سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مستقبل کی بایوٹیکنالوجی افرادی قوت کی تیاری کے لیے بھارت کے پہلے انجینئرنگ بایولوجی گریجویشن کورس کا اعلان کیا


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 2035 تک مصنوعی ذہانت پر مبنی حیاتیات اور بایو مینوفیکچرنگ کے ذریعے بھارت کو عالمی بایو اکانومی کا قائد بنانے کے لیے روڈ میپ جاری کیا

روڈ میپ کے اجرا نے اگلی نسل کی بایوٹیکنالوجی اور بایو مینوفیکچرنگ کے لیے بھارت کی حکمت عملی کو اجاگر کیا

حکومت با صلاحیت افرادی قوت، اختراع اور صنعت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے خودمختار بایوٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 6:14PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، محکمہ جوہری توانائی، محکمہ خلا، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج بھارت کے پہلے انجینئرنگ بایولوجی گریجویشن کورس کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک ایسے خودمختار اور خودکفیل بایوٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم قرار دیا جو ملک کے طویل مدتی سائنسی، صحت عامہ اور معاشی اہداف کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا۔

”2035 تک بھارت کو بایو اکانومی کی عالمی طاقت بنانا“ کے عنوان سے روڈ میپ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ انجینئرنگ بایولوجی آئندہ مرحلے میں بھارت کی بایو اکانومی کی بنیادی علمی شاخ بن کر ابھرے گی، بالکل اسی طرح جیسے کمپیوٹر سائنس نے ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی نے پہلے ہی طبی اداروں کے ساتھ بین شعبہ جاتی پروگراموں کے لیے تجاویز پیش کرنا شروع کر دی ہیں، جو انجینئرنگ، حیاتیات اور صحت عامہ کے شعبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تقریب میں روڈ میپ کی پیشکش، صنعت کے نمائندوں کے خیالات اور سینئر پالیسی سازوں کے خطابات شامل تھے، جس کے بعد اس کا باضابطہ اجرا کیا گیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئے کورس کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں اپنا ایک خودمختار اور خودکفیل ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا۔“ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ملک کا پہلا کورس ہوگا، جو ایسی نئی نسل کے ماہرین تیار کرے گا جو انجینئرنگ، حیاتیات، طب اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے باہمی امتزاج پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک کی بایو اکانومی 2014 میں تقریباً 10 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر آج تقریباً 95 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اندازوں کے مطابق 2030 تک یہ تقریباً 300 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب 11 ہزار سے زائد بایوٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ موجود ہیں، جو ملک کے اختراعی ماحولیاتی نظام میں نمایاں تبدیلی کا ثبوت ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس بایوٹیکنالوجی برائے معیشت، روزگار اور ماحولیات پر مبنی ایک جامع بایوٹیکنالوجی پالیسی موجود ہے، جس نے سائنسی تحقیق کو تیزی سے معاشی اور سماجی نتائج میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب صرف عالمی پیش رفت کی پیروی کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ بایوٹیکنالوجی کے جدید ترین شعبوں میں ایک فعال شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

صحت عامہ سے متعلق بایوٹیکنالوجی میں بھارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے کووڈ-19 کے خلاف دنیا کی پہلی ڈی این اے ویکسین تیار کی اور تقریباً 30 ممالک کو ویکسین فراہم کی، جس سے ملک کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں اور عالمی قیادت کا مظاہرہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے آر-ٹ سیل تھراپی اور ابھرتے ہوئے جین پر مبنی علاج کے شعبے میں دیسی پیش رفت جدید علاج کو نمایاں طور پر کم لاگت بنا رہی ہے، جس سے بھارت ایک کم خرچ مگر اعلیٰ معیار کی عالمی طبی خدمات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر رہا ہے۔

وزیر موصوف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بایوٹیکنالوجی کا مستقبل بڑھتے ہوئے مصنوعی حیاتیات، مصنوعی ذہانت پر مبنی حیاتیاتی تحقیق اور بایو مینوفیکچرنگ سے وابستہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی پروٹینز کی تیاری، زندہ خلیوں پر مبنی ادویات، صاف ستھرے ایندھن اور پائیدار غذائی نظام وضع کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ، زراعت اور صنعت میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گی۔

صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے بایوٹیکنالوجی کے شعبے کو شعوری طور پر نجی شعبے کی زیادہ فعال شمولیت کے لیے کھولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر تیار کی گئی ڈی این اے ویکسین جیسے کامیاب اقدامات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیاری کے ابتدائی مرحلے ہی سے صنعت کی شراکت کتنی اہم ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ روایتی سوچ سے آگے بڑھتے ہوئے سائنس دانوں، صنعت کاروں اور مینوفیکچرروں کے درمیان مضبوط شراکت داری قائم کریں تاکہ اختراع کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

وزیر موصوف نے مقامی بایو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں توسیع، باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری اور سائنس، صحت اور صنعت کے درمیان بین شعبہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ بایولوجی جیسے ابھرتے ہوئے شعبے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایسی افرادی قوت تیار کریں گے جو صحت عامہ، غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بھارت کے عزائم کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہوگی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ بایوٹیکنالوجی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے نے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بایو اکانومی میں شامل ہے، جہاں سالانہ شرح نمو 15 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 100 بایو انکیوبیٹر اور 10,000 سے زائد بایوٹیکنالوجی کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں، جنہیں BioE3 پالیسی سمیت متعدد ترقی پسند پالیسی اقدامات کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ روڈ میپ اختراع پر مبنی بایو مینوفیکچرنگ، درست طبی نگہداشت،  پائیدار زراعت اور اے آئی پر مبنی حیاتیات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ایک باصلاحیت افرادی قوت اور عالمی معیار کے مسابقتی بایوٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے ایک جامع حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔

نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر گوبردھن داس نے کہا کہ بھارت اس وقت بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک ایسے تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے جس کا تقابل گزشتہ صنعتی انقلابات سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کی بایو اکانومی میں تقریباً 16 گنا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ قومی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 4.8 فیصد کا تعاون کر رہی ہے۔ نئے جاری کیے گئے روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں 2035 تک بھارت کی بایو اکانومی کو تقریباً 700 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے لیے مجوزہ 50,000 کروڑ روپے کے بایو اکانومی گروتھ فنڈ، باصلاحیت افرادی قوت کی مضبوط تیاری اور عالمی معیار کی بایو مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بنیاد بنایا جائے گا۔ انہوں نے صنعت، محققین اور سرمایہ کاروں سے زور دے کر کہا کہ وہ بھارت کو دنیا کی صف اول کی بایوٹیکنالوجی طاقتوں میں شامل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آنے والی دہائی عالمی بایو اکانومی میں بھارت کی حیثیت کا تعین کرے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ تحقیق، افرادی قوت کی ترقی، صنعت کے ساتھ شراکت داری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے بھارت نہ صرف صحت عامہ اور غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ لاکھوں اعلیٰ مہارت کے حامل روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا اور عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مسابقتی بایوٹیکنالوجی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔

 

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

16-07-2026

                                                                                                                                            U: 44

 


(रिलीज़ आईडी: 2285541) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil