وزیراعظم کا دفتر
بھارت اور نیوزی لینڈ کا مشترکہ اعلامیہ
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 7:59AM by PIB Delhi
نیوزی لینڈ کے وزیرِ اعظم عزت مآب کرسٹوفر لکسن کی دعوت پر بھارت کے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی 10 اور 11 جولائی 2026 کو آکلینڈ، نیوزی لینڈ کے سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ گزشتہ 40 برسوں میں کسی بھارتی وزیرِ اعظم کا نیوزی لینڈ کا پہلا دورہ ہے، جو ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور شراکت داری کے ایک نئے دور کی راہ ہموار کرتا ہے۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی کا گورنمنٹ ہاؤس میں باضابطہ طور پر پُرتپاک رسمی استقبال کیا گیا، انہوں نے وزیرِ اعظم لکسن کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کی، نیوزی لینڈ میں کاروباری رہنماؤں اور بھارتی برادری کے اراکین سے خطاب کیا اور نیوزی لینڈ کی کھیلوں سے متعلق اختراعات کے ایک خصوصی مظاہرے کا مشاہدہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے مارچ 2025 میں وزیرِ اعظم لکسن کے دورۂ بھارت کو یاد کیا، جس کے دوران بھارت اور نیوزی لینڈ نے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور دفاع، تعلیم، کسٹمز، باغبانی، جنگلات اور کھیلوں کے اہم شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دیرینہ دوستی، مشترکہ جمہوری اقدار، عوام کے درمیان گہرے روابط اور بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے دوطرفہ تعلقات کو بلند کرکے ’’تزویراتی شراکت داری‘‘ کی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اسی مناسبت سے انہوں نے آئندہ چار برسوں کے دوران مشترکہ اقدامات کی رہنمائی کے لیے ایک لائحۂ عمل کے طور پر ’’بھارت-نیوزی لینڈ تزویراتی شراکت داری: 2030 تک کا نقشۂ راہ‘‘ کی توثیق کی۔
دونوں وزرائے اعظم نے تزویراتی شراکت داری کے لیے ایک بلند حوصلہ طویل مدتی تصور پر اتفاق کیا، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جانا، تعاون کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانا اور دوطرفہ و کثیرالجہتی، دونوں سطحوں پر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔
سیاسی اور سفارتی روابط
دونوں وزرائے اعظم نے اعلیٰ سطحی سیاسی روابط میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ وزرائے اعظم اور وزرا کے درمیان باقاعدہ باہمی دوروں اور ملاقاتوں کے انعقاد پر اتفاق کیا، جن میں علاقائی اور کثیرالجہتی تقریبات کے موقع پر ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔
تعلقات کو تزویراتی رہنمائی فراہم کرنے اور ’’2030 تک کے نقشۂ راہ‘‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے دونوں وزرائے اعظم نے وزرائے خارجہ کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا طریقۂ کار قائم کرنے اور بھارت کی وزارتِ خارجہ اور نیوزی لینڈ کی وزارتِ خارجہ و تجارت کے اعلیٰ حکام کے درمیان سالانہ اجلاسوں کے معمول کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے باہمی افہام و تفہیم کو گہرا کرنے اور بھارت-نیوزی لینڈ تعلقات کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط بنانے میں پارلیمانی تبادلوں کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان باقاعدہ روابط کی حوصلہ افزائی کی، جن میں بھارتی پارلیمان میں نیوزی لینڈ کے لیے حال ہی میں تشکیل دیے گئے پارلیمانی دوستی گروپ کے ذریعے روابط اور ارکانِ پارلیمان کے دورے بھی شامل ہیں۔
دفاعی اور سلامتی تعاون
دونوں وزرائے اعظم نے دفاعی اور سلامتی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں دفاعی تعاون سے متعلق 2025 کی بھارت-نیوزی لینڈ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کی سطح پر باقاعدہ اور منظم روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے 2025 میں مشترکہ ٹاسک فورس 150 (سی ٹی ایف-150) کے تحت تعاون کو اجاگر کیا، جس کی کمان نیوزی لینڈ کے پاس اور نائب کمان بھارت کے پاس تھی۔ اس تعاون کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور مغربی بحرِ ہند میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی اور غیر قانونی بحری سرگرمیوں کی روک تھام کی کوششوں میں مدد فراہم کی گئی۔
دونوں وزرائے اعظم نے اس امر کا ذکر کیا کہ بحری ممالک کی حیثیت سے بھارت اور نیوزی لینڈ ایک آزاد، کھلے، پُرامن اور خوش حال بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔ اسی مناسبت سے انہوں نے بحری تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس میں حال ہی میں طے پانے والا بحری تعاون کا انتظام، آب نگاری اور بحری نقشہ سازی کے امور میں تعاون سے متعلق نفاذی انتظام، اور بحری شعبے پر مرکوز باہمی رسدی معاونت کا انتظام شامل ہیں۔ انہوں نے بحری تعاون کے انتظام کے تحت دوطرفہ بحری مشقوں سمیت بحری سرگرمیوں کا بھی خیرمقدم کیا۔
بھارت نے بحرِ ہند و بحرالکاہل بحری اقدام کے تحت بحری سلامتی کو اپنے ترجیحی ستون کے طور پر نامزد کرنے کے نیوزی لینڈ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور دونوں فریقوں نے اس شعبے کے تحت تعاون کی مخصوص سرگرمیوں کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے تعاون، ہم آہنگی اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے سالانہ بحری سلامتی مذاکرات قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے انسدادِ دہشت گردی، سائبر سلامتی اور سلامتی سے متعلق دیگر چیلنجوں کے سلسلے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی امن، سلامتی اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے مقصد سے متعلقہ علاقائی اور کثیرالجہتی فورموں میں مذاکرات اور باہمی تعاون سمیت مزید قریبی روابط کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے سرحد پار اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان عملی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ ان جرائم میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ، مالی جرائم، سائبر ذرائع سے کیے جانے والے جرائم، دہشت گردی سے متعلق جرائم، لوگوں کی غیر قانونی نقل و حمل اور انسانی اسمگلنگ شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے متعلقہ اداروں کے درمیان انسدادِ منشیات اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں تعاون سے متعلق انتظامات کو جلد از جلد باضابطہ شکل دینے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔
تجارتی اور اقتصادی تعاون
دونوں وزرائے اعظم نے تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں بڑھتی ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان تعلقات میں مزید ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے 2030 تک اشیا اور خدمات کی دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرکے 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر، یعنی تقریباً 35,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کے بلند ہدف کے حصول کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ باہمی روابط کو مزید گہرا کریں، نئے مواقع تلاش کریں اور دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
دونوں وزرائے اعظم نے ایک متوازن، جامع اور باہمی طور پر مفید بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کے طے پانے اور اس پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس معاہدے کو جلد نافذ کرنے اور اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں آزاد تجارتی معاہدے کے اہم کردار کو تسلیم کیا، جس میں تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ، تعاون میں اضافہ اور نیوزی لینڈ کی جانب سے بھارت میں سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ تجارت، زراعت، ہنرمندی، اختراع، صاف توانائی، کھیلوں اور دیگر شعبوں میں تعاون کے ذریعے 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے بھارت کے ’’ترقی یافتہ بھارت‘‘ کے ہدف کے حصول میں معاونت کر سکتا ہے۔
اقتصادی ترقی اور ثقافتی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں سیاحت کے مثبت کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے سیاحت سے متعلق مفاہمتی انتظام پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر فضائی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان براہِ راست، بلا توقف پروازیں شروع کریں۔
دونوں وزرائے اعظم نے باغبانی، جنگلات، مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار سمیت بنیادی پیداواری شعبوں میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پیداواری صلاحیت، غذائی تحفظ، پائیداری، فصل کی کٹائی کے بعد کے نظام اور قدر افزائی کے سلسلے کی ترقی کے شعبوں میں نیوزی لینڈ کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ مہارت سے استفادہ کرتا ہے اور پائیدار زرعی ترقی سے متعلق بھارت کی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت زرعی پیداواری صلاحیت کی شراکت داری کا عملی تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر خیرمقدم کیا۔ اس میں کیوی پھل، سیب اور شہد کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد کے لیے بھارت کے ساتھ عملی منصوبوں پر نیوزی لینڈ کا کام بھی شامل ہے۔ انہوں نے بھارت میں کیوی پھل کے شعبے میں امتیازی مراکز کے قیام کے لیے نیوزی لینڈ کی معاونت کا ذکر کیا اور ایسے تعلیمی و ادارہ جاتی اشتراک کا خیرمقدم کیا جو زرعی اختراع، ہنرمندی کے فروغ اور صنعتی روابط کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ دونوں وزرائے اعظم نے مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پانے کا بھی خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے جہاز رانوں کی اہلیت کے اسناد کو تسلیم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کے سلسلے میں بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت اور میری ٹائم نیوزی لینڈ کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز رانوں کی اہلیت کے اسناد کو زیادہ وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جانے سے جہاز رانوں کی نقل و حرکت میں سہولت ہوگی، بحری حکام کے درمیان تعاون مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک کی بحری صنعتوں کی پائیداری اور صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
