زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
ال نینو کے خطرے کے پیشِ نظر مرکز نے تیاریوں میں تیزی لاتے ہوئے ہفتہ وار جائزوں کا آغاز کیا ہے
مانسون کے آغاز سے راحت ملی ، حکومت نے خریف کی تیاریوں میں تیزی پیدا کی
فعال منصوبہ بندی، فوری کارروائی: مرکز مانسون کی غیر یقینی صورتِ حال سے کسانوں کے تحفظ کے لیے متحرک
بیجوں کے ذخائر، فصل سے متعلق مشاورتی خدمات اور بیمہ میں تعاون کے ساتھ خریف کی جامع تیاری جاری
حکومت کی کثیر جہتی حکمت عملی کا مقصد مانسون سے درپیش چیلنجوں سے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے
تیار، فعال اور چوکس: وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مرکز نے خریف سے متعلق ردِعمل کو مزید مضبوط بنایا
प्रविष्टि तिथि:
08 JUL 2026 3:20PM by PIB Delhi
ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث جنوب مغربی مانسون سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کے درمیان، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند جامع تیاری، واضح حکمت عملی اور زمینی سطح پر مضبوط اقدامات کے ذریعے ، اس صورتِ حال سے نمٹ رہی ہے۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم پورا نظام پیشگی طور پر متحرک کر دیا گیا ہے اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فعال انداز میں کام کر رہا ہے۔
زراعت ، کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ جون میں 33 فی صد بارش کی کمی ریکارڈ کیے جانے کے بعد، جولائی میں مانسون کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی کمی گھٹ کر 24 فی صد رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں ملک کے کئی حصوں میں اچھی بارش ہوئی ہے، جس کے باعث بارش کی کمی والے اضلاع کی تعداد 262 سے کم ہو کر 178 رہ گئی ہے۔
نئی دلّی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ مرکز ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش، راجستھان، کرناٹک، بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور اڈیشہ کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جولائی کے دوران بارش میں مزید تیزی آئے گی، جس کے نتیجے میں خریف کی بوائی میں بھی تیزی آئے گی۔
مرکزی وزیر نے اطلاع دی کہ اب تک خریف کی بوائی 350.85 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر مکمل کی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 91.95 لاکھ ہیکٹیئر کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کی تاخیر سے آمد نے خاص طور پر سویا بین اور کپاس کی بوائی کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بارش میں تاخیر کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے کم مدت میں تیار ہونے والی اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں، جیسے مکئی، باجرا اور مونگ کی کاشت کریں۔
جناب چوہان نے کہا کہ حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپریل ہی میں تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے تعاون سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کیے گئے اور انہیں پیشگی طور پر ریاستی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ جون میں چلائی گئی ’ کھیت بچاؤ ابھیان ‘ کے تحت ، ملک بھر میں 1.24 لاکھ سے زیادہ پروگرام منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے 80 لاکھ سے زیادہ کسانوں تک براہِ راست رسائی حاصل کی گئی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ بوائی کی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے تقریباً 1.75 لاکھ کوئنٹل کا قومی بیج ذخیرہ برقرار رکھا ہے، تاکہ ہر قسم کے حالات میں بیجوں کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسان کریڈٹ کارڈ مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے اور 30 جون تک موصول ہونے والی 1.14 لاکھ درخواستوں میں سے 94,000 سے زیادہ درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
جناب چوہان نے یہ بھی کہا کہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت کسانوں کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ ناموافق موسمی حالات کے باعث فصلوں کے نقصان کی صورت میں کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حکومت کی تیاریوں کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ ال نینو کے امکان کے مدنظر ، ایک وسیع نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ ال نینو مانیٹرنگ سیل، کراپ ویدر واچ گروپ، ریاستی سطح کے کنٹرول رومز اور نامزد افسران مانسون کی پیش رفت، فصلوں کی بوائی، فصلوں کی صورتِ حال اور بازار کے رجحانات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت نہ صرف بدلتی ہوئی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ واضح طور پر متعین طریقۂ کار، مناسب وسائل اور بروقت اقدامات کے ذریعے ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاکہ خریف کے موسم کے دوران کسانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔
...................................................
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 9705
(रिलीज़ आईडी: 2282432)
आगंतुक पटल : 15