صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
آئی سی ایم آر کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈرون کے ذریعے تپ دق (ٹی بی)کے نمونوں کی ترسیل سے دور دراز تلنگانہ میں تشخیص کا وقت اور مریضوں کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں
آئی سی ایم آر کی آئی-ڈرون پہل کے تحت کی گئی یہ تحقیق دشوار گزار علاقوں میں تپ دق کی تشخیصی خدمات تک رسائی کوبہتربنانے میں ڈرون ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
16 JUL 2026 10:45AM by PIB Delhi
طبی تحقیق سے متعلق ہندوستانی کونسل (آئی سی ایم آر) نے اپنی اہم آئی-ڈرون پہل کے تحت یہ مظاہرہ کیا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) کے تھوک کے نمونوں (سیمپل) کی ڈرون کی مدد سے نقل و حمل دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے تشخیصی خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے ۔
یہ نتائج تب دق کے خاتمے کے قومی پروگرام (این ٹی ای پی) کے تحت ایمس بی بی نگر اور ضلع ٹی بی آفس کے اشتراک سے تلنگانہ کے یدادری -بھوونگیری ضلع میں کئے گئے پروگرام پر مبنی مطالعے سے سامنے آئے ہیں ۔ اس مطالعے میں تپ دق کی تشخیص کے لیے مریضوں کے سفر کے روایتی نظام کا موازنہ ڈرون پر مبنی ماڈل سے کیا گیا جس میں قریبی بنیادی صحت مراکز (پی ایچ سی) اور ذیلی مراکز (ایس سی) میں تھوک کے نمونے اکٹھے کیے گئے اور ڈرون کے ذریعے تپ دن کی تشخیصی لیبارٹریوں (ٹی یو) میں منتقل کیے گئے ۔
مطالعہ میں 840 شرکاء کا اندراج کیا گیا اور پتہ چلا کہ ڈرون پر مبنی نمونے کی نقل و حمل کے متعارف کئے جانے کے بعد تپ دق کی تشخیص کے لیے اوسط سے عین درمیان کا وقت 15 دن سے کم ہو کر 5 دن ہو گیا ۔ اس سےتشخیص میں تاخیر میں بھی نمایاں طور پر کمی آئی ، جس سے بیماری کی پہلے تصدیق اور تیزی سے طبی فیصلہ سازی میں آسانی ہوئی ۔
اہم بات یہ ہے کہ اس مطالعے میں مریضوں کے مالی بوجھ میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ۔ تپ دق کی تشخیص کرنے سے وابستہ اوسط اخراجات (او او پی ای) ڈرون پر مبنی مرحلے کے دوران روایتی نقل و حمل کے نظام کے تحت تقریباً 9,451 روپے کے مقابلے کم ہو کر تقریباً 91 روپے رہ گئے ۔ یہ کمی بڑی حد تک کم سفری اخراجات ، اجرت میں کمی اور مریضوں کے گھروں کے قریب تھوک کے نمونے جمع کرنے کی دستیابی کی وجہ سے ہوئی۔ خاص طور پر ، ڈرون مرحلے کے دوران اوسط کا عین درمیانی او او پی ای صفر تھا ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے شرکاء نے تشخیص کے لیے سفر سے متعلق کوئی خرچ نہیں کیا ۔ یہ پہل صحت کے بنیادی 11مراکز ، 60 ذیلی مراکز اور تپ دق کی چار اکائیوں کو جوڑنے والے مرکز—اور-اس سے منسلک چھوٹے مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے نافذ کی گئی تھی ، جو مریضوں کو تشخیصی مراکز تک طویل فاصلے کا سفر کرنے کے بجائے اپنے گاؤں کے قریب صحت کی سہولیات پر تھوک کے نمونے جمع کرنا ممکن ہو سکا ۔
نتائج پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راجیو بہل ، سکریٹری ، محکمہ صحت تحقیق اور ڈائریکٹر جنرل ، آئی سی ایم آر نے کہا ، ’’تشخیص تک کفایتی اور بروقت رسائی ہندوستان کی تپ دق کے خاتمے کی کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح جغرافیائی رکاوٹوں کو دور کرنے اور مریضوں ، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں پر بوجھ کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے ۔ آئی-ڈرون پہل کے ذریعے تیار کردہ شواہد موجودہ صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے نظام کی تکمیل کرتے ہوئے مستقبل کی صحت عامہ کی اختراعات کو مطلع کرنے میں مدد کریں گے ۔
مقدار پر مبنی نتائج کے ساتھ ساتھ ، مطالعہ میں حصہ لینے والے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں نے بتایا کہ ڈرون پر مبنی نقل و حمل نے تاخیر کو کم کیا ، آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنایا اور ابتدائی واقفیت کے بعد لوگوں نے اسے اچھی طرح سے قبول کیا ۔ مطالعے میں موسم ، پے لوڈ کی حدود اور مسلسل تربیت کی ضرورت جیسے آپریشنل تحفظات کی بھی نشاندہی کی گئی ، جس سے وسیع تر نفاذ کے لیے محتاط منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا گیا ۔
محققین نے پایا ہے کہ نتائج ایک ضلع میں پروگرام کے نفاذ پر مبنی ہیں اور جغرافیائی طور پر چیلنجنگ صورتحال میں صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں ڈرون پر مبنی لاجسٹکس کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے اہم آپریشنل حل فراہم کرتے ہیں ۔ متنوع حالات میں مزید نفاذ سے باخبر فیصلہ سازی کے لیے اضافی ثبوت بنانے میں مدد ملے گی ۔
یہ مطالعہ آئی سی ایم آر آئی-ڈرون پہل کے تحت سامنے آنے والے بڑھتے ہوئے شواہد میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ۔ اس پہل کے ذریعہ ملک بھر کے دشوار گزار علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر کے لئے جو ویکسین ، ادویات ، خون سے تیار کردہ اجزاء ، تشخیصی نمونوں ، بافتوں(ٹشو) وغیرہ کی نقل و حمل کے لیے ڈرون کے محفوظ اور موثر استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔مطالعہ کی مکمل رپورٹ تک https://journals.theunion.org/content/ijtldo/3/2/70.abstract رسائی حاسل کی جا سکتی ہےَ
مطالعہ کے بارے میں ایک اور اشاعت تک رسائی https://journals.sagepub.com/doi/full/10.1177/20552076251406320 کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔
***
ش ح۔م ش۔ ع د
U-No. 15
(रिलीज़ आईडी: 2285251)
आगंतुक पटल : 14