بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سربانند سونووال نے گوا میں کیپٹن آف پورٹس کی نئی ٹرمینل عمارت کا افتتاح کیا، گوا واٹر میٹرو کو پہلے مرحلے میں ترجیح دینے کا اعلان


سربانند سونووال نے کہا کہ میری ٹائم بورڈ، جہاز سازی کی پالیسی اور جامع ماسٹر پلان کے ساتھ گوا کے بحری ترقیاتی روڈ میپ کو نئی رفتار مل رہی ہے

مورموگاؤ بندرگاہ نے گرین پورٹ کا درجہ حاصل کر کے اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے نئی مثال قائم کی

प्रविष्टि तिथि: 27 JUN 2026 3:17PM by PIB Delhi

مورخہ26جون کو بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر(ایم او پی ایس ڈبلیو)جناب سربانند سونووال نے پناجی میں گوا کے کیپٹن آف پورٹس کی نئی ٹرمینل عمارت کا افتتاح کیا۔ 48.87 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی یہ جدید واٹر فرنٹ عمارت بحری انتظامیہ کو مضبوط بنانے، جہازوں کی نگرانی اور نیوی گیشن کو بہتر بنانے اور ریاست کے پائیدار بحری ترقی کے وژن کو فروغ دینے کے مقصد سے تعمیر کی گئی ہے۔

گوا اسٹیٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن(جی ایس آئی ڈی سی)کی جانب سے تعمیر کردہ جی پلس 3منزلہ اس عمارت کا رقبہ 4,405 مربع میٹر سے زائد ہے۔ یہ عمارت کیپٹن آف پورٹس کے موجودہ دفتر کی جگہ لے گی، جو محکمہ کی بڑھتی ہوئی انتظامی اور عملی ضروریات کے لیے ناکافی ہو چکا تھا۔ دریا کے کنارے لنگر انداز جہاز کی طرز پر ڈیزائن کی گئی یہ عمارت دریائے منڈوی کے کنارے واقع ہے اور اسے ایک انتظامی مرکز کے ساتھ ساتھ گوا کے بحری ورثے کی علامت کے طور پر بھی تیار کیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب میں گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت، بجلی اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت شری پد نائک، گوا کے وزیر برائے کیپٹن آف پورٹس دگمبر کامت، گوا کے وزیر برائے دریائی نیوی گیشن سبھاش پھل دیسائی، ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، سینئر سرکاری افسران اور بحری شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب سربانند سونووال نے کہا کہ یہ نئی عمارت محض ایک سرکاری دفتر نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ آج ہم صرف ایک عمارت ملک کے نام نہیں کر رہے بلکہ گوا کی بحری شناخت، جدیدیت سے اس کے عزم اور عوام پر مبنی، پائیدار مستقبل کے وژن کی ایک علامت پیش کر رہے ہیں۔‘‘

دریا کے کنارے مضبوطی اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اس عمارت کی بنیاد پائل فاؤنڈیشن پر رکھی گئی ہے اور اسے اسٹیل اور مضبوط کنکریٹ کے مرکب ڈھانچے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ کیپٹن آف پورٹس محکمہ کے دفاتر کے علاوہ اس میں جدید مسافر سہولیات، دو منزلہ عوامی لابی، کانفرنس ہال، میرین اور ہائیڈروگرافک دفاتر، نیوی گیشن کنٹرول انفراسٹرکچر، ریڈیو کمیونیکیشن سینٹر اور دیگر عوامی سہولیات بھی شامل ہیں۔ عمارت میں تقریباً 450 افراد کی بیٹھنے کی گنجائش والا چھت پر واقع ایمفی تھیٹر، ایک اندرونی ریستوران اور کھلی چھت بھی تعمیر کی گئی ہے، تاکہ یہاں عوامی اور بحری تقریبات منعقد کی جا سکیں اور محکمہ کے لیے اضافی آمدنی کے مواقع بھی پیدا ہوں۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے بحری شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے جناب سونووال نے کہا کہ ملک کی بندرگاہوں کی مجموعی صلاحیت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جبکہ جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ کا وقت 95 گھنٹوں سے کم ہو کر 41 گھنٹے رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی ملاحوں کی تعداد 3.23 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، ساحلی مال برداری دوگنے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، کروز مسافروں کی تعداد میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ فعال قومی آبی گزرگاہوں کی تعداد 3 سے بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجموعی ٹن  کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جہاز ری سائیکلنگ ملک بن کر ابھرا ہے، جو ماحول کے لیے سازگار  اور عالمی معیار کے مطابق بحری سرگرمیوں کے لیے ملک کے عزم کا مظہر ہے۔

