شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دو ہزار چھبیس چار دھام ہیلی کاپٹر آپریشن کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا


سیفٹی پروٹوکول کی سختی سے تعمیل نے حادثات سے پاک آپریشن کو یقینی بنایا

प्रविष्टि तिथि: 27 JUN 2026 8:14PM by PIB Delhi

وزارت شہری ہوا بازی نے چار دھام یاترا 2026 کے پہلے مرحلے کے دوران ہیلی کاپٹر آپریشن کے محفوظ اور کامیاب انعقاد کا فخر کے ساتھ نوٹس لیا ہے، جو زائرین کے لیے محفوظ، ہموار اور قابل اعتماد فضائی رابطہ یقینی بنانے کے حکومت کے غیر متزلزل عزم کی توثیق کرتا ہے۔

ہیلی کاپٹر آپریشن کا پہلا مرحلہ اپریل 2026 میں چار دھام یاترا کے آغاز کے ساتھ شروع ہوا اور 26 جون 2026 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران روزانہ تقریباً 400 ہیلی کاپٹر پروازیں چلائی گئیں۔ مجموعی طور پر 12,032 شٹل روانگیوں کے ذریعے 67,064 زائرین کے سفر کو سہولت فراہم کی گئی، جبکہ اضافی 2,065 چارٹر آپریشن کے ذریعے 11,715 زائرین کو خدمات فراہم کی گئیں، جس سے چار دھام سیکٹر میں محفوظ، قابلِ اعتماد اور مؤثر رابطہ یقینی بنایا گیا۔

اس سال کے آپریشن کے کامیاب انعقاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو نے کہا، "وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہماری حکومت نے اس بات کو خصوصی ترجیح دی ہے کہ چار دھام یاترا کرنے والا ہر عقیدت مند زیادہ آسانی، سہولت اور تحفظ کے ساتھ سفر کر سکے۔ ہماری اولین ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر زائر اس مقدس یاترا کو مکمل تحفظ اور اعتماد کے ساتھ مکمل کرے۔ اس سال کی یاترا کے آغاز سے کافی پہلے تمام متعلقہ فریقوں جیسے ڈی جی سی اے، ہیلی کاپٹر آپریٹر اور یوکاڈا کے ساتھ قریبی تعاون میں مختلف سطحوں پر مسلسل جائزے لیے گئے۔ میں خاص طور پر وزیر اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی کے فعال تعاون کو سراہتا اور اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے جامع تیاریوں کو یقینی بنایا۔“

چار دھام ہیلی کاپٹر آپریشن ملک کے ان مشکل ترین فضائی ماحول میں انجام دیے جاتے ہیں جہاں دشوار گزار پہاڑی علاقے، تیزی سے بدلتے موسمی حالات، تنگ وادیاں، محدود آپریٹنگ اوقات اور ہیلی کاپٹر ٹریفک کی زیادہ کثافت آپریشنل منصوبہ بندی اور ضابطہ جاتی نگرانی کے اعلیٰ ترین معیار کا تقاضا کرتے ہیں۔

ہمالیائی خطے میں ہیلی کاپٹر خدمات سے وابستہ منفرد آپریشنل چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزارت نے اس سال کے یاترا سیزن کے آغاز سے کافی پہلے وسیع پیمانے پر تیاریوں کا آغاز کر دیا تھا۔

مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو نے ذاتی طور پر متعدد اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاسوں کی صدارت کی تاکہ آپریشنل تیاری اور حفاظتی اقدامات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ ان اجلاسوں میں وزارت شہری ہوا بازی، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی، محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی)، ہیلی کاپٹر آپریٹر اور حکومت اتراکھنڈ کے سینیئر حکام نے شرکت کی، تاکہ آپریشنل طریقۂ کار، حفاظتی پروٹوکول، موسمی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے نظام پر مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔

وزارت شہری ہوا بازی کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا اور حکومت اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری جناب آنند بردھن کی مشترکہ صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں یاترا کے لیے جامع حفاظتی فریم ورک کو حتمی شکل دی گئی۔ یاترا کے پورے سیزن کے دوران مسلسل نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی قیادت میں ہفتہ وار جائزہ اجلاسوں کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا گیا، جس کے ذریعے آپریشنل مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا گیا۔

جناب رام موہن نائیڈو نے مزید کہا، ”گزشتہ سیزن میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے بعد ہم نے ہیلی کاپٹر آپریشن کے ہر پہلو کا جامع جائزہ لیا۔ ہم نے بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی، ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنایا، فضائی ٹریفک کے رابطہ نظام کو بہتر کیا، آپریشنل بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا اور تمام متعلقہ فریقوں کو ایک مشترکہ مقصد — فضائی تحفظ — کے تحت ہم آہنگ کیا۔“

وزارت نے ایک کثیر سطحی حفاظتی حکمت عملی اختیار کی، جس میں فضائی ٹریفک مینجمنٹ، نگرانی، مواصلاتی نظام، موسمی نگرانی، پائلٹس کی مہارت، بنیادی ڈھانچے میں اضافہ اور آپریشنل نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا۔

