صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے کلینیکل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ میں جَن وِشواس اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ تعمیلی بوجھ کو کم کیا جا سکے اور انضباطی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے


کلینیکل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2010 کے تحت پانچ شقوں کو جَن وِشواس اصلاحات کے تحت معقول اور منظم بنایا گیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 25 JUN 2026 1:21PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے 22 جون 2026 کو کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اور ریگولیشن) ایکٹ 2010 میں ترمیمات کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ یہ ترمیمات “جن وِشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ 2026” کے تحت کی گئی ہیں، جو 8 اپریل 2026 کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا تھا۔ ان اصلاحات کا مقصد اعتماد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینا، تعمیلی  بوجھ کو کم کرنا، کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانا اور متناسب انضباطی نفاذ کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ملک بھر میں مریضوں کی حفاظت اور صحت کی خدمات کے معیار کو بھی برقرار رکھنا ہے۔

جن وِشواس (ترمیمی دفعات) ایکٹ 2026 کے تحت 23 وزارتوں اور محکموں کے زیرِ انتظام 79 مرکزی قوانین کی مختلف شقوں کو معقول اور متوازن بنایا گیا ہے۔ صحت کے شعبے میں صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت آنے والے پانچ قوانین کی 35 دفعات میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ معمولی نوعیت کی ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ دائرے سے نکال کر کم کیا جا سکے اور شہری  پرمرکوز انضابطی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کلینیکل اسٹیبلشمنٹس ایکٹ 2010 میں کی گئی یہ ترامیم اسی وسیع اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایک زیادہ مؤثر اور سہولت فراہم کرنے والا انضباطی نظام قائم کرنا ہے۔

ترمیم شدہ نظام کے تحت ایکٹ کی دفعہ 40، 43 اور 46 میں لفظ “جرمانہ” کی جگہ “سزا/پینلٹی” استعمال کیا گیا ہے، جس سے نفاذ کا نظام مجرمانہ کارروائی کے بجائے انتظامی فیصلے کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ دفعہ 44 میں کمپنیوں کی قانون کی خلاف ورزیوں کے لیے مرحلہ وار اور متناسب سزائیں متعارف کرائی گئی ہیں، تاکہ کارروائی خلاف ورزی کی نوعیت اور شدت کے مطابق ہو۔ مزید برآں، دفعہ 41 کے تحت ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے نظام کو مضبوط اور اس کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے تاکہ دفعہ 40، 43 اور 44 کے تحت کارروائی بھی اس میں شامل ہو سکے، جس سے نفاذ کا عمل زیادہ شفاف، مؤثر اور جوابدہ بنے۔

 

یہ ترامیم ایک منظم عدالتی/انتظامی طریقہ کار فراہم کرتی ہیں، جس میں سزا عائد کرنے سے پہلے سماعت کا موقع، جرمانوں کی وصولی کے طریقہ کار، اور متاثرہ فریق کے لیے اپیل کا نظام شامل ہے۔ ان اقدامات سے توقع ہے کہ رضاکارانہ تعمیل بڑھے گی، غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم ہوگی اور معمولی ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر متناسب کارروائی ممکن ہوگی جبکہ کلینیکل اداروں پر انضباطی نگرانی بھی برقرار رہے گی۔

یہ نوٹیفکیشن اعلیٰ سطحی کمیٹی برائے انضباطی اصلاحات کی سفارشات پر جاری کیا گیا ہے جوحکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک شفاف، مؤثر اور شہری پر مرکوز انضباطی نظام قائم کیا جائے۔ ضابطہ جاتی معمولی غلطیوں پر مجرمانہ سزاؤں کے بجائے ایک منصفانہ اور متوازن انتظامی نظام متعارف کر کے یہ اصلاحات صحت کے شعبے میں کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانے کی کوشش ہیں، جبکہ مریضوں کی دیکھ بھال، حفاظت اور جوابدہی کے اعلیٰ ترین معیار بھی برقرار رکھتی ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ع ح۔ م ش۔

U-9168


(रिलीज़ आईडी: 2277713) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Odia , Tamil , Telugu , Malayalam