عوام، ثقافت اور کھیل
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے عوام کے درمیان مضبوط روابط کو سراہا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ نیوزی لینڈ میں مقیم بھارتی برادری، نیوزی لینڈ کے متنوع معاشرے کا ایک لازمی اور قابلِ قدر حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ایک زندہ پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی معیشت، معاشرے، ثقافت، عوامی زندگی اور کھیلوں کے شعبے میں بھارتی برادری کی نمایاں خدمات کو سراہا۔
دونوں وزرائے اعظم نے 2026 میں ’’کھیلوں کے ذریعے اتحاد کے 100 سال‘‘ کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کھیلوں سے متعلق بھارت-نیوزی لینڈ مشترکہ عملی منصوبے کا بھی خیرمقدم کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک عملی خاکہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں اعلیٰ کارکردگی کے کھیل، تربیت، کھیلوں کی سائنس، شرکت، کھیلوں سے متعلق کاروبار اور قومی کھیل تنظیموں کے درمیان تبادلے شامل ہیں۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ثقافتی تعاون کے مسلسل فروغ کا خیرمقدم کیا، جس میں روایتی طب کے شعبے میں روابط، ثقافتی تعاون سے متعلق ایک انتظام کا آغاز اور بھارت کے لوتھل میں واقع قومی بحری ورثہ کمپلیکس اور نیوزی لینڈ میری ٹائم میوزیم کے درمیان مفاہمتی انتظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے مالا مال ثقافتی ورثے، عصری تخلیقی صلاحیتوں اور دیرینہ بحری روابط کو اجاگر کرنے کے بیش قیمت مواقع فراہم کرتے ہیں۔
تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور آفات سے نمٹنے کا انتظام
دونوں وزرائے اعظم نے تسلیم کیا کہ تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور اختراع دوطرفہ تعلقات کے اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے سرکاری حکام، اداروں اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ زراعت، آب و ہوا، رقمی تبدیلی، سائنس، اختراع اور نئی و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات تلاش کریں اور انہیں فروغ دیں۔
دونوں وزرائے اعظم نے تعلیم کو باہمی تعلقات کا ایک بنیادی ستون قرار دیا، جو عوام کے درمیان روابط، ہنرمندی کے فروغ، تحقیقی تعاون اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کیا اور طلبہ کی نقل و حرکت، ادارہ جاتی شراکت داری، اختراع اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے 2025 کے تعلیمی تعاون کے انتظام پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس پر دستخط کے بعد قائم ہونے والے روابط اور نئی ادارہ جاتی شراکت داریوں کا اعتراف کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے موسمیاتی تبدیلی اور کم اخراج والی اور موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی معیشتوں کی جانب منتقلی سے متعلق مشترکہ چیلنجوں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی شمسی اتحاد اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کے اتحاد کے ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیرِ اعظم مودی نے عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد میں نیوزی لینڈ کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کی قومی آفات انتظامیہ اور نیوزی لینڈ کی قومی ہنگامی حالات انتظامیہ کے درمیان تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک میں برادریوں، بنیادی ڈھانچے اور اداروں کی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے مقصد سے آفات کے خطرات میں کمی، پیشگی تیاری، ہنگامی ردِعمل، بحالی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے زیادہ پائیدار، پیداواری اور موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زراعت اور غذائی نظاموں کی معاونت کے لیے تحقیق، اختراع اور عملی حل کو آگے بڑھانے کی توقع ظاہر کی۔
علاقائی اور کثیرجہتی تعاون
دونوں وزرائے اعظم نے بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے سے متعلق اپنے اپنے نقطۂ نظر پر تبادلۂ خیال کیا اور ایک آزاد، کھلے، پُرامن اور خوش حال بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جہاں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون، بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے 1982 کے کنونشن کے مطابق جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی اور سمندروں کے دیگر جائز استعمال کے حق کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قانون، بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں سلامتی اور خوش حالی کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
