الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محفوظ کام کی جگہ اور اعلیٰ معیار کے روزگار بھارت کے چِپ ایکو نظام کی نمایاں خصوصیات ہیں، کیونکہ ہم الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ایک قابل اعتماد عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہے ہیں


تکنیکی خود انحصاری کو مضبوط بناتے ہوئے، بھارت کا سیمی کنڈکٹر مشن چِپ ڈیزائن سے مکمل مینوفیکچرنگ تک وسعت اختیار کر رہا ہے

ترقی پسند ریاستیں پیش پیش ہیں، چھ ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر کے 12 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 3 نے پہلے ہی چِپس کی پیداوار شروع کر دی ہے

سیمی کان انڈیا پروگرام 2.0 کے ذریعے بھارت نے 2035 تک 200 ارب ڈالر مالیت کی ملکی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے ملک میں مزید جدید الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی راہ ہموار ہوگی

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 3:39PM by PIB Delhi

سیمی کنڈکٹر شاذ و نادر ہی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، لیکن خاموشی سے جدید زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کے لیے استعمال ہونے والے اسمارٹ فون، شہر کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں، اسپتالوں کے طبی آلات، خلا میں موجود سیٹلائٹس اور حکمرانی کو سہارا دینے والے ڈیجیٹل ڈھانچے تک، چھوٹے سیمی کنڈکٹر چِپس آج کی باہم مربوط دنیا کی بنیاد بن چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت،5 جی، برقی نقل و حمل اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹرز کی مانگ غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

بھارت کے لیے یہ نہ صرف ایک اہم موقع ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو نظاموں میں سے ایک قائم کرنے کے بعد، اب ملک ایک جامع سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی تشکیل کے ذریعے اپنے تکنیکی سفر کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔سیمی کان انڈیا پروگرام 2.0 کے ذریعے حکومت نے اپنی توجہ صرف چِپ مینوفیکچرنگ تک محدود رکھنے کے بجائے پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر مرکوز کی ہے، جس میں ڈیزائن، فیبریکیشن، جدید پیکیجنگ، خام مواد، آلات، تحقیق اور تربیت یافتہ صلاحیت شامل ہیں۔ اس اقدام سے مضبوط سپلائی چین، اعلیٰ قدر کے روزگار اور طویل مدتی تکنیکی خود انحصاری کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

 

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی ایک دہائی کی ترقی کی بنیاد پر مزید پیش رفت

بھارت کا سیمی کنڈکٹر کے مرکز کے طور پر ابھرنا، الیکٹرانکس شعبے میں مسلسل کی جانے والی اصلاحات کی بنیاد پر ممکن ہوا ہے۔ پے در پے پالیسی اقدامات، جن میں قومی الیکٹرانکس پالیسی، ایس پی ای سی ایس، ای ایم سی 2.0، بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) اور الیکٹرانکس اجزا مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) شامل ہیں، جس نے الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم) کے ایکونظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران الیکٹرانکس کی پیداوار میں سات گنا، الیکٹرانکس برآمدات میں گیارہ گنا، موبائل فون کی پیداوار میں بتیس گنا اور موبائل فون کی برآمدات میں 165 گنا اضافہ ہوا ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک ہے، جو ملک کے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں منتقلی کے لیے ایک مضبوط پیداواری بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

 

ترقی پسند ریاستیں بھارت کی سیمی کنڈکٹر ترقی میں پیش پیش ہیں

ترقی پسند ریاستیں بھارت کی سیمی کنڈکٹر ترقی میں پیش پیش ہیں، جہاں چھ ریاستوں میں سیمی کنڈکٹر کے 12 منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے تین مراکز نے پہلے ہی تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے، جبکہ مزید دو مراکز کے رواں سال کے اختتام تک پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے، جس سے ملک کے مینوفیکچرنگ ایکو نظام میں مزید وسعت آئے گی۔میک اِن انڈیا اور آتم نربھر بھارت کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، بھارت ایک قابلِ اعتماد سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی تعمیر کی جانب مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، جہاں ملک میں ڈیزائن اور تیار کی جانے والی چِپس کو عالمی سطح پر ان کے معیار اور اعتماد کے لیے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو شفاف پالیسیوں، جمہوری اقدار اور مستحکم کاروباری ماحول کی حمایت حاصل ہے۔الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام میں تیزی سے ہونے والی توسیع نے گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 25 لاکھ روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے، جبکہ موبائل مینوفیکچرنگ کا ایکو نظام پوری ویلیو چین میں تقریباً 12 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ موبائل مینوفیکچرنگ میں براہِ راست کام کرنے والی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، جو جامع صنعتی ترقی میں اس شعبے کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

سیمی کان انڈیا پروگرام: مضبوط بنیاد کی تعمیر

دسمبر 2021 میں 76,000 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ منظور کیے گئے سیمی کان انڈیا پروگرام کا آغاز کووِڈ-19 وبا کے دوران پیدا ہونے والی سپلائی چین کی رکاوٹوں کے جواب میں ایک عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹرایکو نظام قائم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کو انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں عالمی معیار کی مسابقتی مراعات، مساوی بنیادوں پر مالی معاونت اور فنڈز کے لچکدار استعمال کے ذریعے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے مشن موڈ حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔

سابقہ کوششوں کے برعکس، جو بنیادی طور پر فیبریکیشن پر مرکوز تھیں، اس پروگرام نے اس بات کو تسلیم کیا کہ عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک مربوط ایکو نظام کی ضرورت ہے، جس میں ڈیزائن، فیبریکیشن، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ، آلات، خصوصی کیمیکل، صنعتی گیسیں، لاجسٹکس اور ہنرمند افرادی قوت شامل ہیں۔

 

سیمی کان انڈیا پروگرام 1.0 کے تحت مضبوط پیش رفت

بھارت نے پہلے ہی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے 12 پروجیکٹوں کو منظوری دے دی ہے، جو ویلیو چین کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں ایک سلیکان فیب، پیکیجنگ کے ساتھ ایک کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب، پیکیجنگ کے ساتھ ایک مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے  جی اے این فیب اور 9 اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی سہولیات شامل ہیں، جو گجرات، اتر پردیش، پنجاب، آسام، اڈیشہ اور آندھرا پردیش میں قائم کی جا رہی ہیں۔

تین سیمی کنڈکٹر سہولیات، مائیکرون اے ٹی ایم پی، کینیس سیمی کان اور سی جی پاور او ایس اے ٹی میں تجارتی پیداوار کا آغاز ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کے پالیسی عزم سے عملی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتی ہے اور ایک مضبوط و لچکدار گھریلو سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی بنیاد رکھتی ہے۔

 

مضبوط سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور افرادی صلاحیتوں کی بنیاد کی تعمیر

مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ، بھارت سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے شعبے میں بھی اپنی قیادت کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے، جہاں دنیا کی تقریباً 20 فیصد سیمی کنڈکٹر ڈیزائن صلاحیت بھارت میں موجود ہے۔ ڈیزائن لنکڈ انسینٹو (ڈی ایل آئی) اسکیم کے تحت الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز کے لیے 103 درخواستوں اور 24 چِپ ڈیزائن پروجیکٹوں  کو منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 کمپنیوں کو وینچر کیپیٹل معاونت فراہم کی گئی ہے۔ طلبہ نے بھی آٹوموبائل، صحت، ٹیلی مواصلات، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ مواصلات جیسے شعبوں میں استعمال کے لیے 175 سیمی کنڈکٹر چِپس ڈیزائن اور تیار کیے ہیں۔

مستقبل میں درکار افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، حکومت نے چپس ٹو اسٹارٹ اپ (سی 2 ایس) جیسے اقدامات کے ذریعے سیمی کنڈکٹر شعبے میں مہارتوں کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ اس کے تحت 320 تعلیمی اداروں میں الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز فراہم کیے گئے ہیں اور 68 ہزار سے زائد طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔ سیمی کنڈکٹر سے متعلق ایک نیا نصاب 500 سے زائد انجینئرنگ کالجوں نے بھی اپنایا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار ہنرمند افرادی قوت کی ایک مضبوط بنیاد قائم ہو رہی ہے۔

سیمی کان انڈیا پروگرام 2.0: سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی توسیع

سیمی کان انڈیا پروگرام 1.0 کے تحت رکھی گئی بنیاد کو مزید مضبوط بناتے ہوئے، سیمی کان انڈیا پروگرام 2.0 کا مقصد ایک مکمل اور عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر ایکو نظام تیار کرنا ہے۔ یہ پروگرام صرف چِپ مینوفیکچرنگ تک محدود رہنے کے بجائے پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے، کیونکہ ایک مضبوط اور لچکدار سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے آلات، خصوصی کیمیکل، صنعتی گیسیں، جدید پیکیجنگ، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت سب یکساں طور پر اہم ہیں۔

یہ پروگرام چھ اسٹریٹجک  ستونوں چِپ ڈیزائن، سیمی کنڈکٹر آلات اور خام مواد، فیبریکیشن سہولیات، جدید پیکیجنگ، تحقیق و ترقی، اور افرادی صلاحیتوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ جیسے جیسے مزید مینوفیکچرنگ منصوبے قائم ہوں گے، سیمی کنڈکٹر معیار کے خام مواد اور آلات کی گھریلو مانگ میں اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ ملے گا، ایم ایس ایم ای کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بھارتی کمپنیوں کو عالمی سپلائی چین سے مربوط ہونے میں مدد ملے گی۔

 

ترقی کے اگلے مرحلے کو رفتار دینے والی شراکت داریاں

بھارت کا سیمی کنڈکٹر ایکو نظام ریاستوں اور عالمی ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ متعدد ریاستوں نے سیمی کنڈکٹر کے لیے خصوصی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، جن کے تحت سرمایہ کاری کے لیے اضافی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ امریکہ، جاپان، سنگاپور، نیدرلینڈز، جرمنی اور یورپی یونین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری ٹیکنالوجی تعاون اور ایکو نظام کی ترقی میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اپلائیڈ میٹریلز، اے ایم ڈی، لیم ریسرچ، کے ایل اے اور مائیکرو چِپ ٹیکنالوجی جیسی عالمی کمپنیاں بھی بھارت میں سرمایہ کاری اور تعاون کے اعلانات کر چکی ہیں۔

 

عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر مرکز کی جانب

عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی مانگ میں آئندہ دہائی کے دوران تیزی سے اضافے کی توقع ہے، ایسے میں بھارت سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور اختراع کے لیے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر ابھرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ مینوفیکچرنگ، تحقیق، ڈیزائن اور افرادی صلاحیتوں کی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے سیمی کان انڈیا پروگرام 2.0 کا مقصد مقامی ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنانا، معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا، سپلائی چین کو مزید لچکدار بنانا اور بھارت کے تکنیکی خود انحصاری کے سفر کو تیز کرنا ہے۔مکمل سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں صلاحیتیں پیدا کرتے ہوئے، بھارت ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے، جو وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

********

) ش ح ۔ ش آ۔ ن ع)

U.No. 9975


(रिलीज़ आईडी: 2284971) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada