PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

زرعی میکانائزیشن پر  ذیلی مشن


زرعی میکانائزیشن کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 11:28AM by PIB Delhi

 

زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم) ملک بھر میں ہدفی امداد کے ذریعے چھوٹے کسانوں، خواتین اور سماجی و معاشی طور پر محروم طبقات تک زرعی مشینوں کی رسائی کو فروغ دیتا ہے۔ زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی میں علاقائی تفریق کو کم کرنے کے لیے شمال مشرقی اور دیگر پسماندہ ریاستوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

مذکورہ  مشن کے آغاز سے اب تک 9,404.47 کروڑ روپے کی مالی معاونت سے ملک بھر کے  کسانوں میں انفرادی  طور پر 21.61 لاکھ زرعی مشینیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 52.5 کروڑ روپے کی مالی مدد سے 40,928 ڈرون مظاہرے کیے گئے، جن کے ذریعے 40,918 ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا، تاکہ ملک بھر میں درست اور جدید زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔

 

زرعی میکانائزیشن کے ذریعے زراعت کو مضبوط بنانا

زرعی میکانائزیشن بھارت میں زرعی پیداوار بڑھانے میں نہایت اہم  رول  ادا کرتی ہے۔ اس سے مراد فصل کی پیداوار کے پورے عمل کے دوران زرعی مشینوں، آلات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ ان سرگرمیوں میں زمین کی تیاری، بوائی، آبپاشی، فصلوں کا تحفظ، کٹائی اور  کٹائی کے  بعد کےانتظامات شامل ہیں۔ زرعی میکانائزیشن  کے ذریعے دستی محنت اور جانوروں پر انحصار کم ہوتا ہے، جس سے زرعی کام بروقت اور زیادہ مؤثر انداز میں انجام پاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت کم ہوتی ہے اور زرعی طریقۂ کار کا معیار بھی  بہتر ہوتا ہے۔

بھارت میں زرعی میکانائزیشن کو فروغ دینے کے لیے زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم) کا آغاز سال2014-15 میں کیا گیا تھا۔ یہ راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی وائی) کے تحت مرکزکے تعاون سے چلنے والایک پروجیکٹ  ہے۔  مذکورہ مشن کا مقصد ان طبقات تک میکانائزیشن کے فوائد پہنچانا ہے جو اب تک اس سے محروم رہے ہیں۔ ان میں چھوٹے اور معمولی کسان، خواتین، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے کسان، کسان پیداوار کنندہ تنظیمیں (ایف پی اوز)، اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز) اور دیہی کاروباری افراد شامل ہیں۔

مذکورہ پروجیکٹ کے تحت کسٹم ہائرنگ مراکز (سی ایچ سیز) کے قیام کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ ایسے مراکز ہیں جہاں مختلف زرعی مشینیں، آلات اور سازوسامان کرائے پر کسانوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید اور اعلیٰ قدر کی حامل زرعی مشینری کے مراکز کے قیام اور زرعی مشینوں کی تقسیم میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے عملی مظاہروں اور صلاحیت سازی کے پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی ہے جہاں زرعی مشینی طاقت کم دستیاب ہے، جبکہ چھوٹی زمینوں اور زیادہ سرمایہ لاگت جیسے مسائل کا حل کسٹم ہائرنگ مراکز کے ذریعے کم خرچ کرایہ سے متعلق  خدمات فراہم کرکے نکالا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ، ایس ایم اے ایم کے تحت زرعی مشینری کی کارکردگی کی جانچ اور تصدیق کی بھی معاونت کی جاتی ہے، جبکہ معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کی ہدفی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف متعلقہ فریقوں میں میکانائزیشن  کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی وائی)، جس کا آغاز 2007میں کیا گیا، حکومت ہند کی ایک اہم اسکیم ہے جس کا مقصد ریاستوں کو زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستوں کو مقامی ضروریات کے مطابق  پروجیکٹس  تیار کرنے اور انہیں نافذ کرنے کے لیے لچک اور خودمختاری فراہم کی جاتی ہے۔

اس اسکیم کے دائرۂ کار میں فصلوں کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زرعی میکانائزیشن اور زرعی پیداوار میں قدر کے اضافے سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ سال 18-2017 میں اس اسکیم کی ازسرِ نو تشکیل کرکے اسے آر کے وی وائی–آراے ایف ٹی اے آر (زراعت اور متعلقہ شعبوں کی بحالی کے لیے منافع بخش حکمتِ عملیاں) کا نام دیا گیا، جس میں فصل کی کٹائی سے پہلے اور بعد کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

