PIB Backgrounder
بجٹ 2026-27 ہندوستان کو کلاؤڈ اور اے آئی انفراسٹرکچر کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کی بنیاد
प्रविष्टि तिथि:
14 FEB 2026 11:50AM by PIB Delhi
|
اہم نکات
- عالمی آپریشنز کے لیے ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹرز استعمال کرنے والے اہل غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کے لیے 2047 تک ٹیکس چھوٹ کی تجویز۔
- ایک منظم اہلیت کے فریم ورک کی تجویز، جس میں نوٹیفائیڈ ادارے، ہندوستانی ڈیٹا سینٹرز کا استعمال اور ملک کے اندر خدمات کی فراہمی کے لیے ہندوستانی ری سیلر کی شرط شامل ہے۔
- ملکی لین دین موجودہ ٹیکس ضوابط کے تحت برقرار رہے گا، جبکہ متعلقہ ڈیٹا سینٹر اداروں کے لیے 15 فیصدمحفوظ حد مارجن کی تجویز دی گئی ہے۔
- یہ اقدام بجٹ 27-2026 کے تحت ڈیجیٹل اور سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بنیادی ڈھانچے کا عالمی مرکز بنانا ہے۔
|
تعارف
مرکزی بجٹ27-2026 میں ہندوستان کو ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے عالمی مرکز کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پالیسی اقدام متعارف کرایا گیا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ڈیٹا سینٹرز اور جدید الیکٹرانکس کے معاشی ترقی میں کلیدی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومت نےہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کے ذریعے خدمات انجام دینے والے اہل غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کے لیے 2047 تک ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔
عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے محرک کے طور پر ابھرے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی ) کے مطابق 2025 میں ڈیٹا سینٹرز عالمی گرین فیلڈ منصوبوں کی مجموعی مالیت کے پانچویں حصے سے زیادہ کے ذمہ دار تھے، جبکہ اعلان کردہ سرمایہ کاری 270 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اے آئی کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی طلب اور ڈیٹا پر مبنی ڈیجیٹل خدمات کی تیز رفتار توسیع ایسے بنیادی ڈھانچےکو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ممالک کے درمیان مقابلے کو مزید مسابقتی بنا رہی ہے۔
اسی تناظر میں ہندوستان کا طویل مدتی ٹیکس فریم ورک سرمایہ کاروں کو پالیسی کے حوالے سے یقین دہانی فراہم کرنے، ملک کے اندر اعلیٰ قدر کے حامل ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق عالمی ڈیجیٹل ویلیو چینز میں ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کاہدف رکھتا ہے۔
یہ پالیسی کیوں متعارف کرائی گئی؟
ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے ابتدائی مرحلے میں بھاری سرمایہ کاری، طویل تکمیلی مدت اور پالیسی کے تسلسل پر مبنی یقین دہانی درکار ہوتی ہے۔ اے آئی پر مبنی ڈیٹا سینٹرز میں خاص طور پر کمپیوٹنگ ہارڈویئر، توانائی کے نظام، کولنگ انفراسٹرکچر اور ہنرمند افرادی قوت پر بھاری اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
عالمی سطح پر اے آئی کمپیوٹ صلاحیت کی طلب میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ممالک بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ 2047 تک ٹیکس چھوٹ کا مقصد طویل مدتی شفافیت اور یقینی صورتحال فراہم کرنا ہے، جس کے ذریعے ہندوستان عالمی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کو متوجہ کر سکے اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ملک کے اندر مستحکم کر سکے۔

ٹیکس چھوٹ کی فراہمی: ایک جائزہ
بجٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایک غیر ملکی کمپنی جو عالمی سطح پر کلاؤڈ خدمات فراہم کرتی ہو اور اس مقصد کے لیے ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹرز کی خدمات استعمال کرتی ہو، 2047 تک ٹیکس چھوٹ کی اہل ہوگی۔
اس فریم ورک کے تحت:
- ایسے غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کی عالمی کلاؤڈ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی، جو ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے انجام دی جائیں، مقررہ شرائط کے تحت ہندوستانی ٹیکس کے دائرے سے مستثنیٰ ہوگی۔
- ہندوستانی صارفین کو خدمات ایک ہندوستانی ری سیلر ادارے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، تاکہ ملکی لین دین ٹیکس کے دائرے میں برقرار رہے۔
- یہ ٹیکس چھوٹ مالی سال27-2026 سے مالی سال 47-2046 تک نافذ رہے گی، جس سے ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے والی عالمی کلاؤڈ کمپنیوں کو ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور طویل مدتی ٹیکس ماحول میسر آئے گا۔
