سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے پائیدار، مضبوط اور مستقبل سے ہم آہنگ نقل و حمل کے نظام کی تعمیر کے لیے برکس ممالک کے درمیان مزید مضبوط اشتراک پر زور دیا
بھارت نے نقل و حمل کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماحول کے لیے ساز گارنقل و حرکت، اختراع اور جنوب -جنوب ممالک کے درمیان تعاون کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا
جناب نتن گڈکری نے کہا کہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سڑکوں کا نیٹ ورک بھارت کے کثیر النوع بنیادی ڈھانچے کے انقلابی سفر کی بنیاد ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 2:17PM by PIB Delhi
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر، جناب نتن گڈکری نے آج برکس ممالک کے درمیان مزید گہرے اشتراک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نقل و حمل کے نظام کی تعمیر ضروری ہے جو پائیدار، مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کی مشترکہ طاقت اختراع، شراکت داری اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے عالمی نقل و حرکت کے مستقبل کی تشکیل کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔
بھارت کی برکس صدارت کے تحت منعقدہ تیسرے برکس وزرائے ٹرانسپورٹ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں جناب نتن گڈکری نے برکس کے رکن ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ، وفود کے سربراہان، سینئر حکام اور مندوبین کا ناگپور میں خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس اجلاس کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان نقل و حمل کے شعبے میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’لچک، اختراع،اشتراک اور پائیداری کی تعمیر‘‘کے موضوع پر مبنی بھارت کی برکس صدارت، ’’انسانیت سب سے پہلے‘‘کے عوامی فلاح پر مبنی نقطۂ نظر کی عکاس ہے، جس کی بنیاد "وسودھیو کٹمبکم" کے لازوال فلسفے پر ہے، جس کا مفہوم ہے کہ ’’پوری دنیا ایک کنبہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والا برکس، ایسے نقل و حمل کے نظام کی ترقی میں قیادت کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے جو زیادہ صاف، محفوظ، اسمارٹ اور مؤثر ہوں، اور ساتھ ہی پائیدار اقتصادی ترقی اور علاقائی روابط کو بھی فروغ دیں۔

جناب نتن گڈکری نے اس بات پر زور دیا کہ نقل و حمل اقتصادی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے سڑک، ریل، بحری اور ہوابازی کے شعبوں میں بھارت کی تیز رفتار تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سڑکوں کا نیٹ ورک قائم کیا ہے، جبکہ محدود رسائی والی تیز رفتار شاہراہوں اور کثیر النوع رابطہ نظام کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے۔انہوں نے دہلی۔دہرادون اقتصادی راہداری، سون مرگ سرنگ اور 10 ہزار کلومیٹر سے زائد گرین فیلڈ ایکسپریس ویز جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ماحولیاتی پائیداری اور تکنیکی اختراع کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ہائبرڈ اینوئٹی ماڈل کو بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک کامیاب نمونہ قرار دیا۔
جناب نتن گڈکری نے کہا کہ بھارت کے ریلوے نظام میں بے مثال جدیدکاری کی گئی ہے، جس کے تحت براڈ گیج ریلوے نیٹ ورک کا تقریباً مکمل بجلی کاری عمل مکمل ہو چکا ہے، وندے بھارت ٹرین خدمات کو وسعت دی گئی ہے، ممبئی۔احمد آباد تیز رفتار ریل راہداری پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ نئے پامبن پل جیسے اہم انجینئرنگ کارنامے بھی انجام دیے گئے ہیں۔انہوں نے بحری امرت کال وژن 2047، ای۔ناوک اور ای۔سمندر جیسے ڈیجیٹل اقدامات، نیز گرین شپنگ اقدام کو بھی بحری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
پائیدار نقل و حرکت کے لیے بھارت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نتن گڈکری نے الیکٹرک بسوں کی تعیناتی، گرین اربن موبلٹی اسکیم اور اُڑان اقدام کی کامیابی کا ذکر کیا، جس کے ذریعے علاقائی فضائی رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان نے مربوط کثیر النوع بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعےبنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے، جس سے لاجسٹکس کی لاگت میں کمی آئی ہے اور منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔
مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ تحفظ اور پائیداری بھارت کی نقل و حمل کی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے سڑک حادثات کے متاثرین کے لیے پی ایم راحت اسکیم کے تحت نقد رقم کے بغیر علاج کی سہولت اور سڑکوں کی تعمیر میں ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے فضلے، شہری کچرے، فلائی ایش، اسٹیل سلیگ، بانس سے تیار کردہ حفاظتی رکاوٹوں اور استعمال کے قابل نہ رہنے والے ٹائروں کے استعمال کو ماحول کےلیے ساز گار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی نمایاں مثالیں قرار دیا۔

برکس ممالک کے درمیان مزید مضبوط اشتراک پر زور دیتے ہوئے جناب نتن گڈکری نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے ، ٹریفک کی بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے، اخراج، سڑکوں کی حفاظت اور آخری مرحلے تک رابطے جیسے مشترکہ چیلنجز اجتماعی حل کے متقاضی ہیں۔انہوں نے گرین ہائیڈروجن، الیکٹرک موبلٹی ، متبادل ایندھن، ڈیجیٹل نقل و حمل کے نظام اور پائیدار کثیر النوع بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیق کے ذریعے اشتراک کو مزید گہرا کرنے کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے نتائج پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جناب نتن گڈکری نے کہا کہ اس اجلاس میں ہونے والی گفتگو برکس ممالک کے درمیان نقل و حمل کے شعبے میں اشتراک کو مزید مضبوط بنائے گی اور عملی، اختراعی اور عوام پر مرکوز نقل و حرکت کے حل کو فروغ دے گی۔انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر ایسے نقل و حمل کے نظام تشکیل دیں جو جامع ترقی کو فروغ دیں، علاقائی روابط کو مضبوط بنائیں، ماحولیات کا تحفظ کریں اور سب کے لیے زیادہ پائیدار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔

****
ش ح۔ اع خ۔اش ق
U. No. 9829
(रिलीज़ आईडी: 2283635)
आगंतुक पटल : 17