بہتر حفاظتی فریم ورک کے تحت ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) نے وادی کے مختلف حصوں میں ہیلی کاپٹروں کی منظم نقل و حرکت کے لیے مخصوص کے-روٹس کی اشاعت کے عمل کو تیز کیا۔ اے اے آئی نے سہسترادھارا اور سرسی میں ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) خدمات کو فعال بنایا، جہاں ایئر ٹریفک کنٹرول اور کمیونیکیشن، نیویگیشن و سرویلنس (سی این ایس) عملے کو حکمت عملی کے تحت تعینات کیا گیا۔ بدری ناتھ اور کیدارناتھ میں مستقل اے ٹی سی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے زمین کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر آپریشن کے محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عارضی آپریشنل سہولیات قائم کر دی گئی ہیں۔

آپریشنل نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے یوکاڈا نے نگرانی کی تیاری کے منصوبے کے تحت اہم مقامات پر 33 پی ٹی زیڈ (پین-ٹِلٹ-زوم) کیمرے نصب کیے۔ سہسترادھارا اور سیتاپور میں دو انٹیگریٹڈ کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (آئی سی سی سی سیز) کو فعال بنایا گیا ہے تاکہ ہیلی پیڈ آپریشن، ہیلی کاپٹر ٹریکنگ اور موسمی نگرانی کی مرکزی سطح پر مانیٹرنگ کی جا سکے۔

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے موسمی نگرانی کی صلاحیتوں کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ موسمی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیتاپور، کیدارناتھ، بدری ناتھ، جھالا اور کھرسالی میں پانچ آٹومیٹک ویدر آبزرویشن سسٹم (اے ڈبلیو او ایس) اور سیلومیٹر نصب کیے گئے ہیں۔ ایئر ٹریفک کنٹرول افسران نے تمام ہیلی کاپٹر آپریٹروں کو موجودہ اور متوقع موسمی معلومات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا۔

چار دھام یاترا کے دوران آپریشن کرنے والے ہر ہیلی کاپٹر کو ہیلی کاپٹر ٹریکنگ ڈیوائس سے لیس کیا گیا تھا، جس کے ذریعے آئی سی سی سی کے توسط سے مسلسل مرکزی نگرانی ممکن بنائی گئی۔ مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تین اضافی ویری ہائی فریکوئنسی (وی ایچ ایف) کمیونیکیشن سیٹ حاصل کیے گئے، جنہیں موجودہ مواصلاتی نظام کے ساتھ شامل کیا گیا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے ضابطہ جاتی نگرانی کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا، جس کے تحت اہم ہیلی پیڈ پر خصوصی فلائٹ آپریشن اور ایئر ورتھینس ٹیمیں تعینات کی گئیں تاکہ مسلسل نگرانی، اچانک معائنوں اور حفاظتی آڈٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پائلٹوں کے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) کی روزانہ نگرانی بھی کی گئی تاکہ تھکن سے متعلق آپریشنل خطرات کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

ہمالیائی علاقوں میں ہیلی کاپٹر آپریشن کی دشوار نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ڈی جی سی اے نے پائلٹوں کی اہلیت کے معیار کو مزید سخت کیا۔ چار دھام یاترا کے دوران خدمات انجام دینے والے پائلٹوں کے لیے کم از کم 750 گھنٹے کی پہاڑی پرواز کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 100 گھنٹے کی پرواز اور کیدارناتھ میں کم از کم 10 ٹیک آف اور لینڈنگ شامل تھیں، تاکہ صرف تجربہ کار پائلٹ ہی دشوار گزار علاقوں میں آپریشن کریں۔

حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے کئی اضافی آپریشنل اقدامات بھی متعارف کرائے گئے۔ ہیلی کاپٹر خدمات میں مسافروں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ مجاز گنجائش کے 70 فیصد تک محدود رکھا گیا۔ چارٹر آپریشنوں کے لیے مناسب حد مقرر کی گئی، ہائی ٹینشن بجلی کی لائنوں پر ہوا بازی کے حفاظتی نشانات اور وارننگ غبارے نصب کیے گئے تاکہ پائلٹوں کی بصری رہنمائی بہتر ہو سکے، جبکہ تمام آپریشنل ہیلی پیڈ پر مشترکہ گراؤنڈ ہینڈلنگ اور ہجوم کے نظم و نسق کا نظام نافذ کیا گیا تاکہ مسافروں کی نقل و حرکت زیادہ ہموار ہو اور زمینی سطح پر بہتر ہم آہنگی قائم رکھی جا سکے۔

مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی جناب رام موہن نائیڈو نے مزید کہا، ”فضائی تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ہم نے حفاظتی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہے۔ مزید یہ کہ جب لاکھوں عقیدت مند مقدس چار دھام یاترا انجام دے رہے ہوں تو تحفظ مکمل طور پر ناگزیر بن جاتا ہے۔“

وزارت شہری ہوا بازی ملک بھر میں ہیلی کاپٹر سیفٹی کو مسلسل مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ چار دھام یاترا 2026 کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشنز کے پہلے مرحلے کا کامیاب انعقاد، ملک کے مشکل ترین فضائی ماحول میں بھی حفاظتی معیارات پر غیر متزلزل عمل درآمد کی ایک نمایاں مثال ہے۔

***

ش ح۔ ف ش ع

U: 9253


(रिलीज़ आईडी: 2278545) आगंतुक पटल : 2
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , Marathi , हिन्दी