جل شکتی وزارت
وزارت جل شکتی کے زیر اہتمام نئی دہلی میں’کل ہند آبی سکریٹریوں کی کانفرنس‘ کا انعقاد
प्रविष्टि तिथि:
13 JUL 2026 8:55PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا کےاحیا سے متعلق محکمہ نے آج نئی دہلی میں’کل ہند آبی سیکریٹریوں کی کانفرنس‘کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی وزیرجل شکتی جناب سی آر پاٹل نے کی، جبکہ جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راج بھوشن چودھری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا احیا کے سکریٹری جناب وی ایل کانتھا راؤ اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر سیکریٹریوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس میں مرکز اور مختلف ریاستوں کے تقریباً 200 سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران درج ذیل آٹھ ترجیحی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا:
- کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ اور آبی نظم و نسق کی جدید کاری (ایم-سی اے ڈی ڈبلیو ایم) اسکیم کی پیش رفت؛
- آبی تحفظ میں عوامی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک ماہ پر مشتمل ملک گیر #کیچ_دی_رین مہم؛
- آبپاشی، کثیرالمقاصد اور سیلاب سے متعلق نظم و نسق کے منصوبوں کے لیے نظرِ ثانی شدہ مسودۂ منصوبہ جاتی جانچ کے لیےرہنما خطوط؛
- ڈیموں کے آبی ذخائر کے رول کروز اور ذخائر کے مؤثر انتظام و ڈیموں کی حفاظت کے لیے ان پر مؤثر عمل درآمد؛
- ریاستی آبی اصلاحات کے فریم ورک (ایس ڈبلیو آر ایف) کی موجودہ صورت حال؛
- ڈیم سیفٹی ایکٹ، 2021 کے تحت دسمبر 2026 تک ڈیموں کی جامع حفاظتی جانچ (سی ڈی ایس ای) کی تکمیل؛
- ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آبپاشی سے متعلق مردم شماری کی پیش رفت؛ اور
- ماڈل اسٹیٹ واٹر ایوارڈ کے لیے فریم ورک۔
افتتاحی خطاب میں محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا احیا کے سیکریٹری جناب وی ایل کانتھا راؤ نے تمام معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے آٹھ نکاتی ایجنڈے سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے وزارت کی اہم پہلوں پر روشنی ڈالی اور اشتراکی وفاقیت کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےجل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل نے کہا کہ پانی ہندوستان کی اقتصادی ترقی، غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور ہر شہری کی فلاح و بہبود کی بنیاد ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، زیر زمین پانی کی مسلسل کمی اور تیز رفتار شہری کاری سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے آبی وسائل کے سائنسی، مؤثر اور پائیدار انتظام پر زور دیا۔

جل شکتی کے مرکزی وزیر نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ ’کیچ دی رین 2026‘ مہم کو بارش کے پانی کے ذخیرے، زیر زمین پانی کی بحالی، روایتی آبی ذخائر کی بحالی، تالابوں سے گاد نکالنے، شجرکاری مہمات اور عوامی بیداری کی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے حقیقی عوامی تحریک میں تبدیل کریں۔وزیر نے 28 جون 2026 کو من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم کی اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستوں پر زور دیا کہ مہم کے دوران پانی کے تحفظ سے متعلق تمام سرگرمیوں کی تفصیلات مؤثر نگرانی اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ’جے ایس جے بی: کیچ دی رین 2026 پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں۔
آبپاشی کے مؤثر انتظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر نےکمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ اور آبی نظم و نسق کی جدید کاری (ایم-سی اے ڈی) اسکیم کے تحت منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ ٹینڈر جاری کرنے، ورک آرڈر فراہم کرنے، آبی صارفین کی انجمنوں کے قیام اور منصوبوں پر زمینی سطح پر عمل درآمد میں تیزی لائیں، تاکہ آبپاشی کی کارکردگی، پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔وزیر نے یہ بھی کہا کہ وزارت آبپاشی، کثیر المقاصد اور سیلابی نظم و نسق کے منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے منصوبہ جاتی جانچ کے طریقۂ کار کو آسان، شفاف اور مقررہ مدت پر مبنی رہنما خطوط کے ذریعے مزید مؤثر بنا رہی ہے، تاکہ منصوبوں کی جلد منظوری، تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس (ڈی پی آر) کے معیار میں بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیر نے مئی 2026 میں آبی نظم و نسق، ڈیجیٹلائزیشن، منصوبوں کی نگرانی اور شہریوں کی شمولیت میں اصلاحات کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کیے گئےریاستی آبی اصلاحات کے فریم ورک کے تحت ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اس فریم ورک کے تحت اپنے نوڈل افسران نامزد کر دیے ہیں اور ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اصلاحات کا تقابلی جائزہ لینے اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کے لیے اس پلیٹ فارم سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ساتویں عام آبپاشی مردم شماری، دوسری آبی ذخائر کی مردم شماری، پہلی بڑی اور درمیانی آبپاشی منصوبوں کی مردم شماری اور پہلی چشمہ مردم شماری پر کام جاری ہے، جس سے آبی شعبے میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کو مزید تقویت ملے گی۔
وزیر نےڈیم سیفٹی ایکٹ، 2021 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے وزارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2026 تک تمام نامزد ڈیموں کی جامع حفاظتی جانچ مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اس سلسلے میں ضروری اقدامات بروقت مکمل کرنے کی اپیل بھی کی۔
وزیر نے اس موقع پر تین اہم دستاویزات بھی جاری کیے:’وارانسی کے لیے صاف کیے گئےپانی کے دوبارہ استعمال کا شہری سطح کا عملی منصوبہ — ایک ایسا فریم ورک جو صاف کیے گئےپانی کے محفوظ دوبارہ استعمال اور گردشی آبی معیشت کو فروغ دینے کے لیے رہنما نقشۂ راہ فراہم کرتا ہے۔ مصنوعی تغذیۂ آب اور زیرزمین پانی کے تحفظ کے ڈھانچوں کی آپریشن و دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کی رہنما کتاب’ — جسےنیشنل واٹر مشن اور سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔کھدائی اور متعلقہ کاموں کے لیے شرح نامہ (ایس او آر) — رہنما خطوط — جسے سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) نے شفافیت اور معیار بندی کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا ہے۔

کانفرنس کا اختتام ’جل سرکشت، بھارت سرکشت‘ کے ہدف کے حصول کے لیے مقررہ مدت کے اندر مؤثر عمل درآمد کے عزم کے ساتھ ہوا۔
آخر میں محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا احیا کے سیکریٹری جناب وی ایل کانتھا راؤ نے تمام ریاستوں کا فعال شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
****
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U.No.-9912
(रिलीज़ आईडी: 2284385)
आगंतुक पटल : 12