صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز کے دسویں کنووکیشن سے خطاب کیا
وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے طبی تعلیم کے ‘ہارڈویئر’ اور ‘سافٹ ویئر’ دونوں پہلوؤں پر یکساں توجہ دی ہے: جناب جے پی نڈا
جناب نڈا نے کہاکہ وکست بھارت کا خواب صرف صحت مند بھارت کے ذریعے ہی شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے
‘‘سپر اسپیشلٹی تعلیم ایک اعزاز ہے، جس کے ساتھ معاشرے کے تئیں ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے’’
प्रविष्टि तिथि:
30 JUN 2026 2:42PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج نئی دہلی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز(آئی ایل بی ایس) کے دسویں کانووکیشن سے خطاب کیا۔
فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگت پرکاش نڈا نے کانووکیشن کو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں کہ انہیں انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز (آئی ایل بی ایس)جیسے عالمی شہرت یافتہ اور ممتاز ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جو مریضوں کی بہترین نگہداشت، طبی تعلیم، تحقیق اور اختراع کے میدان میں اپنی اعلیٰ خدمات کے باعث نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کی عوامی صحت کے شعبے میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ آئی ایل بی ایس ملک بھر کے گھروں میں فیٹی لیور کی بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے حوالے سے ایک کلیدی ادارے کے طور پر ابھرا ہے۔ اپنی پیش رفت پر مبنی طبی خدمات، تحقیقی سرگرمیوں اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ادارے نے فیٹی لیور کی بیماری، اس کے خطرات کے عوامل، اس کی روک تھام اور اس کے طویل مدتی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں عوامی فہم و شعور میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
مرکزی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے طبی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے "ہارڈویئر" اور "سافٹ ویئر" دونوں پہلوؤں پر یکساں توجہ دیتے ہوئے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ہارڈویئر" سے مراد عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ، طبی ادارے اور صحت کی سہولتیں ہیں، جبکہ "سافٹ ویئر" سے مراد ایسا سازگار ماحولیاتی نظام، پالیسی فریم ورک اور تعلیمی ماحول ہے جو طلبہ، محققین اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے نظامِ صحت کی حقیقی طاقت صرف نئے ادارے قائم کرنے میں نہیں بلکہ ایسا ماحول تشکیل دینے میں مضمر ہے جہاں معیار اور بہترین کارکردگی فروغ پا سکے۔
پالیسی اصلاحات کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ طلبہ کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دور اندیش پالیسی سازی اور ایک سازگار ماحولیاتی نظام مل کر دیرپا اور مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیسویں صدی کے اختتام تک بھارت میں صرف ایک آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) موجود تھا۔ سابق وزیرِ اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں مزید چھ اے آئی آئی ایم ایس کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں سولہ نئے اے آئی آئی ایم ایس فعال ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں اے آئی آئی ایم ایس کی مجموعی تعداد بڑھ کر تئیس ہو گئی ہے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ملک بھر میں طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل کالجوں کی تعداد 387 سے بڑھ کر 818 ہو گئی ہے۔ اسی طرح انڈر گریجویٹ میڈیکل سیٹوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار سے بڑھ کر 1.20 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے لال قلعہ سے کیے گئے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ حکومت نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران انڈر گریجویٹ میڈیکل سیٹوں کی مزید 75 ہزار نشستیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جن میں سے تقریباً 25 ہزار نشستیں پہلے ہی شامل کی جا چکی ہیں، جو اس ہدف کی جانب مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں کی تعداد بھی تقریباً 30 ہزار سے بڑھ کر 80 ہزار سے زائد ہو گئی ہے، جس سے ملک میں ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جناب نڈا نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی کو معیاری صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے نظامِ صحت کی بنیادی ساخت کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ملک بھر میں 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندروں کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز صحت کی خدمات حاصل کرنے والے شہریوں کے لیے رابطے کے پہلے مرکز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز نے احتیاط برتنے، فروغ پذیر، علاج معالجہ اور بحالیِ صحت کی خدمات پر یکساں توجہ دیتے ہوئے ملک میں جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے تصور کو نئی جہت دی ہے۔
احتیاطی صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے غیر متعدی امراض کی آبادی پر مبنی اسکریننگ میں آیوشمان آروگیہ مندروں کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 42 کروڑ سے زائد افراد کی ہائی بلڈ پریشر کے لیے جانچ کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں 7.3 کروڑ سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی۔ اسی طرح 42 کروڑ سے زائد افراد کی ذیابیطس (شوگر) کی اسکریننگ کی گئی، جن میں تقریباً 5 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے۔ 35 کروڑ سے زیادہ افراد کی منہ کے سرطان (اورل کینسر) کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں 2.3 لاکھ سے زائد کیسز کی تشخیص ہوئی۔ چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ 16 کروڑ سے زائد خواتین کی کی گئی، جس میں 86 ہزار سے زیادہ مریضوں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ 9 کروڑ سے زیادہ خواتین کی سروائیکل کینسر کی جانچ کی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ کیسز سامنے آئے۔ جناب نڈا نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ بروقت اسکریننگ اور جلد تشخیص احتیاطی صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور علاج معالجہ کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وکست بھارت کا تصور سوستھ بھارت کے بغیر حقیقی شکل اختیارنہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آنے والے برسوں میں احتیاطی صحت، ابتدائی اسکریننگ اور بروقت تشخیص بھارت کی صحت کی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون رہیں گے۔

خطاب کے دوران فارغ التحصیل طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ سپر اسپیشلٹی تعلیم کا حصول ایک اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے معاشرے کا قرض اتاریں، طبی اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں، اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں ہمدردی اور انسان دوستی کو ہمیشہ مقدم رکھیں، اور دیانت داری و بہترین کارکردگی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کے لیے پُرعزم رہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اپنے علم، مہارت اور عزم کے ذریعے ایک صحت مند اور مضبوط بھارت کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
یہ کنووکیشن فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں جگر کے امراض، ہیپاٹولوجی، ٹرانسپلانٹ میڈیسن اور متعلقہ سپر اسپیشلٹی و معاون شعبوں میں کامیاب امیدواروں کو ڈگریاں اور تعلیمی امتیازات سے نوازا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیری سائنسز(آئی ایل بی ایس) جو حکومتِ دہلی کے تحت ایک خودمختار سپر اسپیشلٹی ادارہ ہے، مریضوں کی نگہداشت، طبی تعلیم اور ہیپاٹولوجی، لیور ٹرانسپلانٹیشن، بلیری سائنسز اور متعلقہ شعبوں میں تحقیق کے حوالے سے ایک ممتاز اوراہم مرکزکے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے۔ طبی خدمات، تعلیمی معیار اور جدید ترین تحقیقی سرگرمیوں پر مبنی اپنے جامع اور مربوط نقطۂ نظر کے ذریعے ادارے نے ملک میں جگر کے امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

کنووکیشن کی تقریب میں ممتاز اساتذہ، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، محققین، طلبہ، سابق طلبہ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
***
(ش ح ۔ م م ع۔ت ا)
U. No.9340
(रिलीज़ आईडी: 2279368)
आगंतुक पटल : 16