PIB Backgrounder
ملک کا تحفظ
دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی صفر برداشت کی پالیسی کے 12 سال
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 10:57AM by PIB Delhi
|
گزشتہ 12 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی جامع حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جو دہشت گردی کے خلاف ‘ زیروٹالرینس’ کی مضبوط پالیسی کی عکاس ہے۔ مضبوط قانونی ڈھانچے، ادارہ جاتی اصلاحات اور انٹیلی جنس نظام کے مؤثر انضمام نے مرکزی اور ریاستی اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہدفی کارروائیوں، دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کے خاتمے اور پولیس و سکیورٹی فورسز کی جدیدکاری نے قومی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں میں توسیع نے ابھرتے ہوئے ڈجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے ملک کی تیاری کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ان مسلسل اور مربوط اقدامات کے نتیجے میں داخلی سلامتی کے اشاریوں میں قابلِ پیمائش بہتری آئی ہے، جس میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی، عوامی تحفظ میں اضافہ، ترقیاتی نتائج میں بہتری اور قومی استحکام میں اضافہ شامل ہے۔
|
ٹھوس فیصلوں اور مؤثر اقدامات کی ایک دہائی
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہندوستان نے اپنے قومی سلامتی کے نظام میں انتہائی جامع اور دور رس تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ‘ زیرو ٹالرینس’ کی پالیسی اپنائی اور محض ردعمل پر مبنی حکمت عملی سے آگے بڑھتے ہوئے پورے حکومتی نظام پر مشتمل ایک فعال اور پیشگی اقدامات پر مبنی لائحۂ عمل اختیار کیا۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا، تحقیقاتی اداروں کو مزید بااختیار بنایا گیا، سرحدی نگرانی کو مضبوط کیا گیا، سکیورٹی اداروں کے درمیان باہمی رابطے کو بہتر بنایا گیا، جبکہ سفارتی اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی فورمز پر ہندوستان کی آواز کو مؤثر بنایا گیا اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں کے لیے عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔
بارہ برس کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ایسی تبدیلی رونما ہوئی جسے تین باہم مربوط نتائج کی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے۔‘وشواس’ (اعتماد) سے مراد فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ ‘وکاس’ (ترقی) ایک مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل کی علامت ہے، جبکہ‘جن کلیان’ (عوامی فلاح و بہبود) سے مراد ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ترقی، باوقار زندگی اور معمول کی سماجی سرگرمیاں فروغ پا سکیں۔
یہ کامیابیاں اتفاقاً حاصل نہیں ہوئیں بلکہ ان کے پیچھے وہ عزم کارفرما تھا جس کے تحت سفارتی کوششوں کی حد تک پہنچنے کے بعد ضرورت پڑنے پر فوجی سطح پر انتہائی درست اور ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ اسی طرح اہم قانون سازی کے ذریعے تحقیقاتی اداروں کو مزید مؤثر اختیارات اور وسیع دائرۂ کار فراہم کیا گیا، جبکہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی انٹیلی جنس پلیٹ فارمز نے ملک کے سلامتی کے مختلف اداروں کو حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں باہم مربوط کر دیا۔ اس عرصے میں دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی حکمت عملی اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت ریاست نے محض دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان بنیادی عوامل کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کی جو دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔
تاہم یہ تمام پیش رفت ایک مخصوص پس منظر سے شروع ہوئی۔ مئی 2014 میں حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اسے ایسا سلامتی کا ماحول ورثے میں ملا جو کئی دہائیوں کی غفلت، ادارہ جاتی کمزوریوں اور مختلف محاذوں پر جاری غیر حل شدہ تنازعات سے متاثر تھا۔ اس پس منظر کو سمجھے بغیر بعد میں ہونے والی تبدیلیوں کی اہمیت کا مکمل اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا تھا وہ معمولی نہیں بلکہ ہمہ گیر، بیک وقت موجود اور انتہائی سنگین نوعیت کے تھے۔
چیلنجز کا منظرنامہ
سن 2014 میں ہندوستان داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک نازک موڑ پر کھڑا تھا۔ ملک کو بیک وقت متعدد محاذوں پر شدید سلامتی کے مسائل کا سامنا تھا۔ اس سے قبل کے دس برس (2004 تا 2014) کے دوران دہشت گردی کے7,217 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گزشتہ چار دہائیوں میں دہشت گردی، شورش اور انتہا پسندی کے باعث تقریباً 92 ہزارشہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس صورتحال نے معمولی اصلاحات کے بجائے ایک جامع اور بنیادی تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار سے دراندازی ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا چیلنج رہی ہے۔ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نامزد دہشت گرد تنظیموں، جن میں لشکرطیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین شامل ہیں، کو تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔ ان تنظیموں کو ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے، جن میں166 افراد ہلاک ہوئے، لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی کی فعال معاونت سے انجام دیے۔ ایسے واقعات نے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی تباہ کن صلاحیت کو نمایاں کیا، تاہم مؤثر بارآوار حکمت عملی نہ ہونے کے باعث جوابدہی کا فقدان برقرار رہا۔
