عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
ہندوستان کا تنوع نظمِ حکمرانی میں بھی جھلکتا ہے، اس لیے مسلسل سیکھنے اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ہندوستان کے علاقائی تنوع کے پیشِ نظر نظمِ حکمرانی کو ریاستوں کے درمیان باہمی تجربات اور بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لال بہادر شاستری قومی انتظامی اکیڈمی میں بھارتی انتظامی خدمت کے افسران کے وسطِ ملازمت تربیتی پروگرام (مرحلہ چہارم) کے اکیسویں دور کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بہتر نظمِ حکمرانی کے فروغ کے لیے انتظامی درجہ بندی کی رکاوٹیں ختم کرنے پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
10 JUL 2026 6:53PM by PIB Delhi
ہندوستان کے سماجی تنوع کی جھلک صرف معاشرے تک محدود نہیں بلکہ اس کے نظمِ حکمرانی میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اسی لیے عوامی انتظامیہ کی آئندہ نسل کو مؤثر بنانے کے لیے مسلسل سیکھنے، بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والی قیادت ناگزیر ہے۔ یہ بات آج سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لال بہادر شاستری قومی انتظامی اکیڈمی (ایل بی ایس این اے اے)، مسوری میں بھارتی انتظامی خدمت (آئی اے ایس) کے افسران کے وسطِ ملازمت تربیتی پروگرام (مرحلہ چہارم) کے اکیسویں دور کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں نظمِ حکمرانی کے اگلے مرحلے کے لیے مسلسل سیکھنے کا جذبہ، نوجوان قیادت، ادارہ جاتی اختراع اور شہریوں پر مرکوز اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر ریاست کی انتظامی صورتِ حال، عوامی امنگیں اور ترقیاتی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا افسران کو چاہیے کہ وہ مختلف ریاستی کیڈروں کے درمیان اپنے تجربات اور کامیاب انتظامی طریقوں کا فعال انداز میں تبادلہ کریں، تاکہ ہندوستان کا علاقائی تنوع انتظامی قوت کا ذریعہ بن سکے۔
15 جون سے 10 جولائی تک جاری رہنے والے اس چار ہفتوں کے تربیتی پروگرام میں مشن کرمایوگی کے تحت اعلیٰ صلاحیت سازی کے لیے ملک بھر سے 51 آئی اے ایس افسران نے شرکت کی، جنہیں انتظامی خدمات کا 14 برس سے زیادہ تجربہ حاصل ہے۔ یہ افسران مختلف ریاستی کیڈروں اور نظمِ حکمرانی کے متنوع شعبوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس موقع پر لال بہادر شاستری قومی انتظامی اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب رام ترنیکانتی، اکیڈمی کے سینئر اساتذہ اور پروگرام سے وابستہ ممتاز ماہرین بھی موجود تھے۔
روایتی طرزِ خطاب سے ہٹ کر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یک طرفہ تقریر کرنے کے بجائے افسران سے براہِ راست تبادلۂ خیال کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ جو افسران تقریباً دو دہائیوں سے عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کے پاس انتظامی تجربے اور عملی بصیرت کا ایسا قیمتی سرمایہ موجود ہے جو نظمِ حکمرانی میں اصلاحات اور سول سروس کی تربیت کے مستقبل کے رخ کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق تربیتی پروگراموں کو محض تدریس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں باہمی سیکھنے کے ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہونا چاہیے جہاں تجربہ کار افسران جتنا سیکھیں، اتنا ہی اپنے تجربات دوسروں کو بھی منتقل کریں۔
ہندوستان کے انتظامی تنوع پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جغرافیہ، ثقافت، زبان، سیاسی پس منظر اور ترقیاتی ترجیحات کے فرق کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں نظمِ حکمرانی کے چیلنجز بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریاست نے اپنی مقامی ضروریات کے مطابق کئی اختراعی انتظامی حل تیار کیے ہیں۔ مختلف ریاستی کیڈروں سے تعلق رکھنے والے افسران کے درمیان زیادہ سے زیادہ تبادلۂ خیال ان کامیاب طریقوں کو دوسری ریاستوں میں اپنانے میں مدد دے گا، جس سے پورے ملک میں نظمِ حکمرانی مزید مضبوط ہوگی۔
مشن کرم یوگی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس پروگرام نے سول سروس میں صلاحیت سازی کے تصور کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب توجہ ضابطوں پر مبنی انتظامیہ سے ہٹ کر کردار پر مبنی نظمِ حکمرانی پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی گوٹ کرم یوگی پلیٹ فارم نے حکومت کے مختلف شعبوں میں مسلسل سیکھنے کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دی ہے، جس کے ذریعے ہر سطح کے افسران ابھرتے ہوئے انتظامی چیلنجوں کے مطابق اپنے علم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نظمِ حکمرانی میں اصلاحات جرأت مندانہ فیصلوں، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، شفافیت اور شہریوں پر اعتماد کی بنیاد پر عمل میں آئی ہیں۔ انہوں نے براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی)، جس کے ذریعے رقوم کے زیاں کو روکنے کے ساتھ 3.4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ممکن ہوئی، یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی)، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، جیم سہ رخی نظام (جے اے ایم ٹرینیٹی) اور مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام اقدامات نظمِ حکمرانی میں ایسی اختراعات کی مثال ہیں جنہوں نے کارکردگی، شفافیت اور خدمات کی فراہمی میں بہتری کے باعث عالمی سطح پر ہندوستان کو نمایاں شناخت دلائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان محض نئی ٹیکنالوجیوں کو اپنانے والا ملک نہیں رہا بلکہ جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے متعدد شعبوں میں عالمی قیادت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ قومی کوانٹم مشن، ملک کے تیزی سے فروغ پاتے اسٹارٹ اپ نظام، خلائی شعبے میں نجی شرکت کی اجازت اور جوہری توانائی کے شعبے میں حالیہ اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور اختراع کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان روایتی خلیج اب بتدریج ایک اشتراکی ترقیاتی نمونے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ شعبے کی غیر معمولی ترقی اور خلائی شعبے میں نجی اداروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس اعتماد کی عکاس ہے جو اس نئی سوچ نے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اختراع اس وقت زیادہ فروغ پاتی ہے جب حکومت محض ضابطہ نافذ کرنے والے ادارے کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرے۔
وزیر نے کہا کہ نظمِ حکمرانی میں اصلاحات اسی وقت حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ انسانی ہمدردی اور حساسیت بھی شامل ہو۔ حالیہ برسوں میں عملے سے متعلق کی گئی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خاندانی پنشن کے نامزدگی کے ضابطوں میں زیادہ لچک، مردہ بچے کی پیدائش کی صورت میں زچگی سے متعلق مراعات میں توسیع اور ایسے سرکاری ملازمین کے زیرِ کفالت افراد کو خاندانی پنشن سے محروم رکھنے والی شرط کے خاتمے کا حوالہ دیا، جن کا انتقال مقررہ لازمی مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے پہلے ہو جاتا تھا۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات شہریوں پر مرکوز اور فلاحی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سول سروس کی تربیت کو مسلسل جدید بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے اداروں کے درمیان زیادہ مؤثر تعاون، تدریسی عملے میں زیادہ تنوع اور ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی اور معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل ہم آہنگ ہوتا رہے۔ انہوں نے نسبتاً نوجوان حاضر سروس افسران کو بطور مدرس زیادہ مواقع دینے کی بھی وکالت کی اور کہا کہ جو افسران اس وقت اضلاع اور وزارتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے پاس موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ سب سے زیادہ عملی اور تازہ انتظامی تجربہ ہوتا ہے، جو آئندہ آنے والے افسران کی رہنمائی کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے عوامی انتظامیہ میں مؤثر ابلاغ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ایک ضلعی افسر کو شہریوں، ذرائع ابلاغ اور سیاسی قیادت، تینوں کے ساتھ اعتماد کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرنا آنا چاہیے، کیونکہ ہر طبقے سے گفتگو کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے رابطے کے ذرائع مسلسل بدل رہے ہیں، اس لیے منتظمین کو شفافیت اور جوابدہی برقرار رکھتے ہوئے جدید ابلاغی طریقوں کو اختیار کرنا چاہیے۔
وزیر نے مزید کہا کہ سول سروس کی تربیت کے نظام کو زیادہ باہمی، مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے شرکاء کی منظم اور گمنام آرا حاصل کرنے کا مؤثر نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس طرح کے طریقۂ کار سے تربیتی ادارے تدریسی معیار، نصاب کی تشکیل اور پروگرام کے انعقاد کو مسلسل بہتر بنا سکتے ہیں، تاکہ تربیت کا نظام نظمِ حکمرانی کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ رہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انتظامی نظام میں درجہ بندی پر مبنی روایتی سوچ کو کم کرنے کی بھی وکالت کی اور کہا کہ سیکھنے کے عمل کو کبھی بھی عہدے یا سینیارٹی کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود مختلف سطحوں کے افسران سے باقاعدگی سے تبادلۂ خیال کرتے ہیں، کیونکہ عملی نوعیت کے بہت سے مفید خیالات اور اختراعی تجاویز انہی افراد کی طرف سے سامنے آتی ہیں جو منصوبوں پر براہِ راست عمل درآمد سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پوری ملازمت کے دوران مسلسل سیکھتے رہنے کا جذبہ مؤثر قیادت کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا تنوع اس کے نظمِ حکمرانی میں بھی نمایاں طور پر جھلکتا ہے، جہاں مختلف علاقوں کی زمینی حقیقتیں، زبانیں، ثقافتی پس منظر، سیاسی ماحول اور ترقیاتی ترجیحات ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس تربیتی پروگرام میں شریک افسران واپس جا کر مختلف ریاستوں کے درمیان باہمی تجربات کے تبادلے کو فروغ دیں گے، اختراعی اور شہریوں پر مرکوز نظمِ حکمرانی کو مضبوط بنائیں گے اور وکست بھارت 2047 کے ویژن کی تکمیل کے سفر میں مسلسل سیکھنے اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والی قیادت کے جذبے کو آگے بڑھائیں گے۔
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9813
(रिलीज़ आईडी: 2283481)
आगंतुक पटल : 14