بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پائیدار جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کو فروغ، بھارت کے تین شپ یارڈ یورپی یونین کی منظوری حاصل کرنے کے لیے تیار


بھارت 35.4 فیصد عالمی مارکیٹ حصے کے ساتھ پائیدار جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں اپنی عالمی قیادت مزید مستحکم کر رہا ہے: سربانند سونووال

بھارت نے جہاز سازی اور جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے 8 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا؛ یورپی یونین نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے ضابطہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا ہدف جہاز سازی اور جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں 8 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ 16 ہزار جہازوں کی ری سائیکلنگ کرنا ہے: سربانند سونووال

प्रविष्टि तिथि: 01 JUL 2026 8:18PM by PIB Delhi

بھارت اور یورپی یونین نے پائیدار جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں فریقوں نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بھارتی جہاز ری سائیکلنگ مراکز کو یورپی یونین شپ ری سائیکلنگ ضابطہ (ای یو ایس آر آر) کے تحت شامل کیے جانے کے عمل میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر، جناب سربانند سونووال اور ماحولیات، آبی وسائل کی پائیداری اور مسابقتی گردشی معیشت سے متعلق یورپی کمشنر جیسیکا روزوال کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ان بھارتی جہاز ری سائیکلنگ یارڈز کے جاری آڈٹ اور ضابطہ جاتی تعمیل کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جو یورپی یونین کے ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت منظوری حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ بھارت کے 30 سے زائد جہاز ری سائیکلنگ یارڈز نے یورپی یونین سے منظوری کے لیے درخواست دی ہے، جن میں سے چھ یارڈز اس وقت ضابطہ جاتی تعمیل اور منظوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ تین جہاز ری سائیکلنگ مراکز تمام مطلوبہ ضابطہ جاتی تقاضے کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں اور اب وہ یورپی یونین شپ ری سائیکلنگ ضابطہ کے تحت باضابطہ شمولیت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو گئے ہیں۔

جناب سربانند سونووال نے کہا: ’’وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی متحرک قیادت میں بھارت دنیا کے سب سے بڑے جہاز ری سائیکلنگ ملک کے طور پر ابھرا ہے اور محفوظ، ماحول دوست اور ذمہ دارانہ جہاز ری سائیکلنگ کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق، عالمی جہاز ری سائیکلنگ میں بھارت کا حصہ 2024 میں 30.1 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 35.4 فیصد ہو گیا ہے۔ سال 2025 کے دوران بھارت میں 29 لاکھ 90 ہزار مجموعی ٹن وزنی جہازوں کی ری سائیکلنگ کی گئی، جو 2024 میں ری سائیکل کیے گئے 18 لاکھ 60 ہزار مجموعی ٹن کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد زیادہ ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومتِ ہند بھارتی جہاز ری سائیکلنگ یارڈز کو یورپی فہرست میں شامل کرانے کے لیے شفاف آڈٹ، معائنوں اور ضابطہ جاتی تعمیل پر مبنی عمل کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مراکز نے عالمی معیار پر پورا اترنے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور عملی طریقۂ کار کی بہتری پر نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جو پائیدار بحری ترقی اور ذمہ دارانہ جہاز ری سائیکلنگ کے لیے بھارت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

جناب سربانند سونووال نے کہا کہ بھارت کے جہاز ری سائیکلنگ مراکز مضبوط ماحولیاتی بنیادی ڈھانچے اور کارکنوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جامع سہولیات سے آراستہ ہیں۔ ان میں گندے پانی کی صفائی کے جدید پلانٹس، سائنسی بنیادوں پر فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام، ریڈ کراس سوسائٹی کے تعاون سے قائم کثیر التخصص طبی مراکز اور کارکنوں کے لیے مخصوص رہائشی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ حکومت ماحولیات سے متعلق ضابطوں کی مکمل پاسداری، کارکنوں کے تحفظ اور کام کاج میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ اور اچانک معائنے بھی کراتی ہے، تاکہ اعلیٰ ترین معیارات ہر حال میں برقرار رہیں۔

بھارت کے طویل مدتی ویژن کا ذکر کرتے ہوئے جناب سونووال نے کہا کہ ملک آئندہ دس برسوں کے دوران تقریباً 16 ہزار جہازوں کی ری سائیکلنگ کا ہدف رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے جہاز سازی اور جہازوں کی ری سائیکلنگ کے شعبوں کی ترقی کی خاطر8  ارب امریکی ڈالر کی مالی اعانت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ بھارتی جہاز ری سائیکلنگ مراکز کی تعداد میں اضافہ نہ صرف ماحول دوست ری سائیکلنگ کے طریقوں کو فروغ دے گا بلکہ عالمی گردشی معیشت  کو بھی تقویت دے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور بحری شعبے کی پائیدار ترقی کو مزید مستحکم کرے گا۔

یورپی کمشنر جیسیکا روزوال نے اب تک ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ وزارتِ ماحولیات اور دیگر متعلقہ وزارتوں و اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) قائم کیا جائے، تاکہ باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور عمل کے اگلے مرحلے میں ضروری تعاون فراہم کیا جا سکے۔

کمشنر نے کہا کہ ضابطوں کی پابندی، شفافیت اور جواب دہی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اچانک معائنوں کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی حتمی فیصلے سے قبل اس معاملے پر موسمِ خزاں کے اجلاس کے دوران یورپی یونین کے رکن ممالک سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

محترمہ روزوال نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ مشاورتی اور جائزہ لینے کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ بھارت کے جہاز ری سائیکلنگ مراکز کا دورہ کریں گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین کا مؤقف بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے متعلق مذاکرات کے نتائج اور جہازوں کی محفوظ اور ماحول دوست ری سائیکلنگ سے متعلق ہانگ کانگ بین الاقوامی کنونشن کی دفعات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔

ان مذاکرات سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ پائیدار بحری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تزویراتی شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ توقع ہے کہ یورپی یونین کے ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ضابطوں کی مکمل تعمیل کرنے والے بھارتی جہاز ری سائیکلنگ مراکز کو منظوری ملنے سے عالمی ری سائیکلنگ صلاحیت میں اضافہ ہوگا، ماحولیات اور حفاظت کے اعلیٰ معیارات کو فروغ ملے گا، اپنی عملی مدت پوری کر چکے جہازوں کو ذمہ دارانہ انداز میں تلف کرنے کے نظام کو تقویت ملے گی اور عالمی بحری سپلائی چین کو مزید مضبوط، مستحکم اور پائیدار بنانے میں مدد حاصل ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002VV52.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00151PB.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004E0Z4.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0038ZEE.jpg

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9438


(रिलीज़ आईडी: 2280178) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Malayalam