نیتی آیوگ
اٹل انوویشن مشن نے علاقائی اے آئی ایم سمواد-ایسٹ چیپٹر 2026 کے ذریعے مشرقی ہندوستان کے اختراعی نظام کو مضبوط کیا
प्रविष्टि तिथि:
06 JUL 2026 6:15PM by PIB Delhi
مشرقی ہندوستان جیسے جیسے اختراع اور صنعت کاری کا ایک متحرک مرکز بنتا جا رہا ہے،نیتی آیوگ کے اٹل انوویشن مشن (اے آئی ایم) نےاپنی علاقائی سیریز کے تحت ریجنل اے آئی ایم سمواد-ایسٹ چیپٹر 2026 کااہتمام کیا۔ اس پروگرام میں حکومت ، صنعت ، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لایا گیاتا کہ اس خطے میں اختراع پر مبنی ترقی کے اگلے مرحلے کے لئے باہمی تعاون پر مبنی ایک روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔
بھونیشورکے او -ہب میں منعقدہ کانکلیو میں اے آئی ایم-اڈیشہ چیپٹر کا آغاز بھی ہوا۔یہ ایک ایسا باہمی تعاون پر مبنی پلیٹ فارم ہے جو پورے اوڈیشہ میں اٹل انکیوبیشن سینٹرز اور اٹل کمیونٹی انوویشن سینٹرز کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پروگرامز، بنیادی ڈھانچے، مینٹورز، سرمایہ کاروں، اسٹریٹجک شراکت داروں اور ایکو سسٹم کے وسائل تک مشترکہ رسائی کے ذریعے انکیوبیٹرز کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس سے اسٹارٹ اپس کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور اوڈیشہ کا اختراعی (انوویشن) ایکو سسٹم مزید بہتر اور مضبوط ہوگا۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اڈیشہ حکومت کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ایڈیشنل چیف سکریٹری آئی اے ایس محترمہ چترا اروموگم نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے مشرقی خطے کی قومی اختراعی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا اور مضبوط اختراعی نظام کے لئے ادارہ جاتی شراکت داریوں، تعاون پر مبنی ماحول اور پالیسی سطح کی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
نیتی آیوگ کےاٹل انوویشن مشن ڈائریکٹر نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کا وژن ایک “وکست بھارت” کی بنیاد اختراع پر مبنی ہے۔ اٹل انوویشن مشن اس وژن کو عملی شکل دے رہا ہے اور میٹرو شہروں سے باہر بھی اختراعی نظام کو مضبوط بنا کر ہر خطے کو ترقی کا انجن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ علاقائی پلیٹ فارمز جیسے اے آئی ایم سمواد اداروں، انکیوبیٹرز، انٹرپرینیورز اور حکومتوں کو ایک ساتھ لا کر مقامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں اور نچلی سطح سے اختراع پر مبنی بھارت کی تعمیر میں مدد دیتے ہیں۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اٹل انوویشن مشن کے پروگرام لیڈر پرمیت ڈیش نے پورے مشرقی ہندوستان میں صنعت کاری ، اختراع اور پائیدار اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں علاقائی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کانکلیو کے لئے سمت متعین کی ۔
اس کنکلیو میں اڈیشہ ، بہار ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے اٹل انکیوبیشن سینٹرز اور اٹل کمیونٹی انوویشن سینٹرز نے فعال طور پرشرکت کی ، جو علاقائی تعاون کی بڑھتی ہوئی رفتار کی عکاسی کرتی ہے اور پورے مشرقی ہندوستان میں صنعت کاری کو آگے بڑھانے میں باہم مربوط اختراعی ماحولیاتی نظام کی اہمیت کو تقویت دیتی ہے ۔
دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں ‘‘پوراودیہ-طلوع آفتاب کے شعبوں کے لئے ایکو سسٹم بنانا’’کے موضوع کے تحت پالیسی سے متعلق بریفنگز ، صنعتی مکالمے ، ماحولیاتی نظام کے اجلاس اور موضوعاتی سیشن شامل تھے ۔ ریاستی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے ، باہمی تعاون سے متعلق اختراعات کو فعال کرنے ، امنگوں والے اضلاع میں نچلی سطح پر صنعت کاری کو فروغ دینے اور کانکنی ، بایو ٹیکنالوجی اور لائف سائنسز سمیت اعلی ترقی کے شعبوں میں مواقع کو کھولنے پر غور و خوض کیا گیا ۔
شمالی، جنوبی، وسطی اور مشرقی خطوں میں کامیاب پروگراموں کے بعد یہ اقدام پالیسی سازوں، انکیوبیٹرز، صنعت اور کاروباری افراد کو جوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مقامی وسائل پر مبنی مضبوط انوویشن ایکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے اور ‘وکست بھارت’کے سفر میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔


***
ش ح۔ ک ا۔ ع د
U.NO.9624
(रिलीज़ आईडी: 2281805)
आगंतुक पटल : 12