سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بہار کے مونگیر میں درست تاریخ کے تعین والا قدیم ترین برگد کا درخت دریافت
प्रविष्टि तिथि:
03 JUL 2026 3:43PM by PIB Delhi
بہار کے مونگیر میں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے واقع تقریباً700 سال قدیم برگد کے ایک درخت کی دریافت کی گئی ہے جس سے لاطینی زبان میں فائکس بنگھالینسس کہا جاتا ہے۔ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ ٔ کارسائنسی شواہد پر مبنی طریقۂ کار ہے نہ کہ تاریخی ریکارڈیا مقامی روایات پر مبنی دریافت۔ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعہ اس برگد کے پیڑ کی تاریخ کا درست تعین کیا گیا ہے۔
برگد کے درخت اپنی جڑوں اور شاخوں کے پیچیدہ جال کے باعث پرندوں، حشرات اور دیگر متعدد جنگلی حیات کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ صدیوں سے یہ درخت ہندوستان کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں بھی اہم مقام رکھتے آئے ہیں۔ روایتی طور پر ان کی عمر کا اندازہ لوک کہانیوں، مقامی روایات یا تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر لگایا جاتا تھا، جو اکثر درست نہیں ہوتا تھا۔ تاریخ کی ان زندہ علامتوں کی سائنسی بنیاد پر عمر کا تعین اس سے قبل کسی واضح طریقۂ کار کی عدم موجودگی کے باعث نہیں کیا جا سکا تھا۔ فیلڈ سیمپلنگ اور تجربہ گاہی تجزیوں سے معلوم ہوا کہ بیشتر گرم خطوں کے چوڑے پتوں والے درختوں میں سالانہ نمو کے واضح حلقے موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث روایتی ڈینڈروکرونولوجی (درختوں کے سالانہ حلقوں کے ذریعے عمر معلوم کرنے کی تکنیک) کا استعمال محدود ہو جاتا ہے۔ اس سے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سمیت دیگر متبادل اور انتہائی دقیق تاریخ متعین کرنے والے طریقوں کی ضرورت اجاگر ہوئی۔
جب سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمہ (ڈی ایس ٹی) کے تحت قائم خودمختار ادارے بیربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز، لکھنؤ کی ڈاکٹر ترینا بوس کو بہار محکمۂ جنگلات کی جانب سے مونگیر کے برگد کے درخت کی عمر کا تعین کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تو انہوں نے گرم خطوں کے چوڑے پتوں والے درختوں کی عمر معلوم کرنے کے روایتی طریقوں کی حدود کو محسوس کیا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انہوں نے عمر کے تعین کا ایک نیا سائنسی طریقۂ کار تیار کرنے کی پہل کی۔ ڈاکٹر بوس نے ڈاکٹر مینک شیکھر اور ڈاکٹر اکھلیش کےیادو پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم کی قیادت کی، جس نے باہمی تعاون سے ایک جدید طریقۂ کار اختیار کیا اور اس کا استعمال کرتے ہوئے اس درخت کی عمر کا تعین کیا۔
ڈاکٹر ترینا بوس کی قیادت میں، جس میں ڈاکٹر مینک شیکھر اور ڈاکٹر اکھلیش کےیادو پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے ثانوی تنے کے مغز اور ایک قدیم بنیادی شاخ سے حاصل کیے گئے لکڑی کے نمونوں سے الفا سیلولوز، جو پودوں کی خلیاتی دیوار کا سب سے مستحکم بنیادی جزو ہے کا مطالعہ کیا۔ مغزکو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ثانوی نشوونما کے ابتدائی مرحلے میں بننے والی اولین لکڑی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان سیلولوز کے نمونوں پر ایکسیلیریٹر ماس اسپیکٹرو میٹری (اے ایم ایس) کی مدد سے انتہائی دقیق ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی گئی، جس کے بعد جدید ترین انٹکیل ٹوینٹی اورآکس کیل سافٹ ویئر کے ذریعے درخت کی عمر کا مضبوط اور قابلِ اعتماد اندازہ لگانے میں کامیابی ملی۔
اس دریافت نے اس سابقہ تصور کو رد کر دیا ہے کہ مونگیر کا برگد تاریخی ’’بڑا بنگلہ‘‘ کے سامنے لگایا گیا تھا، جو اپنے طرزِ تعمیر کی بنیاد پر مغلیہ دور کے آخری زمانے اور ابتدائی برطانوی دور (تقریباً 300 سے 350 سال قدیم) سے تعلق رکھتا ہے اور جہاں حکمرانوں اور عوام کے درمیان مکالمے، گاؤں کی پنچایتوں، مذہبی رسومات اور ثقافتی تبادلوں کا انعقاد ہوتا تھا۔ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ تقریباً 700 سال قدیم یہ برگد غالباً اس قدرتی جنگل کا باقی ماندہ حصہ ہے جو کبھی اس خطے میں موجود تھا، اور اس نے خود اس تاریخی عمارت کی تعمیر کا مشاہدہ کیا۔ اس طرح یہ تجزیہ اس خطے کی تاریخی ترتیبِ واقعات کو ازسرِنو متعین کرتا ہے۔
جریدہ کواٹرنری ریسرچ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ورثے کی حیثیت رکھنے والے درختوں کی عمر کے درست سائنسی تعین کا ایک مؤثر طریقہ فراہم کرتی ہے، جس سے حکومتوں، محکمۂ جنگلات اور تحفظِ ماحول سے وابستہ اداروں کو ثقافتی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہم درختوں کی شناخت اور ان کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ یہ تحقیق غیر یقینی عمر کے اندازوں کی جگہ قابلِ اعتماد سائنسی شواہد فراہم کرکے قدرتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ اس طریقۂ کار کو دنیا بھر کے دیگر قدیم گرم خطوں کے درختوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ورثہ جاتی انتظام، ماحولیاتی تعلیم اور ماضی کے موسمی حالات اور تاریخی مناظرِ قدرت سے متعلق تحقیق کو بھی فروغ ملے گا۔

تصویر: (الف) ہندوستان کے بہار کے مونگیر میں آئی ٹی سی کیمپس کا ورثہ قرار دیا گیا برگد کا درخت- مرکزی مرکب تنا؛ زرد نشان نمونہ لیے گئے ثانوی تنے اور شاخ کی نشاندہی کرتا ہے۔ (ب) نمونہ حاصل کیے گئے ثانوی تنے کی شناخت ٹی بی-ایم یو این-01 کے طور پر کی گئی ہے۔ (ج) قدیم ترین دریافت ہونے والی شاخ کا نمونہ، جس کی شناخت ٹی بی-ایم یو این-02 کے طور پر کی گئی۔
یہ تحقیق گرم خطوں میں پائے جانے والے قدیم درختوں، خصوصاً ثقافتی اہمیت کے حامل برگد جیسے درختوں، کی عمر کے سائنسی تعین کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف ایسے درختوں کی عمر زیادہ درست انداز میں معلوم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں قدرتی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کوششوں کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔
****
ش ح۔ع و۔ اش ق
U. No-9508
(रिलीज़ आईडी: 2280742)
आगंतुक पटल : 11