PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے کھلونا ایکو سسٹم کو مستحکم بنانا


مقامی کاریگروں سے لے کر عالمی منڈیوں تک

प्रविष्टि तिथि: 07 JUL 2026 5:45PM by PIB Delhi

ہندوستان کی کھلونا صنعت اپنی ثقافتی وراثت، جدت طرازی اور پیداواری ترقی کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہے۔ ہزاروں برس پر محیط اس کی تاریخ کے باعث روایتی کھلونے نہ صرف دستکاروں کی معاونت کرتے ہیں بلکہ ہنرمندی کے تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کو بھی سہارا دیتے ہیں۔نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی آمدنی اور تعلیمی کھلونوں کی بڑھتی ہوئی پسند کے باعث ملکی منڈی میں طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اس شعبہ میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سےکھلونوں کے لیے قومی عملی منصوبہ، بین الاقوامی نمائشوں اور ایک ضلع، ایک مصنوعات (او ڈی او پی) جیسے اقدامات نے ملکی کھلونا سازی کو مضبوط بنایا ہے۔جغرافیائی شناخت (جی آئی) کا ٹیگ حاصل مصنوعات اور مقامی کھلونوں کے فروغ سے عالمی مسابقت اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً کھلونوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، روزگار کے مواقع میں توسیع اور ہندوستان کا کھلونوں کا خالص برآمد کنندہ ملک کے طور پر ابھرنا ممکن ہوا ہے۔ یہ شعبہ بتدریج معیاری اور ثقافتی شناخت سے مزین کھلونوں کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔

ہندوستان کی کھلونا صنعت: آغاز سے مواقع تک

ہندوستان کی کھلونا صنعت تیزی سے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور جدت طرازی کے ایک اہم شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سازگار آبادیاتی صورتحال، صارفین کی بدلتی ترجیحات اور حکومتی پالیسیوں کی مسلسل حمایت کے باعث اس شعبے کو نئی رفتار ملی ہے۔ محفوظ، ماحول دوست اور تعلیمی کھلونوں کی عالمی طلب میں اضافے نے ہندوستانی صنعت کاروں، دستکاروں اور کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہنرمندی کی صدیوں پرانی روایت پر استوار یہ صنعت ملکی اور عالمی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔

وادیٔ سندھ کی تہذیب کی مٹی سے بنی چھوٹی گاڑیوں سے لے کر آج کے جدید تعلیمی اور برقی کھلونوں تک ہندوستان میں کھلونے بنانے کی روایت تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ عظیم ورثہ ملک کی تخلیقی صلاحیت، تعلیم اور ہنرمندی کی دیرینہ ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہڑپااور موہنجوداڑو کی آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے بھی کھلونا سازی کی ایک ترقی یافتہ روایت سامنے آئی ہے، جو قدیم ہندوستان کی فنی مہارت اور اختراعی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ماضی میں ملک بھر کے دیہی علاقوں کی ورکشاپس میں ہاتھ سے تراشی گئی لکڑی کی خوبصورت مورتیاں تیار کی جاتی تھیں، جبکہ رامائن اور مہابھارت سے متاثر رنگا رنگ گڑیاں بھی اس روایت کا اہم حصہ تھیں۔ یہ کھلونے بچوں کو ہندوستان کی عظیم تہذیبی وراثت اور متنوع ثقافتی روایات سے جوڑنے کا ذریعہ بنتے رہے۔

آج روایتی دستکاری کو جدید ٹیکنالوجی، منفرد ڈیزائن اور کاروباری اختراع کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ہندوستان معیاری کھلونوں کی تیاری کے ایک ابھرتے ہوئے عالمی مرکز کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔

ہندوستان کی کھلونا صنعت میں ابھرتے ہوئے مواقع

رسد کے شعبے میں ای - کامرس پلیٹ فارمز کی تیز رفتار توسیع نے مصنوعات تک رسائی آسان بنائی ہے اور صنعت کاروں کے لیے منڈی کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ دوسری جانب طلب کے لحاظ سے ہندوستان کی صدیوں پرانی کھلونا سازی کی روایت ایک منفرد برتری فراہم کرتی ہے، جہاں روایتی کھلونے آج بھی ملکی اور بین الاقوامی خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ متعدد عوامل ہندوستان کی کھلونا صنعت کی ترقی کے امکانات کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

  • وسیع اور مسلسل بڑھتی ہوئی صارفین کی بنیاد اس صنعت کی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ ہندوستان کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ (1.40)سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ 25 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ بڑھتی ہوئی آمدنی اور بہتر ہوتی قوت خریداری  بھی کھلونوں پر اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
  • تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور بدلتے ہوئے طرز زندگی کے باعث جدید، اختراعی اور لائسنس یافتہ کھلونوں کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
  • والدین اب ایسے تعلیمی، مہارت پر مبنی اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور  میتھمٹکس ( ایس ٹی ای ایم-اسٹیم) سے متعلق کھلونوں کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں، جو بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت اور ذہنی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
  • ٹیکنالوجی اور ڈجیٹلائزیشن بھی اس شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔مصنوعی ذہانت(اے آئی)، افزوده حقیقت (آگمینٹڈ ریئلٹی) اور مجازی حقیقت (ورچوئل ریئلٹی) جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے آراستہ اسمارٹ کھلونے ٹیکنالوجی سے واقف صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

A blue circle with white circles with black textAI-generated content may be incorrect.

 

بڑھتی ہوئی برآمدات، مضبوط ہوتی عالمی مسابقت

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی کھلونا صنعت نے بین الاقوامی تجارت میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت اور مضبوط پیداواری صلاحیتوں کی عکاس ہے۔

سال2017-18 میں کھلونوں (ایچ ایس این 9503، 9504 اور 9505) کی مجموعی برآمدات 15 کروڑ 27 لاکھ امریکی ڈالر تھیں جو2025-26 میں بڑھ کر38 کروڑ 47 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح برآمدات میں151.9 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سب سے زیادہ ترقی الیکٹرانک اور غیر الیکٹرانک کھلونوں (ایچ ایس این 9503) کی برآمدات میں دیکھنے میں آئی، جو اسی عرصے کے دوران تقریباً 160 فیصد بڑھ کر 7 کروڑ 73 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر سے20 کروڑ 8 لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔امریکہ ہندوستانی کھلونوں کی سب سے بڑی برآمدی منڈی کے طور پر ابھرا، جہاں برآمدات چار گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر2 کروڑ 67 لاکھ امریکی ڈالر سے تقریباً11 کروڑ 19 لاکھ امریکی ڈالر تک جا پہنچیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، پولینڈ، نیدرلینڈز اور جرمنی بھی ہندوستانی کھلونوں کی اہم برآمدی منڈیوں میں شامل رہے۔

A graph of blue columns and numbers

ویڈیو گیم کنسولز، گیم مشینوں اور دیگر مصنوعات (ایچ ایس این 9504) کی برآمدات میں بھی تقریباً تین گنا اضافہ ہوا۔ یہ برآمدات 2017-18 میں  ایک  کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر سے بڑھ کر2025-26 میں 4 کروڑ 67 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالرتک پہنچ گئیں، جو ہندوستان میں تیار کردہ گیمنگ اور تفریحی مصنوعات کی عالمی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان مصنوعات کی اہم برآمدی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات(یو اے ای)، روس، فرانس اوربرطانیہ شامل رہے، جبکہ امریکہ بدستور سب سے بڑی منڈی رہا۔

اسی طرح تہواروں، کارنیوال اور دیگر تفریحی تقریبات سے متعلق مصنوعات (ایچ ایس این 9505) کی برآمدات میں بھی تقریباً130 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ برآمدات 2017-18 میں5 کروڑ 96 لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2025-26 میں13 کروڑ 70 لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان مصنوعات کی اہم برآمدی منڈیوں میں امریکہ، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اورسویڈن شامل تھے۔ یہ پیش رفت عالمی تہواروں اور تفریحی مصنوعات کی منڈی میں ہندوستان کی مضبوط ہوتی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

درآمدات کے محاذ پر اگرچہ ویڈیو گیم کنسولز اور تہواروں و تفریحی مصنوعات کی درآمدات میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم روایتی اور تعلیمی کھلونوں کی درآمدات میں66 فیصد کی نمایاں کمی آئی، جس سے ملک میں کھلونا سازی کی مقامی پیداواری صلاحیت کو خاطر خواہ تقویت ملی۔

اس کے نتیجے میں2025-26 میں ہندوستان نے کھلونوں کی اہم اقسام (ایچ ایس این 9503، 9504 اور 9505) میں 15 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا۔ یہ 2017-18 کے مقابلے میں ایک بڑی پیش رفت ہے، جب درآمدات برآمدات سے زیادہ ہونے کے باعث 21 کروڑ تیس(30 ) لاکھ ایک ہزار امریکی ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

تجارتی سرپلس، درآمدات سے زائد برآمدات کے ساتھ، گھریلو مینوفیکچرنگ کو تقویت ملی، اقتصادی ترقی کو سہارا دیا، اور غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھلونا صنعت مینوفیکچرنگ، روزگار کے فروغ اور معاشی ترقی میں مسلسل بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہے۔

ہندوستان کی کھلونا صنعت کا معاشی اثر

بچوں کے لیے مصنوعات تیار کرنے تک محدود رہنے کے بجائے، کھلونا صنعت اب ہندوستانی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔

یہ صنعت دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور دستکاروں، صنعت کاروں، تاجروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خواتین اور سماجی و معاشی اعتبار سے مختلف طبقات کی معاشی شمولیت کو بھی فروغ دیتی ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر حکومت کی توجہ نے اس شعبہ کی معاشی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

کھیلوں اور کھلونوں (این آئی سی کوڈ 324) کے شعبے میں روزگار کے مواقع دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔ روزگار کی تعداد2018-19 میں آٹھ ہزار چھ سو پچاسی (8,685) سے بڑھ کر2023-24 میں17,693 ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شعبہ ملک بھر میں مقامی کاروبار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پیداواری روزگار پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔

حکومتی اقدامات: کھلونا صنعت کے مستقبل کی تشکیل

اس شعبہ کی معاشی اور ثقافتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور دیسی کھلونوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان کوششوں سے ایسا سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے جو جدت، معیار اور عالمی منڈی میں مضبوط موجودگی کو فروغ دیتا ہے۔

کھلونوں کے لیے قومی عملی منصوبہ (این اے پی ٹی)- 2020

سال 2020 میں کھلونوں کے لیے قومی عملی منصوبہ (این اے پی ٹی) اس مقصد کے تحت تیار کیا گیا کہ ہندوستانی اقدار، ثقافت اور تاریخ پر مبنی کھلونوں کے ڈیزائن کو فروغ دیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت کھلونوں کو تعلیم و تربیت کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔یہ اقدام کھلونوں کے معیار کی نگرانی کرتا ہے اور غیر معیاری اور غیر محفوظ درآمدی مصنوعات پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی کھلونا کلسٹروں کے فروغ، اندرون ملک مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور کھلونا صنعت سے وابستہ صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ 2020 میں کھلونوں کے لیے معیار کی نگرانی سے متعلق حکم (کوالٹی کنٹرول آرڈر - کیو سی او) کا نفاذ تھا۔ یہ حکم درآمد شدہ کھلونوں کے معیار اور ان کی حفاظت سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر نافذ کیا گیا۔

مئی2026 تک ہندوستانی معیارات کے ادارے (بی آئی ایس) نے آئی ایس 9873 اور آئی ایس 15644 کے مطابق کھلونوں کے حفاظتی معیارات کی تکمیل کے لیے ملکی صنعت کاروں کو 1,786 جبکہ غیر ملکی صنعت کاروں کو 56لائسنس جاری کیے ہیں۔

اس حکم کے تحت ہندوستانی حفاظتی معیارات کی پابندی لازمی قرار دی گئی اورہندوستانی معیارات کے ادارے (بی آئی ایس) کی تصدیق ملکی اور غیر ملکی، دونوں طرح کے صنعت کاروں کے لیے لازمیت بنا دی گئی۔

  • تاہم، وزارت ٹیکسٹائل کےترقیاتی کمشنر (دستکاری) کے ساتھ رجسٹرڈ دستکاروں کی تیار کردہ اور فروخت کی جانے والی مصنوعات کو اس حکم سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
  • یہ استثنا جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ رکھنے والی مصنوعات کے رجسٹرڈ مالکان اور مجاز صارفین تک بھی توسیع دیا گیا۔

اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ہندوستان میں فروخت ہونے والے تمام کھلونے مقررہ جسمانی، کیمیائی اور برقی حفاظتی معیارات پر پورا اتریں۔ کوالٹی کنٹرول آرڈر (کیو سی او) کے نفاذ سے مقامی صنعت کاروں کے لیے بھی منصفانہ اور مساوی مسابقتی ماحول فراہم کرنے میں مدد ملی۔

 

اس پالیسی فریم ورک کے تحت2020 میں کھلونوں پر انتہائی ترجیحی ملک (ایم ایف این) ٹیرف 20 فیصد سے بڑھا کر60 فیصد کر دیا گیا، جبکہ 2023 میں اسے مزید بڑھا کر70 فیصد کر دیا گیا۔اس کے علاوہ مالی سال 2025-26 کے مرکزی بجٹ میںالیکٹرانک کھلونوں کے پرزوں (ایچ ایس 95030091) پر درآمدی ٹیرف 20 فیصد مقرر کیا گیا۔انتہائی ترجیحی ملک (ایم ایف این) ٹیرف وہ معیاری کسٹم ڈیوٹی ہے جو عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے بیشتر تجارتی شراکت دار ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر عائد کی جاتی ہے۔ درآمدی محصولات میں اضافے سے بیرونِ ملک سے آنے والے کھلونوں کی قیمت کا مسابقتی فائدہ کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے۔

یہ اقدام مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھانے، کھلونا صنعت کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کے تجارتی توازن کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

 

کھلونا بز انٹرنیشنل بی2 بی نمائش

یہ نمائش 4  سے  7  جولائی 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔

یہ نمائش کھلونا صنعت سے وابستہ صنعت کاروں کو اپنی مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی خریداروں کے سامنے پیش کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی کھلونا تجارتی نمائشوں میں شامل یہ تقریب کاروباری روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے صنعت کاروں، کھلونا فروخت کنندگان اور دنیا بھر سے آنے والے ممکنہ خریداروں کے درمیان براہ راست رابطے قائم ہوتے ہیں۔ اس سے نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور عالمی سطح پر ہندوستان کی کھلونا صنعت کو فروغ ملتا ہے۔

ٹوائیکاتھون

 سن 2021 میں شروع کیے گئے ٹوائیکاتھون کا مقصد آتم نربھر بھارت کے ویژن کو عملی شکل دینا ہے۔ یہ اقدام طلبہ، اساتذہ، ڈیزائنرز، ماہرین اور نوآموز کمپنیوں (اسٹارٹ اپس) کو باہمی تعاون سے جدید اور اختراعی کھلونے اور کھیل تیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے تحت ایسے ڈیزائنوں کو فروغ دیا جاتا ہے جو ہندوستانی ثقافت، تہذیبی ورثہ، مقامی لوک داستانوں، قومی ہیروز اور اخلاقی اقدار سے متاثر ہوں۔

الیکٹرانک کھلونوں کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے2025 میں پہلی بار الیکٹرانک ٹوائیکاتھون (ای-ٹوائیکاتھون) کا بھی انعقاد کیا۔ اس اقدام کے تحت ایسے جدید، اختراعی اور تعلیمی الیکٹرانک کھلونے پیش کیے گئے جو بچوں میں تخلیقی صلاحیت، سیکھنے کے عمل اور ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دیتے ہیں۔

ای۔ٹوائز لیب

وزارت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی ( ایم ای آئی ٹی وائے) کی جانب سےسی-ڈیک، نوئیڈا میں قائم ای-ٹوائز لیب کا مقصد ہندوستان کی مقامی الیکٹرانک کھلونا صنعت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مرکز میں الیکٹرانک کھلونوں کے ڈیزائن اور تیاری، نمونہ (پروٹوٹائپ) سازی اور مصنوعات کی جانچ سے متعلق عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب نوجوان انجینئروں، جن میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور شمال مشرقی خطے سے تعلق رکھنے والے امیدوار بھی شامل ہیں، کو ایک سالہ منظم تربیت دی جاتی ہے۔

اس پروگرام میں چھ ماہ ای-ٹوائز لیب میں تحقیق اور چھ ماہ صنعتی اداروں میں عملی تربیت شامل ہے۔ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کو کھلونا سازی کے ساتھ یکجا کر کے یہ اقدام اختراع، کاروباری صلاحیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدید کھلونوں کی تیاری کو فروغ دیتا ہے۔

مانک منتھن

اپریل 2026 میں ہندوستانی معیارات کے ادارے (بی آئی ایس) نے آئی ایس 9873 (حصہ اول): 2025 کے موضوع پر‘مانک منتھن’ کا انعقاد کیا۔ اس کا مرکزتوجہ کھلونوں کے لیے مقررہ میکانکی اور جسمانی حفاظتی تقاضے تھے۔‘مانک منتھن’، بی آئی ایس کا ایک اقدام ہے جس کا مقصد مختلف صنعتوں میں ہندوستانی معیارات کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے کھلونا صنعت سے وابستہ صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں میں آگاہی پیدا کی گئی، تاکہ بچوں کے لیے زیادہ محفوظ، معیاری اور قابلِ اعتماد کھلونوں کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ایک ضلع، ایک مصنوعات (او ڈی او پی)

ایک ضلع، ایک مصنوعات (او ڈی او پی) اقدام کا مقصد ملک کے ہر ضلع کی منفرد مصنوعات کی شناخت، برانڈنگ اور فروغ کے ذریعہ ضلع مخصوص مصنوعات کو ترقی دینا ہے۔ اس کے تحت مینوفیکچرنگ، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ متوازن علاقائی ترقی کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ اقدام نئی سوچ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملکی و عالمی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت کئی روایتی اور مقامی کھلونوں کو بھی شناخت دی گئی ہے۔ یہ اقدام مصنوعات میں تنوع، برانڈنگ، پیکیجنگ، مہارتوں کی ترقی اور معیار کے یکساں معیارات کو فروغ دے کر باہمی فائدے کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ای کامرس، بین الاقوامی نمائشوں، خریداروں کی ضروریات اور برآمدی سرٹیفکیشن سے متعلق آگاہی کے ذریعے منڈی تک رسائی بھی آسان بنائی جاتی ہے۔ مزید برآں، اس کے تحت مالی معاونت، مارکیٹنگ، ٹیکنالوجی کی جدید کاری اور مختلف سرکاری اسکیموں سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ کھلونے

ہندوستان کے کئی روایتی کھلونوں کوجغرافیائی شناخت (جی آئی) کا درجہ حاصل ہو چکا ہے، جو ان کی منفرد ہنرمندی اور علاقائی شناخت کا اعتراف ہے۔ جی آئی ٹیگ نہ صرف صدیوں پرانی روایات کے تحفظ میں مدد دیتا ہے بلکہ دستکاروں کو زیادہ تشہیر اور بہتر منڈی تک رسائی فراہم کر کے ان کے لیے نئے معاشی مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔جی آئی ٹیگ یافتہ مصنوعات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جو ان کی مخصوص خصوصیات اور کسی خاص جغرافیائی علاقے سے وابستہ شہرت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس سے ان مصنوعات کی تجارتی قدر میں اضافہ، غیر مجاز استعمال کی روک تھام اور مقامی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ روایتی علم، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور دیہی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جی آئی ٹیگ یافتہ کھلونوں میں کرناٹک کے چناپٹنا کے کھلونے اور گڑیاں، مدھیہ پردیش کےاندور کے چمڑے کے کھلونے اور تمل ناڈو کی تنجاور گڑیا سمیت کئی دیگر روایتی مصنوعات شامل ہیں۔

تجارت اور منڈی کو فروغ

جی ایس ٹی میں کمی

کھلونوں پر جی ایس ٹی کی شرح 12 فیصد سے کم کر کے5 فیصد کرنے سے یہ مصنوعات صارفین کے لیے زیادہ سستی اور آسانی سے دستیاب ہو گئی ہیں۔ اس اقدام سے کھیل کے ذریعے ابتدائی عمر کی تعلیم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تعلیمی و ذہنی نشوونما میں معاون کھلونوں کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ مقامی صنعت کاروں اورخوردہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوا ہے، کیونکہ اس سے کھلونوں کی منڈی میں طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)

ہندوستان نےہندوستان-متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) ،ہندوستان-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ (ای سی ٹی اے) ،ہندوستان-یوروپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ،ہندوستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ، ہندوستان-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ اور ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ جیسے کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت شراکت دار ممالک ہندوستانی کھلونوں کی برآمدات کے لیےصفر کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ اپنی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔

برآمداتی مراکز کے طور پر اضلاع (ڈی ای ایچ)

