لوک سبھا سکریٹریٹ
نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی سے کبھی قیادت قائم نہیں ہوتی؛ حقائق، منطق اور تعمیری افکار ہی حقیقی قائد بناتے ہیں: لوک سبھا اسپیکر
عوامی نمائندوں کو معاشرے کے آخری فرد کی آواز بننا چاہیے: لوک سبھا اسپیکر
عوام کا اعتماد ہی جمہوری اداروں کی سب سے بڑی طاقت ہے: لوک سبھا اسپیکر
علم، مکالمہ اور عوامی خدمت مؤثر قیادت کی بنیاد ہیں: لوک سبھا اسپیکر
مغربی بنگال کو ایک بار پھر قوم کی رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے: لوک سبھا اسپیکر
لوک سبھا اسپیکر نے مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا
प्रविष्टि तिथि:
04 JUL 2026 8:33PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج اس بات پر زور دیا کہ بامعنی جمہوری مکالمہ ہی مؤثر قانون سازی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت نعرے بازی، ہنگامہ آرائی یا ایوانی تعطل سے نہیں، بلکہ مدلل گفتگو، ٹھوس حقائق اور تعمیری افکار سے پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقننہ بحث، غور و فکر اور مسائل کے حل کا فورم ہے، لہٰذا ارکان کو چاہیے کہ وہ پارلیمانی مباحثے کے معیار کو بلند کریں تاکہ ایوان میں ہونے والی گفتگو عوامی مسائل کے حل اور ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کی اصل قوت باخبر مکالمے، باہمی احترام اور عوامی فلاح کے مشترکہ عزم سے حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ خیالات مغربی بنگال کی 18ویں قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ اس پروگرام کا انعقاد لوک سبھا سیکریٹریٹ کے پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پی آر آئی ڈی ای) نے مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اشتراک سے کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آج مغربی بنگال کے گورنر جناب آر۔ این روی کے اختتامی خطاب کے ساتھ ہوا۔
جناب اوم برلا نے قانون ساز اسمبلی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے آخری فرد کی آواز بنیں اور عوام کی امنگوں، توقعات اور خوابوں کو پورا کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی اصل طاقت شہریوں کے اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ منتخب نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل، چیلنجوں اور خواہشات کو ایوان میں مؤثر انداز میں پیش کریں اور جمہوری اداروں کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کریں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مغربی بنگال کے عوام نے جن ارکان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ عوامی خدمت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان محض اپنے اپنے حلقوں کے نمائندے نہیں بلکہ پوری ریاست کی ترقی اور مستقبل کے اہم شراکت دار بھی ہیں۔ انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے وقت وسیع النظر اور جامع نقطۂ نظر اختیار کریں اور ایسی پالیسیوں، قوانین اور ترقیاتی اقدامات کی تشکیل کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں جو مغربی بنگال کو نئی سمت فراہم کر سکیں۔
سوامی وویکانند کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جناب اوم برلا نے کہا کہ ان کی حیات، اعلیٰ اقدار اور روحانی بصیرت آج بھی نسل در نسل لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی وویکانند کی تعلیمات نوجوانوں اور قائدین دونوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ لگن، مضبوط کردار اور سماج کی خدمت کا جذبہ انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگال کی عظیم روحانی، فکری اور ثقافتی روایت نے ہمیشہ قوم کو سمت دی ہے اور آج بھی بھارت کے جمہوری اور ترقیاتی سفر کے لیے باعثِ تحریک ہے۔
دو روزہ تربیتی پروگرام میں ارکان کی پُرجوش شرکت کو سراہتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ عوامی زندگی میں سیکھنے، تجربات بانٹنے اور خیالات کے تبادلے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکھنے کے عمل میں کبھی توقف نہیں آنا چاہیے، خصوصاً ایسے دور میں جب ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے رونما ہو رہی ہو۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والے علم اور تجربات کو اپنی قانون سازی سے متعلق ذمہ داریوں میں مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں۔
جناب برلا نے ارکان سے کہا کہ وہ قانون ساز اداروں کے فورم کو عوام کے مسائل، توقعات اور امنگوں کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں اٹھائی جانے والی ہر آواز عوام کی امیدوں اور مشکلات کی نمائندہ ہوتی ہے اور اسے حکمرانی کو بہتر بنانے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتوں کو قانون سازوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تعمیری تجاویز اور اٹھائے گئے نکات پر مثبت غور کرنا چاہیے، کیونکہ مختلف آرا کو سننے اور ان پر غور کرنے سے ہی مؤثر حل سامنے آتے ہیں۔
قانون سازوں کو سادہ طرزِ زندگی، انکساری اور عوامی معاملات میں شفافیت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے جناب برلا نے کہا کہ عوام کا اعتماد ہی جمہوری اداروں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی میں مقبولیت اور احترام عہدے یا اختیار سے نہیں، بلکہ اخلاص، دیانت داری، عوام تک آسان رسائی اور خدمت کے جذبے سے حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ اخلاقی طرزِ عمل اور جواب دہ عوامی خدمت کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں۔
جناب برلا نے یقین ظاہر کیا کہ ارکان اسمبلی میں ہونے والی بحث و مباحثے کے معیار کو مزید بلند کرنے اور اس کی شاندار جمہوری روایات کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں کا وقار ان کے مباحثوں کے معیار، مختلف آرا کے احترام اور ارکان کی اجتماعی دانش سے قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے قانون سازوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ قوانین اور پالیسیوں کے بارے میں عوامی آرا حاصل کریں اور ایسی تعمیری تجاویز پیش کریں جن سے حکمرانی مزید جواب دہ، شفاف اور شہری مرکوز بن سکے۔
وکست بھارت @2047 کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے جناب اوم برلا نے کہا کہ بھارت کی ترقی اس کی ریاستوں کی ترقی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ملک کو قیادت اور رہنمائی فراہم کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ ریاست ایک بار پھر بھارت کے ترقیاتی سفر میں نمایاں قائدانہ کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائی، صلاحیت اور عزم کو ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور ہمہ جہت مغربی بنگال کی تعمیر کے لیے وقف کریں۔
لوک سبھا اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی زندگی سیکھنے، خدمت اور خود احتسابی و خود ترقی کا ایک مسلسل سفر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ارکان جمہوری اقدار کا پاس و لحاظ کریں گے، پارلیمانی روایات کو مزید مستحکم بنائیں گے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے انتھک محنت کریں گے۔ انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ خود کو عوامی خدمت کے عظیم مقصد کے لیے وقف کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکمرانی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً صف کے آخری فرد تک پہنچیں۔
تربیتی پروگرام میں قانون سازی کے عمل، پارلیمانی روایات اور آداب، انتظامیہ کی جواب دہی، کمیٹی نظام، قانون سازی کے طریقۂ کار، مالی اور بجٹ سے متعلق کارروائی، پارلیمانی مراعات اور اخلاقیات، نیز قانون سازی میں ڈیجیٹل اقدامات جیسے موضوعات پر جامع اور تفصیلی اجلاس منعقد کیے گئے۔ ملک بھر سے ممتاز پریذائیڈنگ افسران، ارکانِ پارلیمنٹ اور پارلیمانی ماہرین نے ان نشستوں میں صدرِ اجلاس، مقرر اور ماہرِ وسائل (ریسورس پرسن) کی حیثیت سے شرکت کی۔
اختتامی اجلاس میں ہریانہ کے گورنر پروفیسر اشیم کمار گھوش، مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب رتھیندر بوس، مغربی بنگال حکومت کے وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ، مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے ارکان اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔



***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9561
(रिलीज़ आईडी: 2281256)
आगंतुक पटल : 22