رہنماؤں نے آسیان کی قیادت میں قائم اور دیگر علاقائی فورموں میں تعاون کی اہمیت کا ذکر کیا، جن میں مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس، آسیان علاقائی فورم اور آسیان وزرائے دفاع کا توسیعی اجلاس شامل ہیں۔ انہوں نے آسیان کی مرکزی حیثیت اور بحرِ ہند و بحرالکاہل سے متعلق آسیان کے نقطۂ نظر کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے اقوام متحدہ کو مرکزیت حاصل ہونے والے ایک مؤثر کثیرالجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں جرأت مندانہ اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل، دونوں زمروں میں توسیع کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ موجودہ دور کے جغرافیائی و سیاسی حقائق کی بہتر عکاسی ہو سکے۔ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ نے اصلاح شدہ اور توسیع شدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقوں نے عالمی امن و سلامتی، ہمہ گیر، غیر امتیازی اور قابلِ تصدیق جوہری تخفیفِ اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کے صاف توانائی کے اہداف کے لیے پیش بینی اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اس کی معتبر کارکردگی کے تناظر میں نیوکلیائی سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کی اہمیت کا ایک بار پھر اعتراف کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں دوبارہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے جہاز رانی پر کسی بھی قسم کی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے تنازعے کے پُرامن اور پائیدار حل کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے مستحکم، شفاف اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی رسدی زنجیروں کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے توانائی کی بین الاقوامی رسدی زنجیروں میں بھارت کے اہم کردار اور عالمی توانائی کے نظاموں کی مضبوطی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں اس کی خدمات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بحرِ ہند و بحرالکاہل خطے میں رکاوٹوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رسدی راستوں کا استحکام اس خطے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کے لیے یہ صورتِ حال خاص طور پر سنگین ہے، جہاں معیشتیں بیرونی اثرات سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور تیل کی بلند قیمتوں کے باعث بجلی کی پیداوار، جہاز رانی، نقل و حمل، زراعت اور ماہی گیری کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سماجی بہبود اور مالیاتی پائیداری پر نمایاں دباؤ پڑ رہا ہے۔
یوکرین کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کیا، جو بدستور بے پناہ انسانی مصائب اور عالمی سطح پر سنگین اثرات کا باعث بن رہی ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایک جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔
دونوں رہنماؤں نے سرحد پار دہشت گردی سمیت دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مکمل مذمت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے 22 اپریل 2025 کو بھارت کے جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور 10 نومبر 2025 کو نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت کی مستقل اور یکساں پالیسی اپنانے پر زور دیا اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکوں اور محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنے، آن لائن ذرائع سمیت دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور دہشت گردی کے مرتکب افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کے لیے مفاہمتی انتظام پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جو معلومات اور علم کے تبادلے کے لیے ایک منظم خاکہ فراہم کرے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس سمیت کثیرالجہتی فورموں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس فوری ضرورت پر زور دیا کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے خلاف فوری، مسلسل، مربوط اور ٹھوس کارروائی کریں۔ ان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت قائم پابندیوں کی کمیٹی کی فہرست میں شامل تنظیمیں اور افراد، نیز ان سے وابستہ عناصر، ان کے آلہ کار، سرپرست، مالی معاونت کرنے والے اور پشت پناہی کرنے والے افراد اور ادارے بھی شامل ہیں۔
اختتامیہ
دونوں وزرائے اعظم نے وزرا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ وہ قریبی روابط برقرار رکھیں اور ’’2030 تک کے نقشۂ راہ‘‘ میں بیان کردہ اقدامات پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وزرا اور اعلیٰ حکام پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے۔
وزیرِ اعظم مودی نے اپنے اور اپنے وفد کے پُرتپاک خیرمقدم اور مہمان نوازی پر وزیرِ اعظم لکسن، نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطحی تبادلوں کی رفتار برقرار رکھنے اور بھارت-نیوزی لینڈ تزویراتی شراکت داری کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9817
(रिलीज़ आईडी: 2283570)
आगंतुक पटल : 8