زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آئی سی اے آر کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کانکلیو 2026 میں شرکت کی
"ملک ہمیں سب کچھ دیتا ہے، ہمیں بھی ملک کو کچھ لوٹانا چاہیے": جناب شیوراج سنگھ چوہان
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے ذریعے زرعی تحقیق کو تجربہ گاہوں سے کھیتوں تک پہنچانے کا خاکہ پیش کیا
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اسٹارٹ اپس، ہنر مندی کی ترقی اور زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تعاون کی اپیل کی
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے ذریعے خواتین کسانوں، اپنی مدد آپ گروپوں اور دیہی صنعت کاری کو بااختیار بنانے پر زور دیا
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کو ہندوستانی امانت داری کی روایت سے جوڑتے ہوئے کارپوریٹ شعبے سے دولت کو عوامی فلاح کے لیے وقف کرنے کی اپیل کی
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 6:31PM by PIB Delhi
ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے زیر اہتمام منعقدہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کانکلیو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کارپوریٹ شعبے پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی امانت داری کی روایت کو اپناتے ہوئے اپنی آمدنی کا ایک حصہ کسانوں کی فلاح، زرعی تحقیق اور دیہی آبادی کی ترقی کے لیے وقف کرے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک صنعتوں اور کاروباری اداروں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے، اسی طرح صنعتی شعبے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے ذریعے زراعت اور دیہی ترقی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے قوم کی تعمیر میں فعال شراکت دار بنے

مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ زرعی تحقیق صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ "سائنس سے کسان تک" کے تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس کے نتائج براہِ راست کسانوں تک پہنچنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری سے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، مٹی کی صحت، غذائی تحفظ، زرعی مہارتوں کی ترقی اور خواتین کسانوں کی صنعت کاری جیسے شعبوں میں ٹھوس اور دیرپا نتائج برآمد ہونے چاہییں۔
سی ایس آر امانت داری کے جذبے کی عکاس ہے
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کانکلیو کو ایک منفرد پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کارپوریٹ شعبے، وزراء، سائنس دانوں، سرکاری حکام اور کسانوں کی مشترکہ شرکت سے زراعت کی مکمل ویلیو چین ایک جگہ جمع ہوئی ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے امانت داری کے فلسفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دولت رکھنے والے اس کے حقیقی مالک نہیں بلکہ صرف امین ہوتے ہیں، کیونکہ اصل میں یہ دولت معاشرے کی امانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی اصل روح یہی ہے کہ کارپوریٹ ادارے رضاکارانہ طور پر اپنی آمدنی کا ایک حصہ ملک اور عوام کی فلاح کے لیے وقف کریں۔ حکومت کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقصد کسی سے وسائل لینا نہیں بلکہ صلاحیتوں اور صنعت کاری کو فروغ دینے کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ صنعت کار دولت پیدا کریں اور پھر اس کا ایک حصہ معاشرے، کسانوں اور زرعی اختراعات پر خرچ کریں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ بہت سے صنعت کار قانونی پابندی سے پہلے بھی عوامی فلاح میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں اور سی ایس آر قانون نے اس سماجی ذمہ داری کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی ہے۔
زرعی تحقیق کو تجربہ گاہوں سے کھیتوں تک پہنچانے پر زور
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ زرعی تحقیق کا براہِ راست فائدہ کسانوں تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ وہ صرف تجربہ گاہوں تک محدود رہے۔ انہوں نے وکست کرشی سنکلپ ابھیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد سائنس دانوں کو کسانوں سے جوڑنا اور نئی زرعی تکنیک، بہتر فصلی اقسام اور تحقیقی نتائج ان تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سائنس سے کسان تک" کے سفر کو تیز کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول میں کارپوریٹ شعبہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
