کامرس اور صنعت کی وزارتہ
اے پی ای ڈی اے نے زرعی و غذائی برآمدات میں اختراع پر مبنی ترقی کو تیز رفتار بنانے کے لیے ’بھارتی‘ پروگرام کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کیا
22 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے 100 اسٹارٹ اَپس نے برآمدات پر مرکوز ایکسلیریشن پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا
प्रविष्टि तिथि:
24 JUN 2026 7:44PM by PIB Delhi
وزارتِ تجارت و صنعت، حکومتِ ہند کے تحت قائم زراعتی و پروسیسڈ غذائی مصنوعات برآمدات کی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے اپنے اہم برآمداتی معاونت اور تیز رفتار ترقیاتی پروگرام ’’بھارتی‘‘ (بھارت کا زرعی ٹیکنالوجی، ریزیلینس، ایڈوانسمنٹ اور برآمداتی اختراع کے لیے انکیوبیشن مرکز) کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ہندوستان کے زرعی و غذائی برآمداتی شعبے میں اختراع پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ شراکت داروں اور متعلقہ فریقوں کی معاونت کے علاوہ ’’بھارتی‘‘ پروگرام ایسے متحرک اور مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی تشکیل کا بھی ہدف رکھتا ہے جو سال 2030 تک اے پی ای ڈی اے کے دائرۂ کار میں آنے والی مصنوعات کی برآمدات کو 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے قومی ہدف سے ہم آہنگ ہو۔
یہ پروگرام ایسے باصلاحیت اور اعلی امکانات رکھنے والے نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اَپس) کی شناخت، سرپرستی اور معاونت کے لیے شروع کیا گیا تھا جو جدید مصنوعات، ٹیکنالوجی اور اختراعی حل تیار کر رہے ہیں اور جو ہندوستان کی زرعی اور پروسیسڈ خوردنی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری صلاحیتوں، اختراع، قیمت میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق تیاری کو فروغ دے کر ملک کے زرعی و غذائی برآمداتی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پروگرام کے پہلے مرحلے میں 22 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے 100 اسٹارٹ اَپس شامل تھے، جنہیں ملک بھر سے موصول ہونے والی 700 سے زائد درخواستوں میں سے سخت اور کئی مراحل پر مشتمل معائنہ و انتخابی عمل کے بعد منتخب کیا گیا۔ اس گروپ میں 68 زرعی و غذائی مصنوعات سے وابستہ اسٹارٹ اَپس، برآمدات میں معاون ٹیکنالوجی اور خدمات فراہم کرنے والے 26 ادارے اور 6 ایسے اختراع کار شامل تھے جو صحت و نباتاتی تحفظ (ایس پی ایس) کےاقدامات، مصنوعات کی سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی)، معیار کی یقین دہانی اور ضابطہ جاتی تعمیل سے متعلق حل پر کام کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام کی وسعت اور توانائی کی عکاسی کرتے ہوئے اس گروپ میں 17 سے 75 سال کی عمر کے کاروباری افراد شامل تھے۔ ان کی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ زرعی و غذائی برآمداتی ویلیو چین میں اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
شرکت کنندہ اسٹارٹ اَپس نے برآمدات پر مرکوز 120 گھنٹوں پر مشتمل خاکہ بند تیز رفتار ترقیاتی پروگرام مکمل کیا، جس میں برآمداتی تیاری، منڈیوں تک رسائی، کاروبار کی توسیع، ضابطہ جاتی تعمیل، پیکیجنگ، برانڈ سازی اور سرمایہ کاروں کے لیے تیاری جیسے موضوعات شامل تھے۔ پروگرام کے تحت انفرادی رہنمائی (ون ٹو ون مینٹورشپ)، صنعت کے ماہرین کے خصوصی تربیتی سیشن (ماسٹر کلاسز) اور سرکاری اداروں، صنعتی تنظیموں، مالیاتی اداروں، برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں سے رابطے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔ ان روابط سے اسٹارٹ اَپس کو تجارتی شراکت داریوں کی تلاش، منڈی سے تعلقات مضبوط بنانے اور برآمداتی تیاری کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
بین الاقوامی منڈیوں سے روشناس کرانے کے اقدام کے تحت اے پی ای ڈی اے نے ’’بھارتی‘‘ پروگرام کے سرفہرست آٹھ اسٹارٹ اَپس کی دبئی میں منعقد ہونے والی گلفوڈ 2026 نمائش میں شرکت کو ممکن بنایا، جو دنیا کی سب سے بڑی غذائی اور مشروبات کی تجارتی نمائشوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ موقع ملنے سے انہیں عالمی خریداروں تک براہِ راست رسائی فراہم ہوئی اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ اعلیٰ سطح کی کاروباری ملاقاتوں کے مواقع مہیا ہوئے۔ اس دوران اسٹارٹ اَپس اور بین الاقوامی تاجروں و درآمد کنندگان کے درمیان 100 سے زائد کاروباری ملاقاتیں (بی ٹو بی) منعقد ہوئیں اور ممکنہ خریداروں کے سامنے مصنوعات کے نمونے بھی پیش کیے گئے۔