اہلیت کا واضح فریم ورک
یہ رعایت ایک منظم اور متعین فریم ورک کے تحت کلاؤڈ سروسز فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو دستیاب ہوگی۔ کوئی غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندہ درج ذیل شرائط پوری کرنے کی صورت میں اس ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا سکے گا:
- غیر ملکی کمپنی کو متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نوٹیفائیڈ (مطلع شدہ)قرار دیا گیا ہو۔
- ڈیٹا سینٹر کی خدمات ہندوستان میں قائم اور ڈیٹا سینٹر چلانے والی کسی ہندوستانی کمپنی سے حاصل کی جا رہی ہوں۔
- متعلقہ ڈیٹا سینٹر سہولت کو وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی(ایم ای آئی ٹی وائی) ی جانب سے نوٹیفائیڈ کیا گیا ہو۔

غیر ملکی کمپنی کی جانب سے ہندوستانی صارفین کو خدمات ایک ہندوستانی ری سیلر ادارے یعنی ایک ہندوستانی کمپنی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔
یہ فریم ورک ضابطہ جاتی نگرانی کو یقینی بناتا ہے اور اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ یہ ترغیبی سہولت مقررہ پالیسی اصولوں اور حدود کے اندر مؤثر انداز میں نافذ ہو۔
ملکی کاروباری سرگرمیوں کے لیے ٹیکس کا نظام
مجوزہ فریم ورک کے تحت، ملکی اقتصادی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والا منافع دیگر مقامی کمپنیوں کی طرح بدستور قابلِ ٹیکس رہے گا۔ ان سرگرمیوں میں شامل ہیں:
- مقیم ہندوستانی ڈیٹا سینٹر کمپنی کی جانب سے عالمی ادارے کو فراہم کی جانے والی ڈیٹا سینٹر خدمات؛ اور
- مقیم ہندوستانی ری سیلر ادارے کی جانب سے ہندوستانی صارفین کو کلاؤڈ سروسز کی دوبارہ فروخت۔
اس کے علاوہ اگر ہندوستان ڈیٹا سینٹر غیر ملکی کمپنی کا ایک متعلقہ ادارہ ہو اور کاسٹ پلس سینٹر کے طور پر کام کر رہا ہو، تو لاگت پر 15 فیصد سیف ہاربر مارجن تجویز کیا گیا ہے۔
|
سیف ہاربر مارجن
سیف ہاربر مارجن (انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت) سے مراد وہ مخصوص منافع کا تناسب ہے جسے ٹیکس دہندہ بعض بین الاقوامی لین دین کے لیے مقررہ شرائط اور ضوابط کی تکمیل کی صورت میں ظاہر کرتا ہے، اور اس صورت میں ٹیکس حکام عام طور پر اس منافع کے تعین کی تفصیلی جانچ یا چھان بین نہیں کرتے۔
|

ٹیکنالوجی کے وسیع تر ماحولیاتی نظام سے ہم آہنگ اقدامات
یہ ٹیکس چھوٹ بجٹ 27-2026کے تحت ہندوستان کے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ٹیکنالوجی ویلیو چین کی مختلف سطحوں کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور خام مواد سے لے کر الیکٹرانک پرزہ جات، آئی ٹی خدمات اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0(آئی ایس ایم)
بجٹ میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 (آئی ایس ایم )کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے، جوہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کے قیام کے لیے پہلے سے جاری کوششوں کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ اس پروگرام کی توجہ درج ذیل شعبوں پر مرکوز ہے:
- ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر آلات کے ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا۔
- سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزوں کی مقامی پیداوار۔
- سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے ماحولیاتی نظام کی توسیع۔
- ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور صلاحیت سازی کے اقدامات کو مضبوط بنانا۔
مالی سال 2026–27 کے لیے 1,000 کروڑ روپے کی رقم 2.0 آئی ایس ایم کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ اقدام بنیادی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا، جو ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹنگ نظاموں، کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس)
بجٹ27-2026 میں الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) کے لیے مختص رقم کو تقریباً 22,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 149 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو ابتدائی توقعات سے زیادہ ہیں اور صنعت کی بھرپور شمولیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس اضافی فنڈنگ کا مقصد وسیع تر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کے حصے کے طور پر الیکٹرانک پرزہ جات کی مقامی پیداوار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
آئی ٹی خدمات میں آسانی اور سیف ہاربر دفعات
آئی ٹی خدمات ہندوستان کے سب سے بڑے برآمدی شعبوں میں شامل ہیں، جن کی برآمدات 220 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی فراہم کرنے اور صنعت کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں درج ذیل تجاویز پیش کی گئی ہیں:
- سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سروسز، آئی ٹی سے متعلق خدمات، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ (کے پی او) اور کنٹریکٹ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر این ڈی ) خدمات کو’انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز‘کے ایک ہی زمرے میں شامل کرنا۔
- ان تمام خدمات کے لیے 15.5 فیصد کا مشترکہ سیف ہاربر مارجن مقرر کرنا۔
- سیف ہاربر سہولت سے فائدہ اٹھانے کی حد کو 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے کرنا۔
- منظوریوں کو ایک خودکار اورضوابط پر مبنی نظام کے ذریعے جاری کرنا۔
- آئی ٹی خدمات کے لیے یکطرفہ ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ(اے پی اے) کے عمل کو تیز اور آسان بنانا۔
|
یکطرفہ ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے)
یکطرفہ ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے)(انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت) سے مراد ٹیکس دہندہ اور سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس کے درمیان طے پانے والا ایسا معاہدہ ہے، جس کے ذریعے مخصوص بین الاقوامی یا ملکی لین دین کے لیے وصول کی جانے والی قیمت کا تعین ایک مقررہ مدت کے لیے پیشگی طور پر کر لیا جاتا ہے۔
|
ہندوستان کے کلاؤڈ اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی توسیع
ہندوستان کا کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر ماحولیاتی نظام، ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مختلف شعبوں میں اے آئی سے تقویت یافتہ ایپلی کیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا اقدام کے تحت، حکومتی کلاؤڈ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قومی کلاؤڈ انفراسٹرکچرجی آئی کلاؤڈ (میگھ راج) قائم کیا گیا ہے۔ میگھ راج، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے ذریعے ای-حکمرانی خدمات کی فراہمی کے لیے محفوظ، توسیع پذیر اور لچکدار کلاؤڈ سہولیات فراہم کرتا ہے۔ قومی ڈیٹا سینٹرز متعدد سطحوں پر مشتمل سکیورٹی فریم ورک کے تحت کام کرتے ہیں، جنہیں بین الاقوامی سکیورٹی معیارات پر پورا اترنے والے منظور شدہ سروس فراہم کنندگان کی معاونت حاصل ہے۔
صنعتی اندازوں کے مطابق ہندوستان میں کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیت تقریباً 1,280 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک اس میں چار سے پانچ گنا اضافہ ہوگا، جو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
اے آئی اور کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کی توسیع
ڈیٹا سینٹرز، خصوصاً اے آئی پر مرکوز سہولیات، جدید ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر شعبے میں تقریباً 70 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی جاری ہے، جبکہ مزید 90 بلین امریکی ڈالر مالیت کے منصوبوں کا اعلان کیا جا چکا ہے، جو اس شعبے کی تیز رفتار توسیع کو ظاہر کرتا ہے۔2047 تک توسیع یافتہ مجوزہ ٹیکس فریم ورک ایسے سرمایہ کاری پر مبنی منصوبوں کے لیے طویل مدتی پالیسی استحکام اور واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کے لیے ٹیکس چھوٹ، بجٹ27-2026 میں اعلان کردہ دیگر ٹیکنالوجی اقدامات، بشمول انڈیا سیمی کنڈیکٹر مشن2.0 اور الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم )ای سی ایم ایس) کے لیے بڑھائی گئی مالی معاونت کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کو تقویت دیتی ہے۔ یہ تمام اقدامات مشترکہ طور پر نہ صرف ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے بلکہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی قومی صلاحیت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

اے آئی ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کے حوالے سے عالمی پالیسی رجحانات
بڑی معیشتوں میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور ان سے وابستہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ایسی پالیسیوں کے ذریعے تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تنصیب اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو ممکن بناتی ہیں۔
امریکہ میں ’’ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کے لیے وفاقی اجازت ناموں کے عمل کو تیز کرنا‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ ایک صدارتی ایگزیکٹو آرڈر میں بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبوں کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اس آرڈر میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- ضابطہ جاتی اور اجازت ناموں کے عمل میں تیزی
- ڈیٹا سینٹرز کی ترقی میں معاونت کے لیے وفاقی اراضی کا استعمال
- ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ توانائی کے نظام، سیمی کنڈکٹرز، نیٹ ورکنگ آلات اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے معاونت
- قرضوں، گرانٹس، ٹیکس مراعات اور آف ٹیک معاہدوں جیسے مالی امدادی طریقہ کار
اس آرڈر میں بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کو ایسے منصوبوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے جن کے لیے 100 میگاواٹ سے زائد نئے برقی بوجھ کی ضرورت ہو، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اے آئی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی کس وسیع پیمانے پر کی جا رہی ہے۔
اسی دوران گولڈمین ساکس ریسرچ نے نشاندہی کی ہے کہ چینی اے آئی اور کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان تیزی سے انفراسٹرکچر کی توسیع کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ چینی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی، جبکہ اے آئی چِپس، ہارڈویئر سپلائی چین اور بیرون ملک ڈیٹا سینٹر صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ انفراسٹرکچر کی ترقی کو اے آئی کی نمو اور ڈیجیٹل خدمات کے پھیلاؤ کے لیے ایک بنیادی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت قومی ٹیکنالوجی اور صنعتی حکمتِ عملیوں میں اے آئی اور کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس تناظر میں، ہندوستانی ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے کلاؤڈ خدمات کی فراہمی کے لیے ہندوستان کا طویل مدتی ٹیکس فریم ورک، ایسے سرمایہ کثیف شعبے میں جہاں منصوبوں کا دورانیہ طویل اور طلب تیزی سے بڑھ رہی ہو، پالیسی کے حوالے سے وضاحت اور سرمایہ کاری کے لیے یقینی ماحول فراہم کرتا ہے۔
خلاصہ
بجٹ27-2026 میں اعلان کردہ ٹیکس چھوٹ، ہندوستان میں عالمی کلاؤڈ اور اے آئی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے لیے 2047 تک طویل مدتی پالیسی استحکام فراہم کرتی ہے۔ سرمایہ کثیف شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے واضح امکانات فراہم کرتے ہوئے، یہ فریم ورک اہلیت کی واضح شرائط اور ملکی سرگرمیوں پر مسلسل ٹیکس کے اطلاق کے ذریعے ضروری حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھتا ہے۔
سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ یہ اقدام، ہندوستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے اس دور میں یہ پالیسی ہندوستان کو کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور طویل مدتی مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Finance
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221412&utm_source=chatgpt.com®=3&lang=2
Ministry of Electronics & IT
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221894&lang®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221894&lang=2®=3
Income Tax Department, Government of India
https://x.com/incometaxindia/status/2019046108673265855?s=48&t=CSE0glwGSDCXRHUtG7cLjw
https://x.com/IncomeTaxIndia/status/2018882843934650496?s=20
The White House
https://www.whitehouse.gov/presidential-actions/2025/07/accelerating-federal-permitting-of-data-center-infrastructure/
Goldman Sachs
https://www.goldmansachs.com/insights/articles/chinas-ai-providers-expected-to-invest-70-billion-dollars-in-data-centers-amid-overseas-expansion
UNCTAD
https://unctad.org/news/data-centres-are-reshaping-global-investment-landscape
Incometax.gov.in
https://incometaxindia.gov.in/Rules/Income-Tax%20Rules/103120000000009915.htm
https://incometaxindia.gov.in/Rules/Income-Tax%20Rules/103120000000007832.htm
https://www.indianembassyusa.gov.in/pdf/advance_pricing_agreement_guidance_with_faqs_(tpi-43).pdf
English PDF
****
ش ح۔م ع ن ۔ش ب ن
U.No. 9175
(रिलीज़ आईडी: 2277825)
आगंतुक पटल : 14