امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلہ وامداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے نئی دہلی میں لینڈ بارڈر ڈسٹرکٹس کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کانفرنس-2026 سے خطاب کیا


اس کانفرنس نے سرحدی سلامتی کے لیے جامع نقطہ نظر کو ادارہ جاتی شکل دی ہے

آنے والے وقتوں میں، ہم ساحلی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی طرف مجموعی طور پر آگے بڑھیں گے

کانفرنس میں سرحدی سلامتی سے متعلق مسائل پر بات چیت، ان کے حل کے لیے خدشات کو دور کرنے اور اس سمت میں مناسب پالیسی کے اقدامات وضع کرنے پر غور کیا جائے گا

مودی حکومت متعلقہ سرحدی محافظ دستوں، ریاستی اور ضلعی انتظامیہ، حکومت ہند کے متعلقہ فریقوں اور مقامی شہریوں کو اکٹھا کر کے ایک مضبوط چوکور حفاظتی گرڈ بنا رہی ہے

اسمارٹ بارڈر کے وژن پر مبنی ہندوستان کا سرحدی حفاظتی نظام آنے والے برسوں میں دنیا کا جدید ترین  نظام بن جائے گا

ایک محفوظ سرحد، خوشحال سرحدی خطہ اور ایک چوکس معاشرہ مل کر ملک کو محفوظ بنا سکتا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، ملک کو جموں و کشمیر اور شمال مشرق میں نکسل ازم اور دہشت گردی سے آزاد کرایا گیا ہے، جو ہماری اجتماعی کامیابی کی علامت ہے

اگلے 3 سالوں میں ہم منشیات کی لعنت کو شدید چوٹ پہنچائیں گے اور اس پر فتح حاصل کریں گے

ہم ملک کو مکمل طور پر دراندازی سے پاک بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دے رہے ہیں کہ دراندازی بالکل نہ ہو

پہلے مسائل مستقل ہوتے تھے اور حل عارضی لیکن  مودی حکومت میں ہم مسائل کی جڑوں پر ضرب لگا رہے ہیں اور حل مستقل کر رہے ہیں

مودی حکومت نے سرحدی انفراسٹرکچر میں 400 فیصد اضافہ کیا ہے اور اسے سائنسی نقطہ نظر سے آگے بڑھا رہی ہے

وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت وزیر اعظم مودی نے ملک کے آخری گاؤں کو اپنا پہلا گاؤں قرار دیا ہے، اس پہل کے تحت نقل مکانی کو روکنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سرکاری فلاحی اسکیموں کے 100 فیصد نفاذ کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے، آبادیاتی ترقی میں کردار ادا کرنے والے غیر معمولی عوامل کی نشاندہی کرنے اور مستقبل میں ایسی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے کے لیے ڈیموگرافی مشن کا آغاز کیا ہے

مودی سرکار غیر معمولی عوامل کی وجہ سے غیر فطری آبادی میں اضافے کو سختی  کے ساتھ روکنے کے لیے پرعزم ہے

سرحدی علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ ،دراندازی ہے

سرحدی سیکورٹی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے، مودی حکومت نے ایک چوکور حفاظتی گرڈ بنایا ہے، جس نے ہندوستان کے نقطہ نظر کو رد عمل سے فعال  پہل میں تبدیل کیا ہے

مودی حکومت ایک الگ تھلگ سرحدی چوکی نظام سے ایک مربوط سیکورٹی گرڈ کی تشکیل کی طرف بڑھ رہی ہے

مرکزی وزیر داخلہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں غیر معمولی عوامل کی وجہ سے آبادیاتی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک جلد سے جلد پہنچایا جائے

مودی حکومت 31,000 کروڑ روپے کی لاگت سے 1,610 کلومیٹر طویل ہندوستان-میانمار سرحد پر باڑ لگا رہی ہے

ہمارے مقاصد پراکسی وار، غیر قانونی دراندازی، بنیاد پرستی، منشیات کی اسمگلنگ، اسمگلنگ، ڈرون سے متعلقہ خطرات، سائبر کرائم، منظم جرائم اور آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنا ہے۔ سرحدی علاقوں کو رہائش کے لیے زیادہ سازگار بنانا ؛ ان علاقوں سے نقل مکانی کو روکنا؛ اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 9:52PM by PIB Delhi

داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر  جناب امت شاہ، نے آج نئی دہلی میں لینڈ بارڈر ڈسٹرکٹس سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کانفرنس–2026 سے خطاب کیا۔اس موقع پر داخلی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت  جناب نتیانند رائے اور مرکزی داخلہ سیکریٹری جناب بندی سنجے کمار،  انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر، سرحدی ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف پولیس (ڈی جی پیز) اور متعدد سینئر حکام بھی موجود تھے۔

WhatsApp Image 2026-07-09 at 21.47.23.jpeg

اس موقع پر داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر  جناب امت شاہ نے کہا کہ اس کانفرنس نے سرحدی سلامتی کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں ساحلی سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اسی طرح جامع انداز میں آگے بڑھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس میں سرحدی سلامتی سے متعلق مسائل پر غور، ان کے حل سے متعلق  خدشات کا جائزہ اور اس سلسلے میں مناسب پالیسی اقدامات مرتب کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اسمارٹ بارڈر کے وژن کی بنیاد پر قائم بھارت کا سرحدی سلامتی کا نظام آئندہ برسوں میں دنیا کا جدید ترین نظام بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت، سرحدی حفاظتی دستوں، ریاستی اور ضلعی انتظامیہ، حکومتِ ہند کے متعلقہ اداروں اور مقامی شہریوں کے باہمی اشتراک سے ایک مضبوط چار رُخی حفاظتی نظام تشکیل دے رہی ہے۔ جناب شاہ نے زور دے کر کہا کہ محفوظ سرحد، خوشحال سرحدی علاقہ اور باخبر معاشرہ مل کر ہی ملک کو مکمل طور پر محفوظ بنا سکتے ہیں۔

مرکزی  وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کو نکسل ازم، جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور شمال مشرق میں دہشت گردی سے نجات ملی ہے، جو ہماری اجتماعی کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین برسوں میں منشیات کے ناسور کو بھی سخت نقصان پہنچا کر اس پر مکمل قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو دراندازی سے مکمل طور پر پاک بنانے اور دراندازی کو ہر صورت روکنے کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ماضی میں مسائل مستقل ہوتے تھے جبکہ ان کے حل عارضی ہوتے تھے، لیکن مودی حکومت مسائل کی جڑ پر ضرب لگا کر ان کے مستقل حل کو یقینی بنا رہی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے سرحدی بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری میں 400 فیصد اضافہ کیا ہے اور سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے سائنسی طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے تحت وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے آخری گاؤں کو ‘‘پہلا گاؤں’’ قرار دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نقل مکانی کی روک تھام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور حکومتی فلاحی منصوبوں پر سو فیصد عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔جناب شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آبادی میں تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے، آبادی میں غیر معمولی اضافے کے اسباب کی نشاندہی کرنے اور مستقبل میں ایسی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے مقصد سے ڈیموگرافی مشن کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت غیر فطری عوامل کے باعث ہونے والے غیر معمولی آبادیاتی اضافے کو سخت اقدامات کے ذریعے روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ غیر قانونی دراندازی ہے۔

WhatsApp Image 2026-07-09 at 21.47.24.jpeg

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے مودی حکومت نے ایک مضبوط چار رُخی حفاظتی نظام قائم کیا ہے، جس کے ذریعے بھارت کی سرحدی حکمتِ عملی کو ردِعمل پر مبنی طرزِ عمل سے تبدیل کرکے پیشگی اور فعال حکمتِ عملی میں ڈھالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت سرحدی چوکیوں کے الگ تھلگ نظام سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مربوط اور جامع حفاظتی گرڈ تشکیل دے رہی ہے۔ جناب امت شاہ  نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں غیر معمولی عوامل کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق معلومات کو نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک بروقت پہنچانا نہایت ضروری ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت 31,000 کروڑ روپے کی لاگت سے بھارت–میانمار کی 1,610 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مقاصد میں پراکسی جنگ، غیر قانونی دراندازی، انتہا پسندی کے پھیلاؤ، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، ڈرون سے متعلق خطرات، سائبر جرائم، منظم جرائم اور آبادیاتی تبدیلیوں کی روک تھام شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کو زیادہ قابلِ رہائش بنانا، وہاں سے نقل مکانی کو روکنا اور ان علاقوں کی سلامتی کو یقینی بنانا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

********

 

ش ح۔ع ح۔م ش

Uno.9783


(रिलीज़ आईडी: 2283191) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Khasi , English , हिन्दी , Punjabi , Gujarati