 

زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن کے اہمیت کی حامل  تون

زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم) کو اس مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا ہے کہ جدید زرعی مشینری تک رسائی کو آسان بنایا جائے، محنت کی مشقت  کوکم کیا جائے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے، تاکہ زرعی میکانائزیشن کو زیادہ مؤثر اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔

  • تربیت، جانچ، عملی مظاہروں اور فصل کی کٹائی کے بعد کے میکانائزیشن  کے ذریعے زرعی میکانائزیشن کا فروغ:جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنا کر زرعی پیداوار اور کارکردگی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی میکانائزیشن کو فروغ دے کر فصل کی کٹائی کے بعد پروسیسنگ، ذخیرہ کاری، قدر میں اضافے اور فصل کی کٹائی کے بعد  باقیات کے انتظام سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جاتا ہے۔
  • زرعی مشینری اور آلات کی خریداری کے لیے مالی معاونت: فائدوں کی راست منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام کے تحت انفرادی کسانوں کو زرعی مشینری خریدنے کے لیے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔ عام مستفیدین کو مشین کی قیمت کا 40 فیصد جبکہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، چھوٹے اور معمولی کسانوں اور شمال مشرقی ریاستوں کے مستفیدین کو 50فیصد سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کو کسٹم ہائرنگ مراکز، اپنی مدد آپ  گروپوں اور کسان پیداوار کنندہ تنظیموں کے ذریعے ڈرون سمیت مشینی زرعی خدمات کے لیے فی ہیکٹر 2,000 روپے کی مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
  • کسٹم ہائرنگ کے لیے فارم مشینری بینکوں (ایف ایم بیز) کا قیام: اپنی مدد آپ  گروپوں، کسان پیداوار کنندہ تنظیموں اور مقامی اداروں کو زرعی مشینری خریدنے کے لیے 80 سے 90 فیصد تک مالی معاونت فراہم کرکے زرعی میکانائزیشن کو فروغ دیا جاتا ہے۔ کسٹم ہائرنگ مراکز کے لیے 250 لاکھ روپے تک کے  پروجیکٹوں پر  پروجیکٹ کی  لاگت کا 40 فیصد مالی تعاون دیا جاتا ہے، جبکہ فارم مشینری بینکوں کو 30 لاکھ روپے تک کے پروجیکٹوں  پر 80 فیصد مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
  • جدید اور اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والے زرعی آلات کے مراکز کا قیام:ایسے مراکز جدید اور زیادہ صلاحیت والی مشینری سےآراستہ ہوتے ہیں، جو مخصوص فصلوں سے متعلق زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاکہ کام کی کارکردگی بہتر ہو اور اعلیٰ معیار کی زرعی مشینری تک رسائی آسان بنائی جاسکے۔
  • شمال مشرقی خطے میں زرعی میکانائزیشن کا فروغ:شمال مشرقی ریاستوں میں مقامی ضروریات کے مطابق خصوصی اقدامات کے ذریعے اضافی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں چھوٹی زرعی مشینری پر 100 فیصد تک سبسڈی اور فارم مشینری بینکوں کے قیام کے لیے 95 فیصد تک مالی امداد شامل ہے۔

زرعی میکانائزیشن کو مالی قوت فراہم کرنا: زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن کی مالی بنیاد

زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)کے تحت 2014-15سے 2025-26 کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے 9,404.47 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی، جس کے ذریعے انفرادی کسانوں میں21.61 لاکھ زرعی مشینیں تقسیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ 27,554 کسٹم ہائرنگ مراکز، 646 جدید ٹیکنالوجی مراکز اور 25,608 فارم مشینری بینک بھی قائم کیے گئے۔ مذکورہ  مشن کے تحت انفرادی ملکیت کے لیے زرعی مشینری حاصل کرنے والے مستفیدین کی تعداد 2020-21 میں 2.07 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 2.32 لاکھ ہو گئی، جو اس اسکیم کے دائرۂ کار میں مجموعی توسیع کی عکاسی کرتی ہے۔

اس اسکیم میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان لاگت کی شراکت کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔ بیشتر ریاستوں کے لیے مالی حصہ داری کا تناسب 60:40 ہے، جبکہ شمال مشرقی اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے یہ تناسب 90:10 مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسکیم کے تحت 100 فیصد مالی معاونت مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے۔ مالی معاونت کا یہ امتیازی ڈھانچہ مختلف علاقائی ضروریات کے مطابق زرعی میکانائزیشن کے فروغ کو مزید مؤثر بناتا ہے۔

