قومی انسانی حقوق کمیشن
بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے ہریانہ کے حصار اور روہتک اضلاع کے تین اسپتالوں میں منتقل کئے جانے کے باوجود 24 گھنٹے تک وینٹی لیٹر سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سےایک نوزائیدہ بچے کی مبینہ موت کے معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے
کمیشن نے ہریانہ کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتے کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے
प्रविष्टि तिथि:
06 JUL 2026 1:34PM by PIB Delhi
بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ایک میڈیا رپورٹ کا از خود نوٹس لیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہریانہ کے حصار اور روہتک کے اسپتالوں میں تقریباً 24 گھنٹے تک وینٹی لیٹر سپورٹ نہ ملنے کے باعث ایک نوزائیدہ بچے کی موت ہو گئی۔
اطلاعات کے مطابق، نومولود کے والد نے اپنے بچے کے لئے وینٹی لیٹر سہولت حاصل کرنے کی کوشش میں سخت جدوجہد کی اور حصار و روہتک اضلاع کے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال تک جاتے رہے، لیکن کامیابی نہ مل سکی، جس کے نتیجے میں بچے کی جان چلی گئی۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اگر خبر میں بیان کردہ باتیں درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ اسی بنیاد پر این ایچ آر سی نے ہریانہ حکومت کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتے کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
3 جولائی 2026 کی میڈیا رپورٹ کے مطابق، بچے کی پیدائش یکم جولائی 2026 کو حصار کے سول اسپتال میں سیزیرین سیکشن کے ذریعے ہوئی تھی اور پیدائش کے فوراً بعد اسے وینٹی لیٹر سپورٹ کی فوری ضرورت تھی۔ والدہ اسپتال میں زیر علاج رہیں جبکہ ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر نومولود کو ضلع حصار کے اگروہا میڈیکل کالج منتقل کیا۔
تاہم، جب سول اسپتال نے مبینہ طور پر تصدیق کی کہ اگروہا میں بھی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہے تو بچے کو روہتک کے پی جی آئی ایم ایس بھیج دیا گیا۔ وہاں بھی وینٹی لیٹر نہ ملنے پر بچے کو واپس حصار لایا گیا اور اس کےبعد ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ع د
U.NO.9605
(रिलीज़ आईडी: 2281629)
आगंतुक पटल : 13