اے پی ای ڈی اے کے چیئرمین ابھیشیک دیو (آئی اے ایس) نے کہا کہ ’’بھارتی پروگرام‘‘ اختراع، کاروباری صلاحیت اور عالمی مسابقت پر مبنی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ برآمداتی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے اے پی ای ڈی اے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے اسٹارٹ اَپس کی جانب سے ملنے والا پُرجوش ردِعمل ہندوستان کے زرعی و غذائی اختراعی ماحولیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے برآمدات کے لیے تیار اداروں کی مضبوط کھیپ تیار کرنا ہے جو ہندوستان کی زرعی اور پروسیسڈ خوردنی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل اے پی ای ڈی اے کی جانب سے اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کو ملک کی برآمدی ترقی کی حکمتِ عملی کا حصہ بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ توقع ہے کہ یہ اقدام عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت رکھنے والے نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اَپس) کے ابھرنے میں معاون ثابت ہوگا اور قدر میں اضافے، منڈیوں کے تنوع اور پائیدار برآمدی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
اس پروگرام کے آغاز کے صرف تین ماہ کے اندر ’’بھارتی‘‘ پہل کے تحت معاونت حاصل کرنے والے اسٹارٹ اَپس نے اختراع پر مبنی زرعی برآمداتی حل کو فروغ دینے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دو زرعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپس نے باہمی تعاون سے جغرافیائی شناختی ٹیگ (جی آئی ٹیگ) یافتہ آم کی تقریباً 37 میٹرک ٹن کھیپ دبئی برآمد کی، جبکہ ایک اور اسٹارٹ اَپ نے غذائی و معالجاتی خصوصیات (نیوٹراسیوٹیکل) اور نباتاتی اجزاء سے تیار شدہ فوری پکانے کے لیے تیار باجرہ پر مبنی فعّال غذائی مصنوعات کی پہلی کھیپ آکلینڈ، نیوزی لینڈ روانہ کی۔ ان مصنوعات میں استعمال ہونے والا باجرہ کرناٹک کے کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی او) سے حاصل کیا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش کے ایک اسٹارٹ اَپ، جو نامیاتی (آرگینک) مصنوعات بشمول دال، باجرے اور روایتی اناج کی تجارت کرتا ہے، اس نے متحدہ عرب امارات کی ایک معروف سپر مارکیٹ کے ساتھ برآمداتی کھیپ کی فراہمی کے لیے مفاہمت نامے(ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اسی طرح پھلوں کی تھیلہ بندی (فروٹ بیگنگ)، آم کے باغات کے انتظام اور بعد از فصل کے آلات فراہم کرنے والے زرعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ نے اے پی ای ڈی اے سے رجسٹرڈ برآمد کنندہ کے ساتھ مل کر موجودہ سیزن میں تقریباً 5 میٹرک ٹن آم سنگاپور برآمد کیے۔
مہاراشٹر میں قائم کسان پیداواری کمپنی (ایف پی سی) نے جغرافیائی شناختی ٹیگ (جی آئی ٹیگ) یافتہ انجیر کے رس اور جامن کی مشروبات کی تقریباً 850 کلوگرام مقدار امریکہ اور برطانیہ برآمد کی، جس کے بعد انہی منڈیوں سے تقریباً 1.25 میٹرک ٹن کا دوبارہ آرڈر بھی موصول ہوا۔ ایک اور نمایاں کامیابی میں کرناٹک کے ایک اسٹارٹ اَپ نے، جو 12 ریاستوں کے 1600 سے زائد کسانوں کے نیٹ ورک سے منسلک ہے، دالوں، روایتی اناج اور اندرایانی سمیت جغرافیائی شناختی ٹیگ یافتہ مقامی چاول کی اقسام پر مشتمل 40 میٹرک ٹن نامیاتی مصنوعات اور 5 میٹرک ٹن ویلیو ایڈیڈ مصنوعات متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کی منڈیوں میں برآمد کیں۔ آئندہ ایک سے دو ماہ کے دوران امریکہ، یورپی یونین اور متحدہ عرب امارات کو 40 میٹرک ٹن سے زائد مزید برآمدات متوقع ہیں۔
اس کے علاوہ کیرالہ کے ایک اسٹارٹ اَپ کو عُمان سے باجرہ پر مبنی مصنوعات کا آرڈر موصول ہوا ہے۔ دیگر متعدد اسٹارٹ اَپس کے لیے بھی مختلف مصنوعات کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، جن میں دبئی کی منڈی کے لیے مکھانہ اور جاپان و کیمرون کی منڈیوں کے لیے فوری استعمال (ریڈی ٹو ایٹ) اور فوری پکانے کے لیے تیار (ریڈی ٹو کُک) مصنوعات شامل ہیں۔ مزید برآں، مدھیہ پردیش کے ایک اسٹارٹ اَپ نے فوری ترسیلی تجارتی پلیٹ فارمز (کوئک کامرس) اور برقی تجارتی پلیٹ فارمز (ای کامرس) کے ذریعے اپنی گھریلو منڈی میں موجودگی کو وسعت دی ہے، جبکہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اس کی مصنوعات 100 سے زائد ریٹیل اسٹورز تک پہنچ چکی ہیں۔
’’بھارتی‘‘ اقدام کے تحت اسٹارٹ اَپس کی یہ کامیابیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ یہ پروگرام برآمدات پر مبنی اختراع کو تیز رفتار بنانے اور ہندوستان کے زرعی و غذائی برآمداتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ پہلے مرحلے کی کامیابی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اے پی ای ڈی اے جلد ہی ’’بھارتی پروگرام‘‘ کا اگلا مرحلہ شروع کرے گی تاکہ زرعی و غذائی برآمداتی شعبے کے لیے جدید حل تیار کرنے والے مزید اسٹارٹ اَپس کی معاونت کی جا سکے۔
اے پی ای ڈی اے کو یقین ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں بھی اختراع، قیمت میں اضافہ اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کرتا رہے گا اور ہندوستان کی زرعی و پروسیسڈ خوردنی مصنوعات کی برآمدات میں طویل مدتی توسیع اور تنوع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-9147
(रिलीज़ आईडी: 2277596)
आगंतुक पटल : 9