عملی جدت: زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن کے تحت ڈرون پر مبنی کھیتی کو کس طرح فروغ دیا جا رہا ہے

زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)کے تحت زرعی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ڈرون کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 52.50 کروڑ روپے کی مالی معاونت سے بھارت کی زرعی تحقیقی کونسل (آئی سی اے آر) نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر عملی مظاہروں کے ذریعے زرعی ڈرون کے استعمال کو فروغ دیا ہے۔

2023-24 سے 26-2025 کے دوران آئی سی اے آر نے ریاستی زرعی جامعات اور کرشی وگیان کیندروں (کے وی کیز)کے تعاون سے 40,928 کسان ڈرون مظاہرے منعقد کیے، جن کے ذریعے 40,918 ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا۔ ان مظاہروں میں مقررہ معیاری عملی طریقۂ کار کے مطابق غذائی اجزا، کھادوں اور زرعی کیمیکلز کے استعمال کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

ڈرون کے وسیع پیمانے پر استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایس ایم اے ایم کے تحت ڈرون کی خریداری اور عملی مظاہروں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئی سی اے آر کے اداروں، کرشی وگیان کیندروں اور ریاستی زرعی جامعات کو فی ڈرون 10لاکھ روپے تک 100 فیصد مالی امداد دی جاتی ہے۔ جبکہ کسان پیداوار کنندہ تنظیمیں (ایف پی اوز) ڈرون کی خریداری کے لیے 75 فیصد تک گرانٹ حاصل کرنے کی اہل ہیں۔ اس کے علاوہ خدماتی ماڈل کے تحت ڈرون استعمال کرنے والی ایجنسیوں کو فی ہیکٹر 6,000 روپے تک ہنگامی اخراجات کی مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

 اس کے علاوہ، زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن میں شمولیت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ مرکوزکی گئی ہے، جس کے تحت مجموعی فنڈز کا 30 فیصد حصہ خواتین کسانوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی زرعی مشینری تک رسائی  کوبہتر بنانا اور مشینی زرعی نظام میں ان کی زیادہ مؤثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

فاصلے کم، ترقی زیادہ: زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن کے اثرات

زرعی میکانائزیشن ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)زرعی پیداوار، کارکردگی اور شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم  قدم کے طورپر سامنا آیا ہے۔ چھوٹے اور معمولی کسانوں، خواتین، درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور محروم علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز دیتے ہوئے اس اسکیم نے سبسڈی، کسٹم ہائرنگ مراکز، فارم مشینری بینکوں اور ہدفی علاقائی معاونت کے ذریعے زرعی میکانائزیشن سے متعلق اہم خلا کو پُر کرنے میں نمایاں رول  ادا کیا ہے۔تربیت، عملی مظاہروں، فصل کی کٹائی کے بعد کے انتظام  اور ڈرون جیسی ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیوں پر اس کی خصوصی  توجہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچہ قائم کرکے ایس ایم اے ایم نے زرعی محنت کی مشقت  کوکم کرنے، زرعی سرگرمیوں کو بروقت انجام دینے اور کھیتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مؤثر رول  ادا کیا ہے۔

 

حوالہ جات

وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود

https://agriportal.cg.nic.in/agridept/CentralScheme/2.3%20smam%20gl.pdf

https://farmech.dac.gov.in/Content/New_Folder/Revised_SMAM_Guidelines_%282025%29_With_Covering.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146927&reg=3&lang=2

https://agriwelfare.gov.in/sites/default/files/rkvy_inro.pdf
https://farmech.dac.gov.in/Content/New_Folder/Revised_SMAM_Guidelines_%282025%29_With_Covering.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225993&reg=3&lang=1

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU1307_PlCuP7.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU2869_rYAp4R.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU4030_u5gVDd.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU2910_hr4mIN.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1621_FVTLGW.pdf?source=pqars

وزارت خزانہ

https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf

دیہی ترقی کی وزارت

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU2540_lhHekv.pdf?source=pqals

PIB Backgrounder

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248987&reg=3&lang=2

 پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں.pdf

 

************

 

 ش ح۔ ش م ۔ م ذ

UR. No. 9755


(रिलीज़ आईडी: 2282953) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Gujarati , Tamil