صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
جناب جے پی نڈا: "عمل درآمد الگ تھلگ نہیں بلکہ باہمی تعاون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔"
جناب نڈا نے 'ٹی بی مکت بھارت ابھیان' کے تحت عوامی نمائندوں سے سرگرم کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عوامی شراکت (جن بھاگیداری) کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا
مرکزی وزیر صحت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حالیہ پراگتی اجلاس میں دی گئی ہدایات کے مطابق 'مائی بھارت' رضاکاروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا
ابھیان کے تحت دہلی میں 28.83 لاکھ افراد کی اسکریننگ، 21.67 لاکھ سینے کے ایکسرے اور 3.65 لاکھ مالیکیولر ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ 1.75 لاکھ ٹی بی مریضوں کا اندراج کیا گیا
جائزہ اجلاس میں عوامی شراکت (جن بھاگیداری) کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے منتخب عوامی نمائندوں، ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز اور دہلی بھر کی وارڈ کمیٹیوں سے اس مہم کی ذمہ داری سنبھالنے کی اپیل کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
01 JUL 2026 6:03PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے قومی دارالحکومت دہلی کی حکومت کے ساتھ 'ٹی بی مکت بھارت ابھیان' اور 100 روزہ مہم کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ اگرچہ 'ٹی بی مکت بھارت ابھیان' کے تحت نمایاں کوششیں کی گئی ہیں، لیکن کوششوں اور نتائج کے درمیان موجود خلا کو صرف عوامی شراکت (جن بھاگیداری) کے ذریعے ہی پُر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تپِ دق (ٹی بی) کا خاتمہ صرف محکمہ صحت کی تنہا کوششوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عوام، منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی کی فعال شمولیت کے ساتھ ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔
جناب نڈا نے زور دے کر کہا کہ ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور میونسپل کونسلروں کو ان کے متعلقہ حلقوں میں ٹی بی کے بوجھ، درپیش چیلنجوں، اختیار کیے گئے حل اور مرض کی بروقت تشخیص، علاج کی پابندی کو یقینی بنانے اور عوامی تعاون حاصل کرنے میں ان کے ممکنہ کردار سے صحت کے حکام باقاعدگی سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے حکومت اور عوام کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی فعال شمولیت سے مہم پر نچلی سطح پر مؤثر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے پراگتی اجلاس میں پیش کیے گئے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے کہا کہ عمل درآمد الگ تھلگ انداز میں نہیں بلکہ باہمی تعاون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ مہم کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے ہر وارڈ میں ایک سینئر سرکاری افسر کو نامزد کیا جائے۔
انہوں نے نچلی سطح پر عوامی بیداری اور رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے 'مائی بھارت' رضاکاروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر بھی زور دیا۔
ٹی بی کی تشخیص کو مؤثر بنانے میں ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ جلد تشخیص اور مریضوں کی بہتر نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مربوط مزید ہینڈ ہیلڈ ایکسرے مشینوں کی فراہمی میں تعاون کیا جائے گا۔

جناب جگت پرکاش نڈا نے مہم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی وزارت، ریاستی حکومت، ضلعی انتظامیہ، صحت کے اداروں اور صفِ اول کے طبی عملے کے درمیان قریبی تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہم سے متعلق تمام پیغامات سادہ اور عام فہم زبان میں عوام تک پہنچائے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔
مرکزی وزیر صحت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اسپتالوں، ریاستی محکمہ صحت اور مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں، تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے، عمل درآمد میں درپیش مسائل دور کیے جائیں اور بہترین طریقۂ کار کا بروقت تبادلہ ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل رابطہ، مشترکہ ذمہ داری اور عوامی شراکت (جن بھاگیداری) ہی ٹی بی سے پاک بھارت کے قومی ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
پروگرام کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کی ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر محترمہ آرادھنا پٹنائک نے بتایا کہ دہلی میں مہم کی حکمت عملی کو عملی طور پر مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی خطرے کی درجہ بندی کے نظام کے تحت 30 سے زائد علاقائی اشاریوں کی بنیاد پر ملک بھر میں 1.58 لاکھ زیادہ خطرے والے دیہات اور وارڈوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ دہلی میں 11 اضلاع کے 38 وارڈوں کو ترجیحی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں شہر کے 80 فیصد سے زیادہ خطرے کا بوجھ موجود ہے، جس سے ہدفی کارروائی ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی میں اب تک 28.83 لاکھ افراد کی اسکریننگ، 21.67 لاکھ سینے کے ایکسرے اور 3.65 لاکھ مالیکیولر (این اے اے ٹی) ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 1.75 لاکھ ٹی بی مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ انہوں نے آشا کارکنوں، کمیونٹی ہیلتھ افسران، لیبارٹری ٹیکنیشنز اور فیلڈ ٹیموں کا شکریہ ادا کیا، جن کی وارڈ بہ وارڈ خدمات سے یہ نتائج حاصل ہوئے۔
محترمہ پٹنائک نے تجویز دی کہ دہلی میں تمام مشتبہ اور دوا کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ٹی بی مریضوں کے لیے ایکسرے اسکریننگ کے ساتھ ابتدائی مرحلے میں ہی این اے اے ٹی ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے، تمام ٹی بی مریضوں کی سو فیصد جانچ کرکے ان کی ضروریات کے مطابق علاج یقینی بنایا جائے، گھریلو رابطوں اور دیگر حساس طبقات کے لیے ٹی بی سے بچاؤ کے علاج (ٹی بی پریونٹیو ٹریٹمنٹ) کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نئے مریضوں کی تعداد کم ہو، اور نکشے متر اور 'مائی بھارت' رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں کو نفسیاتی و سماجی تعاون فراہم ہو سکے، جو علاج کو مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے دہلی حکومت پر زور دیا کہ وہ ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز، وارڈ کمیٹیوں اور منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ اپنے رابطے کو مزید مضبوط بنائے، اور یقین دلایا کہ مرکزی وزارت ہر مرحلے پر دہلی حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

اجلاس میں مرکزی وزیر مملکت برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اور کارپوریٹ امور نیز مشرقی دہلی سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ہرش ملہوترا، دہلی حکومت کے وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب پنکج کمار سنگھ، ایم سی ڈی کے میئر جناب پرویش واہی، مرکزی سکریٹری صحت محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو، دہلی حکومت کے شہری ترقیات کے خصوصی سکریٹری جناب منوج کمار دویدی، ایمس نئی دہلی، سفدر جنگ اسپتال، رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال، لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اور آرمی اسپتال کے ڈائریکٹران، این ڈی ایم سی کے نمائندے، نیز ریاستی وزارت صحت اور مرکزی وزارت صحت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
U : 9424
(रिलीज़ आईडी: 2280096)
आगंतुक पटल : 6