کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے کی کاوش سے اعلیٰ معیار کے بنگناپلے آم کی پہلی تجارتی سمندری کھیپ ہندوستان سے سنگاپور روانہ

प्रविष्टि तिथि: 25 JUN 2026 12:42PM by PIB Delhi

ہندوستان کے تازہ پھلوں کی برآمدات کے شعبے کی اہم پیش رفت کے تحت، وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت کام کرنے والے ادارےایگری کلچر اور پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے، آئی سی اے آر–سنٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر (سی آئی ایس ایچ)، لکھنؤ کے تعاون سے، پہلی بار اعلیٰ معیار کے بنگناپلے  آم کی تجارتی کھیپ سمندری راستے سے ہندوستان سے سنگاپور روانہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ کھیپ 5 میٹرک ٹن بنگناپلے آم پر مشتمل ہے، جسے ایم/ایس اوسم فوڈ سالیوشن ایل ایل پی نے 11 جون 2026 کو برآمد کیا، جبکہ یہ 24 جون 2026 کو سنگاپور پہنچ گئی۔ اس کامیاب برآمد سے نہ صرف ہندوستانی باغبانی مصنوعات کے لیے کم لاگت اور پائیدار نقل و حمل کے امکانات اجاگر ہوئے ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں اعلیٰ معیار کے ہندوستانی آموں کی رسائی کو بھی وسعت ملی ہے۔

یہ آم آندھرا پردیش کے گڈ ایگریکلچرل پریکٹسز (جی اے پی) سے مصدقہ باغات سے حاصل کیے گئے تھے، جبکہ ان کی پروسیسنگ اور پیکنگ کرناٹک میں واقع اے پی ای ڈی اے سے منظور شدہ پیک ہاؤس میں کی گئی۔ پوری کھیپ کو سنگاپور کے مقررہ معیار اور نباتاتی صحت  کے تقاضوں کے مطابق تیار اور روانہ کیا گیا۔

سنگاپور پہنچنے پر درآمد کنندہ کمپنی ای سی-لنکس پرائیویٹ لمیٹڈ نے آموں کے معیار کو انتہائی عمدہ قرار دیا۔ کمپنی نے آموں کی مٹھاس، یکساں پختگی، بہتر شیلف لائف اور مجموعی نباتاتی صحت کی خاص طور پر تعریف کی۔ کھیپ سے تمام درآمداتی شرائط کامیابی سے پوری کی گئیں، جس سے یہ ثابت ہوا کہ مابعد فصل سائنسی انتظامات اور مؤثر کولڈ چین نظام سمندری سفر کے دوران پھلوں کے معیار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اس کھیپ کی برآمد سے کسانوں کو بھی نمایاں معاشی فائدہ حاصل ہوا۔ جہاں مقامی منڈی میں آموں کی قیمت 25 سے 26 روپے فی کلوگرام تھی، وہیں برآمداتی کھیپ سے تقریباً 50 روپے فی کلوگرام حاصل ہوئے، جس سے کسانوں کو تقریباً دوگنی آمدنی ملی اور انہیں اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملی۔

 

یہ کامیاب تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سمندری راستے سے ترسیل تازہ پھلوں کی برآمد کے لیے کم خرچ، ماحول دوست اور بڑے پیمانے پر قابلِ عمل ذریعہ بن سکتی ہے۔ مضبوط کولڈ چین انفراسٹرکچر، سائنسی طریقۂ کار اور مؤثر لاجسٹک انتظامات کے باعث بحری نقل و حمل ہندوستانی باغبانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مزید مسابقتی بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

بنگناپلے آم ہندوستان کی مشہور ترین اقسام میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سنہری زرد رنگت، خوشگوار خوشبو، ریشے سے پاک گودا اور بے مثال مٹھاس انہیں دنیا بھر میں مقبول بناتی ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں اس قسم کے آموں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے ہندوستانی آموں کی برآمدات میں مزید اضافے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

اے پی ای ڈی اے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی سمندری راستے سے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں نئی منڈیوں کی تلاش، بنیادی ڈھانچے کی معاونت اور برآمد کنندگان کی تربیت شامل ہے تاکہ وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکیں۔ سنگاپور کو یہ کامیاب برآمد مستقبل میں مزید برآمد کنندگان کو سمندری راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دے گی اور عالمی منڈی میں ہندوستان کو معیاری زرعی مصنوعات کے ایک قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر مزید مضبوط بنائے گی۔

یہ اقدام حکومتِ ہند کے اس وسیع تر وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد زراعتی برآمدات میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور مؤثر و پائیدار برآمداتی ذرائع کے ذریعے ہندوستانی زرعی پیداوار کی عالمی سطح پر دستیابی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

****

ش  ح۔م ش ع– ف ر

Uno-9166


(रिलीज़ आईडी: 2277722) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Tamil , Kannada