جوٹ کی صنعت کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روایتی طریقے میں جوٹ سے ریشہ نکالنے کے لیے اسے تقریباً 25 دن پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے، جس سے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے اور ریشے کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جدید مشینیں تیار ہو چکی ہیں جو بہت کم وقت میں اعلیٰ معیار کا ریشہ نکال سکتی ہیں، لیکن ان ٹیکنالوجیوں کو جلد از جلد تجارتی سطح پر اپنانا ضروری ہے تاکہ کسان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام صرف حکومت کے بس کی بات نہیں، بلکہ نجی شعبے کی فعال شراکت بھی ناگزیر ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ، صحت مند اور پائیدار زراعت کے لیے شراکت داری
کانکلیو میں زیر بحث پانچ اہم موضوعات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنانا، مٹی کی صحت کا تحفظ، کسانوں کی آمدنی اور عوامی صحت کو یقینی بنانا، نیز غذائیت سے بھرپور، موسمی اور مقامی حالات سے ہم آہنگ خوراک کو فروغ دینا ملک کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے مٹی میں نامیاتی کاربن کی مسلسل کم ہوتی مقدار اور جانچ کے بغیر کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار کے تحفظ کے لیے مٹی کی صحت کا تحفظ بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوائل ہیلتھ کارڈ جیسے پروگراموں کو بھی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تعاون سے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان کے روایتی تصور "غذا ہی دوا ہے" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو صرف کھانے کے لیے نہیں جینا چاہیے بلکہ صحت مند زندگی کے لیے اتنی ہی غذا کھانی چاہیے جو متوازن، غذائیت سے بھرپور اور موسم کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسی بیماریوں میں اضافے کے پیش نظر زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ پیدا ہونے والی غذائیں عوامی صحت کے لیے فائدہ مند ہوں، نقصان دہ نہیں۔
اسٹارٹ اپس، ڈرون پائلٹس، زرعی ٹیکنالوجی اور خواتین کسانوں پر خصوصی توجہ
مرکزی وزیر نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے ذریعے زرعی ٹیکنالوجی سے وابستہ اسٹارٹ اپس، زرعی تربیتی اداروں، ڈرون پائلٹس کی تربیت، زرعی کاروباری قیادت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو نوجوان زراعت چھوڑنا نہیں چاہتے بلکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور زرعی صنعت کاری کو اپنانے کے خواہش مند ہیں۔ ان کے مطابق سی ایس آر ایسے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خواتین کسانوں اور اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز) کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون دیدی اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے اپنی مدد آپ گروپ زراعت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں میں ایک نئی تبدیلی لا رہے ہیں۔ انہوں نے کارپوریٹ شعبے سے اپیل کی کہ وہ اپنی سی ایس آر سرگرمیوں میں خواتین کسانوں، خواتین کے گروپوں اور دیہی صنعت کاری کو خصوصی ترجیح دے تاکہ دیہی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
صنعتی شعبے سے وسیع تر عزم کا اظہار کرنے کی اپیل
کانکلیو کے دوران کارپوریٹ شعبے کے نمائندوں نے قومی ترقی کے لیے اپنے عزم اور تعاون کا اظہار کیا۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ان اعلانات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسا جذبہ تمام متعلقہ فریقوں میں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ قانون کے تحت کمپنیوں کے لیے اپنے منافع کا دو فیصد حصہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) پر خرچ کرنا لازمی ہے، تاہم اسے صرف قانونی تقاضہ نہیں بلکہ معاشرے کے تئیں ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا، "حقیقی زندگی اسی کی ہے جو دوسروں کی زندگی سنوارتا ہے۔" انہوں نے تمام افراد اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی محنت سے کمائی گئی آمدنی کا ایک حصہ دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے وقف کریں، کیونکہ یہی اس پروگرام کی حقیقی روح ہے۔
آئی سی اے آر کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کانکلیو 2026 کا مرکزی اجلاس نئی دہلی کے این اے ایس سی کمپلیکس میں واقع بھارت رتن سی سبرامنیم آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں کارپوریٹ شعبے کے نمائندوں، سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور کسانوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کے ساتھ مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر، مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری اور حکومت کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :9995 )
(रिलीज़ आईडी: 2285130)
आगंतुक पटल : 8