نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) کے 15ویں جلسۂ تقسیم اسناد میں شرکت کی

ڈاکٹر ہومی بھابھا کا انتقال ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن ہندوستان ایٹمی تحقیق میں مضبوط ہوا: نائب صدرجمہوریہ

سائنسی صلاحیت اختیاری نہیں بلکہ یہ وکست بھارت کی بنیاد ہے: نائب صدرجمہوریہ

سائنس کو پالیسی کی رہنمائی کرنی چاہیے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں پائیداری کو یقینی بنانا چاہیے: نائب صدرجمہوریہ

ہندوستان سائنس اور اختراع میں عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے: نائب صدرجمہوریہ

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 6:09PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر)، بھونیشور کے 15ویں  جلسہ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان سائنس دانوں پر زور دیا کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے سائنس اور اختراع کی طاقت کو بروئے کار لائیں اور اس کے ساتھ ساتھ دیانت داری، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری کے اعلیٰ ترین معیاروں کو بھی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔


 

جناب سی پی رادھا کرشنن نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) کو ایسا ادارہ قرار دیا جو سائنس، اختراع اور فکری قیادت کے میدان میں بھارت کی بلند امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی علوم کے فروغ کے لیے وقف ادارے علم پر مبنی معیشت کو مضبوط بنانے، تکنیکی ترقی کو آگے بڑھانے، قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ این آئی ایس ای آر سائنسی تعلیم اور تحقیق کا ایک ممتاز مرکز بن کر ابھرا ہے اور ملک کے لیے اعلیٰ صلاحیتوں سے آراستہ سائنس دانوں کو تیارکرنے میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے ،جہاں بے مثال مواقع کے ساتھ ساتھ نہایت پیچیدہ چیلنجز بھی درپیش ہیں، جن میں آب و ہوا کی تبدیلی، نئی اور ابھرتی ہوئی بیماریوں، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جدید مواد کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سائنس کا کردار صرف نئے علم کی تخلیق تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پالیسی سازی کی رہنمائی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسے ملک کے لیے، جہاں نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت ہے اور ترقی کے بلند اہداف سامنے ہیں، سائنسی صلاحیت کوئی اختیاری امر نہیں بلکہ وکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کی بنیادی ضرورت ہے۔

بین شعبہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ مسائل کو کسی ایک شعبۂ علم کی حدود میں رہ کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ تجسس کی جستجو کو زندہ رکھیں، دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں، چیلنجز کا حوصلے سے سامنا کریں اور اپنے علم کو معاشرے کی وسیع تر بھلائی کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس صرف جوابات تلاش کرنے کا نام نہیں، بلکہ صحیح سوالات اٹھانے کا ہنر بھی ہے۔

بھارت کی سائنس اور اختراع کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ خلائی مشنز، ویکسین کی تیاری، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں ملک کی نمایاں کامیابیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک ممتاز مقام دلایا ہے۔ انہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی بلند امنگوں کے ساتھ ذمہ داری اور ترقی کے ساتھ انسانی ہمدردی کا توازن برقرار رکھیں، کیونکہ ان کی تحقیق، نئے خیالات اور دیانت داری ہی آنے والے معاشرے کی سمت متعین کریں گے۔

ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا کی سائنسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) جیسے ادارے باصلاحیت سائنس داں تیار کر کے بھارت کی شاندار سائنسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں، جو بنیادی علوم، جوہری توانائی، طبی طبیعیات اور دیگر ابھرتے ہوئے بین شعبہ جاتی شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ کی بھی ستائش کی، جنہوں نے بھارت اور بیرونِ ملک تحقیق اور علمی امتیاز کے ذریعے ملک کی سائنسی شناخت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ  نے اپنے والد کی وہ بات یاد کرتے ہوئے بتایا جب انہوں نے انہیں ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا کے انتقال کی خبر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ملک کے جوہری تحقیقاتی پروگرام کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا، لیکن بھارت نے اس سانحے سے حوصلہ اور قوت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف اس نقصان کا ازالہ کیا بلکہ آج جوہری تحقیق کے میدان میں دنیا کے مضبوط اور بااعتماد ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) سے فارغ ہونے والے بہت سے طلبہ مستقبل کے ڈاکٹر ہومی بھابھا ثابت ہوں گے اور بھارت کی سائنسی و تکنیکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

اس تقریب میں اوڈیشہ کے گورنر ہری بابو کمبھمپتی، اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کے دفتر، عوامی شکایات و پنشن، عملہ و تربیت، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ، محکمہ جوہری توانائی کے سکریٹری اور نیشنل  انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (این آئی ایس ای آر) کے چیئرمین ڈاکٹر اجیت کمار موہنتی، این آئی ایس ای آر کے ڈائریکٹر اور اکیڈمک کونسل کے چیئرمین پروفیسر ایچ این گھوش، اعلیٰ سرکاری افسران، اساتذہ، فارغ التحصیل طلبہ، ان کے والدین اور دیگر معزز مہمان شریک ہوئے۔

****

ش ح۔م ع۔ت ع

U.No. 9766

 


(रिलीज़ आईडी: 2282984) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Odia , Tamil , Malayalam