نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ’’مائی بھارت‘‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے صنعت اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط شراکت داری پر زور دیا


’’مائی بھارت‘‘پلیٹ فارم ہر بھارتی نوجوان کو مواقع سے جوڑ سکتا ہے: مرکزی وزیر مملکت رکشا کھڈسے

صنعتی انجمنوں کا اجتماع نوجوانوں کی ترقی کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بناتا ہے

प्रविष्टि तिथि: 03 JUL 2026 4:51PM by PIB Delhi

نوجوانوں کی ترقی کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی سمت  میں ایک اہم قدم کے طور پر، کھیل کود اور نوجوانوں کےامور کی وزارت  کے نوجوانوں کے امور کے محکمہ نے نئی دہلی میں واقع ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بین الاقوامی مرکز میں صنعتی انجمنوں کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں 20 سے زائد نمایاں صنعتی انجمنوں، کارپوریٹ اداروں، سرکاری شعبے کے اداروں، سماجی ذمے داری کے منصوبوں سے وابستہ تنظیموں اور اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی تاکہ ’’ مائی  بھارت ( میرا یووا بھارت)‘‘ نظام کے ذریعے اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اجلاس کا مقصد نوجوانوں کے لیے ہنر مندی، رضاکارانہ خدمات، عملی تربیت، کاروباری مواقع، جدت طرازی  اور سماجی ذمے داری کے منصوبوں کے ذریعے مواقع کو وسعت دینا تھا، جبکہ 2047 تک  وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانا بھی اس کا اہم ہدف تھا۔

افتتاحی اجلاس میں کھیل کود و نوجوانوں کے امور اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ؛ کھیل کود و نوجوان کے امورت کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا نکھل کھڈسے؛ نوجوانوں کے امور کے سیکرٹری، ڈاکٹر پلوی جین گوول؛ کارپوریٹ امور کی سکریٹری  محترمہ دیپتی گوڑ مکھرجی؛  نوجوانوں کے امور کے  محکمۂ کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب نِتیش کمار مشرا اور مختلف معروف صنعتی انجمنوں اور سماجی ذمے داری سے وابستہ تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ بھارت کی آبادیاتی برتری(ڈیمو گرافک ڈیویڈنڈ) اسی وقت ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے جب نوجوانوں کو حکومت اور صنعت کے مؤثر اشتراک کے ذریعے بامعنی مواقع سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تقریباً65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر  کی ہے۔ ہمارے نوجوان بھارت کی سب سے بڑی طاقت اور نرم قوت(سافٹ پاور) ہیں۔ اگر انہیں’’ مائی  بھارت‘‘پلیٹ فارم کے ذریعے صنعت سے جوڑا جائے تو ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر 2047 تک وکست بھارت کے سفر کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کے مطابق تیار کیا گیا ’’ مائی  بھارت‘‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک واحد نظام کے طور پر کام کرتا ہے جو نوجوانوں کو سیکھنے، رضاکارانہ خدمات، جدت طرازی، ہنرمندی اور قیادت کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے صنعتی انجمنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی سماجی ذمے داری کے تحت جاری اقدامات کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کے لیے منظم مواقع پیدا کریں، کاروباری مواقع اور عملی  طور پرسیکھنے کے عمل کو فروغ دیں، صنعتی مراکز کے گرد نوجوانوں کی شمولیت کو مضبوط کریں اور’’ مائی  بھارت‘‘ کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر مثالی  گاؤوں  کی ترقی میں تعاون دیں ۔ انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی کو مل کر نوجوانوں کی توانائی کو تعمیری قومی ترقی کی سمت میں مرکوز کرنا چاہیے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کھیل کود اور نوجوانوں  کے امور  کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا نکھل کھڈسے نے صنعتی انجمنوں اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی نوجوانوں سے متعلق سرگرمیوں کو ’’ مائی  بھارت‘‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی صرف ہنر سکھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد ایسے ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو ایک مضبوط اور زیادہ شمولیت پر مبنی بھارت کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نوجوانوں سے متعلق اقدامات کو’’ مائی  بھارت‘‘ پلیٹ فارم سے ہم آہنگ کیا جائے تو اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ مواقع ملک کے ہر نوجوان تک پہنچیں، حتیٰ کہ دور دراز ترین علاقوں میں رہنے والے نوجوان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ’’ مائی  بھارت‘‘ ایک ایسا پُل ہے جو باصلاحیت نوجوانوں کو ان کی جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر مواقع سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے اداروں پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وزارت کے اہم اور نمایاں پروگراموں کو فعال طور پر فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ صنعت اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط تعاون جدت طرازی، روزگار، کاروباری مواقع اور سماجی ترقی کے نئے راستے کھولے گا۔

نوجوانوں کے امور کے محکمہ کی سیکرٹری ڈاکٹر پلوی جین گوول نے کہا کہ ’’ مائی  بھارت‘‘ ایک جامع ڈیجیٹل نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے جو نوجوانوں کی خواہشات اور رجحانات کو پہچان کر انہیں سیکھنے، رضاکارانہ خدمات، جدت طرازی ، کاروباری مواقع اور روزگار سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم محض روزگار تک محدود نہیں بلکہ ذمہ دار شہریوں اور فعال قوم ساز افراد کی تربیت بھی کرتا ہے۔ انہوں نے صنعتی انجمنوں کو ترغیب دی کہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے عملی تربیت، رہنمائی، ہیکاتھون، کوڈنگ مقابلے، جدت  طرازی پر مبنی چیلنجز اور دیگر علمی و فکری سرگرمیوں کو فروغ دیں تاکہ نوجوانوں کو عملی تجربہ حاصل ہو اور صنعتیں ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی شناخت کر سکیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کارپوریٹ امور کی وزارت کی  سیکرٹری محترمہ دیپتی گوڑ مکھرجی نے صنعت اور نوجوانوں کے درمیان منظم تعاون کی بے پناہ اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کامیاب عملی تربیتی پروگراموں اور شہری شمولیت کے ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے صنعتی انجمنوں پر زور دیا کہ وہ اپنی رکن تنظیموں کے ذریعے منظم تربیت، رہنمائی اور عملی طور پر سیکھنے کے مواقع کو فعال طور پر فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اشتراکات نوجوانوں کو عملی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ صنعت کو بھی مستقبل کی باصلاحیت افرادی قوت کی شناخت اور تربیت کا موقع ملتا ہے۔

 

معروف صنعتی انجمنوں جن میں سی آئی آئی، ایف آئی سی سی آئی، ایسوچیم، ناسکام، پی ایچ ڈی سی سی آئی، انڈیا ایس ایم ای فورم، انڈین بینکس ایسوسی ایشن، آئی پی اے، آئی ایس پی اے، ایس آئی اے، این ایچ آر ڈی این، سی اے آئی  ٹی ، ڈبلیو ٹی سی ممبئی اور اے آئی اے آئی سمیت بڑے سماجی ذمے داری کے ادارے شامل تھے، کے نمائندگان نے ’’مائی  بھارت‘‘ نظام کے ذریعے رضاکارانہ خدمات، ہنرمندی، عملی تربیت اور نوجوانوں کی شمولیت کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مختلف اشتراکی ماڈلز پر غور و خوض کیا۔

اجلاس اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، صنعتی شراکت داروں کو ’’ مائی  بھارت‘‘ پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائے گا اور ایک مضبوط قومی نظام قائم کیا جائے گا جو نوجوانوں کے لیے مواقع کو وسعت دے گا اور 2047 تک  وکست بھارت کے وژن کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

********

ش ح۔ م م۔ ش ب ن

U-NO-9522


(रिलीज़ आईडी: 2280853) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada