وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

علاقائی صنعتوں کو وِکست بھارت کے سفر میں ساجھیدار بننا ہوگا: درخشاں گجرات علاقائی کانفرنس میں وزیر دفاع کا بیان

‘‘ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقائی صلاحیتوں کو قومی طاقت، مقامی اختراعات کو عالمی مسابقت، اور صنعتی ترقی کو اسٹرٹیجک طاقت میں تبدیل کیا جائے’’

‘‘خود کفالت کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ رہنا نہیں، بلکہ اس کا مطلب ایک ایسے ملک  کی تعمیرہے جو اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑا ہو اور دنیا کے ساتھ ایک مساوی شراکت دار کے طور پر تعاون کرے’’

प्रविष्टि तिथि: 30 JUN 2026 3:41PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا  ہےکہ "وِکست بھارت صرف اقتصادی ترقی کا ہدف نہیں، بلکہ ایک ایسے ملک کی تعمیر کا عزم ہے جو معاشی طور پر خوشحال، تکنیکی اعتبار سے باصلاحیت اور سماجی طور پر بااختیار ہو۔" انہوں نے علاقائی صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ علاقائی صلاحیتوں کو قومی طاقت، مقامی اختراعات کو عالمی مسابقت اور صنعتی ترقی کو اسٹریٹجک طاقت میں تبدیل کرکے اس سفر میں شراکت دار بنیں۔وہ 30 جون 2026 کو وڈودرا میں منعقدہ درخشاں گجرات علاقائی کانفرنس کے دوران صنعت کاروں، کاروباری افراد، نوجوان اختراع کاروں اور ماہرینِ تعلیم سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر رجنی کانت پٹیل، مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ اور حکومتِ گجرات کی وزیر برائے خواتین و اطفال کی ترقی ڈاکٹر منیشا وکیل بھی موجود تھیں۔

1.jpg

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کے پیشِ نظر آئندہ دہائیوں میں عالمی سطح پر بھارت کا کردار اس کی خودکفالت، تکنیکی صلاحیت اور اجتماعی عزم سے متعین ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ"تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم قومیں تین بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہیں: معاشی طاقت، تکنیکی برتری اور قومی سلامتی۔ معاشی خوشحالی اور تکنیکی ترقی قومی سلامتی کو مضبوط بناتی ہیں، جبکہ ایک محفوظ ملک صنعت اور اختراع کے فروغ کے لیے ضروری استحکام فراہم کرتا ہے۔" انہوں نے محفوظ سرحدوں اور مضبوط معیشت کے حامل ملک کی تعمیر کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی شعبے کی ترقی صرف ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع معاشی نظام کو بھی فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی راہداریاں بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، صنعت اور روزگار کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرتی ہیں، جبکہ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، ٹیکنالوجی اور اختراع پر زور دینے سے صنعتی بنیاد مزید مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے اس رفتار سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی صنعتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

2.jpg

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی شعبے میں آنے والی نمایاں تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بھارت اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا تھا، لیکن آج وہ تیزی سے دفاعی سازوسامان کی تیاری اور برآمدات کے میدان میں ایک اہم عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیسی دفاعی پلیٹ فارمز کی کامیابی، نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور اختراع کاروں و اسٹارٹ اپس کے جذبے نے مل کر ملک میں ایک مضبوط دفاعی ایکو سسٹم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آتم نربھر بھارت کے تحت ہم ایرو اسپیس اور دفاع جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ 'میک اِن انڈیا'، دفاعی خریداری کے طریقۂ کار کا ازسرِ نو جائزہ، اور ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ جیسے اقدامات اس سمت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دفاعی جدیدکاری اور سرمایہ جاتی خریداری کے لیے بجٹ میں کئے گئے التزامات کا مقصد ملکی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانا ہے۔

سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ہم نے لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنایا ہے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی پالیسی کو مزید آسان بنایا ہے۔ سریجن پورٹل ،آئی ڈیکس ، دفاعی جانچ کا بنیادی ڈھانچہ ،گرین چینل سرٹیفکیشن اور سیلف سرٹیفکیشن جیسے اقدامات نے چھوٹی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کا اعتماد بڑھایا ہے۔ شفاف پالیسیوں، کاروبار میں آسانی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مؤثر نظام، جانچ کی سہولیات اور مشترکہ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے فریم ورک کے ذریعے ہم ہر شعبے کے صنعت کاروں کی معاونت کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایسا ایکو نظام تشکیل دینا ہے جہاں اختراع، صنعت اور خودکفالت یکجا ہو کر نئے بھارت کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائیں۔"

