نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدرِ جمہوریہ نے 18ویں بہار قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے لیے تربیتی و تعارفی پروگرام کا افتتاح کیا
نائب صدر نے بہار کو بھارت کے جمہوری سفر کا ’’مارگ درشک‘‘ قرار دیا
آزادی کی جدوجہد اور ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے تحفظ میں بہار نے تاریخی کردار ادا کیا: نائب صدرجمہوریہ
’’ترقی یافتہ بہار کے بغیر ترقی یافتہ بھارت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا‘‘: نائب صدرجمہوریہ
’’خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن آئین ہم سب کے لیے مشترکہ رہنما ہونا چاہیے‘‘: بہار کے اراکینِ اسمبلی سے نائب صدر کا خطاب
’’انتخابات ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں، مگر عوام کا احترام خدمت سے حاصل ہوتا ہے، اقتدار سے نہیں‘‘: نائب صدرجمہوریہ
نائب صدر جمہوریہ نے کامیاب سیاسی سفر کے لیے صبر و تحمل کو بنیادی شرط قرار دیا
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 1:03PM by PIB Delhi
بھارت کے نائب صدرجمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج بہار کے ضلع گیا میں واقع بہار انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (بی آئی پی اے آر ڈی) میں 18ویں بہار قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب اراکین کے لیے منعقدہ دو روزہ تعارفی و تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔
بہار قانون ساز اسمبلی، بہار قانون ساز کونسل اور لوک سبھا سیکریٹریٹ کے پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پی آر آئی ڈی ای) کی جانب سے اس تربیتی پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے عوامی نمائندوں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری تربیت اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گیا جی میں اس پروگرام کا انعقاد ایک خوش آئند اقدام ہے، جس نے علامتی طور پر ’’پٹنہ کو گیا جی تک پہنچا دیا ہے۔‘‘
اپنے خطاب میں نائب صدر نے ویشالی کی قدیم جمہوری روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی جڑیں بھارت میں نہایت گہری ہیں، اسی لیے بھارت کو بجا طور پر "مادرجمہوریت " کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بہار کو بھارت کے جمہوری سفر کا ’’مارگ درشک‘‘ قرار دیتے ہوئے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اس عظیم تاریخی ورثے کو برقرار رکھیں۔ بھگوان بدھ کی سرزمین سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی بصیرت اس بات کو سمجھنے میں ہے کہ عوامی نمائندے حکمرانی کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ بہار کے بغیر ترقی یافتہ بھارت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے قانون سازوں کو ایسی پالیسیاں اور مواقع پیدا کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے جن سے بہار روزگار اور ترقی کا مرکز بنے، اور مستقبل میں دوسری ریاستوں کے مزدور اور ہنرمند افراد روزگار کی تلاش میں بہار کا رخ کریں۔
لوک نائک جے پرکاش نارائن کی قیادت میں چلنے والی سمپورن کرانتی تحریک سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ اسی تحریک نے ان کے سیاسی سفر کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد اور ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے تحفظ کی تحریک میں بہار کے تاریخی اور فیصلہ کن کردار کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی کو یاد دلایا کہ اگرچہ انتخابات سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں، لیکن حکمرانی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انجام دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ووٹوں سے جیتے جاتے ہیں، لیکن عوام کا احترام اور اعتماد صرف بے لوث خدمت سے حاصل ہوتا ہے، اقتدار سے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں منظور ہونے والا ہر قانون، اٹھایا جانے والا ہر سوال اور ہر بحث میں شرکت بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
نائب صدر نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے، لیکن آئین سے وابستگی اور عوامی فلاح کو ہمیشہ اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا: ’’اسمبلی کے ایوان میں خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن آئین ہی ہمارا مشترکہ رہنما ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ صحت مند مباحثہ جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے، جبکہ تعمیری تعاون ملک کی ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔ انہوں نے وقفہ سوال ، وقفہ صفر اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اراکین سے اپیل کی کہ وہ قانون سازی کے عمل کو منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق پارلیمانی نظام کے یہ اہم ذرائع ہر رکن کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے حلقۂ انتخاب کے عوام سے متعلق مسائل کو ایوان میں مؤثر انداز سے اٹھا سکے۔
مسلسل سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے اراکینِ اسمبلی کو تلقین کی کہ وہ ایوان کی کارروائی میں شرکت سے قبل مکمل تیاری کریں اور قانون سازی کے طریقۂ کار، کمیٹیوں کے نظام اور پارلیمانی روایات کا گہرا مطالعہ کریں، تاکہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ انہوں نے اراکین پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت، نیچُرل لینگویج پروسیسنگ اور نیشنل ای-ودھان ایپلی کیشن جیسے ڈیجیٹل قانون ساز اقدامات سمیت جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں، تاکہ قانون سازی کا عمل مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سیاست صبر، استقامت اور ثابت قدمی کا تقاضا کرتی ہے۔ بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے سیاسی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی حکومت صرف سات دن قائم رہ سکی، لیکن بعد میں وہ بہار کی تاریخ کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ انہوں نے سیاست کو ٹیسٹ کرکٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں کامیابی جلد بازی سے نہیں بلکہ صبر، مستقل مزاجی اور مناسب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سے حاصل ہوتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ایک سوچا سمجھا اظہارِ خیال کسی پالیسی کا رخ بدل سکتا ہے، ایک مؤثر اور دانشمندانہ قانون کئی نسلوں کی تقدیر سنوار سکتا ہے، اور ایک ہمدردانہ فیصلہ بے شمار شہریوں کی زندگیوں میں امید کی نئی کرن پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’قیادت کا اصل پیمانہ ایوان کے اندر ملنے والی داد و تحسین نہیں، بلکہ ایوان کے باہر عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والا اعتماد ہے۔‘‘ انہوں نے 18ویں بہار قانون ساز اسمبلی کے تمام اراکین کے لیے اس تعارفی و تربیتی پروگرام کی کامیابی اور ان کے قانون ساز سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین، بہار کے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار، بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری، بہار قانون ساز اسمبلی کے نائب اسپیکر نریندر نارائن یادو، بہار مقننہ کے اراکین اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 9828
(रिलीज़ आईडी: 2283631)
आगंतुक पटल : 14