مرکزی وزیر نے بحری اصلاحات کے شعبے میں گوا حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان لینڈ ویسلز ایکٹ 2021 نافذ کرنے والی گوا پہلی ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ گوا میری ٹائم بورڈ، گوا شپ بلڈنگ اینڈ شپ ریپیئر پالیسی اور میری ٹائم ماسٹر پلان ریاست کے بحری ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کریں گے۔

جناب سونووال نے مورموگاؤ پورٹ اتھارٹی میں تیز رفتار ترقی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے اب تک 1,300 کروڑ روپے سے زائد کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2,000 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں برتھ نمبر 9 کی ازسرنو تعمیر، واسکو بے پروجیکٹ کے تحت نئی ماہی گیری بندرگاہ، گہرے مسودے (ڈیپ ڈرافٹ) والے برتھس کے لیے کیپیٹل ڈریجنگ اور جدید سی فیئررز کلب شامل ہیں۔ مورموگاؤ بندرگاہ ملک کی پہلی گرین پورٹ بن چکی ہے اور گرین شپ انسینٹو متعارف کرانے والی بھی پہلی بندرگاہ ہے۔

ایک اہم اعلان کرتے ہوئے جناب سونووال نے کہا کہ مجوزہ گوا واٹر میٹرو منصوبے کو اب پہلے مرحلے کی ترجیحی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’گوا کی آبی گزرگاہوں میں ماحول کے لیے سازگار ، مؤثر اور پائیدار شہری آمد ورفت  کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں مجھے یقین ہے کہ یہ انقلابی منصوبہ جلد حقیقت کی شکل اختیار کرے گا  اور ریاست میں سیاحت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔‘‘

مرکزی وزیر نے کیپٹن آف پورٹس محکمہ کی جانب سے جدید تیرتی جیٹیوں، مسافر ٹرمینلز اور بہتر نیوی گیشنل حفاظتی نظام کے ذریعے دریائی نقل و حمل کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا، جس سے ریاست بھر میں رابطہ اور مسافروں کی سہولت میں اضافہ ہوا ہے۔

گوا انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم ایکسی لینس (جی آئی ایم ای)کے قیام پر گوا حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب سربانند سونووال نے کہا کہ یہ ادارہ بحری تعلیم، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی تربیت، جہاز رانی، بحری تحفظ، واٹر اسپورٹس اور مہارتوں کی ترقی کا ایک ممتاز مرکز بن کر ابھرے گا۔

وزیر موصوف نے گوا کے بحری عزائم کی تکمیل کے لیے وزارت کے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت عالمی معیار کا بحری بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے ریاستی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔

توقع ہے کہ کیپٹن آف پورٹس ٹرمینل عمارت گوا میں دریائی نیوی گیشن انتظامیہ کا مرکزی اعصابی مرکز (نرو سینٹر) بننے کے ساتھ ساتھ ریاست کے صدیوں پرانے بحری ورثے کی عکاسی کرنے والی ایک نمایاں تعمیراتی علامت بھی ثابت ہوگی۔ یہ منصوبہ حکومتِ ہند کے ساگرمالا پروگرام اور میری ٹائم انڈیا وژن 2030 کے وسیع تر وژن سے بھی ہم آہنگ ہے، جن کا مقصد ساحلی رابطے کو مضبوط بنانا، لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

*********

ش ح-ا ع خ    ۔ر  ا

U-No- 9242


(रिलीज़ आईडी: 2278431) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Tamil