ٹیکسٹائلز کی وزارت
ٹیکسٹائل کی وزارت کی جانب سے دِلی ہاٹ میں ’’ویو دی فیوچر 4.0 – اپ سائیکلنگ ایڈیشن‘‘ کا انعقاد
مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل جناب گری راج سنگھ 13 جولائی 2026 کو اس اقدام کا افتتاح کریں گے
ٹیکسٹائل کے شعبے میں چکری معیشت اور پائیدار اختراع کو فروغ دینے کے لیے قومی ٹیکسٹائل فضلہ اختراعی مقابلہ ’’یہ کس چیز سے بنا ہے؟‘‘ کا انعقاد
प्रविष्टि तिथि:
10 JUL 2026 6:50PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی ٹیکسٹائل کی وزارت کے ترقیاتی کمشنر (ہینڈلوم) کے دفتر کی جانب سے 12 سے 17 جولائی 2026 تک نئی دہلی کے دِلی ہاٹ میں ’’ویو دی فیوچر 4.0 – اپ سائیکلنگ ایڈیشن‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکسٹائل اور ہینڈلوم کے شعبے میں چکری معیشت، پائیدار پیداوار اور اختراع کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے دستکاروں، بنکروں، ڈیزائنروں، اختراع کاروں، صنعتی اداروں، تعلیمی اداروں اور ذمہ دارانہ پیداوار و استعمال کے فروغ کے لیے سرگرم شہری تنظیموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کا افتتاح 13 جولائی 2026 کو مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل جناب گری راج سنگھ کریں گے۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل کی وزارت کی سکریٹری محترمہ نیلم شامی راؤ اور ہندوستان میں یورپی یونین کے وفد کے وزیر مشیر اور پائیدار جدیدکاری کے سربراہ جناب تھامس میک کلینگن بھی موجود ہوں گے۔
اس موقع پر وزارت ’’یہ کس چیز سے بنا ہے؟‘‘ کے عنوان سے ٹیکسٹائل فضلہ اختراعی مقابلے کا آغاز بھی کرے گی۔ یہ ایک قومی سطح کا اقدام ہے، جس کا مقصد ملک میں ٹیکسٹائل کے بڑھتے ہوئے فضلے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اختراعی، قابلِ توسیع اور عملی حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس مقابلے میں ملک بھر کے طلبہ، دستکار، بنکر، ڈیزائنر، محققین، صنعت کار، اختراع کار اور عام شہری حصہ لے سکیں گے۔
دستیاب اندازوں کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تقریباً 70.73 لاکھ ٹن ٹیکسٹائل فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں تقریباً 29.73 لاکھ ٹن ایسا فضلہ شامل ہے جو مصنوعات کے صارفین تک پہنچنے سے پہلے پیدا ہوتا ہے، جبکہ 41 لاکھ ٹن فضلہ استعمال کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ آئندہ برسوں میں ٹیکسٹائل کی دوبارہ تدوین کی صنعت میں نمایاں توسیع اور ماحول دوست روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس تناظر میں اس اقدام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اختراع، روایتی دستکاری اور چکری طرزِ ڈیزائن کے ذریعے ٹیکسٹائل کے فضلے کو معاشی، سماجی اور ماحولیاتی قدر میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اپنے آغاز سے ہی ’’ویو دی فیوچر‘‘ ٹیکسٹائل کی پیداوار اور استعمال میں پائیداری، چکری معیشت اور دستکاری پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام دستکاروں، ڈیزائنروں، برانڈز، اختراع کاروں، محققین اور ثقافتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
اس سلسلے کے چوتھے ایڈیشن میں 100 سے زائد برانڈز، دوبارہ تدوین کرنے والے ادارے، دستکار، کم قیمت استعمال شدہ اشیا کے فروغ کے لیے سرگرم گروہ، مرمت کے ماہرین اور نئے مواد تیار کرنے والے اختراع کار شریک ہوں گے۔ یہ شرکا اپ سائیکلنگ، دوبارہ تدوین، مرمت، نئی غرض سے استعمال اور چکری طرزِ ڈیزائن سے متعلق مختلف طریقوں کی نمائش کریں گے۔ اس نمائش میں ایسی ابھرتی ہوئی عملی مثالیں پیش کی جائیں گی جو مصنوعات کی عمر میں اضافہ، فضلے میں کمی اور مواد کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔
ٹیکسٹائل کی وزارت کی ترقیاتی کمشنر (ہینڈلوم) ڈاکٹر ایم۔ بینا نے کہا: ’’ہندوستان کی ہینڈلوم روایات قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور مواد کے ذمہ دارانہ استعمال کی بہترین مثال رہی ہیں۔ ’’ویو دی فیوچر‘‘ کے ذریعے وزارت اس شاندار روایت کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ ہمارا مقصد ایسے اختراعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو روایتی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ٹیکسٹائل کے شعبے میں چکری معیشت کو فروغ دیں اور پائیدار روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔‘‘
اس اقدام کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ٹیکسٹائل کی وزارت کی ایڈیشنل سکریٹری، محترمہ آرتی کنور نے کہا: ’’ہندوستان کا ٹیکسٹائل شعبہ ایک جانب دستکاری کی شاندار روایت کا امین ہے، تو دوسری جانب پائیدار اختراع کے بے شمار امکانات بھی رکھتا ہے۔ ’یہ کس چیز سے بنا ہے؟‘ اختراعی مقابلے کے ذریعے وزارت ایسے عملی، مؤثر اور قابلِ توسیع حلوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے جو چکری معیشت، وسائل کے مؤثر استعمال اور ٹیکسٹائل کے شعبے کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ یہ اقدام نوجوان اختراع کاروں، ڈیزائنروں اور صنعت کاروں کو اپنے تخلیقی تصورات کو مؤثر اور عملی حل کی صورت دینے کے لیے ایک موزوں پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔‘‘
ٹیکسٹائل فضلہ اختراعی مقابلہ — ’’یہ کس چیز سے بنا ہے؟‘‘
یہ اختراعی مقابلہ 16 سے 45 سال عمر کے شرکاء کے لیے کھلا ہے۔ اس میں ڈیزائن، انجینئرنگ، سائنس، ٹیکنالوجی، ابلاغ، تحقیق، صنعت کاری، سماجی ترقی اور نظامی فکر جیسے شعبوں سے وابستہ افراد حصہ لے سکتے ہیں۔
اس مقابلے میں شرکت کے لیے درخواستیں 20 جولائی 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ اندراج اور شرکت سے متعلق مکمل معلومات اس اقدام کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
’’ویو دی فیوچر‘‘ کے بارے میں
’’ویو دی فیوچر‘‘ حکومتِ ہند کی ٹیکسٹائل کی وزارت کے ترقیاتی کمشنر (ہینڈلوم) کے دفتر کا ایک قومی اقدام ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل کے شعبے میں پائیدار، چکری معیشت پر مبنی اور دستکاری سے رہنمائی حاصل کرنے والے طریقۂ کار کو فروغ دینا ہے۔
یہ اقدام دستکاروں، ڈیزائنروں، صنعتی اداروں، تعلیمی اداروں، اختراع کاروں اور مقامی برادریوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے، تاکہ ذمہ دارانہ پیداوار، وسائل کے مؤثر استعمال، مواد میں اختراع اور پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دیا جا سکے، ساتھ ہی ہندوستان کی مالا مال ہینڈلوم اور ٹیکسٹائل روایات کو بھی اجاگر کیا جا سکے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9811
(रिलीज़ आईडी: 2283470)
आगंतुक पटल : 10