاکھ مسافروں کی خدمت انجام دے سکتا ہے۔
پروازکی خدمات کے آغاز کی تقریب میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ، ایئرپورٹس اتھارٹی(اے اے آئی)، الائنس ایئر اور انڈین کوسٹ گارڈ کے سینئر افسران کے علاوہ دمن کے مقامی باشندوں نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی جناب رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے کہا:اس تاریخی موقع پر میں دمن کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اپنی پہلی ہی پرواز کے ساتھ دمن براہِ راست ملک کے دارالحکومت دہلی سے جڑ گیا ہے۔ اب سورت یا ممبئی کے راستے 8 سے 10 گھنٹے کا سفر کرنے کے بجائے دہلی کے لئے سفر محض ڈھائی گھنٹے کی مسافت کا ہوگا۔ یہ سب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی انقلابی ’اُڑان‘ اسکیم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔‘‘
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران وزیر اعظم کی قیادت میں دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں13 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 450 سے زیادہ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ اسی لیے دمن کے عوام نے اپنے نئے ہوائی اڈے کا نام’نمو ایئر پورٹ‘ رکھا، تاکہ دمن کی ایک دیرینہ عوامی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دمن، دیو اور دادرا و نگر حویلی میں سات ہزار سے زائد صنعتیں قائم ہیں، جبکہ پڑوسی علاقوں واپی اور ولساڈ میں بھی پندرہ ہزار سے زیادہ صنعتی ادارے سرگرم عمل ہیں۔ بہتر فضائی رابطے سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، نئی سرمایہ کاری آئے گی اور خطے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
علاقے کی سیاحتی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ سیاح دمن کا رخ کرتے ہیں اور اب جب دمن فضائی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے تو سیاحوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ رن وے کو توسیع دے کر دمن ہوائی اڈے پر ایئربس اے 320 جیسے بڑے طیاروں کی لینڈنگ ممکن بنائی جائے، تاکہ ممبئی، سورت، احمد آباد اور پٹنہ جیسے شہروں سے بھی براہِ راست فضائی رابطہ قائم کیا جا سکے۔
وزیر نے دیو ہوائی اڈے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سالانہ مسافروں کی تعداد 2013 میں صرف 19 ہزار تھی، جو آج بڑھ کر ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے وزارت دیو ہوائی اڈے پر ایک نئے ٹرمینل اور اضافی بڑے رن وے کی تعمیر پر کام کر رہی ہے۔
دمن ہوائی اڈے کی اہمیت پر مزید گفتگو کرتے ہوئے جناب رام موہن نائیڈو نے کہا:’’وزیر اعظم نے دمن کی بلیو اکانومی کو نیلے آسمان کے بے شمار نئے امکانات سے جوڑ دیا ہے۔ اب دمن کی ماہی گیری، سمندری مصنوعات اور فوڈ پروسیسنگ سے متعلق اشیا چند ہی گھنٹوں میں ملک کے کسی بھی حصے تک پہنچائی جا سکیں گی۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس سے ماہی گیر برادری کو فائدہ ہوگا، سمندری زراعت سے وابستہ افراد کے لیے نئی منڈیاں کھلیں گی اور یہاں کی دواسازی(فارما) صنعت کو بھی نئی رفتار اور تقویت حاصل ہوگی۔
وزیر نے مزید کہا کہ عوامی فضائی رابطے کو فروغ دینے والی انقلابی اُڑان اسکیم کی مدت میں مزید دس برس کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ترمیم شدہ اُڑان اسکیم کے تحت آئندہ دس برسوں میں ملک بھر میں100 نئے ہوائی اڈوں اور 200 نئے ہیلی پیڈز کی تعمیر و ترقی کے لیے29 ہزار کروڑ روپے کی بے مثال رقم مختص کی گئی ہے۔ جس سے بھارت کے علاقائی فضائی رابطے کے نیٹ ورک کو مزید مضبوطی ملے گی۔
جناب رام موہن نائیڈو نے اپنے خطاب کے اختتام پر انڈین کوسٹ گارڈ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نمو ہوائی اڈے کے منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے اس تاریخی موقع پر دمن کے عوام کو دلی مبارک باد بھی پیش کی۔
اس موقع پر دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کے منتظم جناب پرفل پٹیل نے کہا:’’نمو ہوائی اڈہ گجرات کے ولساڈ سے لے کر مہاراشٹر کے پالگھر تک پھیلی صنعتی پٹی کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ثابت ہوگا اور اس خطے کے نوجوانوں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں میں نمو ہوائی اڈہ، دمن، کئی گنا وسعت اختیار کرے گا اور اس خطے کی معیشت کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر بن کر ابھرے گا۔‘‘
دمن کے نموہوائی ایئر پورٹ سے فضائی خدمات کا آغاز حکومت کے اس وژن کی جانب ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ جس کا مقصد فضائی سفر کو عام شہریوں کے لئے قابل رسائی بنایا اور چھوٹے شہروں کو ملک کے تیزی سے فروغ پاتے فضائی رابطے کے نیٹ ورک سے مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ح۔ ش ہ ب)
U.No.64
(रिलीज़ आईडी: 2285637)
आगंतुक पटल : 12