برآمدی مراکز کے طور پر اضلاع (ڈی ای ایچ) اقدام کا مقصد ہر ضلع کی منفرد مصنوعات، مہارتوں اور وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں برآمدات کے فروغ کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔ اس میں ریاستی برآمدی فروغ کمیٹیاں (ایس ای پی سی) اورضلع برآمدی فروغ کمیٹیاں (ڈی ای پی سی) کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں  ملک کی 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم کی جا چکی ہیں اور ہندوستان کی برآمدات کو مضبوط بنانے کے ساتھ متوازن اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس اقدام کے تحت ملک کے تمام اضلاع میں برآمداتی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں جغرافیائی شناخت (جی آئی) والی مصنوعات، زرعی کلسٹرز اور کھلونا کلسٹرز بھی شامل ہیں۔  ملک کے10 سے زائد اضلاع کو کھلونوں اور گڑیوں کی برآمدات کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے ہر ضلع کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی صنعتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، منڈیوں سے روابط قائم کیے جا رہے ہیں اور روزگار و معاشی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کی کھلونا صنعت: آگے کا سفر

ہندوستان کی کھلونا صنعت اپنی عظیم ثقافتی وراثت کو جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور روزگار کے شعبوں میں ایک مؤثر اور متحرک قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ مقامی پیداوار کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں اور مختلف اقدامات کی بدولت یہ شعبہ درآمدات پر انحصار سے نکل کر عالمی سطح پر مسابقت کرنے کے قابل بن چکا ہے۔

اسی کے ساتھ ہی  ہندوستان کی کھلونا صنعت نہ صرف عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مسلسل مضبوط  و مستحکم کر رہی ہے بلکہ کھیل اور کھلونوں سے وابستہ ملک کی منفرد تہذیبی اور ثقافتی وراثت کو بھی محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

حوالہ جات

References

Ministry of Tourism

https://www.cgihamburg.gov.in/pdf/press/Toy-Story-Incredible-India_23092020.pdf

Ministry of Commerce and Industry

https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/traditional-toy-industry-new-indias-sunrise-sector

https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/charting-growth-story-indian-toy-industry

https://www.investindia.gov.in/blogs/toy-story-india-look-indias-thriving-toy-retail-market

https://static.investindia.gov.in/s3fs-public/2025-08/2025089_v32_odop_product_list.pdf

https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/toycathon-202-highlight-indias-toy-industry-opportunity

https://www.investindia.gov.in/one-district-one-product

https://tradestat.commerce.gov.in/eidb/commodity_wise_export

https://tradestat.commerce.gov.in/eidb/commodity_wise_all_countries_export

https://www.dgciskol.gov.in/writereaddata/Downloads/20251008161825A%20Brief%20Report%20on%20Indias%20Exports%20of%20Toys,%20Games%20and%20Sports%20Requisites.pdf

https://ipindia.gov.in/storage/uploads/docs-operator/aa9ef4c8-ae0e-477-98-52b6a9479b82.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2002099&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244401&reg=3&lang=1

https://static.investindia.gov.in/s3fs-public/inline-files/ODOP%20Brochure_Final.pdf

Ministry of Education

https://isid.org.in/wp-content/uploads/2024/05/WP279.pdf?utm

Ministry of Statistics and Programme Implementation

https://microdata.gov.in/NADA/index.php/catalog/256/related-materials

https://microdata.gov.in/NADA/index.php/catalog/50/related-materials

DD India

https://www.youtube.com/watch?v=n3OZiJ7FdDc

PIB Headquarters

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150302&reg=3&lang=2

Ministry of External Affairs

https://www.indianembassynetherlands.gov.in/section/forthcomming/17th-toy-biz-international-b2b-exhibition-from-4th-7th-july-2026-at-bharat-mandapam-pragati-maidan-new-delhi/

https://www.eoibogota.gov.in/page/6th-toy-biz-international-2025/

Ministry of Electronics & IT

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2109677&reg=48&lang=2

World Trade Organisation

https://www.wto.org/english/tratop_e/serv_e/cbt_course_e/c1s6p1_e.htm

Ministry of Women and Child Development

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1686286&reg=48&lang=2

Others

https://www.ibef.org/research/case-study/unlocking-play-evolution-of-india-s-toy-sector

https://wtocentre.iift.ac.in/PolicyBrief/Policy_Brief_23.pdf

https://silpasathi.wb.gov.in/export-hub/

https://invest.telangana.gov.in/toys-industry/

https://x.com/mygovindia/status/205409373429240565

https://www.mygov.in/campaigns/aatmanirbhartoys

https://x.com/mygovindia/status/2054093734292410565

See in PDF

*****

ش ح- ظ الف- م ش

UR-9688

 


(रिलीज़ आईडी: 2282357) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil