امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی موجودگی میں گائے کے گوبر کے مناسب استعمال کے لیے دہلی میں کمپریسڈ بایو گیس پلانٹس کے قیام کی غرض سے ایم سی ڈی اور این ڈی ڈی بی کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے
یہ معاہدہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے جمنا ندی کو پاک و صاف بنانے کے عزم کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے
مستقبل میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں کہ گائے کے گوبر کی معمولی سی مقدار بھی جمنا ندی میں داخل نہ ہو
یہ معاہدہ ملک کے تمام بڑے شہروں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا
یہ مہم نہ صرف مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا بلکہ صفائی ستھرائی کو بھی بہتر بنائے گا، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی پیداوار کو فروغ دے گا اور نامیاتی کاشت کاری کو بھی بڑی تقویت فراہم کرے گا
دسمبر 2028 تک ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گندا پانی کا ایک لیٹر بھی جمنا ندی میں داخل نہ ہو
یہ علامتی پہل تمام شہری علاقوں میں صفائی کو یقینی بنانے اور ملک بھر کے کروڑوں مویشی پالنےکسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
دہلی میں سیوریج کے پانی اور صنعتی فضلے کی صفائی کے لیے تقریباً 80 ٹریٹمنٹ پلانٹس پر کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 5:25PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی موجودگی میں آج نئی دہلی میں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کے درمیان گائے کے گوبر کے مناسب استعمال کے لیے دہلی میں کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پلانٹس کے قیام کی غرض سے ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔اس موقع پر مرکزی وزیر برائے مویشی پروری اور ڈیری جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ترنجیت سنگھ سندھو، وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا، مرکزی وزیر داخلہ کے سکریٹری، مرکزی وزارتِ تعاون کے سکریٹری اور مرکزی و دہلی حکومتوں کے کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج دستخط کیے گئے معاہدے سے ملک کے تمام بڑے شہروں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل نہ صرف مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا بلکہ صفائی ستھرائی کو بھی بہتر بنائے گا، کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی پیداوار کو فروغ دے گا اور نامیاتی کاشت کاری کو بھی مضبوط تقویت فراہم کرے گا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ملک کے تمام شہری چاہتے ہیں کہ جمنا ندی کا پانی صاف ہو، لیکن ندی میں گندگی اور سیوریج کے گندے پانی کو کو روکے بغیر یہ خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے جمنا ندی کو صاف ستھرا بنانے کے عزم کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہلی میں سیوریج کے پانی اور صنعتی فضلے کی صفائی کے لیے تقریباً 80 ٹریٹمنٹ پلانٹس پر کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں کہ گائے کے گوبر کی معمولی سی مقدار بھی جمنا ندی میں داخل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ 1.25 لاکھ مویشیوں سے پیدا ہونے والے فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائے بغیر یہ ممکن نہیں ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ دسمبر 2028 تک ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گندے پانی کا ایک لیٹر بھی جمنا ندی میں داخل نہ ہو۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ نانگلی، گھوگا-گویلّا اور غازی پور کے کچرے کوتلف کرنے والے پلانٹس میں گائے کے گوبر کی پروسیسنگ کا کام مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علامتی اقدام تمام شہری علاقوں میں صفائی کو یقینی بنانے اور ملک بھر کے کروڑوں مویشی پالنے والے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کا معاہدہ ملک کے تمام بڑے شہروں کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا اور بعد میں گائے کے گوبر کی پروسیسنگ کے ذریعے پورے بھارت کے دیہی علاقوں میں مویشی پالنے والے کسانوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے میں مویشی پالنے والے کسانوں کو گائے کے گوبر کے لیے ایک روپے فی کلو گرام کی ادائیگی کی شق شامل کی گئی ہے۔
********
ش ح۔ ت ف۔ ص ج
U. No. 9986
(रिलीज़ आईडी: 2285024)
आगंतुक पटल : 16