اسی دوران کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیاں، جنہیں سرحد پار سے تعاون اور مقامی نیٹ ورکس کی مدد حاصل تھی، امن و انتظام حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئیں۔2010 سے 2014 کے درمیان ہر سال اوسطاً 2,654 منظم پتھراؤ کے واقعات پیش آئے،اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو ز) کے نیٹ ورکس دراندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کو فعال معاونت فراہم کرتے رہے۔ سابق ریاست میں آرٹیکل 370 کے تحت قائم سیاسی و انتظامی ڈھانچے نے بھی ایسے حالات پیدا کیے جن سے مؤثر حکمرانی اور سلامتی سے متعلق اقدامات مزید پیچیدہ ہو گئے۔
دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا، خفیہ مواصلاتی پلیٹ فارمز،ڈارک ویب اور کرپٹو کرنسی جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو پروپیگنڈا، بھرتی، مالی معاونت اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بھی استعمال کر رہی تھیں۔
سن 2014 کے بعد عالمی سطح پر داعش (آئی ایس آئی ایس) کے ابھرنے نے ہندوستان کے سلامتی کے خدشات میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا۔ آن لائن انتہا پسندی اور شدت پسندانہ پروپیگنڈے نے ہندوستانی شہریوں کی ممکنہ بھرتی کے خطرات کو بڑھایا اور ایسے خود شدت پسند بننے والے عناصر کے ذریعے عوامی مقامات پر کم شدت کے حملوں کے امکانات میں اضافہ کیا۔ اس بدلتے ہوئے خطراتی منظرنامے نے سلامتی کے اداروں کو انسدادِ انتہا پسندی، سائبر نگرانی اور انٹیلی جنس کے باہمی اشتراک کی نئی صلاحیتیں پیدا کرنے پر مجبور کیا۔
ہر پیمانے سے دیکھا جائے تو 2014 میں ورثے میں ملنے والا سلامتی کا ماحول غیر معمولی طور پر پیچیدہ تھا۔ گزشتہ دہائی میں ہزاروں دہشت گرد حملے ہو چکے تھے، جموں و کشمیر میں دراندازی اور دہشت گردی کا سلسلہ جاری تھا، شورش زدہ علاقوں میں تشدد برقرار تھا، اور قانونی ڈھانچے میں کئی اہم خامیاں موجود تھیں، جن میں افراد کو براہ راست دہشت گرد قرار دینے کا اختیار بھی شامل نہیں تھا۔ ان سنگین چیلنجز نے بھارت کے سلامتی کے نظریے، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور عملی حکمتِ عملی میں بنیادی اور ہمہ گیر اصلاحات کو ناگزیر بنا دیا۔
دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی پالیسی: زیرو ٹالرینس کے نئے دور کا آغاز
اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی دن سے حکومت نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کے غیر متزلزل اصول کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف دہشت گرد حملوں کا جواب دینا نہیں تھا بلکہ دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام اور اس کی سپلائی چین کو جڑ سے ختم کرنا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے، جن میں دہشت گردوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں، دہشت گردی کی مالی معاونت پر سخت کریک ڈاؤن، پیشگی انسدادی اقدامات، سرحد پار دراندازی کی روک تھام، انسدادشورش کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنانا، سکیورٹی فورسز کو جدید آلات سے لیس کرنا، کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز (سی اے ایس او) میں تیزی لانا، حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، اسٹریٹجک ناکوں (چیک پوسٹس) کا قیام اور دن رات علاقے پر مؤثر نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھنا شامل ہے، تاکہ امن، استحکام اور داخلی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ حکمت عملی بارہ برسوں کے دوران بتدریج چار نمایاں ستونوں پر استوار ہوئی۔ پہلا ستون دہشت گردی کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے اور وسیع قانونی اصلاحات کے ذریعے قانون سازی کو مضبوط بنانا تھا۔ دوسرا ستون اداروں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور تحقیقاتی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے پر مبنی تھا۔ تیسرا ستون سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے اصول کو اپنانے اور سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق تھا۔ جبکہ چوتھا ستون کثیرالجہتی اور سفارتی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط عالمی تعاون کے نظام کی تشکیل پر مشتمل تھا، جس نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون میں ہندوستان کے کردار اور مقام کو مزید مستحکم کیا۔
یہ چاروں ستون یکدم وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں مرحلہ وار تشکیل دیا گیا، عملی سطح پر آزمایا گیا اور حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں مسلسل بہتر بنایا جاتا رہا۔ 2026 تک بارہ برس کی قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، عملی حکمت عملی اور سفارتی سرگرمیوں نے دہشت گردی کے خلاف ایسی جامع پالیسی اور عملی تجربہ فراہم کیا جسے باضابطہ شکل دی جا سکی۔ اس عمل کا نتیجہ ‘پرہار’: بھارت کی قومی انسداد دہشت گردی پالیسی اور حکمتِ عملی کی صورت میں سامنے آیا۔

‘پرہار’ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قائم کیے گئے نظام کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ اسے یکجا کرنے، منظم بنانے اور ان اصولوں اور عملی اقدامات کو باضابطہ نظریاتی شکل دینے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جو بارہ برس کی حکمرانی کے دوران تشکیل پائے۔ یہ پالیسی دہشت گردی کی روک تھام، فوری ردِعمل، پورے حکومتی نظام کے باہمی اشتراک، انسانی حقوق پر مبنی طریقۂ کار اور بین الاقوامی تعاون کو ایک جامع قومی حکمت عملی میں یکجا کرتی ہے، اور ان تمام اقدامات کو باضابطہ نظریاتی اظہار فراہم کرتی ہے جنہیں گزشتہ بارہ برسوں میں عملی طور پر نافذ کیا گیا۔
اس کے بعد آنے والے حصوں میں ان چاروں ستونوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اس سفر کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح بھارت نے محض ردعمل پر مبنی سلامتی کے نظام سے آگے بڑھتے ہوئے ایک فعال، مضبوط اور واضح نظریاتی بنیادوں پر استوار انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے کی تشکیل کی۔
پہلا ستون: قانونی اختیارات کو مضبوط بنانا
دہشت گردی کے مؤثر انسداد کے لیے ایک مضبوط قانونی بنیاد ناگزیر ہے۔ 2014 کے بعد حکومت نے دہشت گردی کی تحقیقات، مقدمات کے مؤثر اندراج و پیروی اور صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قانونی اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان اقدامات کے ذریعہ سکیورٹی اداروں کو مزید اختیارات دئیے گئے، انسداددہشت گردی کے قوانین کو سخت اور مؤثر بنایا گیا، دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنایا گیا، اور بدلتے ہوئے سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کی ہندوستان کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا۔

غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ، 2019 (یو اے پی اے)
غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ، 2019 نے بھارت کے انسداددہشت گردی کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا اور مرکزی حکومت و تحقیقاتی اداروں کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا۔ یہ گزشتہ ایک دہائی کی اہم ترین قانونی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے، جسے پارلیمنٹ نے2 اگست 2019 کو منظور کیا اور 14 اگست 2019 کو نافذ العمل کیا گیا۔
اس ترمیم کے تحت مرکزی حکومت کو پہلی مرتبہ صرف تنظیموں ہی نہیں بلکہ افراد کو بھی دہشت گرد قرار دینے کا اختیار دیا گیا۔ اس کے علاوہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) میں انسپکٹریا اس سے اعلیٰ رینک کے افسران کو دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل، این آئی اے کو دہشت گردی سے منسلک جائیداد کی ضبطی یا قرقی کی منظوری دینے کا اختیار بھی حاصل ہوا۔
اس قانون کے ذریعے این آئی اے کے دائرۂ اختیار کو بھی وسعت دی گئی، تاکہ وہ انسانی اسمگلنگ، جعلی کرنسی، سائبر دہشت گردی اور ہندوستان سے باہر ہندوستانی مفادات کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات بھی کر سکے۔
اس ترمیم کے نفاذ کے بعد حکومت نے57 سے زائد افراد کو دہشت گرد قرار دیا، جن میں مسعود اظہر (جیش محمد)، حافظ سعید (لشکرِ طیبہ)، ذکی الرحمٰن لکھوی (لشکرطیبہ)، داؤد ابراہیم اور خالصتان سے وابستہ نمایاں افرادگرپتونت سنگھ پنوں (سکھس فار جسٹس)، ہردیپ سنگھ نجر (خالصتان ٹائیگر فورس) اورودھاوا سنگھ ببّر (ببّر خالصہ انٹرنیشنل) شامل ہیں۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (ترمیمی) ایکٹ، 2019
قومی تحقیقاتی ایجنسی (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کے ذریعے این آئی اے کے دائرۂ اختیار کو مزید وسیع کیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد ایجنسی کو ہندوستان سے باہر ہندوستانی مفادات کے خلاف ہونے والے دہشت گردی سے متعلق جرائم کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہوا۔
اس کے تحقیقاتی اختیارات میں سائبر دہشت گردی، دھماکہ خیز مواد سے متعلق انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کو بھی شامل کیا گیا۔ مزید برآں، این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو زیرتفتیش مقدمات میں جائیداد کی ضبطی اور قرقی کی براہِ راست منظوری دینے کا اختیار بھی دیا گیا۔
انسدادمنی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کی دفعات کو مضبوط بنانا
انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ ( پی ایم ایل اے) میں مرحلہ وار کی جانے والی ترامیم کے ذریعے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو دہشت گردی سے منسلک اثاثوں کا سراغ لگانے، انہیں منجمد کرنے اور ضبط کرنے کے مزید مؤثر اختیارات فراہم کیے گئے۔
ان اختیارات کے تحت جموں و کشمیر میں حوالہ نیٹ ورکس، خالصتانی تنظیموں کی کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی معاونت اور کالعدم تنظیموں سے منسلک گینگسٹر نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل ہونے والی بھتہ خوری کی رقوم کے خلاف کارروائی کو بھی مؤثر بنایا گیا۔
بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)2023 - فوجداری قانون کا نیا دور
بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس ) 2023 نے تعزیرات ہند 1860 کی جگہ لی اور یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل ہوا۔اس نئے قانون میں پہلی مرتبہ دہشت گردی اور منظم جرائم کی واضح قانونی تعریف شامل کی گئی اور ان جرائم کیلئے سخت سزاؤں کی دفعات متعارف کرائی گئیں۔
بی این ایس کے مطابق دہشت گردانہ فعل سے مراد ایسا کوئی بھی عمل جو مہلک تشدد، اہم بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اغوا یا جعلی کرنسی کی گردش جیسے ذرائع سے ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد، سالمیت، سلامتی یا اقتصادی استحکام کو خطرے میں ڈالے۔
اگر کسی دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو تو قانون میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر دہشت گردی سے متعلق جرائم کے لیے کم از کم پانچ سال سے لے کر عمر قید تک کی سخت سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
بی این ایس میں دہشت گردی سے متعلق سازش، بھرتی، تربیت، دہشت گردوں کو پناہ دینا (چند محدود استثنائی صورتوں کے ساتھ)، اور دہشت گردی سے حاصل شدہ جائیداد یا مالی وسائل رکھنے کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان دفعات نے دہشت گردی اور منظم جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور مؤثر قانونی کارروائی کے حوالہ سے ہندوستان کی قانونی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
اسلحہ (ترمیمی) ایکٹ، 2019
اسلحہ (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کا مقصد دہشت گردی، شورش اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کو مؤثر بناتے ہوئے غیر قانونی اسلحہ کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا تھا۔اس قانون کے تحت غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کی اسمگلنگ، غیر قانونی قبضہ، تیاری، فروخت اور منتقلی پر مزید سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز سے اسلحہ چوری کرنے اور منظم جرائم پیشہ گروہوں میں ملوث افراد کے لیے بھی سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا۔سرحد پار اسلحہ اسمگلنگ کی روک تھام اور ڈجیٹل لائسنسنگ نظام کے ذریعے اسلحہ کی مؤثر نگرانی نے دہشت گرد اور شورش پسند عناصر کو اسلحہ کی فراہمی کے اہم ذرائع کو متاثر کرنے میں مدد دی۔
یہ تمام قانونی اصلاحات ہندوستان کے سکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کو جدید قانونی اختیارات فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ ان اصلاحات سے ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی استعداد مزید مضبوط ہوئی ہے۔
دوسرا ستون: نئے ہندوستان کے لیے مضبوط ادارے
ایک مؤثر قومی سلامتی کے نظام کی بنیاد مضبوط ادارے ہوتے ہیں۔ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے اپنے تحقیقاتی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی، تاکہ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات کا بروقت سراغ لگایا جا سکے، مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو، اور مؤثر و فوری ردِعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )- صلاحیتوں میں اضافہ
قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کا قیام 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعدقومی تحقیقاتی ایجنسی ایکٹ، 2008 کے تحت عمل میں آیا۔ یہ بھارت کا اعلیٰ ترین انسداددہشت گردی تحقیقاتی ادارہ ہے۔اس ایجنسی کو قومی سلامتی سے متعلق جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کی پیروی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جن میں دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت، دہشت گردی سے منسلک منظم جرائم، سائبر دہشت گردی، اور ہندوستان کی خودمختاری و سالمیت کے لیے خطرہ بننے والے دیگر جرائم شامل ہیں۔

سن 2014 کے بعد حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کے دائرۂ اختیار، عملی صلاحیتوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا۔ این آئی اے کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، جو 2014-15 میں 91.32 کروڑ روپے سے بڑھ کر2024-25 میں 394.66 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، یعنی ایک دہائی کے دوران اس میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔
دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت اور سزا کی شرح بہتر بنانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی این آئی اے عدالتوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا، جن میں ریاستوں میں 47 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 6 خصوصی عدالتیں شامل ہیں۔این آئی اے نے اپنی موجودگی کو بھی ملک بھر میں وسعت دی ہے اور اب اس کے21 برانچ دفاتر کام کر رہے ہیں، جنہیں جموں اورگوہاٹی میں قائم زونل دفاتر کی معاونت حاصل ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق2014 کے بعد این آئی اے نےدہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق 32 مقدمات درج کیے، جبکہ2014 سے قبل اس نوعیت کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں نمایاں رہا ہے۔2019 سے اب تک108 داخلی تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن سے4,471 افسران نے استفادہ کیا ہے۔اسی سلسلے میں قومی دہشت گردی ڈیٹا فیوژن اینڈ انالیسز سینٹر (این ٹی ڈی ایف اے سی) کے قیام نے جدید تجزیاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے اعداد و شمار پر مبنی تحقیقات کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف فارنسک سائنس سروسز ( ڈی ایف ایس ایس) کے ساتھ قریبی اشتراک نے سائنسی شواہد کے حصول ان کے تجزیے اور فارنسک معائنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) آج دنیا کی ممتاز انسداددہشت گردی تحقیقاتی ایجنسیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی شرح سزا(سی آر) 92.70 فیصد ہے، جو دنیا بھر کی انسداددہشت گردی ایجنسیوں میں سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
|
ملٹی ایجنسی سینٹر ( ایم اے سی) اور انٹیلی جنس کا مربوط نظام
ملٹی ایجنسی سینٹر ( ایم اے سی ) جوانٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے تحت کام کرتا ہے، بھارت میں حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں انٹیلی جنس کے تبادلے اور باہمی رابطے کا اعلیٰ ترین قومی پلیٹ فارم ہے۔ یہ انٹیلی جنس، سلامتی، دفاع اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت 28 مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ انسداددہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات کا مؤثر اور بلا رکاوٹ تبادلہ یقینی بنایا جا سکے۔
ایم اے سی کے معاون نظام کے طور پرذیلی ملٹی ایجنسی سینٹرز ( ایس ایم اے سیز) ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم ہیں، جو مقامی سطح پر حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کا تجزیہ کرتے ہیں اور ریاستی پولیس و دیگر فیلڈ ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایم اے سی- ایس ایم اے سی نیٹ ورک کو وسعت دینے اور جدید بنانے کے ذریعے بھارت کے انٹیلی جنس انضمام کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔ یہ نظام اب محفوظ اور حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس کی رسائی دور دراز اضلاع اور آپریشنل یونٹس تک بھی ممکن بنائی گئی ہے۔
حال ہی میں اس نیٹ ورک کو 500 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا۔ جدید ہارڈویئر، تیز رفتار نیٹ ورک اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) ومشین لرننگ ( ایم ایل) پر مبنی تجزیاتی آلات نے خطرات کی نشاندہی، انٹیلی جنس کے تجزیے اور معلومات کی درستگی و رفتار کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ ان اصلاحات سے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوئی ہے اور ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟22 جنوری 2025 کو وزارت داخلہ نےملٹی ایجنسی سینٹر (ایم اے سی) کے تحت سائبر ملٹی ایجنسی سینٹر (سی وائے ایم اے سی) قائم کیا۔ یہ ادارہ سائبر سلامتی کے خطرات، سائبر جاسوسی، نئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے حقیقی وقت میں رابطے اور انٹیلی جنس کے تبادلے کا ایک خصوصی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
نیشنل انٹیلی جنس گرڈ ( این اے ٹی جی آر آئی ڈی)
نیشنل انٹیلی جنس گرڈ (این اے ٹی جی آر آئی ڈی) ایک محفوظ انٹیلی جنس شیئرنگ پلیٹ فارم ہے، جو امیگریشن، بینکنگ، ٹیلی کام اور سفری ریکارڈ سمیت متعدد سرکاری ڈیٹا بیسز کو مجاز سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جوڑتا ہے۔یہ نظام متعلقہ اداروں کو اہم معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے مشتبہ افراد کی نشاندہی، دہشت گرد نیٹ ورکس کا سراغ، مالی معاونت کے ذرائع کی کھوج اور انٹیلی جنس پر مبنی تیز رفتار تحقیقات ممکن ہوتی ہیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے انضمام نے نیٹ گرڈ کو ہندوستان کے انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے نظام کا ایک اہم ستون بنا دیا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟مارچ 2026 تک این اے ٹی جی آر آئی ڈی ایک محفوظ انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے ذریعے11 مرکزی صارف ایجنسیوں، تمام 28 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس فورسز اور 11 ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کو آپس میں مربوط کر چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی آرگنائزڈ کرائم نیٹ ورک ڈیٹا بیس ( او سی این ڈی) بھی تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) اور ریاستی انسداددہشت گردی اسکواڈز ( اے ٹی ایس) کے درمیان معلومات کا مؤثر تبادلہ ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، ‘گاندھیوا’ نامی جدید تجزیاتی نظام مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کا تجزیہ کرتا ہے، جس سے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی تحقیقات میں مدد ملتی ہے۔
کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز (سی سی ٹی این ایس)
کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز (سی سی ٹی این ایس) کو پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے مختلف ریاستوں کے درمیان جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردی کے مشتبہ عناصر سے متعلق معلومات کا تبادلہ ممکن ہوا ہے۔ اس نظام نے ان معلوماتی رکاوٹوں کو بڑی حد تک ختم کیا ہے جو پہلے ریاستوں کے درمیان مؤثر رابطے میں حائل تھیں۔ سن 2024 میں سی سی ٹی این ایس 2.0 متعارف کرایا گیا، جومصنوعی ذہانت ( اے آئی) پر مبنی ایک جدید نظام ہے اور ہندوستان کے تمام17,798 پولیس تھانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟بھارت 2021 سے 2026کے دوران اپنی پولیس اور سلامتی کی فورسز کی جدیدکاری پر6,300 کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ انسداددہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ریاستوں کو پولیس کی جدیدکاری کے لیے معاونت (اے ایس یو ایم پی) اسکیم کے تحت4,846 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس کو جدید اسلحہ، نگرانی کی ٹیکنالوجی، انسدادِ آئی ای ڈی (آئی ای ڈی) آلات، فارنسک انفراسٹرکچر اور جدید مواصلاتی نظام فراہم کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح ماڈرنائزیشن پلان-IV کے تحت1,523 کروڑ روپے کی لاگت سے مرکزی مسلح پولیس فورسز ( سی اے پی ایف ایس) کی آپریشنل صلاحیتوں کو جدید نگرانی کے نظام اور حفاظتی سازوسامان کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ان سرمایہ کاریوں کے نتیجے میں خطرات کی بروقت نشاندہی، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں، فوری ردعمل کی صلاحیت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام اور انہیں ناکام بنانے کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مجموعی طور پر ادارہ جاتی اصلاحات نے بھارت کے انسداد دہشت گردی کے نظام کو ایک زیادہ مربوط، ٹیکنالوجی سے مزین اور انٹیلی جنس پر مبنی ڈھانچے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بہتر باہمی رابطہ، جدید تجزیاتی صلاحیتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدیدکاری نے سلامتی کے خطرات کی روک تھام، تحقیقات اور مؤثر ردِعمل کی قومی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔
تیسرا ستون: سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں — تزویراتی حکمت عملی میں تبدیلی
کئی دہائیوں تک بھارت کو اپنی سرحدوں کے پار سے سرپرستی اور معاونت حاصل کرنے والی دہشت گردی کا مسلسل سامنا رہا۔ 2014 کے بعد ملک نے ایک زیادہ مضبوط اور فعال سلامتی کی حکمت عملی اختیار کی، جس میں فوجی مہارت، تزویراتی پیغام رسانی اور سفارتی اقدامات کو یکجا کرتے ہوئے دہشت گرد حملوں کا جواب دینے اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
سرجیکل اسٹرائیکس 2016
تاریخ 29 ستمبر 2016 کو کی جانے والی سرجیکل اسٹرائیکس ہندوستان کی انسداددہشت گردی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئیں۔اُڑی دہشت گردانہ حملے کے بعد اورلائن آف کنٹرول ( ایل او سی) کے پار دہشت گردوں کے مبینہ لانچ پیڈز سے متعلق قابل اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر بھارتی فوج نے ہدفی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جو بھارت میں دراندازی کی تیاری کر رہے تھے۔اس کارروائی نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پیشگی اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک ایسی حکمت عملی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد دہشت گردی کی معاونت اور سہولت کاری کرنے والوں پر واضح قیمت عائد کرنا تھا۔ یہ کارروائیاں اس بات کی علامت تھیں کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے محض تحمل کی پالیسی کے بجائے ایک فعال اور بازدار حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

بالاکوٹ فضائی حملہ، 2019
تاریخ 14 فروری 2019 کو پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے 26 فروری 2019 کو پاکستان کےبالاکوٹ میں واقع جیش محمد ( جے ایم) کے ایک بڑے تربیتی مرکز پر ایک ہدفی فضائی کارروائی کی۔سرکاری بیان کے مطابق، دہشت گرد انہ حملوں کے فوری خطرے سے متعلق قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اس کارروائی میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کی گئی۔بالاکوٹ فضائی حملہ بھارت کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس نے دہشت گردی کے خطرات کے خلاف پیشگی کارروائی کرنے اور سرحد پار دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کو جواب دہ بنانے کے عزم کو ظاہر کیا۔
آپریشن سندور، 2025
اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے بعد بھارت نے7 مئی 2025 کوآپریشن سندور شروع کیا۔اس کارروائی میں پاکستان اور پاکستان کے زیرِکنٹرول جموں و کشمیر میں موجود دہشت گردی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق، اس آپریشن نے دہشت گردی کے خطرات کا ان کے منبع پر جا کر مقابلہ کرنے کے بھارت کے عزم کا اظہار کیا۔آپریشن سندور کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فوری، ہدفی اور متناسب ردعمل کی بھارتی پالیسی کے ایک مظہر کے طور پر پیش کیا گیا۔یہ کارروائیاں سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے بھارت کی حکمت عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے یہ اصول واضح کیا گیا کہ دہشت گرد حملوں کا جواب تیز رفتار، سوچے سمجھے اور مختلف سطحوں پر کیے جانے والے اقدامات کی صورت میں دیا جائے گا، تاکہ صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے اور اپنے شہریوں اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
چوتھا ستون: کثیرالجہتی اور سفارتی سطح پر انسداددہشت گردی کا ڈھانچہ
دہشت گردی ایک بین الاقوامی نوعیت کا خطرہ ہے جس کا مؤثر مقابلہ صرف داخلی اقدامات سے ممکن نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے مضبوط سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے، دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے اور سلامتی و انصاف کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) میں اقدامات
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کام کرنے والا دنیا کا اہم بین الحکومتی ادارہ ہے۔2010 میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد سے بھارت نے ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف عالمی اقدامات کو مضبوط بنانے اور سرکاری مؤقف کے مطابق ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے معاملات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے فعال طور پر استعمال کیا ہے۔

ہندوستان نے مسلسل اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان اپنے علاقے سے سرگرم دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل نگرانی اور دباؤ برقرار رہا۔ اسی دوران ہندوستان نے اپنے اندرونی انسدادمنی لانڈرنگ اور انسداددہشت گردی مالی معاونت کے نظام کو مضبوط بنایا اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم اور مؤثر آواز کے طور پر ابھرا۔حکومتِ ہند نےوزارت داخلہ کے تحت کومبیٹنگ فنانسنگ آف ٹیررازم سیل ( سی ایف ٹی سیل) قائم کیا ہے، جس کا مقصدفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی بین الاقوامی ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق امور پر کام کرتا ہے۔
دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف وزارتی کانفرنس
‘نو منی فار ٹیرر’ ( این ایم ایف ٹی) وزارتی کانفرنس کا آغاز اپریل 2018 میں پیرس میں ہوا اور اس کا دوسرا مرحلہ نومبر 2019 میں ملبورن میں منعقد ہوا۔ یہ پلیٹ فارم دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔
ملبورن کانفرنس میں ہندوستان کے وفد نے، جس کی قیادت وزیر مملکت نے کی اقوام متحدہ کے جامع بین الاقوامی انسداددہشت گردی معاہدے ( سی سی آئی ٹی) کو جلد اپنانے کا مطالبہ کیا اورفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معیارات کے غیر جانبدار اور غیر سیاسی نفاذ پر زور دیا۔
بھارت نے اس سلسلے کی تیسری کانفرنس کی میزبانی نئی دہلی (18–19 نومبر 2022) میں کی۔ اس موقع پر حکومت نے ہندوستان کی چھ نکاتی انسداد دہشت گردی مالی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانون سازی اور نگرانی کو مضبوط بنانا، انٹیلی جنس کا تبادلہ، جائیدادوں کی ضبطی، نئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال پر روک، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا شامل تھا۔اس کانفرنس میں ترمیم شدہ یو اے پی اے ، مضبوط این آئی اے اور از سرنو منظم مالیاتی انٹیلی جنس نظام کو بھی اجاگر کیا گیا۔
جامع بین الاقوامی انسداددہشت گردی معاہدہ ( سی سی آئی ٹی)
ہندوستان نے سب سے پہلےنومبر 1996 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جامع بین الاقوامی انسداددہشت گردی معاہدہ ( سی سی آئی ٹی) کی تجویز پیش کی تھی اور آج بھی اس کے جلد نفاذ کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک عالمگیر قانونی فریم ورک قائم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں دہشت گردوں کی فہرست میں شمولیت
ایک دہائی سے زائد چینی ویٹو کے بعد ہندوستان نے مئی 2019 میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک اہم سفارتی کامیابی تھی، جس کے نتیجے میں ان پر عالمی سطح پر سفری پابندیاں،اثاثوں کی منجمدی اور اسلحہ پابندیاں عائد ہوئیں۔
تہور راناکی حوالگی (2025)
ایک اہم سفارتی پیش رفت اس وقت ہوئی جب 26/11 ممبئی حملوں کے ملزم تہور حسین رانا کو اپریل 2025 میں امریکہ سے ہندوستان کے حوالے کیا گیا۔ اس اقدام کے ذریعےقومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کو حملے کی مکمل سازش کی دوبارہ جامع تحقیقات کا موقع ملا۔
دوطرفہ اور کثیرالجہتی انسداددہشت گردی تعاون
ہندوستان نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے27 ممالک کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت 5 کثیرالجہتی فورمز — برکس، بی آئی ایم ایس ٹی ای سی-بمسٹیک، یوروپی یونین اور کواڈ-سی ٹی ڈبلیوجی میں فعال طور پر شریک ہے، جبکہ تیونس کے ساتھ ایک علیحدہ دوطرفہ ڈائیلاگ بھی جاری ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان نے اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپس(جے ڈبلیو جیز) کے ذریعے بین الاقوامی انسداددہشت گردی تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے۔2024 میں ہندوستان نے واشنگٹن ڈی سی میں ہندوستان –امریکہ انسداددہشت گردی مشترکہ ورکنگ گروپ کا 20 واں اجلاس اور نئی دہلی میں ہندوستان –برطانیہ انسدادِ دہشت گردی مشترکہ ورکنگ گروپ کا 16 واں اجلاس منعقد کیا۔ان مذاکرات میں دہشت گردی کی مالی معاونت، سرحد پار دہشت گردی، آن لائن انتہا پسندی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق سلامتی کے خطرات جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔
|
انٹرپول کے ساتھ رابطہ و تعاون
بھارت پول پورٹل کا آغاز 7 جنوری 2025 کو کیا گیا۔ یہ ایک مربوط ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے جو سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن ( سی بی آئی) کو، جو ہندوستان میں انٹرپول کے نیشنل سنٹرل بیورو کے طور پر کام کرتا ہے، ملک بھر کی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے ایک ہی پلیٹ فارم پر جوڑتا ہے۔یہ نظام بین الاقوامی نوعیت کے جرائم کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں سرحد پار منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل، سائبر کرائم، معاشی فراڈ، بچوں سے متعلق جنسی استحصال کے جرائم، اور دہشت گردی شامل ہیں۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دہشت گردانہ استعمال کے انسداد سے متعلق دہلی اعلامیہ کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی انسداددہشت گردی کمیٹی ( سی ٹی سی) نے متفقہ طور پر29 اکتوبر 2022 کو منظور کیا۔ یہ خصوصی اجلاس ہندوستان کی CTC کی صدارت کے دوران ممبئی اور نئی دہلی میں منعقد ہوا۔
اس اعلامیہ میں تین اہم خطراتی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی: بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) کا دہشت گردانہ استعمال، معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز، بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال اور ڈجیٹل ذرائع سے دہشت گردی کی مالی معاونت
یہ اعلامیہ ایک غیر لازمی رہنما اصولوں کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاکہ رکن ممالک ڈجیٹل دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں مؤثر حکمت عملی اختیار کر سکیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی کی تمام اقسام عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دہشت گردانہ استعمال کے خلاف مزید عملی سفارشات تیار کی جائیں گی، تاکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مربوط ردعمل تشکیل دیا جا سکے۔
|
ہندوستان کی سفارتی کوششوں نے انسداددہشت گردی کو عالمی ترجیح کے طور پر اجاگر کیا ہے اور دہشت گرد عناصر اور ان کے سرپرستوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنایا ہے۔ کثیرالجہتی فورمز میں مسلسل شمولیت اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ذریعے ہندوستان دہشت گردی کے خلاف عالمی ایجنڈا تشکیل دینے میں ایک مؤثر اور نمایاں آواز کے طور پر ابھرا ہے۔
بارہ برس کی اصلاحات کے نتائج — بڑھتا ہوا اعتماد اور بہتر سلامتی
مسلسل، کثیرالجہتی اور جامع انسداددہشت گردی اقدامات کے نتیجے میں مرکزی حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے اندرونی سلامتی کے ماحول کو مضبوط بنایا ہے اور140 کروڑ عوام کے درمیان اعتماد (وشواس) میں اضافہ کیا ہے۔2014 کے بعد نافذ کی گئی پالیسیوں اور اقدامات کے واضح اور قابل پیمائش نتائج ہر سطح پر سامنے آئے ہیں۔ ملک نے دہشت گردی اور شورش سے متعلق واقعات میں کمی دیکھی ہے، شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اور ترقیاتی سرگرمیوں میں نئی رفتار اور تسلسل پیدا ہوا ہے۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات 2004–2014 کے دوران 7,217 تھے، جو کم ہو کر2014–2024 کے دوران 2,242 رہ گئے۔مزید برآں، دہشت گردی سے شروع ہونے والے واقعات میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو2018 میں 228 سے گھٹ کر2025 میں صرف 12 رہ گئے۔ یہ رجحان ہندوستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کی بڑھتی ہوئی مؤثریت، اور خطہ میں امن و استحکام کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔

دہشت گردی سے متعلق واقعات میں شہری ہلاکتیں بھی نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔2018 میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 55 تھی جو 2025 میں کم ہو کر 28 رہ گئی۔ اسی طرح سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی، 2018 میں 91 سے گھٹ کر 2025 میں صرف 16 رہ گئیں، یعنی 82 فیصد سے زائد کمی۔طویل المدتی رجحان بھی اسی بہتری کی تصدیق کرتا ہے۔2004 سے 2014 کے دوران 1,060 سکیورٹی اہلکاروں نے جان کی قربانی دی، جبکہ 2015 سے 2025 کے درمیان یہ تعداد کم ہو کر542 رہ گئی، جو انسداددہشت گردی کارروائیوں اور فورس پروٹیکشن اقدامات کی بڑھتی ہوئی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔
پتھراؤ کے واقعات جو2010 سے 2014 کے دوران سالانہ اوسطاً 2,654 تھے2020 تک 87 فیصد سے زائد کم ہو گئے اور 2022 کے بعد تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔بہتر سکیورٹی حالات کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں معاشی سرگرمیوں اور عوامی زندگی میں بھی بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس پیش رفت کے تحت63 بڑے ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 80,000 کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے اکیان ہزار (51,000 )کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ 53 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔

جموں و کشمیر میں عوامی زندگی نے معمول کی طرف نمایاں واپسی دیکھی ہے۔ منظم ہڑتالوں اور بندشوں کے واقعات 2018 میں 52 تھے جو 2023 سے اپریل 2026 تک صفر تک آ گئے۔ یہ رجحان خطے میں استحکام اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔بہتر امن و استحکام نے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کیا ہے۔ 2019 سے مئی 2026کے دوران 41,000 سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں خود روزگار اسکیموں کے تحت 9.81 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی۔2024 میں جموں و کشمیر میں 2.3 کروڑ سے زائد سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو اس کی اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ خطے کی سلامتی کی صورتحال پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور امن، استحکام اور معمول کی بحالی کا ایک واضح ثبوت ہے۔

جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں تیزی آئی ہے۔ جہاں گزشتہ سات دہائیوں میں خطے کو تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، وہیں 2016-17 سے 2025-26 کے دوران اکیلے تقریباً18,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بہتر ہوتے ہوئے کاروباری ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک کے اندرونی علاقوں میں دہشت گردی میں کمی — پیشگی روک تھام پر مبنی حکمت عملی
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے اندرونی علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ردعمل کی پالیسی سے ہٹ کر پیشگی روک تھام کی حکمت عملی کو اپنانا ہے۔
مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورکس نے خطرات کی بروقت نشاندہی کو بہتر بنایا ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی نے فوری کارروائی کو ممکن بنایا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور ہدفی کارروائیوں نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کو عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ناکام بنانے میں مدد دی ہے۔ اس روک تھام پر مبنی حکمت عملی نے شہری مراکز میں سلامتی کو مضبوط کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خطرات کو کم کیا ہے۔
سن 2013 کے حیدرآباد دھماکوں کے بعد کے عرصے میں بھارت کے شہری علاقوں میں بڑے دہشت گرد حملوں کا تقریباً مکمل فقدان دیکھا گیا، جو اس سے قبل کے دور کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ سابقہ دہائی میں پارلیمنٹ حملہ، ممبئی ٹرین بم دھماکے، حیدرآباد دھماکے اور 26/11 ممبئی حملے جیسے بڑے واقعات پیش آئے تھے۔
اس دوران داعش سے متاثر متعدد منصوبے قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) اور ریاستی انٹیلی جنس اداروں کی بروقت کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنائے گئے، جس سے بھارت کے انٹیلی جنس پر مبنی انسدادِ دہشت گردی نظام کی مؤثریت واضح ہوئی۔نتیجتاً 2014 سے 2018 کے دوران اندرونی علاقوں میں دہشت گردی کی سطح انتہائی کم رہی اور صرف محدود اور الگ تھلگ واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ مسلسل کمی بہتر پیشگی روک تھام کی صلاحیتوں اور ملک بھر میں سلامتی کے مضبوط باہمی رابطوں کی عکاسی کرتی ہے۔
|
Year
|
Number of Terrorist Attacks
|
Number of Civilians Killed
|
Number of Security Personnel Killed in Action
|
|
2014
|
03
|
04
|
--
|
|
2015
|
01
|
03
|
04
|
|
2016
|
01
|
01
|
07
|
|
2017
|
--
|
--
|
--
|
|
2018
|
01
|
03
|
--
|
مسلسل اصلاحات اور پورے حکومتی نظام پر مبنی جامع حکمت عملی کے ذریعے ہندوستان نے داخلی سلامتی کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات، انتہا پسندی پر مبنی تشدد اور جانی نقصان میں واضح کمی آئی ہے۔ ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے نے عوامی تحفظ کو بہتر بنایا ہے، معاشی ترقی کو سہارا دیا ہے، اور حکومتی نظام پر شہریوں کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔
خلاصہ
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہندوستان نے اپنی انسداددہشت گردی کی حکمت عملی میں ایک جامع اور ہمہ گیر تبدیلی عمل میں لائی ہے، جس کی بنیاد دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے۔ حکومت نے قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنایا، تحقیقاتی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا، اور مختلف سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا تاکہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کا مؤثر خاتمہ ممکن ہو سکے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور ریاستی پولیس فورسز کو جدید ٹیکنالوجی، وسیع تر دائرۂ اختیار اور بہتر فارنسک و انٹیلی جنس صلاحیتوں سے لیس کیا گیا ہے۔ ریئل ٹائم ڈیٹا انضمام کے پلیٹ فارمز اور جدید مواصلاتی نظام نے آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنایا ہے۔ساتھ ہی سفارتی اور کثیرالجہتی تعاون نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور سرحد پار خطرات کے خلاف عالمی سطح پر اشتراک عمل کو مضبوط کیا ہے۔ ان مسلسل اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی، داخلی سلامتی میں بہتری اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔یہ مجموعی حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہندوستان نے ردعمل پر مبنی پالیسی سے آگے بڑھ کر پیشگی روک تھام پر مبنی نظام اختیار کیا ہے، تاکہ قومی سلامتی کو مزید مضبوط، لچکدار اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے ہمہ وقت تیار رکھا جا سکے۔ اس مسلسل عمل نے داخلی اور بین الاقوامی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ملک کی مجموعی مزاحمتی صلاحیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Home Affairs (MHA)
Ministry of Defence
Ministry of External Affairs (MEA)
National Investigation Agency (NIA)
Enforcement Directorate (ED)
PIB Global Affairs
United Nations
Click to See PDF
***
ش ح- ظ الف- م ش
UR-9330
(रिलीज़ आईडी: 2279319)
आगंतुक पटल : 11