صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جے۔پی۔ نڈّا مرکزی کونسل برائے صحت و خاندانی بہبود (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں کانفرنس میں ’’سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم ‘‘ (ایس ایس بی ایس کے) کا افتتاح کریں گے
متحدہ پروگرام ’’پہلے تین سال، مکمل نگہداشت‘‘ کے تصور کے تحت گھر پر نومولود بچوں کی نگہداشت اور کم عمر بچوں کی گھر پر نگہداشت کی خدمات کو ایک مربوط نظام میں یکجا کرے گا
اس پروگرام کے تحت خطرے کی سطح کے مطابق درجہ بند نگہداشت، گھریلو دوروں کی مدت میں توسیع، ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے پرورش پر مبنی نگہداشت، زچگی کے بعد ماؤں کی ذہنی صحت کی جانچ، اور ہر بچے کی انفرادی سطح پر ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
28 JUN 2026 7:12PM by PIB Delhi
ملک میں نومولود اور کم عمر بچوں کی صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر، مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈّا نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہونے والی مرکزی کونسل برائے صحت و خاندانی بہبود (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی سولہویں کانفرنس کے دوران سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کا افتتاح کریں گے۔
اس پروگرام کا آغاز حکومت کے اس عزم کو مزید تقویت دینے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا کہ پیدائش سے لے کر 36 ماہ کی عمر تک ہر بچے کو گھر اور برادری کی سطح پر مسلسل، جامع، آسانی سے دستیاب اور معیاری صحت کی خدمات فراہم کی جائیں۔ سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم ’’پہلے تین سال، مکمل نگہداشت‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنائے گا، جو اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی تین برس اس کی بقا، جسمانی نشوونما، غذائیت اور دماغی ارتقا کے لیے نہایت فیصلہ کن ہوتے ہیں۔
سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) ایک متحدہ قومی پروگرام ہوگا، جس کے تحت برادری کی سطح پر جاری حکومت کی دو اہم اسکیموں—گھر پر نومولود بچوں کی نگہداشت اور کم عمر بچوں کی گھر پر نگہداشت کو ایک جامع نظام کے تحت یکجا کیا جائے گا۔ ان دونوں پروگراموں کے انضمام سے پیدائش سے لے کر زندگی کے پہلے تین برس تک بچوں کی مسلسل نگہداشت یقینی بنائی جائے گی، جس کے ذریعے بچوں کی بقا، بہتر غذائیت، صحت مند جسمانی نشوونما اور ابتدائی بچپن کی متوازن ترقی کو مربوط انداز میں فروغ دیا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت پہلی مرتبہ ایسے نومولود اور بچوں کے لیے، جنہیں ’’زیادہ خطرے سے دوچار‘‘ قرار دیا جائے گا، خطرے کی شدت کے مطابق درجہ بند نگہداشت کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ ان بچوں کی حالت کے مطابق ان کی خصوصی نگرانی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق اضافی گھریلو دورے کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کے تحت زیادہ خطرے سے دوچار نومولود بچوں کے لیے پیدائش کے بعد ابتدائی 42 دنوں کے دوران زیادہ سے زیادہ نو گھریلو دوروں کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ زیادہ خطرے سے دوچار بچوں کے لیے 36 ماہ کی عمر تک زیادہ سے زیادہ آٹھ گھریلو دورے کیے جائیں گے۔
یہ پروگرام مسلسل اور مربوط نگہداشت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تسلیم شدہ سماجی صحت کارکنان (آشا)، معاون نرس دائیوں (اے این ایم)، کمیونٹی ہیلتھ افسران (سی ایچ او) اور آنگن واڑی کارکنان (اے ڈبلیو ڈبلیو) کے مشترکہ گھریلو دوروں کو فروغ دے گا۔ اس کے علاوہ ہر دیہی صحت، صفائی اور تغذیہ کے دن کے موقع پر صحت مند شیر خوار بچوں کے خصوصی سیشن اور آیوشمان آروگیہ مندروں میں ہر ماہ شِشو شِور کا انعقاد کیا جائے گا، تاکہ زیادہ خطرے سے دوچار بچوں کی بروقت شناخت، جانچ اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔
سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کے تحت زچگی کے بعد ماؤں کی ذہنی صحت کی جانچ کو برادری کی سطح پر فراہم کی جانے والی نگہداشت کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہر گھریلو دورے اور برادری سے رابطے کے دوران ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے پرورش پر مبنی نگہداشت کو فروغ دیا جائے گا، جس میں بچوں کی ضروریات کے مطابق والدین کی بروقت توجہ، ابتدائی تعلیم، عمر کے لحاظ سے موزوں کھیل، بچوں کی حفاظت اور خاندان کی فعال شمولیت پر خصوصی زور دیا جائے گا۔
یہ پروگرام نگرانی اور مسلسل نگہداشت کو مؤثر بنانے کے لیے فیصلہ ساز معاون نظام، بچوں کی ڈیجیٹل نگرانی کی ایپلی کیشنز، مؤثر حوالہ جاتی نظام اور بروقت انتباہی نظام جیسی جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں سے استفادہ کرے گا۔ ان نظاموں کو جننی پورٹل، یو-وِن پورٹل، ایم پی سی ڈی ایس آر پورٹل، آر بی ایس کے 2.0 پورٹل اور پوشن ٹریکر کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، تاکہ آبھا (اے بی ایچ اے) اور بال-آبھا شناختی نمبروں کے ذریعے معلومات کا بلا رکاوٹ تبادلہ اور صحت کی خدمات کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں، خصوصاً کچی آبادیوں، مہاجر آبادیوں اور دیگر محروم طبقات کے لیے بھی گھر پر فراہم کی جانے والی نگہداشت کی خصوصی حکمتِ عملی وضع کی جائے گی۔
رہنما ہدایات میں ڈیجیٹل دور کے نئے چیلنجوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے تحت زندگی کے ابتدائی تین برسوں میں عمر کے مطابق کھیل، جسمانی سرگرمی اور ذہنی نشوونما کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ اس امر پر بھی زور دیا جائے گا کہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال اور جسمانی میل جول میں کمی کے باعث بچوں کی دماغی نشوونما، جذباتی صحت اور سماجی صلاحیتوں پر پڑنے والے منفی اثرات سے بچاؤ ضروری ہے۔
سمگر شِشو بال صحت کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کا آغاز اس امر کا اعادہ ہے کہ حکومت ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کے ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ماں اور ہر بچے کو آسانی سے دستیاب، مساوی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9266
(रिलीज़ आईडी: 2278657)
आगंतुक पटल : 8