وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

ساند، گجرات میں سی جی سیمی او ایس اے ٹی سہولت کے افتتاح کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا اردو ترجمہ

प्रविष्टि तिथि: 04 JUL 2026 9:01PM by PIB Delhi

کیسے ہیں آپ سب، مزے میں؟ بھوپیندر بھائی پٹیل، گجرات کے مقبول وزیر اعلیٰ، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی اشونی ویشنو، پُرجوش نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی، حکومت گجرات کے معزز وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی، سی جی پاور کے چیئرمین، ویلاین سبیا جی، رینیساس الیکٹرانکس کی صدر، مالنی نارائن مورتی، سی جی سیمی کے چیئرمین، گریش جی، یہاں موجود صنعتی شعبے کے دیگر تمام قائدین، خواتین و حضرات! 

آج کا یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت جس عزم کا ارادہ کر لے، اسے پورا کر کے دکھاتا ہے۔ پانچ سال پہلے بھارت نے یہ عہد کیا تھا کہ ملک کو ایک سیمی کنڈکٹر ہب بنایا جائے گا۔ ہم ”ڈیزائن ان انڈیا، میک ان انڈیا“ کے وژن کو لے کر آگے بڑھے، اور آج ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں بھی چپ پیکیجنگ کی تجارتی پیداوار کا آغاز ہو رہا ہے۔

ساتھیو!

2024 میں مجھے اس پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ اگست 2025 میں یہاں ٹیسٹنگ چِپس پر کام شروع ہوا، اور آج اس پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح ہو گیا ہے۔ سنگ بنیاد سے لے کر پیداوار کے آغاز تک کا یہ سفر یقیناً بے شمار ساتھیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ جناب سبیا جیسے رہنماؤں کی مؤثر قیادت کا بھی ثمر ہے۔ اسٹیج پر آنے سے پہلے مجھے اس منصوبے سے وابستہ کئی ساتھیوں سے بات چیت کرنے کا بھی موقع ملا۔ ایک لحاظ سے ایسا محسوس ہوا جیسے اس احاطے میں ایک منی انڈیا آباد ہو۔ یہاں ہر زبان بولنے والے، ہر طرز لباس رکھنے والے اور مختلف ثقافتوں اور کھانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ گویا میں نے یہاں ایک منفرد اور دلکش ماحول کا تجربہ کیا۔ نمائش کے اپنے دورے کے دوران بھی میری کئی نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک بات جس کا میں بڑے فخر سے ذکر کرنا چاہوں گا، وہ ان نوجوانوں کا اعتماد تھا۔ جس خود اعتمادی کے ساتھ وہ گفتگو کر رہے تھے، اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جس یقین اور مہارت کے ساتھ اپنی بات پیش کر رہے تھے، کم از کم میں تو ان سے بہت متاثر ہوا ہوں۔

ساتھیو!

سی جی سیمی کا یہ پلانٹ بھارت، جاپان اور تھائی لینڈ میں ہمارے صنعتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کی علامت بھی ہے۔ یہ محض ایک کاروباری منصوبہ نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، اعتماد اور باہمی شراکت داری کا ایسا نمونہ ہے، جو بھارت کے سیمی کنڈکٹر سفر کو نئی رفتار دینے والا ہے۔ گزشتہ تقریباً سوا دو برس میں آپ سب نے ابتدا سے لے کر مکمل صنعتی وسعت تک اس پوری سہولت کو عملی شکل دی ہے۔ آج ہم اس کی تجارتی پیداوار کا آغاز کر رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ فی الحال یہاں سے ہر سال 20 کروڑ چپس تیار ہوں گی۔ 20 کروڑ! شاید آپ کو لگا ہو کہ مودی جی سے غلطی ہو گئی ہے، وہ 20 لاکھ کہنا چاہتے تھے مگر 20 کروڑ کہہ دیا، اسی لیے تالیاں بجانے میں بھی تھوڑی دیر ہوئی۔ 20 کروڑ! اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ صرف یہیں تک نہیں رکنے والے۔ آپ نے ہر سال 500 کروڑ چپس تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، یعنی روزانہ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ چِپس۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ یہ ہدف بھی بہت جلد حاصل کر لیں گے۔ یہ اعتماد اس بات کی بھی علامت ہے کہ سیمی کون انڈیا پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے—مرحلہ وار، برک بائی برک، اور اب چپ بائی چپ۔ میں سی جی سیمی کی پوری ٹیم، ریاستی حکومت اور پورے ملک کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