حکومت کی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آج ملک کی دفاعی پیداوار 2014 کے صرف 46 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی برآمدات، جو کبھی ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی کم تھیں، بڑھ کر اب تک کی بلند ترین سطح 38,424 کروڑ روپے تک جا پہنچی ہیں۔

3.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا کہ آتم نربھرتا (خود کفالت) کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا نہیں، بلکہ اس کا مفہوم ایک ایسی قوم ہے جو اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ہو اور دنیا کے ساتھ ایک مساوی شراکت دار کے طور پر تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ملکی اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم ایس) کے ساتھ تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پروجیکٹوں (جوائنٹ وینچرز) کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ ان کے عملی نتائج بھارت میں حاصل ہوں، مقامی صلاحیتیں مضبوط ہوں اور عوام کو اس کے فوائد پہنچیں۔

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ گجرات خود کفالت کے ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ ریاست مضبوط صنعتی بنیاد، ہنرمند افرادی قوت اور کاروباری جذبے کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید مینوفیکچرنگ سے لے کر اعلیٰ درجے کی تحقیق تک، گجرات میں دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے خاص طور پر وڈودرا میں قائم ٹاٹا–ایئربس ایئرکرافٹ کمپلیکس کا ذکر کیا، جہاں سی-295 ٹرانسپورٹ طیارے تیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے-9 وجرا جو دنیا کے جدید ترین خودکار توپ خانے کے پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے اور بھارتی فوج کی حملہ آور صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، کی تیاری بھی گجرات میں کی جا رہی ہے۔

4.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی اور معیشت کا انحصار چِپس پر ہوگا۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ سانند اور دھولیرا میں فروغ دیا جا رہا سیمی کنڈکٹر ایکو نظام بھارت کی تکنیکی خودمختاری کی بنیاد ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ"مصنوعی ذہانت سے لے کر کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی سے لے کر خلائی ٹیکنالوجی تک، گجرات میں قائم یہ ایکو نظام ہر شعبے میں ہماری صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا۔"

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ گجرات کی صنعتی صلاحیتوں کو دفاعی شعبے کی ضروریات کے ساتھ براہِ راست ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ریاست کی کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل صنعت کی مضبوط بنیاد جدید مواد (ایڈوانسڈ میٹریلز)، کمپوزٹس اور پروپیلنٹس جیسے شعبوں میں نہایت قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ"ریاست کی مقامی الیکٹرانکس صنعت ایویونکس، سینسرز اور مواصلاتی نظام کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، گجرات کی بندرگاہی سہولیات اور جہاز سازی کی صلاحیت بحری دفاعی نظام اور سمندری سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں میں ریاست کی قیادت مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجیز کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔ دفاعی مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے لیے درکار مکمل ایکو نظام گجرات میں موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ گجرات کے نوجوان اور صنعت کار اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔"

5.jpg

مینوفیکچرنگ کے ایکو نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایسا مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جس سے وہ بھارت کے ترقیاتی سفر میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر ڈی آر ڈی او کی ممتاز سائنس داں اور ڈائریکٹر جنرل (پروڈکشن کوآرڈی نیشن اینڈ سروسز اِنٹریکشن) ڈاکٹر چندریکا کوشک بھی موجود تھیں۔

6.jpg

7.jpg

وزیر دفاع نے ایک نمائش کا بھی دورہ کیا، جہاں صنعتوں، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس، آٹوموبائل شعبے، بین الاقوامی کاروبار، دستکاری، خواتین ہنرمندوں، قبائلی مصنوعات، بھاری صنعتوں، نقل و حرکت سے متعلق اختراعات ،برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق اسٹالز لگائے گئے تھے۔

درخشاں گجرات گلوبل سمٹ کا تصور 2003 میں اُس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب نریندر مودی کی قیادت میں پیش کیا گیا تھا۔ آج یہ کاروباری روابط، علم کے تبادلے اور جامع ترقی و پائیدار پیش رفت کے لیے اسٹریٹجک شراکت داریوں کا ایک باوقار عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔درخشاں گجرات کے اس کامیاب ماڈل کے دائرۂ کار اور اثرات کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومتِ گجرات ریاست کے مختلف علاقوں میں درخشاں گجرات علاقائی کانفرنسوں کا سلسلہ منعقد کر رہی ہے۔ یہ علاقائی کانفرنسیں مختلف خطوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، زمینی سطح پر ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور مقامی امنگوں کو "وِکست بھارت @2047" اور "وِکست گجرات @2047" کے وسیع تر وژن سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

 

***************

 

 

(ش ح۔م ع۔ ا ک م)

                                                                                                                                                                                                                                                       U: 9342


(रिलीज़ आईडी: 2279420) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil