جل شکتی وزارت
پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے نےسجل گرام سموادکے آٹھویں ایڈیشن کی میزبانی کی
سجل گرام سمواد نے پنچایتوں کو طویل مدتی آبی تحفظ کے لیے بااختیار بنایا اور دیہی علاقوں میں پانی کی کامیابیوں کا جشن منایا
प्रविष्टि तिथि:
25 JUN 2026 5:10PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے تحت پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے(ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے آج کثیر لسانی’سوجل گرام سمواد‘ کے آٹھویں ایڈیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا، جو جل جیون مشن 2.0 کے تحت کمیونٹی کی قیادت میں پانی کے انتظام سے متعلق حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
یہ سمواد پینے کے پانی اور صفائی کے محکمے کے تحت منعقد کیا گیا اور اس کی صدارت جناب کمل کشور سوان، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، نیشنل جل جیون مشن نے کی۔ اس موقع پر محکمے کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔یہ اقدام دیہی سطح پر پانی کے انتظام، پائیدار آبی تحفظ اور پنچایتوں کی فعال شمولیت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سجل گرام سموادکے آٹھویں ایڈیشن میں5؍گرام پنچایت ہیڈکوارٹروں میں گاؤں کی سطح پر تبادلۂ خیال کے سیشن منعقد کیے گئے۔ اس سمواد میں ورچوئل تعامل کے دوران تین ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جو کمیونٹیز اور سرکاری افسران دونوں کی بھرپور شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔اس کے علاوہ دیہاتی افراد بڑی تعداد میں گرام پنچایت (جی پی ) سطح پر ان تعاملات میں شامل ہوئے، جن میں گرام پنچایت کے نمائندے، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) کے ارکان، کمیونٹی کے شرکاء، جل دوتس، آنگن واڑی کارکنان، پانی کے معیار کی تربیت یافتہ خواتین اور پنچایتوں کے فرنٹ لائن عملہ شامل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلع کلکٹرز؍ضلع مجسٹریٹ؍ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹی یشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے افسران اور ریاستوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
نیشنل جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوان نے اپنے ابتدائی کلمات میں دیہی گھروں تک پائپ کے ذریعہ پینے کے صاف پانی کی بروقت اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے میں گرام پنچایتوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2019 سے ہندوستان نے گھریلو سطح پر پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کو ترجیح دی ہے اور آج 6 لاکھ سے زائد دیہات جل جیون مشن کے تحت شامل کیے جا چکے ہیں، جو پنچایتوں، گرام سبھاؤں، اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جی) اور مقامی آپریٹرز (نل جل میترز) کی فعال شرکت سے ممکن ہوا ہے۔
جناب کمل کشور سوان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پینے کے پانی کے جو نظام بنائے جا رہے ہیں ان کا مقصد اگلے 25 سے 30 سالوں تک برادریوں کی خدمت کرنا ہے۔ اس لیے پنچایتوں کو پانی کے ذرائع کے پائیدار رہنے اور ان کے تحفظ، بروقت دیکھ بھال اور انتظام، پانی کے ضیاع کو روکنے اور مرمت اور نگرانی کے لیے مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ’اسٹاپ ڈائریا مہم‘کے ملک گیر آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ہر گھر میں پینے کے محفوظ پانی کو یقینی بنانے، دست (ڈائریا) اور پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں کو روکنے کے لیے پانی کے معیار کی باقاعدگی سے جانچ کی اہمیت پر زور دیا۔ مانسون کے جاری رہنے کے پیش نظر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے پانی کے ذرائع کی کڑی نگرانی، کسی بھی قسم کی آلودگی کا فوری علاج، اور تربیت یافتہ خواتین اور سماجی رضاکاروں کی فعال شرکت انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے ریاستی حکام اور گرام پنچایت کے نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے جل جیون مشن(جے جے ایم) کے تحت مالی اور منصوبہ بندی سے متعلق انتظامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 15ویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹ کی مدت کار مارچ 2026 میں مکمل ہو چکی ہے اور اب 16ویں مالیاتی کمیشن کے تحت کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے تحت انہوں نے تمام گرام پنچایتوں اور ضلعی حکام پر زور دیا کہ وہ حکومت ہند کی ہدایت کے مطابق گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلانز(جی پی ڈی پیز) تیار کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کے تحت فنڈز کے اجرا کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ جی پی ڈی پیز کو 15 اگست 2026 تک بروقت مکمل کیا جائے۔
گرام پنچایتوں کی آوازیں
چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کی پانچ گرام پنچایت کےہیڈکوارٹر میں دیہاتوں میں گاؤں کی سطح پربات چیت کے سیشنز منعقد کیے گئے۔ اس سمواد نے علاقائی زبانوں میں بات چیت کے اپنے اختراعی ماڈل کو جاری رکھا، جس کے ذریعے دیہاتیوں کو جل جیون مشن اور اس سے متعلقہ اقدامات میں اپنی کامیابیوں اور چیلنجز کو اپنی مادری زبان میں بیان کرنے کا موقع ملا۔ اس میں آسامیہ، کنڑ، ہریانوی، بنگالی اور ہندی جیسی زبانوں میں رابطہ شامل تھا۔ علاقائی لہجے میں مؤثر رابطے کو فروغ دینے کے سبب یہ سمواد منفرد ثابت ہوا۔
جی پی-مررووبوری، ضلع موریگاؤں، آسام:جی پی مررووبوری کے نمائندگان کے ساتھ آسامیہ زبان میں ہونے والی گفتگو کے دوران گرام پنچایت کے اراکین اور اپنی مدد آپ گروپس(ایس ایچ جی) کے کارکنان نے جل جیون مشن کے تحت حاصل ہونے والے نمایاں فوائدسے متعلق مطلع کیا۔ ایس ایچ جی کارکنان نے گاؤں کی تمام کنبوںکو محفوظ اور صاف پینےکا پانی فراہم کرنے کے لیے گرام پنچایت کی سطح پر کیے گئے کاموں کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس(ایف ٹی کیز) کے ذریعے پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے، ساتھ ہی کمیونٹی میٹنگز میں نتائج کا جائزہ لیا جاتا ہے اور نتائج کو بروقت ’سہایک‘ کو بھی جمع کرایا جاتا ہے۔ اس دوران دیہاتیوں نے یہ بھی بتایا کہ باقاعدہ رابطہ اجلاسوں میں پنچایت صدر، اسکول ٹیچر،وی ڈبلیو ایس سی اور جی پی ڈی سی کے اراکین شامل ہوتے ہیں تاکہ مقامی مسائل کو حل کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ضلع اور ریاستی افسران نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کے نظام میں موجود مسائل کو حل کرنے اور گرام پنچایتوں (جی پی ) اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی ) کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے آپریشن و مینٹیننس (اور اینڈ ایم) سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کے فنڈز کے حصول کے لیے ضلعی امپروومنٹ پلانز اور گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈی پی) کو بروقت مکمل کیا جائے۔
گرام پنچایت ڈوڈا جالا، ضلع اربن بنگلورو، کرناٹک:گرام پنچایت کے نمائندوں نے وزارت جل شکتی کے دفتر سے وابستہ افسر کے ساتھ کنڑ زبان میں تبادلۂ خیال کیا اور بتایا کہ جل جیون مشن ( جے جے ایم) کے تحت گرام پنچایت کے تمام گھروں کو فعال گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کر دیے گئے ہیں، جس سے پینے کے پانی کی مناسب مقدار اور معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔دیہاتیوں نے اس اسکیم کی کامیابی کا سہرا کمیونٹی کی فعال شمولیت اور اجتماعی تعاون کو دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال اور آپریشن و مینٹیننس ( او اینڈ ایم) کے لیے ہر گھر سے ماہانہ 50 روپے صارف فیس وصول کی جا رہی ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کچھ افراد کی جانب سے کنٹرول والوز میں غیر مجاز چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے، جس کے باعث نیٹ ورک کے آخری حصے میں رہنے والے گھروں تک پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی ہے۔
تبادلہ خیال کے دوران ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) اور اسٹیٹ واٹر اینڈ سینیٹ یشن مشن (ایس ڈبلیو ایس ایم) کے افسران نے بتایا کہ جل جیون مشن (جے جے ایم) پر عملدرآمد بتدریج مستحکم انداز میں جاری ہے، کئی دیہات میں کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی منصوبے بھی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عملی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دیہاتیوں کے فائدے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور جل سیوا آکانلن کے تحت جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ دیہات میں جل ارپن کی باقاعدہ حوالگی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
جناب کمل کشور سوان نے کرناٹک کے ریاستی افسران کو مبارکبادپیش کی کہ وہ جل سیواآنکلن میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں میں شامل ہیں اور انہوں نے ریاست کو ہدایت دی کہ وہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے جذبے کو برقرار رکھے۔

گرام پنچایت امرپور، ضلع پلول، ہریانہ:گرام پنچایت امرپور کے دیہی نمائندوں سے ہریانوی زبان میں ہونے والے تبادلۂ خیال کے دوران بتایا گیا کہ باقاعدہ صارف چارجز (عام گھروں کے لیے 40 روپے اور ایس سی/بی سی گھروں کے لیے 20 روپے) وصول کیے جا رہے ہیں، جنہیں پائپ لائن کی دیکھ بھال اور لیکج کی مرمت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ پانی کی فراہمی کے نظام کی پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت مضبوط کمیونٹی لیڈ واٹر مینجمنٹ کے باعث ماہانہ 7,000 سے 8,000 روپے کی وصولی آسانی سے ممکن ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماہ میں دو مرتبہ پانی کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے اور ہر ماہ گاؤں کے افراد کے ساتھ میٹنگ منعقد کر کے پانی کے تحفظ اور بچت کے بارے میں آگاہی پیدا کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ گاؤں کی خواتین نے بتایا کہ پانی کی اصل محافظ ہونے کے ناطے وہ پانی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہیں اور گھر گھر جا کر باہمی رابطے کے ذریعے لوگوں کو پانی کے دانشمندانہ استعمال، بچت اور تحفظ کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔ انہوں نے استعمال شدہ پانی کے دوبارہ استعمال اور آبی وسائل کی پائیداری کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
پلو ل کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر جیندر سنگھ چھیلّر نے کہا کہ امرپور ایک مثالی گرام پنچایت ہے، جسے پہلے ہی او ڈی ایف پلس قرار دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر اس گاؤں کو او ڈی ایف پلس سے آگے بڑھا کر ‘واٹر پلس‘درجہ تک لے جانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ریاستی افسران نے بتایا کہ ہریانہ کی آپریشن اینڈ مینٹی ننس (او اینڈایم) پالیسی کو گرام پنچایت کی قیادت میں واٹر سپلائی اسکیموں کے انتظام کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 400 سے زائد گرام پنچایتیں کمیونٹی لیڈ آپریشن کے لیے ایم او یوز پر دستخط کر چکی ہیں، جنہیں پانی کے چارجز کی وصولی سے منسلک مالی مراعات کی مدد حاصل ہے۔

گرام پنچایت رتن پور، ضلع ساؤتھ تریپورہ، تریپورہ:رتن پور کے گاؤں کے اراکین نے بنگلہ زبان میں تبادلہ خیال کیا۔ویلیج واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی) کے مستفیدین نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت گاؤں کے تمام گھروں، آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں کو نل کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔مقامی افراد نے اس بات کی تصدیق کی کہ بورویل کے ذریعے پانی کی باقاعدہ، مناسب مقدار اور معیاری فراہمی دستیاب ہے، جس سے پہلے پانی لانے کے لیے دور دراز جانے کی مشکل ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرام پنچایت میں شکایات کا رجسٹر موجود ہے، جس میں آپریٹرز خرابیوں کو نوٹ کرتے ہیں اور معمولی مسائل کو مقامی سطح پر 2 سے 3 دن کے اندر حل کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پانی کے معیار کی ماہانہ جانچ کی جاتی ہے اور گھروں سے نمونے لیے جاتے ہیں۔ وی ڈبلیو ایس سی کے ارکان فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس (ایف ٹی کے) استعمال کر کے نتائج درج کرتے ہیں۔ اسکول کے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ اسکول کے احاطے میں پینے کے پانی کی سہولت اور علیحدہ بیت الخلا موجود ہیں۔
جنوبی تریپورہ کے ضلع مجسٹریٹ و کلکٹر نے بتایا کہ ضلعی امپروومنٹ پلان میں رتن پور کا ولیج ایکشن پلان شامل کیا گیا ہے، جسے اب ای-گرام سوراج کے ذریعے گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے (جی پی ڈی پی) میں کامیابی سے ضم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جل اتسو اور جل ارپن کی سرگرمیاں مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ نل جل میتر تربیتی پروگرام بھی تمام گرام پنچایتوں میں جاری ہے۔
ریاستی واٹر اینڈ سینی ٹیشن مشن (ایس ڈبلیو ایس ایم) کے افسر نے بتایا کہ وسیع پیمانے پر انفارمیشن، ایجوکیشن اینڈ کمیونی کیشن (آئی ای سی) منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے، ریاست، ضلع اور سب ڈویژن سطح پر این اے بی ایل سے تسلیم شدہ فعال لیبارٹریاں موجود ہیں اور نل جل میترز کی تربیت کا عمل مسلسل جاری ہے۔

گرام پنچایت گندھیال، ضلع کرگل، لداخ:گندھیال کے گاؤں کے نمائندوں نے نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے افسر کے ساتھ ہندی زبان میں تبادلۂ خیال کیا۔ اس دوران جل جیون مشن کے انقلابی اثرات کو اجاگر کیا۔ مستفید افراد نے ان مشکلات کو یاد کیا جو مشن کے نفاذ سے پہلے انہیں درپیش تھیں، جب خواتین کو پانی لانے کے لیے 7 سے 10 کلومیٹر تک پیدل جانا پڑتا تھا اور سردیوں میں درجہ حرارت منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے پر برف توڑ کر پانی حاصل کرنا پڑتا تھا۔ جل جیون مشن کی مداخلت کے بعد اب ہر گھر، آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں تک نل کنکشن پہنچ چکے ہیں، جس سے روزمرہ کی مشقت ختم ہو گئی ہے اور باقاعدہ و مناسب پانی کی فراہمی یقینی بن گئی ہے۔
دیہاتیوں نے سخت موسمی حالات کے مطابق تکنیکی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں پائپ لائنوں کو فراسٹ لائن سے نیچے بچھانا، پتھریلے علاقوں میں انسولیشن،خراب پانی کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کےلیےسوک پٹس اور قدرتی چشموں کی نشاندہی شامل ہے۔ گرام پنچایت نے آلات حاصل کیے اور مقامی افراد کو تربیت دی۔ پانچ آپریٹرز اور تربیت یافتہ خواتین فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے دو ماہ بعد پانی کی جانچ کرتی ہیں اور نمونے ضلعی لیبارٹریوں کو بھیجتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وقف شدہ واٹس ایپ گروپ اور شکایات رجسٹر کے ذریعے فوری حل کو یقینی بنایا جاتا ہے اور معمولی خرابیاں چند دنوں میں ٹھیک کر دی جاتی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر و مجسٹریٹ جناب راکیش کمار نے خطے کی مخصوص انجینئرنگ ضروریات، موسم سرما سے تحفظ (ونٹر پروفنگ) اور کرگل جیسے دشوار گزار علاقے میں چشمہ جاتی آبی ذرائع کی نقشہ بندی اور تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو سردیوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے پائپ لائنیں فراسٹ لائن سے نیچے بچھائی گئی ہیں، پتھریلے علاقوں میں انسولیشن فراہم کی گئی ہے، پانی کو بہاؤ میں رکھنے کے اقدامات کیے گئے ہیں اور سوک پٹس کو نظام میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 170 گرام پنچایتوں اوردیہی کمیٹیوں میں نل جل میتر کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اور 16ویں مالیاتی کمیشن کے فنڈز کے ذریعے ان کے کردار کو مقامی تکنیکی معاونت کے لیے ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے تحت ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور زمینی سطح پر نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔
جناب کمل کشور سوان، ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر (این جے جے ایم) نے لداخ کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے گزشتہ سال کے اپنے دورے کا حوالہ دیا، جب انہوں نے مشاہدہ کیا تھا کہ بعض علاقوں میں چشموں کا پانی، نکاسی والے پانی سے مل کر آلودہ ہو رہا تھا، جو صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی صورتحال کو سختی سے روکا جانا چاہیے ،تاکہ صاف و شفاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے ایک مضبوط اور مسلسل نگرانی کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ پانی کے معیار کا تحفظ کیا جا سکے اور عوامی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر، نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) جناب کمل کشور سوان نے اپنے اختتامی کلمات میں ضلع کلکٹرز اور گرام پنچایتوں کی فعال معاونت کو سراہا اور جل جیون مشن (جے جے ایم) کے لیے ان کے عزم اور وابستگی کی تعریف کی۔
انہوں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ ایسے بہترین طریقۂ کار کو مزید تیز رفتاری سے فروغ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ پنچایتوں کو اس میں شامل کیا جائے، تاکہ شفافیت، کمیونٹی کی شمولیت اور جوابدہی کے ایسے ماڈلز کو گرام پنچایت سطح پر دہرایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جل سیوا آنکلن ایک حقائق جانچ عمل ہے ،جس کا مقصد خدمات سے متعلق خلا کی نشاندہی کرنا اور اصلاحی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کی میٹنگز منعقد کریں اور ہر ماہ پانی اور صفائی کے امور کا تفصیلی جائزہ لیں۔
سمواد کا آغاز نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے ڈائریکٹر جناب وائی کے سنگھ نے مقصد اور پس منظر واضح کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سمواد کا مقصد دیہی کمیونٹیز کی آواز سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا اور آپریشن اینڈ مین ٹیننس (اور اینڈ ایم) اور آبی ذرائع کی پائیداری سے متعلق مقامی طریقۂ کار سے سیکھنا ہے۔

****
ش ح۔م ع ن ۔ش ب ن
U.No.9191
(रिलीज़ आईडी: 2277932)
आगंतुक पटल : 5