مجھے اس بات کی خوشی کچھ زیادہ ہی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسی کیا بات ہو گئی ہے کہ مودی جی اتنے زیادہ خوش ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے، بلکہ شاید اس سے بھی پہلے، میں نے گجرات میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ قائم کرنے کی پوری منصوبہ بندی کی تھی۔ گاندھی نگر اور پرانتیج کے قریب تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو ایکڑ زمین بھی مختص کر لی گئی تھی۔ چند کمپنیوں سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اس وقت بھارت کی مرکزی حکومت بھی بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی، اس لیے کچھ کمپنیاں مذاکرات کے لیے آ بھی جاتی تھیں، لیکن نہ جانے اس وقت بھارت سرکار کو کیا ہو گیا کہ جیسے ان کے قدموں میں بیڑیاں پڑ گئیں، اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ آج جب میں یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتا ہوں تو میرا بیس بائیس سال پرانا خواب حقیقت بنتا نظر آتا ہے۔ اُس زمانے میں ملک میں ان موضوعات پر کوئی بات بھی نہیں کرتا تھا، اور جب میں سیمی کنڈکٹر کی بات کرتا تھا تو میڈیا والے میرا مذاق اڑاتے تھے۔ اس وقت یہ کام ممکن نہ ہو سکا، لیکن آج جب یہ حقیقت بن رہا ہے تو سب سے زیادہ خوشی مجھے اپنے دل کی گہرائیوں سے محسوس ہو رہی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ چند ہی ہفتے پہلے ایک اہم خبر آئی تھی۔ مجھے حیرت ہے کہ میڈیا نے جتنی توجہ اس خبر کو دینی چاہیے تھی، اتنی نہیں دی۔ بھارت میں تیار ہونے والا سی-295 طیارہ بڑودہ میں تیار ہوا اور اس نے کامیابی کے ساتھ اپنی پہلی پرواز بھی کی۔ ایک زمانہ تھا کہ اگر کوئی سائیکل بنانے والی فیکٹری بھی آ جاتی تو ہم خوشی میں مٹھائیاں بانٹتے تھے، دوستو! اور آج ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیاں بھارت آ رہی ہیں۔

ساتھیو!

یہاں بہت سے ماہرین موجود ہیں، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ نوجوان ساتھیوں کی بھی بڑی تعداد یہاں موجود ہے۔ اگر ہم دنیا کی صنعتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی عالمی صنعتی طاقت کسی ایک اکیلی فیکٹری کی بدولت نہیں بنی۔ صنعتی طاقت کی بنیاد ہمیشہ صنعتی کلسٹرز ہوتے ہیں۔ امریکہ کی سلیکون ویلی، تائیوان کا شنچو سائنس پارک، جاپان کا سلیکون آئی لینڈ اور تسوکوبا سائنس سٹی — یہ سب صنعتی کلسٹر کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ آج ساند بھی اسی سمت میں اپنے قدم بڑھا رہا ہے۔

ساتھیو!

چند ہی مہینوں میں یہاں مائکرون، کینس اور سی جی سیمی نے پیداوار شروع کر دی ہے۔ یعنی ملک میں ایک سیمی کنڈکٹر کلسٹر جنم لے رہا ہے۔ آج یہاں چِپس کی پیکیجنگ ہو رہی ہے۔ کل یہاں خصوصی صنعتیں آئیں گی، کیمیکلز کی پیداوار ہوگی، نئی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم ہوں گی، مشینوں کی سروس فراہم کرنے والی صنعتیں وجود میں آئیں گی، ڈیزائن سینٹر کھلیں گے، اور پھر یہیں سے نئے اسٹارٹ اپس بھی جنم لیں گے۔ یہی صنعتی کلسٹر کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ ایک صنعت سیکڑوں نئی صنعتوں کو جنم دیتی ہے۔ سیکڑوں صنعتیں لاکھوں روزگار پیدا کرتی ہیں، اور یہی لاکھوں روزگار پورے خطے کی معیشت کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اور یہ صرف ساند میں ہی نہیں ہو رہا، بلکہ ملک کی کئی دوسری ریاستوں میں بھی سیمی کنڈکٹر کلسٹر تیزی سے تشکیل پا رہے ہیں۔

ساتھیو!

آج بھارت میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی اس ترقی سے ہر شخص پُرجوش ہے۔ ملک اور دنیا بھر میں اس کی بحث ہو رہی ہے۔ اکثر لوگ اسے ایک الگ اور منفرد واقعہ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے۔ بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت کی یہ ترقی اچانک نہیں ہوئی، بلکہ یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں آنے والے الیکٹرانکس انقلاب کا اگلا مرحلہ ہے۔

ساتھیو!

ہم نے اس سفر کا آغاز موبائل فون مینوفیکچرنگ سے کیا تھا۔ ایک وقت تھا جب بھارت اپنی ضرورت کے بیشتر اسمارٹ فون بیرونِ ملک سے درآمد کرتا تھا۔ آج بھارت میں موبائل فون کی پیداوار پہلے کے مقابلے میں 33 گنا بڑھ چکی ہے۔ 2014 سے پہلے بھارت موبائل فون بیرونِ ملک سے منگواتا تھا۔ لیکن جب آپ نے مجھے گجرات سے دہلی بھیجا، تو آج بھارت دنیا کو موبائل فون بھیج رہا ہے۔ آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک ہے اور دوسرا سب سے بڑا موبائل فون برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔

ساتھیو!

گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے پورے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنایا ہے۔ آج بھارت کی مجموعی الیکٹرانکس پیداوار 2014 کے مقابلے میں تقریباً سات گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ الیکٹرانکس کی برآمدات تقریباً گیارہ گنا اضافہ حاصل کر چکی ہیں۔

ساتھیو!

ہماری کوشش صرف حتمی مصنوعات میں خود کفالت تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہمارا ہدف اجزا کی تیاری میں بھی خود کفیل بننے کا ہے۔ اسی لیے اب بھارت اپنا اگلا قدم اٹھا رہا ہے۔ ہم صرف موبائل فون ہی نہیں بنائیں گے، ہم صرف الیکٹرانکس مصنوعات ہی تیار نہیں کریں گے، بلکہ ہم وہ چِپس بھی بنائیں گے جن پر پوری الیکٹرانکس دنیا کا انحصار ہے۔ اور یہی ہماری حکمت عملی ہے۔ پہلے مصنوعات، پھر اجزا اور اب سیمی کنڈکٹر؛ یعنی الیکٹرانکس کی پوری ویلیو چین بھارت ہی میں قائم ہوگی۔ یہی ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کا روڈ میپ ہے، اور یہی میک ان انڈیا کا اگلا مرحلہ ہے۔

ساتھیو!

سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کا اگلا مرحلہ اہم معدنیات اور ہائی ٹیک مواد میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔ ابھی سبیا جی درمیان درمیان میں گجراتی بھی بول رہے تھے۔ انہوں نے ایک گجراتی کہاوت سنائی: "نشان چوک معاف، لیکن نیچا نشان معاف نہیں۔" یعنی اگر نشانہ بلند ہو اور وہ ذرا چوک جائے تو قابلِ معافی ہے، لیکن نشانہ ہی چھوٹا رکھنا قابل قبول نہیں۔ میری فطرت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ میں کبھی چھوٹے اہداف مقرر نہیں کرتا، نہ ہی میری سوچ محدود ہوتی ہے۔ اگر میں کوئی مجسمہ بھی بنواتا ہوں تو دنیا کا سب سے بڑا بنواتا ہوں۔ اور جیسا کہ سبیا جی نے کہا، ”سنتے ہو نا، ونود! کام بولتا ہے۔“ آج جو ترقی آپ کے سامنے نظر آ رہی ہے، جو کامیابیاں دکھائی دے رہی ہیں، ان سے وابستہ سپلائی چین کو مضبوط بنانا بھی ہمارا ایک اہم مقصد ہے۔ آج بھارت اسی سمت میں جامع اور وسیع پیمانے پر کوششیں کر رہا ہے۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ چِپ ڈیزائن سے لے کر فیبریکیشن اور پیکیجنگ تک پورا سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم بھارت ہی میں ترقی کرے۔ اور بھارت نہ صرف چِپس تیار کرے گا بلکہ بھارت کے نوجوان ”میڈ ان انڈیا“ چِپس کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے انقلاب کو بھی نئی رفتار دیں گے۔ مجھے بھارت کی نوجوان قوت، ان کی صلاحیتوں اور ان کے ہنر پر اٹل اور غیرمتزلزل یقین ہے۔ مجھے اپنے ملک کے نوجوانوں اور ان کی استعداد پر مکمل بھروسا ہے۔

ساتھیو!

میں اس موقع پر ملک کی نوجوان نسل سے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں۔ جب بھی دنیا میں کوئی نئی صنعتی انقلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ مواقع نوجوانوں کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) انقلاب آیا، تو لاکھوں بھارتی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ملا۔ اس کے بعد اسمارٹ فون اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا دور آیا، جس نے بھی لاکھوں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔ اور اب سیمی کنڈکٹر انقلاب اور مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب کا یہ دور بھی بے شمار نئے مواقع اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ تحقیق اور ڈیزائن سے لے کر اسٹارٹ اپ اختراع اور سپلائی چین مینجمنٹ تک، ہر شعبے میں نوجوانوں کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں۔

ساتھیو!

آج ضرورت نئی مہارتوں کی ہے، نئے خیالات کی ہے۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کیا آپ کے پاس کوئی نیا خیال ہے؟ کیا آپ میں کچھ نیا سیکھنے اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ موجود ہے؟ آج میری ملاقات یہاں موجود ان بیٹیوں سے ہوئی۔ کوئی جھارکھنڈ سے تھی، کوئی بالاگھاٹ (مدھیہ پردیش) سے، کوئی کیرالہ سے اور کوئی چھتیس گڑھ سے آئی تھی۔ ہماری گفتگو کا آغاز ہی "جے جوہار" کے نعرے سے ہوا، کیونکہ میں اس علاقے میں کام کر چکا ہوں، اس لیے وہاں کی روایت سے واقف ہوں۔ ان بیٹیوں نے جس تیزی سے نئی چیزیں سیکھی ہیں، اور جس مہارت اور اعتماد کے ساتھ وہ یہاں اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں، اسے دیکھ کر مجھے اپنے ملک کی نوجوان طاقت پر بے حد فخر محسوس ہوا۔

ساتھیو!

آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت (AI) آپ کے سامنے نئی مہارتوں اور نئی تخصصات کی ایک پوری دنیا کھول دے گی۔ اس لیے اب بھارت کے نوجوانوں کو یہ مواقع ضائع نہیں کرنے چاہییں۔ اور میں اپنے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں: ”آئیڈیا آپ کا، ساتھ میرا۔“

ساتھیو!

یہ فیکٹری، یہ منصوبہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے نوجوان کس طرح نئی امکانات سے جڑ رہے ہیں۔ یہاں کام کرنے والی ہماری بہنیں اور بیٹیاں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور پورے قبائلی علاقے سے آئی ہیں۔ جب ان بیٹیوں نے مجھے یہ فیکٹری دکھائی تو بڑے جوش، اعتماد اور جذبے کے ساتھ ایک ایک چیز کی تفصیل مجھے سمجھا رہی تھیں۔ ان کا تعلق عام خاندانوں سے ہے، انہوں نے عام اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، اور آئی ٹی آئی سے تربیت حاصل کی۔ ہمارے یہاں تو اگر کوئی آئی ٹی آئی میں داخلہ لے لے تو بعض اوقات والدین دوسروں کو بتانے سے بھی ہچکچاتے ہیں، جیسے یہ کوئی باعثِ شرم بات ہو۔ لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب آئی ٹی آئی سے تربیت یافتہ نوجوانوں کا دور ہے۔ اگرچہ ان کی تعلیم آئی ٹی آئی میں ہوئی ہے، لیکن ان کے خواب غیرمعمولی ہیں۔ ان میں سے کئی بیٹیوں کے خاندان میں کبھی کسی نے پاسپورٹ تک نہیں بنوایا تھا، بلکہ اسے دیکھا بھی نہیں تھا۔ کئی بیٹیوں نے تو دہلی یا ممبئی تک بھی نہیں دیکھا تھا، بیرونِ ملک جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن یہی بیٹیاں تربیت کے لیے ملائیشیا گئیں، وہاں دنیا کی جدید ترین سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سیکھی، اور آج یہی بیٹیاں "میڈ اِن انڈیا" چِپس کی تیاری کے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ سُبّیا جی نے دہلی میں مجھے تقریباً تین منٹ کی ایک ویڈیو دکھائی تھی۔ وہ ویڈیو انہی بیٹیوں کی زندگی پر مبنی تھی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں کس طرح زندگی گزارتی تھیں، چارپائی پر بیٹھ کر کیسے پڑھتی تھیں، اور پھر وہی بیٹیاں ہوائی اڈے پر سفری جانچ (چیک اَپ) اور امیگریشن کی کارروائی مکمل کرکے ملائیشیا روانہ ہو رہی تھیں۔ وہ ویڈیو دیکھتے ہی میں نے سُبّیا جی سے کہا تھا کہ جب بھی مجھے جلد از جلد گجرات آنے کا موقع ملے گا، میں راج بھون (گورنر ہاؤس) میں ان بیٹیوں کو بلا کر ان سے ضرور ملاقات اور گفتگو کروں گا۔ اگرچہ اُس وقت ایسا نہ ہو سکا، لیکن آج مجھے وہ موقع مل گیا۔ تھینک یو، سبیا جی! میں ان تمام بیٹیوں اور ان کے خاندانوں کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

آج کا یہ موقع اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ہم کتنے بے تاب اور پُرعزم ہیں۔ اس سال کے آغاز میں میں نے کہا تھا کہ 2026 کے دوران چار سیمی کنڈکٹر سہولیات کام شروع کر دیں گی۔ اور آج میرے وزیر نے اعلان کر دیا کہ چار نہیں بلکہ پانچ سیمی کنڈکٹر منصوبے شروع ہو جائیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ صرف چھ ماہ کے اندر تین منصوبوں میں پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ یعنی آج کا بھارت نہ صرف بڑے اہداف مقرر کرتا ہے بلکہ انہیں مقررہ وقت پر پورا بھی کر کے دکھاتا ہے۔ بھارت یہی اعتماد پوری دنیا اور ہر سرمایہ کار کو بھی دیتا ہے۔ ہماری پالیسیوں میں استحکام ہے، ہمارے فیصلوں میں وضاحت ہے، اور ان پر عمل درآمد میں رفتار ہے۔ میں سی جی سیمی کی انتظامیہ اور دیگر سرمایہ کاروں کو بھی یقین دلاتا ہوں کہ بھارت نے اصلاحات کا جو راستہ اختیار کیا ہے، اور جس ریفارم ایکسپریس پر ہم سوار ہو چکے ہیں، اس کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ آج کا بھارت کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ اسی عزم کے ساتھ 140 کروڑ بھارتی مل کر 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا کر رہیں گے۔ اور آج جو نوجوان 18 سے 20 سال کے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مودی اس لیے محنت کرتا ہے تاکہ جب آپ 40 یا 45 سال کے ہوں، جب آپ کے بچے بڑے ہو رہے ہوں، تو آپ انہیں ایک ترقی یافتہ بھارت میں پروان چڑھتے ہوئے دیکھ سکیں۔ اسی مقصد کے لیے میں اپنی پوری زندگی آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے وقف کیے ہوئے ہوں۔

ساتھیو!

ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ہم مسلسل نئی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، اور اس سفر میں سیمی کنڈکٹر کا شعبہ ایک عظیم قوت بن کر نئے اعتماد کو جنم دے رہا ہے۔ میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ آپ بھی بلند ترین اہداف مقرر کریں۔ اگر کبھی نشانہ چوک بھی جائے تو بعد میں دیکھا جائے گا، لیکن ہمارا نشانہ ہمیشہ بلند ہونا چاہیے۔ آپ سب کو میری جانب سے بہت بہت نیک خواہشات۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

***

ش ح۔ ف ش ع

 U: 9563


(रिलीज़ आईडी: 2281240) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Manipuri , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Telugu , Kannada , Malayalam